0
Thursday 11 Aug 2022 17:40

حقیقی عاشق امام زماں۔۔۔۔۔ محرم علی

حقیقی عاشق امام زماں۔۔۔۔۔ محرم علی
تحریر: سویرا بتول

ہم میں سے ہر کوٸی یوسف زہراء، امام زمان علیہ السلام سے عقیدت و عشق کا دعویدار ہے اور ہر انسان اپنی بساط کے مطابق فرزند بتول سے اپنے والہانہ عشق کا اظہار کرتا دکھاٸی بھی دیتا ہے، مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں، جو بوقت ضرورت امام (عج) سے اس عشق کے دعوے میں ثابت قدم رہ پاتے ہیں۔ آج ایک ایسے ہی شہید کی برسی ہے، جو حقیقی معنوں میں عاشق امام زماں تھا، جسے دنیا محرم علی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ وہ جری شیر دل آیا اور تن تنہاء عشق کے تمام وعدے وفا کر گیا۔ مصلحت پسندوں کے مصلحت پسندانہ مشوروں کو پس پشت ڈال کر نعرہ حیدری کی گونج میں بخوشی دار پر چڑھ گیا۔ یہ ایک ایسا شہید ہے، جو دشمن کی ہیبت و طاقت سے نہ ڈرتا تھا اور جس کا شجاعت و حمیت میں کوٸی ثانی نہ تھا۔ اُسے اس بات کی پروا نہ تھی کہ میری جان چلی جاٸے گی یا راہِ امام (عج) میں میرا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو جاٸے گا۔ وہ مثل بوذر و سلمان ڈٹا رہا، مصلحت کا شکار نہ ہوا اور مثل میثم تمار علی (ع) کے عشق میں سولی پر چڑھ گیا۔

شہید کی برسی کے موقع پر شہید کے لیے ایک خوبصورت لفظ ذہن میں آرہا ہے، چونکہ ہمیں مدافعین حرم پر لکھتے ایک عرصہ بیت گیا، مگر یوں گمان ہوتا کہ محرم علی حقیقی مدافع امام زمان تھا، جس نے اپنے مولا (عج) کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی۔ محرم علی حقیقی معنوں میں مدافع عزاداری تھا، جس نے نہ صرف عزاداری سید الشہداء کے اہداف کو درک کیا بلکہ یزید وقت کے سامنے ڈٹ بھی گیا۔ یہ عزاداری کے ایام ہیں اور کیا خوب ہے کہ انہی ایام میں مدافع عزاداری کی برسی بھی آن پہنچی۔ گویا سیدالشہداء بھی یہی چاہتے ہیں کہ میرے ذکر کے ساتھ میرے اس نڈر شیر جری شہید کا ذکر بھی ہو، جو مثل غلامانِ عباس یزید دوراں سے ٹکڑا گیا۔

شہید کے ایک قریبی رفق نقل کرتے ہیں کہ شہید نے اپنی شہادت سے قبل تمام رات عبادت الہیٰ میں گزاری، ایسا کیوں نہ ہوتا، آخرکار محرم علی کے آقا حسین ابن علی (ع) نے بھی تو شب عاشور کی تمام شب اپنے خالق سے راز و نیاز میں بسر کی تھی۔ شہید خود کو ہمیشہ جسمانی طور پر توانا رکھا کرتے تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ امام (عج) کا سپاہی جسمانی اور روحانی طور پر مضبوط ہوتا ہے۔ شہید محرم علی کو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی سے ایک خاص عقیدت تھی۔ شہید محرم علی ایک کم پڑھے لکھے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ بعض لوگ ان کا شہید محمد علی نقوی سے ارتباط پسند نہ کرتے تھے۔ مگر وہ کم پڑھا لکھا مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا شہید نقوی کی معرفت سے بخوبی آشنا تھا، اسی لیے وہ ہر قدم پر سائے کی طرح شہید نقوی کے ساتھ رہتے۔ یہ شہید محمد علی نقوی کی ذات سے عشق ہی تھا کہ بعد از شہادت بھی شہید نقوی کا ابدی ہمسایہ ہونا پسند کیا۔ شہید محرم علی کو امام زمانہ سے خاص عقیدت تھی اور شاید یہ امام (عج) سے عشق ہی تھا کہ دلیرانہ انداز میں جام شہادت نوش کیا۔

شہید کی شہادت کے بعد سے لیکر اب تک بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ محرم علی کا فعل درست تھا یا نہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں، جن کے نزدیک کربلا صرف رونے کا نام ہے، نہ کہ درس حریت و آزادی۔ آج بھی خود کو مصلحت کی زنجیروں میں قید کیے ہوٸے یہ لوگ شہداء کے افعال پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ ان کے لیے ھل من ناصر کی صدا فقط سن اکسٹھ ہجری کے لیے تھی اور یہ وہی لوگ ہیں، جو آج کی کربلا میں کردار ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہرحال شہداء نے اپنا وظیفہ ادا کیا، مگر اب سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔؟ 

کیوں محرم علی پر آج تک کوٸی کتاب مرتب نہیں کی گئی؟ کیوں شہید کے افکار پر کام نہیں کیا گیا؟ شہید محرم علی کے نام پر قائم اس حساسیت کو کم کرنے کی کتنی کاوشیں کی گئیں؟ خود کو شہداء کے قریبی رفقاء کہلانے والے اس موقع پر سامنے کیوں نہیں آتے؟ ہم محرم علی کے لیے ایک وکیل تک تو کروا نہ سکے۔ شہید کی زوجہ آج کس کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہیں ہیں، کیا ملت کے عمائدین و قائدین نے یہ جاننے کی کوشش کی؟ شہداء کے نام پر بڑی بڑی آرگنائزیشنز اور فاٶنڈیشنز قاٸم کرنے والوں کی فعالیت کتنے فی صد ہے، کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی۔؟ کیا چند انقلابی ترانے، جوش خطابت میں کئی گئی تقاریر اور چند نعرے ہمیں شہداء کے سامنے سرخرو کرسکیں گے۔؟ کیا اس بے حسی اور کوتاہ نظری پر امام دوراں ہمیں معاف کر دیں گے۔؟ العجل جو کہتے ہیں، آگئے تو کیا ہوگا۔؟
خبر کا کوڈ : 1008666
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش