0
Thursday 11 Aug 2022 00:14

کوئٹہ کے نجی ہستپال میں خواتین کی ویڈیوز کا معاملہ

کوئٹہ کے نجی ہستپال میں خواتین کی ویڈیوز کا معاملہ
تحریر: اعجاز علی

"ایم ایس کہاں ہے؟ کہاں ہے ایم ایس؟ میری بات سنو! اس نے مجھے ہراس کیا ہے۔ میں بے ہوش تھی، اس نے مجھے ٹچ کیا ہے۔" سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 18 سیکنڈز کی ویڈیو نے کوئٹہ کے شہریوں کو ایک بار پھر شدید غصے اور کرب میں مبتلا کر دیا۔ ویڈیو میں ایک خاتون کوئٹہ کے نجی ہسپتال میں چیختی، چلاتی ہوئی نظر آئی۔ جو یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ ایک ڈاکٹر نے اس کی بے ہوشی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ہراساں کیا۔ ہسپتال میں خفیہ طور پر ریکارڈ ہونے والی اس ویڈیو میں خاتون روتے ہوئے بھی نظر آئی۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر زیر گردش تھی کہ ایک اور ویڈیو سامنے آئی۔ دوسری ویڈیو میں ایک آپریشن کے دوران، کسی ڈاکٹر کو خاتون مریضہ کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی اور نازیبا فعل سرانجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر بعض صارفین نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کوئٹہ کے اسی ہسپتال کی ویڈیو ہے، جس سے متعلق خاتون ہراسگی کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف جو ڈاکٹر تھے، کہنے لگے "ایسے درندے ڈاکٹر کا لائسنس منسوخ کرکے اسے عبرت کا نشان بنانا چاہیئے۔"

چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خاتون کی ویڈیو کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین سی ایم آئی ٹی اور سیکرٹری محکمہ صحت کو تحقیقات کا حکم دیا۔ "ڈی جی ایف آئی اے کو بھی سائبر کرائم قانون کے تحت تحقیقات میں معاونت کے لئے درخواست دی گئی ہے۔" چیف سیکرٹری بلوچستان کا بیان بھی سامنے آیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ "انکوائری رپورٹ فوری طور پر مرتب کرکے حکومت کو پیش کی جائے۔"

بلوچستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے رہنماء ڈاکٹر آفتاب احمد کاکڑ نے وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیو کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ڈاکٹروں کیخلاف پروپیگنڈے کی مذمت کی۔ انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا "16 جولائی کو برازیل کی ایک ویڈیو کو کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال کے عملہ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔" انہوں نے ایف آئی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں سے سوشل میڈیا پر وائرل کئے گئے اس ویڈیو کی تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لانے کی درخواست کی۔ "یہ ڈاکٹروں اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کو تحقیقات کیلئے درخواست دی گئی ہے۔ دیگر اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے۔" ڈاکٹرز کے رہنماء نے اپنے بیان میں ویڈیو کی وضاحت کی۔

انہوں نے خاتون کی ویڈیو سے متعلق بھی وضاحت پیش کرتے ہوئے خاتون کو ذہنی مریضہ قرار دیا۔ "کچھ روز پہلے ایک مریضہ کو اسٹریچر پر کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں لایا گیا۔ جس کو دماغی مسئلہ تھا۔ ایک ڈاکٹر اور نرس نے مریضہ کا معائنہ کیا۔" ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کہا کہ مریضہ کے ساتھ کمرے میں تین اور خواتین موجود تھیں۔ "باہر آکر اس مریضہ نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور اس کیساتھ آنے والی دیگر خواتین نے اپنے موبائل سے اس کی ویڈیو بنائی، جس کو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔" ڈاکٹر رہنماء کے مطابق مریضہ نے بعد میں اس واقعہ کی وجہ سے انتظامیہ سے معذرت خواہی بھی کی۔ "اس واقعہ کی تحقیقات بھی مکمل ہوچکی ہے، مگر سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو دوبارہ برازیل کی ویڈیو سے لنک کرکے وائرل کیا جا رہا ہے۔" انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ عوام اور ڈاکٹروں کے درمیان دوریاں پیدا ہوں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماء ڈاکٹر بہار شاہ نے ویڈیوز کی مذمت کرتے ہوئے کہا "ہم جس معاشرہ میں رہتے ہیں، اس کی اپنی روایات ہیں۔" انہوں نے برازیل میں مریضہ کیساتھ غیر اخلاقی عمل کی ویڈیو کو کوئٹہ کے نجی ہسپتال کیساتھ جوڑنے کو غلط قرار دیا۔ "ہم کسی کو تحقیقات سے نہیں روکیں گے۔ ہم نے ایف آئی اے کو خود تحقیقات کرنے کیلئے کہا ہے، تاکہ اس پروپیگنڈہ کے پیچھے جو عناصر ہیں، ان کو منظر عام پر لایا جائے۔" انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود دیگر ڈاکٹر رہنماؤں کے ساتھ نجی ہسپتال کا جائزہ لیا ہے۔

اس معاملہ سے متعلق عورت فاؤنڈیشن اور ٹوڈیز ویمن آرگنائزیشن نامی سماجی تنظیموں کا مشترکہ بیان بھی سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا "ویڈیوز جعلی ہونے سے خواتین مریضوں کے خاندان اور تیمارداروں میں خوف و نفسیاتی دباؤ کم نہیں ہوا ہے۔" دونوں تنظیموں نے حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں ایمرجنسی و آپریشن تھیٹرز میں ایس او پیز کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں جائیں۔ "سی سی ٹی وی کیمرے ضروری ہیں، تاکہ مریضوں کے خاندان اور تیمارداران باہر سکون سے بیٹھ کر اپنے بے ہوش مریضوں کی نگرانی کرسکیں۔" انکے مطابق اس طرح انکے بڑھتے ہوئے خوف اور نفسیاتی دباؤ کو کم کیا جاسکے گا۔

"ماضی میں بھی بلوچستان کے اکثر سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں سے خود مریضوں اور انکے تیمارداران کی طرف سے مسلسل شکایات آتی رہی ہیں کہ ہسپتالوں خصوصاً گائینی وارڈز میں میل ڈاکٹرز، ٹیکنشنز یا میل نرسرز اور وارڈ بوائز بچوں کی ڈیلوری کے دوران بھی موجود ہوتے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ یہ سراسر غیر قانونی، غیر شرعی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں ہیں۔ جس کی بلوچستان جیسے مذہبی و قبائلی معاشرے میں کسی بھی طرح کی اجازت نہیں ہے۔

"پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں سے آئے دن کی شکایات سے بڑے قبائلی تصادم کا خدشہ ہے۔" دونوں تنظیموں نے کہا کہ صوبے میں کم آبادی اور محدود سوشل میڈیا چینلز کی وجہ سے دیکھا گیا ہے کہ کسی ایک وائرل ویڈیو کی آڑ میں بغیر تحقیق اور تصدیق عوام اس ویڈیو کو پروپیگنڈہ کے طور پر مخالفین کیخلاف پھیلا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا "خصوصاً پرائیویٹ ہسپتالوں کیخلاف پروپیگنڈہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو صحت کے شعبے میں بہترین خدمات سرانجام دینے والے ہسپتالوں اور شعبہ طب کے ڈاکٹروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔"
خبر کا کوڈ : 1008550
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش