0
Friday 5 Aug 2022 16:30

امریکہ چین کو تائیوان میں الجھا رہا ہے

امریکہ چین کو تائیوان میں الجھا رہا ہے
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

اگر آپ بین الاقوامی میڈیا کو فالو کر رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کا شور ہے۔بین الاقوامی بالخصوص مغربی میڈیا اسے کسی معرکے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ٹی وی چینلز نے وہ مناظر لائیو دکھائے، جس میں نینسی پلوسی کا جہاز آٹھ دس جنگی طیاروں میں گھرا تائیوان کی فضا میں داخل ہو رہا ہے۔ چین شروع سے اس دورے پر معترض تھا کہ یہ "ون چائنہ پالیسی" کے خلاف ہے اور سٹیٹس کو کو توڑنے کی شعوری کوشش ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے تمام اعتراضات کو پس پشت ڈالتے ہوئے چین جانے کے اعلان پر عمل کیا۔ چین کی ون چائنہ پالیسی کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے اور آپ اس بات پر بھی حیران ہوں گے کہ امریکہ آفیشلی طور پر اب بھی کہہ رہا ہے کہ وہ ون چائنہ پالیسی کا قائل ہے۔ یہ چائنہ کی ناک رگڑنے کی طرح ہے، جب آپ کہتے ہیں کہ ایک جگہ آپ کے ملک کا حصہ ہے تو  وہاں پر آپ کی خود مختاری ہونی چاہیئے۔ کوئی بھی نقل و حمل بالخصوص غیر ملکیوں کی نقل و حمل آپ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

چائینہ نے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کا اعلان کر رکھا تھا، جو نینسی پلوسی کے آنے پر بھی جاری رہیں۔ چین نے سمندر میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں اور بلاسٹک میزائل کے تجربات کیے ہیں۔ چائنہ کے جہاز اپنی حاکمیت کے اظہار کے لیے چائینہ اور تائیوان کو تقسیم کرتی سمندری لائن کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ ویسے بھی چائینہ کا ایک جزیرہ تائیوان سے محض بیس کلومیٹر کی مسافت پر ہے، جہاں سے کارروائی کرنا انتہائی قریب ہو جاتا ہے۔ نینسی پلوسی وہاں منگل کو آئیں اور بدھ کی دوپہر کو وہاں سے جاپان روانہ ہوگئیں۔ اس سے پہلے وہ ملائیشیاء اور تھائی لینڈ کا دورہ کرچکی ہیں، یوں وہ ان ممالک کے دورے پر ہیں، جن کے چائنہ کے ساتھ مسائل ہیں اور وہ اسی پالیسی کو پروان چڑھا رہی ہیں کہ چائنہ سے تنازع رکھنے والے ممالک کو امریکی استعماری عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے۔

تائیوان میں نینسی پلوسی نے آزادی اور جمہوریت پر خطاب کیا اور اپنے دورے کا مقصد تائیوان میں ان دونوں اقدار کے لیے تحفظ بتایا۔ وہ بنیادی طور پر چائینہ کے نظام پر تنقید کر رہی تھیں، ان کے خیال میں جہاں پر آزادی اور جمہوریت نہیں ہے۔ یہ بات اس لحاظ درست ہے کہ وہاں امریکہ اور مغرب کا آزادی کا تصور حکمران نہیں ہے، مگر وہاں ان کا اپنا جمہوری ڈھانچہ موجود ہے، جس کے مطابق وہ کام کرتے ہیں۔ جہاں بھی امریکہ نے مداخلت کرنی ہوتی ہے، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے نعروں کے ساتھ اقوام کو غلام بنا لیا جاتا ہے اور ایک مدت ان پر عرصہ حیات تنگ رکھا جاتا ہے اور آخر میں بے آبرو ہو کر ہر جگہ سے نکل جاتے ہیں، مگر جاتے جاتے ہر چیز کو تباہ و برباد کر جاتے ہیں۔ چائینہ نے اس پر شدید ردعمل دیا ہے، اس نے امریکی سفیر کو طلب کیا اور نیٹو ممالک کے سفیروں کو بھی طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا کہ یہ ون چائنہ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مشرقی ایشیائی ممالک کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے چائینہ کے ردعمل کو جارحانہ قرار دیا اور کہا کہ چین اپنے پڑوسیوں کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ اس پر دنیا بھر سے ردعمل آرہا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق ایک سو ممالک نے اس دورے کے مقابل چین سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ عرب لیگ نے بھی چین کی ون چائینہ پالیسی کی حمایت میں بیان دیا ہے۔

لگ یوں رہا ہے کہ امریکہ نے دوبارہ جنگی پالیسی کو اختیار کیا ہے، جس کے تحت روس یوکرین کو آپس میں لڑا دیا ہے اور یورپ کو اس میں الجھا دیا گیا ہے۔ اس کے اثر کا اندازہ لگائیں، روس تو ویسے ہی بین الاقوامی نظام سے اتنا جڑا ہوا نہیں ہے، یورپ کی معیشتیں ہل گئی ہیں۔ یورو اور ڈالر کی قدر میں بہت فرق ہوتا تھا، یورو کی قدر ڈالر کے مقابلے کافی زیادہ ہوتی تھی، مگر اب ڈالر اور یورو برابر آچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سردیاں سر پر ہیں اور گیس کا بحران جنم لے چکا ہے۔ جرمنی خاص طور پر اس کا شکار ہے۔ یوکرین کی حمایت کی وجہ سے روسی گیس سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ کو مارکیٹ سے ایل این جی خریدنی پڑ رہی ہے، جس سے اس کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، کیونکہ اس کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے اور سپلائی اتنی نہیں ہے۔ دو دن پہلے انڈیا نے گیس کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا، مگر اس پر کسی نے کوئی آفر ہی نہیں دی اور وہ ایسے ہی چلا گیا۔

پرامن چین امریکہ کے مقابل آچکا ہے، امریکی اسے الجھانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے خود جنگ میں کود جائے، جب وہ خود جنگ میں چلا جائے گا تو اس کی معاشی ترقی بھی رک جائے گی اور پھر اسے پابندیوں کے جال میں پھنسا کر الگ تھلگ کرنا بھی آسان ہوگا۔ یہ سب اسی کے لیے ہو رہا ہے، اب تو تائیوان کو تھپکی دی جا رہی ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تائیوان کو کافی اسلحہ و بارود بھی دیا گیا ہے کہ یہ چائینہ سے لڑ جائے۔ اس کے بعد امریکہ نے ایسے ہی تماشائی بننا ہے، جیسے یوکرین کے معاملے میں بنا ہوا ہے۔ اسے روس نے روند ڈالا ہے اور امریکہ دور سے سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ تائیوان میں بھی لگ بھگ یہی پلاننگ نظر آرہی ہے، تائیوانی انتظامیہ اسے کسی اور نظر سے دیکھ رہی ہے، مگر دراصل وہ امریکی نعروں کی گھن گرج میں اپنے ملک کو تباہی کے طرف دھکیل رہی ہے۔ آخر میں یہ بات بھی کہ لگ یوں رہا ہے کہ نینسی پلوسی صدارتی دوڑ کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1007778
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش