0
Thursday 4 Aug 2022 19:42

وہ دوست جو مقتل بھی آئے گا

حسین ابن علی ؑ کے دوست حبیب ابن مظاہر کا تذکرہ
وہ دوست جو مقتل بھی آئے گا
تحریر: مہر عدنان حیدر

حبیبؑ ابنِ مظاہر تمہارے صدقے میں
کھلا یہ کرب و بلا میں کہ دوستی کیا ہے

دوست انسان کی زندگی کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ دوستوں کے بغیر انسان کی زندگی مکمل ہی نہیں ہوتی۔ گویا دوست انسان کا کردار ہوتا ہے، یعنی جیسا دوست ہوتا ہے، ویسا ہی انسان ہوتا ہے۔ یوں تو دنیا میں دوستی کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، مگر جس دوست کا تذکرہ میں کرنے والا ہوں، شاید اُس جیسا دوست دنیا میں کسی کو  ملا ہو۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ "جس حسینؑ کو زمانہ شب و روز پکارتا ہے، اُس حسین ابن علی نے مقتل میں اپنے دوست حبیب کو یاد کیا۔" حبیب فقیہ اہلبیت تھا، یعنی علم آل محمد کا عالم تھا۔ حبیب ابن مظاہر کی تعریف میں یہ جملہ کم نہیں کہ حبیب مولا حسین ؑکے اُس وقت سے دوست تھے، جب نانا نواسے کو دوش پر اٹھاتا تھا۔ مدینہ کا شہر تھا، ایک دن سرور کونین ؐ جب گھر سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ مولا حسین اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ امام کے پیچھے ایک بچہ امام کے قدموں کی خاک کو آنکھوں پر لگاتا ہے اور امام کے ہر قدم پر صلوات پڑھتا ہے۔

رسول مکرمؐ نے اس بچے کو اپنے پاس بلایا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور شفقت فرما رہے تھے کہ صحابہ نے دریافت کیا: یارسول اللہ ؐ اس بچے سے محبت کی کوئی خاص وجہ۔؟" رحمت اللعالمینؐ نانا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا کہ یہ میرے مظلوم بیٹے کے ناصرین میں سے ہے، یہ مشکل وقت میں میرے لال کی نصرت کرے گا۔" وقت گزرتا گیا اور مولا حسین کا کریم نانا دنیا سے رحلت فرما گیا۔ مولا حسینؑ کا بابا مسجد میں شہید ہوگیا اور ایک وقت آیا کہ مولا حسینؑ کے بھائی کو زہر دے دی گئی اور مولا حسین وارد کربلا ہوئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ ہر طرف یزیدی لشکر پر لشکر اترنے لگے اور بہن کو بھائی کے بچانے کی فکر ہوئی۔ زینب ؑ نے بھائی کو خیمے میں بلایا اور پوچھا حسین ؑ یہ سارے لشکر آپ کو مارنے آرہے ہیں، کوئی آپ کا بھی مددگار ہے، جو آپ کی نصرت کو آئے۔۔۔؟ بھائی نے بہن کو بتایا کہ میرا ایک بچپن کا دوست حبیبؓ ابن مظاہر ہے۔

مولا نے بہن زینبؑ کے ہمراہ اپنے دوست کو خط لکھا اور خط کی پہلی سطر پر لکھا مردِ فقیہ کی طرف حسین ابن علیؑ کا خط! حبیب تم جانتے ہو رسول اللہ سے ہماری نسبت کیا ہے، اگر ہماری نصرت کا ارادہ رکھتے ہو تو آنے میں دیر مت کرنا، رسول خدا ؐ تمہیں اس کا صلہ دیں گے۔ جب خط حبیبؓ کو ملا تو حبیب ؓ خود کو سنبھال نہ سکے۔ جب حبیبؓ غلام کے ساتھ لشکر حسین ؑ میں پہنچے تو ہر طرف سے اللہ اکبر کی آوازیں آنے لگیں۔ عالم غربت میں مولا حسین ؑ کے چہرے پر تبسم آیا۔ مولا حسینؑ نے دوست کو سینے سے لگایا۔ جب حضرت زینبؑ کو علم ہوا کہ بھیا کا دوست حبیبؓ آیا ہے تو زینب عالیہؑ نے خیمے سے سلام بھیجا۔ جب حبیب کو علم ہوا کہ آقا زادی ؑ نے غلام  کو سلام بھیجا ہے تو حبیبؓ غش کھا گئے اور بہت روئے کہ دوست پر اتنی غربت آگئی ہے کہ شہزادی کونین غلاموں کو سلام بھیج رہی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ حسین ؑ کا دوست عاشور کو حسینؑ پر قربان ہوا اور مولا حسین دوست کے لاشے پر پہنچے اور گواہی دی کہ "اے حبیب، خدا تمہیں سعادت اور خیر عطا کرے، تم ایک باکمال شخص تھے۔ تم ایک رات میں پورا قرآن ختم کر لیتے تھے۔" حبیب کی شہادت امام پر بہت سخت گزری۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مولا حسینؑ نے اپنے  دوست کے لاشے کو خود اٹھایا، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب حبیب کے دوست حسینؑ ابن علی شہید ہوئے تو کوئی مولا حسین ؑ کے لاشے کو اٹھانے والا نہ تھا اور تین دن مولا حسینؑ کا پامال بدن کربلا کی گرم ریت پر پڑا رہا۔ زیارت ناحیہ میں امام زمانہ ؑ اپنے جد کی غربت یوں بیان کرتے ہیں کہ "میرا سلام ہو، اس شہید پر جس کی داہنی طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر بائیں طرف آگئیں تھیں اور بائیں طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر داہنی طرف آگئیں تھیں۔
بحوالہ مضمون "روضہ المظلوم" سوگ نامہ آل محمد۔ مقتل مکرم۔ مدینہ سے مدینہ تک
خبر کا کوڈ : 1007639
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش