0
Wednesday 3 Aug 2022 17:04

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
تحریر: عون عباس

گھر بار کا چین میسر ہو، محبت و ادب کرنے والے اہل و عیال موجود ہوں، مقتدر حلقوں اور عوام الناس میں مقبولیت ہو، زندگی کا ہر لمحہ استراحت اور آرام سے گزر رہا ہو، رزق اور روزگار محفوظ ہو، کامیابیوں کی ملک بھر میں دھوم ہو، دنیا قدم چومتی ہو، ایسے پرآسائش اور بہترین ماحول میں بیٹھے بٹھائے نصیب کی راحت سے صلیب کی آفت تک منتقل ہونا کون پسند کرتا ہے۔۔۔؟ قبولیت عامہ کا ماحول چھوڑ کر کسی اعلیٰ ترین مقصد کے حصول کے لئے طعنے اور گالیاں برداشت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ راستہ خدا کا، پیغمبروں کا، اہلبیت کا راستہ ہے کہ جس پر پیغمبر، اہلبیت اور جانثارانِ اہلبیت صبر و استقامت اور ایمان و یقین کے نور کے ساتھ گامزن رہے۔ قوم کی سرداری، سونا چاندی اور عیش و آرام چھوڑ کر شہر شہر، گرمی، سردی، دھوپ اور بارش میں دشمنوں کی طرف سے مصائب و آلام اور پتھروں کی بارش کے باوجود پیغام حق پہنچاتے رہے۔ جسے اپنے پیغام و مقصد کی صداقت اور اپنی منزل کے حصول کا یقین محکم ہوتا ہے۔ اسی بناء پر ایسے مردانِ حُر اپنے عیش و آرام اور شہرت و ناموری کی قربانی دیتے ہوئے میدان عمل میں نکل پڑتے ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں، جو حاصلِ مقصدِ تخلیق کائنات ہیں۔ ایک ایسا باطل نظریہ جسے اندھی طاقت اور بزور بازو حاصل کردہ اقتدار کی پشت پناہی حاصل ہو، ایسے باطل نظریہ و فکر کو چیلنج کرنا، اس کے خلاف قلم اور گفتار سے جدوجہد کرنا ہر حال میں اعلائے کلمہ حق کی جدوجہد اور خدمت اسلام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قدر فتنے اسلام کی 1400 سال کی تاریخ میں اُٹھے، یہ تمام وقت کے بادشاہوں کی تائید و حمایت میں اُٹھے۔ اسی لیے کلمہ حق کا نصب العین لے کر اٹھنے والوں کو اکثر حکمرانوں کی طاقت سے ٹکرانا پڑا اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ تحریکِ حسین علیہ السلام نے مکتب اسلام کو زندہ کیا۔ عزتوں کی زندگی کا تاج سر پے رکھا۔ اس مکتب کو اس تحریک کو بدنام کرنے کی، اس میں تحریفات کرنے کی، بے انتہاء کوشیشں کی جا رہی ہیں۔ روز بروز اس مکتب حسین کے پیروکاروں پر قیامت برپا کی جا رہی ہے، عزاداروں کو خون میں نہلایا جا رہا ہے، عزاداروں کو اپنے دینی فرائض سرانجام دینے پر جبری گمشدہ کیا جا رہا ہے، طرح طرح کے مظالم مقصدِ حسین اور پیروان حسین پر ہو رہے ہیں۔ لہذا اے ملت پاکستان کے حسینیوں آج خانقاہوں سے نکل کر رسمِ شبیری ادا کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔
اے قوم! وہی ہے پھر تباہی کا زمانہ 
اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ
کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ 
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو۔۔۔۔
(جوش ملیح آبادی)

 اے جوانانِ حسین جن قوموں نے رسمِ شبیری سیکھی، انہوں نے عزت کا مقام پا لیا، آج وہ لاشیں اٹھانے کا منتظر نہیں۔ محض شہداء پر فاتحہ کے منتظر نہیں بلکہ وقتِ یزید کو رسوا کرنے اور اس کے شر کو تباہ کرنے کے لئے میدان میں حاضر ہیں اور وہ لبنان کی ایک چھوٹی سی جماعت حزب اللہ ہے۔ جس نے سب کچھ رسم شبیری سے لیا ہے اور آج عزت کی زندگی جی رہے ہیں، جبکہ وہاں پاکستان کے ایک شہر کے برابر شعیہ ہیں، لیکن انہوں نے رسمِ شبیری سیکھ کر زمانے کے یزید کو ڈھونڈ لیا اور اس کے خلاف قیام کر لیا اور یہی راہِ شبیری و رسمِ شبیری ہے۔ امام حسین (ع) بھی تاریخ کے سابقہ یزیدوں سے آشنا تھے، وہ آشنا تھے کہ فرعون بھی یزید ہے، نمرود بھی یزید ہے، لیکن حسین کو معلوم تھا کہ اگر میں گزرے ہوئے یزید کو لعنت کرتا رہا تو وقت کے یزید کو کون نابود کرے گا۔؟

لہذا وقت کے یزید سے آشنا ہونا، اس کے خلاف میدان میں آنا، اس پر لعن طعن کرنا رسمِ شبیری ہے۔ اگر زمانے کے یزید اور اس کے شر سے  لاتعلقی کرکے بیٹھ جاؤ گے تو صرف لاشیں اٹھانا اور بے جرم اسیر ہونا ہی رہ جائے گا اور آنے والی نسلیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی، لیکن اگرِ رسمِ شبیری ادا کرو گے تو بھی لاشیں تو اٹھانی پڑیں گی، لیکن عزت کی زندگی جیو گے اور آنے والی نسلیں محفوظ ہو جائیں گی۔ ساکت ہو کر، جامد ہو کر گھر بیٹھ جانا، ورد کرتے رہنا، خبریں سنتے رہنا کہ کس جگہ کیا ہوا، کس جگہ کیا نہیں جبکہ کوئی عملی قدم نہ اٹھانا تو یہ رسمِ شبیری نہیں ہے بلکہ رسمِ شبیری یہ کہ جب امت ساکت ہو جائے، طاغوت سے مل جائے، امامت کو بھلا بیٹھے، غیر الہیٰ لیڈر اور غیر الہیٰ نظام کے زیرِ سایہ ہو جائے تو تم حسین (ع) کی طرح اپنا راستہ الگ کر لو۔ حسین (ع) نے جب یہ دیکھا کہ اب امت ریاکاری کا احرام باندھ کےر حج کے لئے جا رہی ہے۔ طاغوت کے سائے میں جا رہی ہے، امامت سے دور ہوتی جا رہی ہے تو حسین (ع) نے اپنا راستہ الگ کر لیا اور دنیا کو خبردار کر دیا کہ یہ راستہ خدا کا راستہ نہیں ہے میرے نانا رسول (ص) اور میرے بابا علی (ع) کا یہ راستہ نہیں ہے۔

اے میرے عزیز جوان، یہ مجالس، یہ ذکر حسین محض رونے، ماتم کرکے لنگر و نیاز کھلا کر ثواب کمانے کا نام نہیں بلکہ یہ عزاداری حسین، مجلس حسین، غضب، دغا بازی، فریب، ریاکاریوں، انحطاط کو عیاں کرنے کے لئے ظلم سے نفرت کے لئے، نظام طاغوت کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے، ظالم حکمرانوں کو رسوا کرنے اور شہداء کی یاد و مقاصد کو زندہ رکھنے کے لئے ہوتی ہے اور اصل لنگر یہی ہے کہ ہم ان مقاصد کے لئے آمادہ ہو جائیں اور خود کو ان مقاصد میں صرف کر دیں۔ اے ملت پاکستان کے حسینی جوانوں، اس لنگر کی طرف کیوں نہیں بڑھ رہے ہم؟ اگر ہم رسمِ شبیری اپناتے تو آج دنیا پر معرب حکومت نہ کرتا۔ داعش یوں ہمارے جوانوں کو اور شام کو مسمار نہ کرتی۔ یوں آج دنیا پر جمہوریت کا غلبہ نہ ہوتا۔ غلط، بے بنیاد، غیر منطقی و مادی افکار و نظریات کا غلبہ نہ ہوتا بلکہ امرِ اہلبیت کا غلبہ ہوتا اور یہ زمین ظلم و ستم کی بجاٸے امن و سکون کا گہوارہ ہوتی۔ لہذا اب وقت کی ضرورت ہے کہ رسمِ شبیر ادا کی جائے۔

بقول شاعر
اَے حُسین! اب تک گُل افشاں ہے تری ہمّت کا باغ​
آندھیوں سے لڑ رہا ہے، آج بھی تیرا چراغ
ختم ہے آنسو بہانے ہی پہ تیری آرزو​
اور شہیدِ کربلا نے تو بہایا تھا لہو
کیوں نہیں کہتا کہ باطل کی حکومت ہے حرام​
تجھ کو اور زنداں کا ڈر، کیوں اے غلامِ ننگ و فام​
جانتا ہے رہ چُکے ہیں قید میں کتنے امام؟
​نقشِ حق کو اب بھی او غافل! جَلی کرتا نہیں
اب بھی تقلیدِ حُسین ابن علی کرتا نہیں!

(جوش ملیح آبادی)

لہذا اب ہمیں رسمِ شبیری کے زیر تحت دو کام کرنے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین میں، شیعہ سنی میں اتحاد قائم کرنا ہے، آپس میں متحد رہنا ہے، ایک دوسرے کے عقائد پر کیچڑ نہیں اچھالنا۔ ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین نہیں کرنی۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہے، عفو و درگزر سے کام لینا ہے۔ دوسرا کام کہ یزیدی کردار، یزیدی آئیڈیالوجی، یزیدی حاکموں کے خلاف عملی قیام کرنا ہے نہ کہ سکوت اختیار کرنا ہے۔ اگر یہ دو کام کر لئے تو یہی لبیک یاحسین ہے، یہی لبیک یا زہراء ہے، یہی لبیک یامہدی ہے اور جو یہ صدا سیکھ لیتا ہے تو اس کی گردن تو کٹ جاتی ہے، لیکن وہ ان مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ لہذا ہر دور کے یزید کو مٹانے کے لئے ایک ہی حل ہے کہ رسمِ شبیری کا راستہ اپنایا جائے۔ خانقاہوں سے نکلنا اور رسمِ شبیری ادا کرنا ہر دور کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 1007433
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش