0
Tuesday 9 Aug 2022 22:33

بلتستان کے موضع غواڑی میں جلوس کے روٹ کا تنازعہ اور سرکاری امن کمیٹی

بلتستان کے موضع غواڑی میں جلوس کے روٹ کا تنازعہ اور سرکاری امن کمیٹی
تحریر: شیر علی انجم

نبی اکرم آخرالزمانؐ کی اس حدیث پر تمام مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ "حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسین ؑسے ہوں۔" لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں نے اس حدیث کی تشریح بھی اپنے اپنے مسلک کے مطابق کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسول ؐ  کا دن منانے کیلئے مسلمان آج تک متفق نہیں ہوئے، بلکہ بدقسمتی سے اس سال امریکہ کے ایک شہر میں مسلمانوں نے باقاعدہ طور پر عید کی طرح منانے کا اعلان کیا۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ہر سال محرم الحرام کی چھٹیوں میں تفریحی مقامات پر سیاحوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین ؑسب کا ہے۔ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے، حسین ؑ اُن کا ہے، جن کے دلوں میں انسانیت زندہ ہے، جو ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق کو جانتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج بھی پاکستان میں یوم حسین ؑمنانا ایک طرح سے جرم سمجھا جاتا ہے۔ قانونی طور پر، آئین پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ جلوس نکالنے اجازت ہے۔ آئین کے آرٹیکل296 اور 298  اے کے مطابق جلوس یا مجلس میں خلل ڈالنے کی صورت میں ایک سال قید کی سزا ہے۔ اسی طرح مجلس پر حملہ کرنے یا مجالس کے حوالے سے منفی افواہیں پھیلانے یا اس عمل کو درست سمجھنے کی سزا بھی تین سال قید ہے۔

لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں نہ صرف مجالس کے حوالے سے باقاعدہ طور پر منبروں سے من گھڑت افواہیں اڑائی جاتی ہیں، بلکہ مجالس اور جلوسوں کو اسلام ہے ہٹ کر ہونے کے فتوے بھی آچکے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ مجالس پر خودکش دھماکوں کی ایک طویل تاریخ ہے، مگر اس قسم کے فتنہ پرور لوگ آج بھی باقاعدہ پروٹوکول کے ساتھ معاشرے میں نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں فتنہ تب جنم لیتا ہے، جب لوگوں میں قوت برادشت ختم ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں عجیب قسم کے فتنے ایک دم سے پروان چڑھ جاتے ہیں۔ پھر انہیں ختم کرنے کے نام پر کچھ عناصر حرکت میں آتےہیں۔ یعنی صورتحال پستی کی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہم نے اپنوں سے زیادہ غیروں پر اعتماد کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان تمام باتوں پر بات کرنے سے پہلے ہمیں کربلا کو گاندھی کی زبانی سمجھنا ہوگا، جو مسلمان نہیں تھے، مگر حسین ؑ کو جدوجہد کا پیامبر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کا پھلنا پھولنا تلوار سے نہیں بلکہ امام حسینؑ کی قربانی کا نتیجہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حسینؑ کے ساتھیوں جیسے بہتر لوگ موجود ہوں تو میں ہندوستان کو چوبیس گھنٹوں میں آزاد کرا لوں۔ پنڈت لال نہرو کہتے ہیں کہ امام عالی مقام کی قربانی کسی ایک قوم کی نہیں بلکہ سب کیلئے صراط مستقیم کی اعلیٰ مثال ہے۔ نیلسن منیڈیلا کہتے ہیں کہ میں نے بیس سال جیل میں گزارے۔ ایک رات فیصلہ کیا کہ دستخظ کرکے رہائی پا لینی چاہیئے۔ لیکن پھر حسینؑ اور واقعہ کربلا یاد آگیا اور پھر مجھے اپنے موقف پر کھڑا رہنے کیلئے حوصلہ ملا۔ اس طرح اُن عیسائی دانشوروں سے کربلا سمجھنا ہوگا، جن کے نزدیک حسین ؑ حق کیلئے مزاحمت کا استعارہ ہیں۔ کم از کم ہندوستان میں مسلمانوں کے ابدی دشمن بال ٹھاکرے سے سمجھنا ہوگا، جو پوری زندگی عاشورا کے دن بابا حسین کا جلوس کہہ کر حفاظت کرتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جو فضاء ضیاء الحق کے دور میں قائم کی گئی، جس کا خمیازہ آج تک اس ملک کی عوام بھگت رہی ہے۔ ورنہ واقعہ کربلا کے حوالے سے اہل تسُنن اور اہل تشیع میں کوئی خاص فرق نہیں۔

غم منانے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے، مگر خانوادہ رسالت کے ساتھ جو یزید نے کیا،  اس کی اہل سنت میں کوئی ترجمانی نہیں کرتا، سوائے مخصوص عناصر کے۔ یزید کے حوالے سے ابولاعلیٰ موودی اپنی کتاب خلافت اور ملوکیت کے صفحہ نمبر 183پر امام احمد بن حنبل کا ابن کثیر کا حوالہ دیکر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ نے سوال کیا کہ لعنت کا کیا حکم ہے۔ اُنہوں نے فرمایا، میں کیسے اُس شخص پر لعنت نہ کروں، جس پر خدا کی لعنت ہے۔ ثبوت کے طور پر اُنہوں نے سورۃ محمد کی آیت نمبر 22/23 کی تلاوت کی اور  فرمایا کہ اُس سے بڑا فسادی اور قطع رحمی کیا ہوگا، جس کا ارتکاب یزید نے کیا۔ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 174 پر یہ بھی درج ہے کہ آل رسول کو کون منبر رسول سے گالیاں دیتے تھے۔ صحفہ نمبر 138/139 میں بھی تفصیل سے بیان کیا ہوا ہے کہ اسلام کا اصل باغی گروہ کون تھا۔ یعنی کربلا فقط چند سالوں میں اچانک تیار کی گئی ایک کہانی نہیں بلکہ صلح امام حسن ؑ کی خلاف ورزی سے لیکر یزید کی تخت نشینی تک کی تاریخ ہے۔ جس پر اہل تشیع سے ذیادہ اہل سنت کی مستند کتابوں میں روشنی ڈالی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں، صرف ابوالاعلیٰ موودی کی کتاب خلافت اور ملوکیت مطالعہ کریں، جس میں تمام حوالہ جات موجود ہیں۔

اب اگر ہم اصل موضوع پر بات کریں تو گلگت بلتستان ایک طرح سے مختلف مسالک اور زبانوں کا گلدستہ ہے۔ یہاں سات کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں، آٹھ کے قریب  مسالک کے ماننے والے بستے ہیں، جن میں شیعہ اثناء عشری اور شیعہ اسماعیلی اکثیریت میں ہونے کے ساتھ دیامر، گلگت اور استور میں مسلک دیوبند، اہلسنت حنفی بریلوی اور اہل حدیث آباد ہیں۔ غذر میں شیعہ اسماعیلی، اہلسنت حنفی بریلوی/اہل حدیث اور ہنزہ، نگر میں شیعہ بارہ امامی، اثناء عشری اور شیعہ اسماعیلی آباد ہیں۔ اسی طرح بلتستان میں اکثریت شیعہ اثناء عشری اور نور بخشی کے ساتھ کم تعداد میں اہلسنت، اہل حدیث اور بریلوی آباد ہیں۔ نور بخشیوں نے اپنے مسلک کو ترقی دیکر دو ٹکروں میں امامیہ اور صوفیہ کے نام سے تقسیم کرکے آج تک اس مسئلہ کو حل نہیں کر پائے کہ اصل نور بخشی اور ہمارا مشترکہ سرپرست کون ہے۔ جو کہ بہت بڑا المیہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے علم میں لانا لازمی ہے کہ اتنے مسالک ہونے کے باوجود آپس میں رشتہ داریاں قائم ہیں، مل کر کاروبار کرتے ہیں۔ شادیاں بھی کرتے ہیں، جو کہ دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔

اہل حدیث اگرچہ تعداد میں کم ہیں، لیکن معاشی طور پر دیگر تمام مسالک سے قدرے مستحکم، بلکہ رول ماڈل ہیں۔ جس طرح سے اہل حدیث مکتب فکر نے جہاں اپنے عقیدے کے پرچار کیلئے غواڑی کو پورے گلگت بلتستان کا مرکز بنایا، وہیں غواڑی ایک طرح سے گلگت بلتستان کا معاشی حب ہے اور معاشی زرعی ترقی میں انُ کا کردار لازوال ہے۔ لیکن بدقسمتی سے جہاں خیر ہوتی ہے، وہاں شر کا ہونا بھی لازمی ہوتا ہے اور گلگت بلتستان میں ایسا نہ ہو تو سرکاری امن کمیٹیوں، سکیورٹی کے نام خطے میں موجود افراد کا گزارہ کیسے ہوگا، یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن قیام امن کیلئے آج تک جو کردار سول سوسائٹی، خاص طور پر یوتھ نے انجام دیا، شائد ہی کسی نے ایسا کام کیا ہوا۔ اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں سے میری خاص رفاقت رہی ہے۔ میں نے جو محبت اپنے اہل حدیث بھائیوں سے پائی، اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ لیکن خیر کے ساتھ شر والے عناصر سے ہمارا واسطہ پڑا۔ جو آج بھی معاشرے کی تقسیم کرنے پر خوش ہوتے ہیں، سازشیں کرتے ہیں۔ کچھ اس طرح کی صورتحال اب بھی نظر آتی ہے۔

اہل حدیث کا اگر ہم سلیس اردو میں ترجمہ کریں، یعنی وہ طبقہ جو  صرف حدیث پر یقین رکھتا ہے اور حدیث سے ہٹ کر کسی قول یا کہانی کو نہیں مانتے۔ اگر واقعی  ایسا ہی ہے تو اہل حدیث مکتب فکر کو ذکر کربلا میں اہل تشیع سے بھی آگے ہونا چاہیئے تھا، کیونکہ رسول خدا نے حجۃ الوادع سے واپسی کے وقت غدیر کے مقام پر جو آج کے جدہ سے چند کلومیٹر مسافت پر واقع ہے، مسلمانوں کو جمع کرکے فریایا:  "جس کا میں مولا، اُس کا علی مولا" اور حضرت عمرؓ نے سب سے پہلے مولا علی کو مبارک باد دی اور کہا کہ اے علی مبارک ہو، آج سے آپ میرے بھی مولا بن گئے ہیں۔ اسی طرح عبدااللہ ابن عمر کا امام حسن ؑاور امام حسین ؑ کے حوالے سے جو واقعہ  تاریخ میں لکھا ہوا ہے، وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ رسول خدا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ حسنین کریمین سرداران جنت ہیں اور حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سے ہوں۔ یعنی ہر وہ عمل جو حسینؑ کرے، وہ رسول اللہ کا عمل ہے۔ ایسے میں نواسہ رسول کے ساتھ جو کچھ کربلا میں یزید نے کیا، دنیا کے تمام مذاہب کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ اُن کے ذکر سے اس قدر نفرت یقیناً حدیث پر ایمان رکھنے والوں کا شیوہ نہیں۔

غواڑی بلتستان اہل حدیث کا مرکز ہے، یہاں اہل تشیع کی تعداد کم ہے۔ گذشتہ سال محرم الحرام کے جلوس کا روٹ تبدیل کرنے کی وجہ سے آپس کا بھائی چارہ تار تار ہوگیا اور اس سال شر کے اس عمل میں مزید تیزی آگئی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ پہلی غلطی اہل تشیع برادری کی ہے، جنہوں نے اپنے بھائیوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ حالانکہ جلوس نے سرکاری سڑک سے گزرنا تھا، جس کیلئے سرکار مالکان کو معاوضہ دے چُکی ہے، پھر بھی معاشرتی رواداری کیلئے لازمی تھا کہ اپنے بھائیوں کو اعتماد میں لیں۔ اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے جو لوگ معاشرے میں تقسیم کی سیاست کرتے ہیں، اُن کو خوب موقع ملا اور ایک طرح سے سوشل میڈیا کو میدان جنگ بنایا گیا۔ عجب و غریب قسم کے الزامات طرفین کی طرف سے مسلسل لگائے جاتے رہے۔ بدقسمتی سے یہ تمام کام جعلی ناموں سے ہوا۔ مگر نہ امن کمیٹی حرکت میں آئی اور نہ ہی محکمہ داخلہ گلگت بلتستان ٹس سے مس ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پردے کے پیچھے کی طاقت کوئی اور ہے، جو عام آدمی کو اشتعال میں لانا چاہتی تھی، جس میں کچھ حد تک انہیں کامیابی بھی ملی۔

دوسری بات اہل تشیع نے اپنے بھائیوں کو اعتماد میں نہ لیکر اعتماد کے رشتے کو کمزور کیا، وہیں اہل حدیث برادری کا بھی فرض بنتا تھا کہ اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اسے یزید اور حسینؑ کی جنگ نہ بنائیں، کیونکہ یقیناً مسلکی مذہبی طور پر یزید سے آپ کا کوئی رشتہ تو ہے نہیں، جو آپ کو امام حسینؑ کے نام سے جلوس سرکاری سڑک سے نکالنے پر اعتراض ہو۔ اُن کا بھی فرض بنتا تھا کہ اس حوالے سے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقیقی اہل حدیث ہونے کا عملی مظاہرہ پیش کرتے اور اُن کیلئے پانی کا انتظام کرتے، کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرتے۔ کیونکہ وہ آپ کے مہمان تھے، میرے رسول کا اخلاق ہے کہ آپ کافر سے بھی حُسن اخلاق سے پیش آتے تھے۔ یہ تو آپ کے بھائی، ہم زبان، ہم علاقہ، ہم محلہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے کسی رشتہ دار کی بارات یا جنازہ لیکر جا رہے ہوتے تو ہمارے اہل حدیث بھائیوں کا اعتراض درست تھا۔ یہاں معاملہ نواسہ رسول کا ہے، آخری نبی کو اُن کے آل کا پرسہ دینے کا ہے۔ جس کیلئے آپ اور ان میں طریقے کا فرق ہوسکتا، آپ یزیدی نہیں ہوسکتے کہ آپ کو جلوس سرکاری سڑک سے گزارنے پر اعتراض ہو۔

فطری عمل ہے کہ دنیا میں آبادی بڑھتی ہے تو طور طریقوں میں جدت آتی ہے۔ اگر صرف کراچی کی مثال لیں تو گلگت بلتستان سے معاش اور تعلیم کیلئے ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہونے والے اگر دس خاندان ایک علاقے میں اکٹھے ہو جائیں تو اُن کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ ایک مسجد اور امام بارگاہ بنائیں۔ ایسا ہی گذشتہ پانچ سالوں میں ہوا۔ ایک ایسی جگہ جہاں اہل تشیع کی ایک بھی آبادی نہیں، جہاں مسلک دیوبند کا بہت بڑا مرکز ہے، لیکن وہاں پر امام بارگاہ اور مسجد تعمیر ہونے کے بعد باقاعدہ طور پر جلوس نکالا اور دو کلومیٹر دور مرکزی اہل تشیع مرکز پر اختتام ہوا۔ کسی کو اعتراض نہ ہوا۔ حیران ہوتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں اس قدر عدم برداشت کا پودا کیوں اور کس نے لگایا۔؟ اس واقعے کے بعد جہاں عوامی ایکشن کمیٹی سمیت دیگر طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے سوشل میڈیا اور گراونڈ پر بہتر کام کیا، لیکن اچانک سرکاری امن کمیٹی سامنے آگئی اور اس امن کمیٹی نے جو مندرجات صلح نامے میں لکھی ہیں، ایسا آج سے چند سال قبل تک سعودی عرب میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب تو سعودی عرب میں بھی مذہبی آزادی مل چکی ہے۔

ایک شق کے مطابق صلح نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر (اے ٹی اے) لگایا جائے گا۔ اس ہتھیار کو اب گلگت بلتستان کے عوام پر استعمال کرنے کی دھمکی بند ہونی چاہیئے، کیونکہ طاقت کے زور پر وقتی طور پر ضرور دبایا جاسکتا ہے، لیکن اس دبانے کے نتیجے میں جو لاوا پھٹ کر سامنے آئے گا، اسے کنٹرول کرنا ایک متنازعہ علاقے میں انتظامیہ کیلئے مشکل ہوسکتا ہے، جس کی سیاسی شکل ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ دوسری بات، اگر کوئی سرکاری سڑک پر اپنے عقیدے کے مطابق جلوس نکالتا ہے تو کیا یہ دہشت گردی ہوگی۔؟ بدقسمتی سے جو قانون دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کیلئے لایا گیا تھا، گلگت بلتستان میں پُرامن سیاسی کارکنوں اور اب ذکر امام حسین ؑ کرنے والوں کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ اسی گانچھے کے چھوربٹ نالے میں کن لوگوں کو کو تربیت دی جاتی رہی ہے، محمد خراسانی کس طرح آزاد طریقے سے بلتستان میں اپنی فکر کا پرچار کرتا رہا ہے، جس کے آثار اب نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

سرکاری امن کمیٹی کے صلح نامے کی ایک اور شق میں یہ بھی لکھا کہ عاشورا کے جلوس میں شرکت کیلئے غواڑی سے باہر کے لوگ نہیں آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غواڑی نوگو ایریا ہے۔؟ یا سرکاری امن کمیٹی غواڑی کو مستقبل کا نوگو ایریا بنانے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔؟ کیونکہ یہ عمل نہ قانونی ہے، نہ جمہوری اور نہ ہی اسلامی۔ اگر صرف سعودی عرب کی مثال لیں تو عاشورا کے جلوس میں شرکت کیلئے دمام، ریاض سے لوگ مدنیہ آتے ہیں اور سعودی فورسز باقاعدہ سکیورٹی فراہم کرتی ہیں۔ خدارا  بلتستان کو کشروٹ نہ بنائیں، اس خطے میں باہمی بھائی چارگی قائم ہے، اسے مزید تار تار نہ کریں، گلگت بلتستان مزید تقسیم کا متحمل نہیں۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے، اس قسم کا غیر انسانی عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور متنازعہ خطے کے مفاد میں نہیں، ویسے بھی دشمن کی گلگت بلتستان پر گہری نگاہ ہے اور امن کمیٹی کے نام پر چند سیاسی، فکری اور شعوری طور پر نابالغوں کو اس بات کا ادراک نہیں۔

مختصر یہ ہے کہ باہمی رواداری کی تمام باتیں اپنی جگہ، لیکن یہ کونسی حدیث میں لکھا کہ ذکر نواسہ رسول کی مخالفت کی جائے۔ ہاں اگر جلوس کے نام پر غلط نعرے بازی کریں، اشتعال انگیزی پھیلائیں اور دوسروں کے مقدسات کی توہین کریں تو یہ دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر نہیں تو کم از کم اہل حدیث والوں سے پوچھنا چاہیئے تھا کہ ذکر نواسہ رسول، جو کسی بھی طریقے سے ہوسکتا ہے، اُس کی مخالفت کی اصل وجہ کیا ہے۔ لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں، عوام، تمام مسالک کے علمائے کرام، خاص طور پر یوتھ کو اب امن کمیٹی نے جن شقوں کی بنیاد پر، اُن کے مطابق علاقے میں امن قائم کیا ہے؟ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ دیرپا ہوسکتا ہے۔؟ اس سے معاشرے میں موجود نفرتوں میں کمی آسکتی ہے۔؟ کیا مستقبل میں کسی اور مقام پر اس طرح کا معاملہ سامنے آیا تو طاقت کے بل بوتے پر روکیں گے۔؟

فی الحال ایسا لگتا ہے کہ امن کمیٹی نے ایک اور نئے محاذ کی بنیاد ڈالی ہے، جس کی بنیاد پر بلتستان کا معاشرہ مزید تقسیم ہوگا اور اس کا اثر پورے گلگت بلتستان پر پڑے گا۔ لہذا سرکاری امن کمیٹی کے مندرجات پر تمام مسالک کے علمائے کرام کو مزید مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آج کی دنیا دلیل اور قانون کی بنیاد پر بات کرتی ہے۔ اگر ہم واقعی جمہوری معاشرے میں رہتے ہیں تو جمہوری رویہ اپنانا ہوگا۔ اس سے تمام قسم کے مسائل کا حل ممکن ہے۔ ورنہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں اس قسم کی کمیٹیوں کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے اور معاشرہ تقسیم ہوا ہے۔ خدا ہم سب کو نواسہ رسول کا حقیقی پیروکار اور حقیقی اہل حدیث بننے کی توفیق عطا فرمائے، جس طرح یوم عاشورا کے دن مُلک بھر کی طرح غواڑی میں اہلسُنت اور اہل تشیع نوجوانوں نے دشمن کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے باہمی رواداری کو فروغ دیتے ہوئے حضرت محمدؐ کو اُن کی آل کا پُرسہ دیا۔
خبر کا کوڈ : 1008366
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش