0
Tuesday 20 Sep 2022 16:37

ہر مذہب کا احترام کرنا ہی ہندوستانیت ہے، مقررین

ہر مذہب کا احترام کرنا ہی ہندوستانیت ہے، مقررین
رپورٹ: جاوید عباس رضوی

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر دہلی میں خسرو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک بین المذاہب کانفرنس بعنوان ’’مسلمان، ہندو اور ہندوستانیت‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں خطاب میں مقررین نے کہا کہ ہر مذہب کا احترام کرنا ہی ہندوستانیت ہے، ہمارے لئے یہ قابل فخر بات ہے کہ ہزاروں سال قبل ہم یہ جانتے تھے کہ دوسرے عقیدے کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، مختلف عقائد والے ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانیت کی روح مذہب کے بغیر مکمل نہیں ہوتی مگر آج حالات بدلے ہوئے ہیں، ماحول بدلا ہوا ہے، لیکن یہ بھی قابل غور ہے کہ یہ بدلاؤ سیاست کی دین ہے مذہب کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی کو واپس لانا ہے تو ہمیں اپنے آنے والی نسل کو پانچ چیزیں بتانی ہوں گی، انہیں زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، جن میں سچائی، ملنساری، اعتماد، عدم تشدد اور ضابطہ اخلاق شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوبیاں ہماری تقدیر بدلیں گی اور ہم دنیا کے لئے ایک نظیر بن سکتے ہیں، ہم نے جس مذہبی رواداری کو گنوایا ہے وہ کوئی چھوٹی چیز نہیں، اس خوبصورتی کو واپس لانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ان تاثرات کا اظہارا دہلی کے لودھی روڈ پر واقع انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں خسرو فاؤنڈیشن اور آئی آئی سی سی کے اشتراک سے ’’مسلمان، ہندو اور ہندوستانیت‘‘ کے عنوان پر قومی سیمینار میں مقررین نے کیا، جس میں متعدد اہم شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر خسرو فاؤنڈیشن کے چیئرمین پروفیسر اختر الواسع نے افتتاحی کلمات میں مہمانان گرامی کا استقبال کیا اور اپنی گفتگو میں کہا کہ موجودہ دور میں جو بات ہمارے لئے تشویش کی باعث ہے وہ ہندوستان میں ایک دوسرے فرقہ کے درمیان دوری نظر آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے درمیان نفرت کا ماحول پریشان کن ہے، اسی لئے ہم نے خسرو فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے تحت ہماری کوشش ہے کہ سیمینار، لیکچر اور لٹریچر کے ذریعہ دیگر اقوام کو یہ بتائیں کہ ہم سب گنگا جمنی تہذیب کے پروردہ ہیں اور اسی میں ہندوستان کی عافیت اور پہچان بھی ہے۔ پروفیسر اختر الواسع نے مزید کہا کہ ہماری یہ کوشش ہے کہ جو سماج میں نفرت و عداوت بڑھ رہی ہے، اس کا کسی طرح خاتمہ کیا جائے، کیونکہ وہ کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں ہے۔ افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرتے ہوئے پروفیسر سنجے دویدی (ڈائریکٹر جنرل انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن دہلی) نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج ملک کو آزاد ہوئے 75 سال گزر چکے ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ کہتے ہیں کہ انگریز ہمیں بانٹ گئے، ہندو اور مسلمان کی بنیاد پر انگریزوں نے ہمیں آپس میں لڑوا دیا، پھوٹ ڈال دی، ایسا کہنا کہاں تک درست ہوگا اور کہاں تک جائز ہوگا؟۔ انہوں نے کہا کہ انگریز ہمیں آپس میں لڑوا رہے تھے تو کیا ہماری عقل پر پردہ پڑ گیا تھا۔

پروفیسر سنجے دویدی نے کہا کہ ان حالات کے باوجود ہندوستان دنیا میں جس مقام پر کھڑا ہے وہ خود ایک مثال ہے، ہم دنیا کے سامنے ایک لیڈر کی حیثیت سے کھڑے ہیں۔ اگر ہم اس بات کو سمجھیں تو یہ حالات خود بخود بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امیر خسرو جنہوں نے ملک کی محبت میں جو کلام لکھے۔ اس میں ہندوستان کو جنت بیان کیا تھا۔ کیا جذبات تھے، کیا محبت تھی اور کیا احترام تھا۔ ہم یہ بھی نہیں بھول سکتے کہ حضرت امیر خسرو ہندی کے پہلے شاعر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے حالات میں ہم الگ الگ کیوں ہیں، اس بارے میں اسباب بتانے کے لئے لاتعداد لوگ موجود ہیں لیکن ہمیں متحد ہونا چاہیئے، اس بارے میں بہت کم لوگ بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمانداری کی بات یہ ہے اتحاد سب چاہتے ہیں مگر اس کی بات کوئی نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی کوشش ہوتی ہے مگر جاندار نہیں ہوتی، لیکن اختلافات اور انتشار پیدا کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور ان کی جانب سے جو کوشش ہوتی ہے وہ بہت زوردار ہوتی ہیں، ایسا ہماری جانب سے نہیں ہوتا۔ میں چاہتا ہوں کہ جو سلسلہ اور جو کوشش خسرو فاؤنڈیشن کے پرچم تلے شروع ہوئی ہے اس میں مزید شدت لائی جائے، مزید زور پیدا کیا جائے اسے بند کمروں سے نکال کر سڑکوں، اسکولوں، کالجوں اور دیگر مقامات تک پہنچایا جائے۔

بھارت میں سبھی لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور سب جڑے بھی رہنا چاہتے ہیں، مگر کچھ لوگ جو مٹھی بھر لوگ ہیں، وہ ہمیں ایک دیکھنا نہیں چاہتے ہیں، لیکن ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں تاریخ کے مختلف مرحلوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ جو 1857ء کی لڑائی تھی، وہ ہندوستانیوں نے بہادر شاہ ظفر کی سربراہی میں لڑی تھی، جو ایک مسلمان تھا، اسی طرح سے انہوں نے کہا کہ جو افغانستان میں پہلی جلاوطن آزاد ہند حکومت بنائی گئی اس کا صدر راجہ مہندر پرتاپ تھے اور وزیر اعظم برکت اللہ بھوپالی تھے، نیز وزیر داخلہ عبید اللہ سندھی تھے، تو ہندوستان اس سے بنتا ہے، تفرقہ سے قطعی نہیں بنتا ہے اور ملک کیلئے انتشار و تفرقہ کسی بھی صورت میں اچھا نہیں ہے۔ اپنے خطاب میں اے ڈی جی پی میزورم (آئی پی ایس) نے کہا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور ایک ایسے ماحول سے نکل کر آئے ہیں، جو کہ بنیادی طور پر میل ملاپ کا قائل رہا ہے اور اسی سے پہچان بنتی ہے، نیز ہندوستانیت کی بھی شناخت ہوتی ہے۔ اسی لئے ہم سب کو ہر حال میں مل جل کر رہنا چاہیئے، کیونکہ قومی اتحاد و یکجہتی اور بھائی چارگی ہی ہماری طاقت ہے۔ آخر میں خسرو فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر سراج الدین قریشی نے شرکت کنندگان اور مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں کلیدی خطبہ معروف ادیب شمیم طارق نے دیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ہندوستان میں مختلف مذاہب کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستانیت  کی روح مذہب کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، جس کے لئے ہم لاتعداد مثالیں دے سکتے ہیں، ہماری زندگی میں اس کے نمونے فراوان ہیں۔ انہوں نے مذہبی نظریے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان جس مذہب کو مانتا ہے اس مذہب میں انسانیت کو کیا حیثیت دی گئی ہے اگر اس پر غور کریں تو ایک بات واضح ہے کہ انسان کسی بھی فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو، ہر انسان دوسرے انسان کا بھائی ہے، خدا یا بھگوان کو ماننے والا یہی کہتا ہے کہ ہم انسان کی اولاد ہیں اور قرآن بھی کہتا ہے کہ انسان حضرت آدم کی اولاد ہے۔ میں ایک بات اور آپ کو بتاتا ہوں کہ دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے، سب سے اہم بات جو مذہب میں کہی گئی ہے کہ تمہارا عقیدہ تمہارے ساتھ اور ان کا عقیدہ ان کے ساتھ یعنی عقیدے کے اوپر کوئی اعتراض اور کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، مذہب یا عقیدے پر کوئی جبر نہیں ہے۔

شمیم طارق نے کہا کہ مولانا اخلاق حسین قاسمی نے لکھا تھا کہ خدا نے دنیا کے کونے کونے میں پیغمبر نازل کئے تھے، پیغمبر مختلف ممالک میں آئے تو  ایسا نہیں کہ وہ عربی ہی بولتے ہوں گے۔ وہیں بعد ازیں پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر جے ایس راجپوت (سابق ڈائریکٹر اور چیئرمین این سی ای آر ٹی) نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہر مذہب کا احترام کرنا ہی ہندوستانیت ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے قابل فخر یہ ہے کہ ہزار سال قبل ہم جانتے تھے کہ ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، مختلف عقائد والے ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ماحول بدل گیا ہے اور ایک فرد کی سوچ اور نظریہ مختلف ہو رہا ہے، ان حالات میں ہم نے جو چیز کھودی ہے وہ کوئی چھوٹی سی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے ملک کی مذہبی رواداری کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے خسرو فاؤنڈیشن کے ذریعہ ایسے پروگرام وقت کی اہم ضرورت بتایا اور منتظمین سے اپیل کی کہ بچوں کے ذہن کو صاف کرنے کے لئے ایسے پروگراموں کو اسکولوں میں لے جانا چاہیئے۔ پروفیسر اقتدار محمد خان (صدر شعبہ اسلامیات جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کہا کہ خسرو فاؤنڈیشن کی یہ پہل قابل تحسین ہے اور ہمیں اس تحریک کو عوامی سطح پر فروغ دینا چاہیئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مفتی متاق تجاروی، اجے مالویہ، صفدر امام قادری، پروفیسر محمد اقبال و دیگر افراد نے اپنے مقالات پیش کئے۔
خبر کا کوڈ : 1014925
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش