0
Thursday 8 Sep 2022 13:39

دعا و مناجات اور امام خمینیؒ(2)

دعا و مناجات اور امام خمینیؒ(2)
تحریر: سید ثاقب اکبر

قبولیت دعا کے حوالے سے اعتراضات کا جواب
بعض لوگ دعا کی قبولیت کے بارے میں طرح طرح کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں، ان اعتراضات کے ویسے تو بہت سے جوابات دیے گئے ہیں اور دیے جاتے رہتے ہیں، لیکن امام خمینیؒ نے ان کے جواب میں بہت بنیادی بات کی ہے۔ آپ کہتے ہیں: ’’دعا کرتے ہوئے آپ کیا ارادہ کرتے ہیں؟ کیا دعا کرتے ہوئے آپ کی ایسی ہی خواہشیں ہوتی ہیں، جیسی ہم ایک دوسرے سے کرتے ہیں؟ دعا کا مطلب وہی ہے، جس کا تعین احادیث میں کیا گیا ہے کہ ’’الدعا ھوالعبادۃ‘‘ یعنی دعا سراسر عبادت ہے۔ ہاں تو ہماری یہ دعائیں عبادت ہیں اور آتش و عذاب سے نجات بھی دلاتی ہیں، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح سے عبادت ہیں اور کیسے آتش و عذاب سے نجات دلاتی ہیں۔ یہ دعا و تذکر کہ آپ کہہ رہے ہوتے ہیں: خدایا مجھے بخش دے، اس حالت میں کہ آپ اپنے آپ کو ہر جگہ سے منقطع کرکے اس کے آستاں سے جوڑ لیتے ہیں اور اُس کا خوف دل میں بٹھا لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آپ کے اردگرد نورانیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس طرح آپ قابل شفاعت ہو جاتے ہیں۔ کتنی ہی ایسی دعائیں ہیں کہ نفوس میں جن کی تاثیر ضعیف ہوتی ہے، لیکن قلب پر جن کی نورانیت نماز سے بیشتر اور زیادہ ہوتی ہے۔‘‘

امام خمینیؒ چونکہ خود صاحب ذکر و دعا ہیں، اس لیے اس کی تاثیر کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ مزید فرماتے ہیں: ’’دعا و ذکر کرتے ہوئے اس کا نقش دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور ان اعمال کے دہراتے رہنے سے قلب میں نورانیت پیدا ہو جاتی ہے اور دل پر اس کا نقش جم جاتا ہے، اس طرح ذکر خدا ایک ملکہ و صلاحیت کی صورت اختیار کر جاتا ہے اور ذکر کے ذریعے ذاتی طور پر انسان کا نفس اللہ تعالیٰ سے طلب مدد کی حالت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘ بعض لوگوں پر دعا اس طرح سے گہرا اثر نہیں کر رہی ہوتی، جیسا اثر عرفا پر کرتی ہے۔ وہ لوگ جو دنیا سے منقطع ہو کر اور پروردگار کی طرف پوری طرح متوجہ اور راغب ہو کر التجا و الحان کی خاص کیفیت سے پروردگار کو پکارتے ہیں اور پاک ہستیوں کے الفاظ بطور دعا اپنی زبان پر جاری کرتے ہیں کہ جن کا اپنا اثر ہے، ان کی کیفیت اور ہوتی ہے، لیکن عامۃ الناس پر بھی ان دعائوں اور ذکر الٰہی سے کچھ نہ کچھ کیفیت ضرور طاری ہوتی ہے، اگرچہ وہ ضعیف طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے بارے میں امام خمینیؒ کہتے ہیں: ’’یہ لوگ جو ضعیف طور پر دعا پڑھتے ہیں اور ذکر الٰہی کرتے ہیں، اگرچہ وہ طوطے کی طرح دہراتے ہوں، پھر بھی تاثیر کے لحاظ سے ان کی حالت ایسے افراد سے بہتر ہوتی ہے، جو دعا و ذکر کو ترک کر دیتے ہیں۔"

آیۃ اللہ خامنہ ای کا سوال اور امام خمینیؒ کا جواب
آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے ایک مرتبہ عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’میں نے امام [خمینی] بزرگوار رضوان اللہ علیہ سے سوال کیا کہ ائمہ علیہم السلام سے جو دعائیں ہم تک پہنچی ہیں، آپ ان میں سے کس سے زیادہ رغبت اور دل بستگی رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا، دعائے کمیل اور مناجات شعبانیہ سے۔ امام کا دل خدا سے لگا ہوا تھا۔ وہ اہل توسّل، اہل تضّرع، اہل خشوع اور مبدا سے متصل رہنے والے تھے۔ ان کی نظر میں یہ دو دعائیں بہتر وسیلے کی حیثیت رکھتی ہیں، دعائے کمیل اور مناجات شعبانیہ، جب انسان ان دو دعائوں کی طرف رجوع کرتا ہے اور ان پر غور کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ یہ کس قدر باہم شباہت رکھتی ہیں۔‘‘ (۱۲جون ۲۰۱۳ء کو عوام کے ایک اجتماع سے خطاب سے ماخوذ)

شعبان المعظم میں رمضان شریف کی تیاری
نبی پاکؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شعبان المعظم میں ہی امام خمینیؒ اپنے آپ کو رمضان المبارک کے لیے تیار کرتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف راغب کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی بہت سی تقریریں اور تحریریں موجود ہیں۔ اس حوالے سے آپ کے اپنے عمل پر بھی بہت سی گواہیاں اور شہادتیں نقل ہوئی ہیں۔ لوگوں کو رمضان المبارک کے لیے تیار کرتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ’’جب آپ کسی کے ہاں مہمان کے طور پر جانا چاہتے ہیں تو آپ کی وضع کچھ اور ہوتی ہے، اس کے لیے آپ اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں، لباس بدلتے ہیں، گھر میں آپ جس طرح سے ہوتے ہیں، اس سے مختلف انداز سے مہمان بن کر جاتے ہیں۔ ماہ شعبان اس لیے ہے کہ آپ کو مہمان کے طور پر کہیں جانا ہے، اس میں اپنے آپ کو تیار کرلیں، اپنے تئیں آمادہ کر لیں، اپنے ظاہر کو آراستہ کرلیں، کنگھی کرلیں اور سر و صورت کو بنا سنوار لیں۔ اس ماہ میں مسلمانوں کو اللہ کی ضیافت کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ مناجات شعبانیہ یہی ادب سکھاتی ہیں۔‘‘

مناجات شعبانیہ اور امام خمینیؒ
امام خمینیؒ نے مناجات شعبانیہ کی تلاوت کی بہت سے مواقع پر تلقین کی ہے اور ان کی عظمت و اہمیت کو مختلف انداز سے اجاگر کیا ہے۔ مسلمانوں کے معاشرے میں اسے رائج کرنے کے لیے آپ نے بہت زور دیا ہے۔ اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: ’’مجھے نہیں یاد کہ میں نے کسی دعا کے بارے میں دیکھا ہو کہ اسے تمام ائمہ پڑھتے ہوں، جبکہ دعائے شعبانیہ کے بارے میں یہ بات ہے۔ یہ مناجات شعبانیہ اس لیے ہیں کہ آپ سب کو ضیافت الٰہی کے لیے تیار کریں۔‘‘ امام خمینیؒ نے مناجات شعبانیہ کے لیے ایک عجیب بات کہی ہے، شاید بہت کم لوگوں کو اس کی حقیقت کا ادراک ہوسکے۔ اہل اللہ اور اہل عرفان ہی اس بات کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بات ہم آپ کے لیے نقل کیے دیتے ہیں: ’’اگر مناجات شعبانیہ کے علاوہ کوئی دعا نہ ہوتی تو یہ بھی اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی تھی کہ ہمارے ائمہ برحق ہیں، جنھوں نے یہ دعا انشاء کی اور اسے پڑھتے رہے۔" مناجات شعبانیہ اور اسلامی متون میں نقل ہونے والی دعائوں کے بارے میں امام خمینیؒ مزید کہتے ہیں: ’’عرفاء نے اپنی ضخیم کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اور جو کچھ کہا ہے، وہ سب مناجات شعبانیہ کے چند کلمات میں سمو دیا گیا ہے بلکہ عرفائے اسلام نے انھی دعائیں سے جو اسلامی متون میں وارد ہوئی ہیں، استفادہ کیا ہے۔‘‘

قرآن نازل اور قرآن صاعد
عرفان میں اپنے استاد اور شیخ جناب محمد علی شاہ آبادی کی یہ بات امام خمینیؒ نے بہت سے مقامات پر نقل کی ہے کہ ائمہ کی دعائیں زمین سے آسمان کی طرف بلند ہونے والا قرآن ہے۔ ان کی اپنی اصطلاح میں یہ قرآن صاعد ہے۔ امام خمینیؒ اس بارے میں کہتے ہیں: ’’اسلامی عرفان ہندی یا کسی اور مقام کے عرفان سے مختلف ہے۔ ان دعائوں کے بارے میں ہمارے ایک شیخ کا فرمانا ہے کہ ’’قرآن‘‘ قرآنِ نازل ہے، یہ نیچے کی طرف آیا ہے، جب کہ دعا نیچے سے اوپر کی طرف جاتی ہے، یہ قرآن صاعد ہے۔ ان دعائوں میں موجود معنویات ایسی ہیں، جو انسانوں کو آدم بنانا چاہتی ہیں۔ ایسے افراد کہ جنھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ سب حیوانوں سے بڑھ کر درندے ہو جائیں، یہ دعائیں ان کا ہاتھ تھامتی ہیں اور بلندی کی طرف لے جاتی ہیں، ایسی بلندی کہ جسے میں اور آپ نہیں سمجھ سکتے، اس کے اہل ہی اسے سمجھتے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 1013373
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش