0
Monday 8 Aug 2022 21:07

تبرکات عزا اور رسومات عزا

تبرکات عزا اور رسومات عزا
تحریر: عظمت علی

ہندوستان میں امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی ایک طویل اور سنہری تاریخ ہے، جہاں مثبت اور فکری نمود کا سلسلہ ملتا ہے۔ امام کے غم میں مجالس برپا کرنا، فضائل و مناقب اور مصائب کا بیان، جلوس عزا، تعزیہ داری سے لے کر سیاہ لباس اور سیاہ پرچم بلند کرنا رسومات عزا اور تبرکات عزا ہیں۔ عزاداری کے حوالے سے ہمیشہ ہم سے سوال کیا جاتا ہے اور ہمیشہ تشفی بخش جواب دیا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی کاروان ہدایت ٹھہرنے والا نہیں۔ ہر ملک اور ہر علاقہ کی عزاداری میں کچھ رسومات بھی داخل ہیں، جو علاقائی لوگوں نے امام حسین اور شہدائے کربلا علیہم السلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بنا رکھی ہیں۔ اگر یہ رسمیں دین سے نہیں ٹکراتیں تو اسلام بھی اس کے خلاف نہیں۔

روایت کے الفاظ ہیں کہ غم سرکار ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام میں رونا اور رونے جیسی صورت بنانا باعث اجر ہے۔ مراجع کرام نے امام کے ذکر کو شعائر الہیٰ سے تعبیر کیا ہے اور شعائر الہیٰ کو زندہ رکھنا اور اس راہ کو ہموار کرنا بھی باعث ثواب بتایا ہے۔ یہ دونوں کار خیر کسی معین اذکار و افعال سے وابستہ نہیں، اس لیے مختلف علاقوں میں مختلف رسومات عزاء کا پایا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ہر ایک کا شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اپنا اپنا ڈھنگ ہے۔ ایسی مختلف النوع رسومات کو لے کر عزاداری میں رخنہ ڈالنا بالکل بجا نہیں بلکہ بعض اوقات ظلم کی ہمراہی شمار ہونے لگتی ہے، چونکہ کربلا ظلم کے خلاف مسلسل آواز احتجاج ہے، اسے دبانا یا ذکر کربلا کی راہ میں روڑے اٹکانا ظلم کی ہمراہی میں شمار کیا جائے گا۔

آج کل کچھ چیزیں ہمارے درمیان بھی آچکی ہیں۔ کچھ زیادہ فکر کرنے والے اور روشن خیال افراد کا کہنا ہے کہ سیاہ لباس پہننے سے کیا محرم ہو جائے گا۔؟ کیا اللہ اور امام خوش ہو جائیں گے۔؟ نفیس تبرکات سے کیا فائدہ اور اس طرح بہت سے اعتراضات۔ ان سب کا الگ الگ تفصیلی جواب ہے، مگر یہاں چند مشترکہ چیزیں بیان کی جا رہی ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کی یاد میں، شریعت کی مخالفت نہ کرتے ہوئے انسان جو بھی کام انجام دے رہا ہے، اس میں اجر ہے۔ محرم میں سیاہ لباس پہننے کی تاکید ہے، یہ سوگواری کی علامت ہے۔ ظلم کے خلاف نشان حق ہے۔ سیاہ لباس ہم پہنتے ہیں تو آپ کو پریشانی کیوں۔؟ دیگر رنگ و طراز کے لباس پر آپ خاموش کیوں رہتے ہیں۔؟

تبرکات اور نفیس تبرکات کا مسئلہ بھی انسان کی حیثیت اور اس کی نیت پر موقوف ہے۔ ہر انسان اپنی استطاعت کے مطابق امام کے غم میں شریک غم ہوتا ہے اور کثیر تعداد میں لوگوں کو دعوت پیغام حق دیتا ہے۔ مہمان نوازی کرنا کہاں عیب شمار کیا جاتا ہے۔؟ مہمانوں کو نفیس غذا فراہم کرنا کتنا ہی بہتر ہے! سچ مانیں تو یہی نفیس غذائیں کتنے گھروں کا رزق ہوتی ہیں اور انسان امام کے صدقے میں شکم سیر ہو جاتا ہے۔ اچھا! کون سا ہم محض اپنوں میں تقسیم کرتے ہیں، ہم تو بلاتے ہیں کہ دنیا آئے اور سچائی سے آشنا ہو۔

غم حسین علیہ السلام منانا انسانیت کا فرض ہے۔ ہم مناتے ہیں تو آپ کو بھی ساتھ دینا چاہیئے، یزید ؒ پر لعنت درحقیقت ظلم پر لعنت ہے۔ یزیدؒ سے اظہار بیزاری شخص سے نہیں یزیدی مزاج سے اظہار بیزاری ہے۔ اس بات کو امام حسین علیہ السلام نے مدینہ منورہ میں ہی واضح کر دیا تھا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ اُس ایک انکار بیعت میں ہزاروں مظالم کے خونچکاں سانحے ہیں۔ انہی سانحے کو بیان کرنے کا نام کربلا ہے ؎
کربلا ایک شب و روز پہ موقوف نہیں 
لاکھوں ایام نے اس دشت میں کروٹ لی ہے
خبر کا کوڈ : 1008235
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش