1
Sunday 18 Sep 2022 15:39

چہلم سید الشہداء علیہ السلام پر سید حسن نصراللہ کی تقریر کے چند اہم نکات

چہلم سید الشہداء علیہ السلام پر سید حسن نصراللہ کی تقریر کے چند اہم نکات
تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)
 
میں ایک مصنف، سیاسی تجزیہ کار اور عرب شہری ہونے کے ناطے کوشش کرتا ہوں سید حسن نصراللہ کی تمام تقاریر کو غور سے سنوں کیونکہ وہ اپنی قوم کے مسائل کو اہمیت دیتے ہیں اور غصب شدہ حقوق واپس لوٹانے اور جائز حقوق کا دفاع کرنے کیلئے اسلامی مزاحمت کو بہترین راہ حل گردانتے ہیں اور اس پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ لیکن کل بروز ہفتہ 17 ستمبر 2022ء، چہلم سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے انہوں نے جو تقریر کی ہے وہ ان کی گذشتہ تمام تقاریر سے مختلف ہے۔ اس تقریر میں ان کا انداز انتہائی شجاعانہ تھا اور میں خیال کر رہا تھا کہ شاید وہ کیرش گیس و تیل ذخائر کی آزادی کیلئے اعلان جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سے پہلے ہی لبنان، فلسطین، یمن، عراق، شام اور ایران کے چند محاذوں پر ایک علاقائی جنگ شروع ہونے کے آثار کا مشاہدہ کر چکے ہیں اور یہ علامات روز بروز زیادہ شدید ہوتی جا رہی ہیں۔
 
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے معمول سے ہٹ کر صبح کے وقت تقریر کی ہے جبکہ اس سے پہلے وہ شام کے وقت تقریر کرتے تھے۔ اس تقریر کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں:
1)۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کیرش کے متنازعہ گیس فیلڈ سے غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے گیس کے استخراج کو ریڈ لائن سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک لبنان اپنے حقوق مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیتا، غاصب صہیونی رژیم کو وہاں سے گیس نکالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ان کا یہ جملہ کہ "ہماری آنکھیں اور میزائل اس وقت کیرش گیس فیلڈ پر مرکوز ہو چکے ہیں"، حزب اللہ لبنان کی بھرپور تیاری اور ریڈ الرٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح اس جملے کو ہنگامی حالت کا اعلان بھی سمجھا جا سکتا ہے۔  
 
2)۔ سید حسن نصراللہ نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے لبنان حکومت کو کیرش گیس فیلڈ تنازعہ سے متعلق مذاکرات کا کھلا موقع فراہم کیا ہے اور جب لبنان حکومت نے ان سے کہا کہ غاصب صہیونی رژیم کو فوجی دھمکی دینا مذاکرات کیلئے سودمند نہیں تو انہوں نے ایسا کرنا بھی روک دیا ہے۔ لہذا ان کی اس وضاحت سے وہ تمام الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں جو مخالفین ان پر لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں جنگ کی بہت جلدی ہے۔
3)۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سازباز کرنے والے فریق سے پوری طرح بیزاری کا اعلان کیا ہے اور اس بارے میں شدید وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا: "ہمارا لبنان آپ کے لبنان سے مختلف ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم آپ جیسے نہیں ہیں۔
 
آپ نے جو قتل عام کئے ہیں وہ آپ کے لبنان کے خون آلود تشخص کو ظاہر کرتے ہیں۔ آپ نے صبرا اور شتیلا میں جو کچھ کیا ہے اس سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کی ثقافت موت کی ثقافت ہے۔ ہماری ایسی ثقافت نہیں ہے۔ ہم زندگی کی ثقافت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم نے کسی انتقامی کاروائی کے بغیر جنوبی لبنان کو آزاد کروایا ہے۔"
4)۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ صبرا اور شتیلا کے قتل عام میں صرف فلسطینی شہید نہیں ہوئے بلکہ 3500 فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ 1900 لبنانی بھی شہید ہوئے تھے جبکہ 500 لبنانی لاپتہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے مجرمین سزا سے بچ گئے تھے۔ کیا اب وہ وقت نہیں آیا کہ مجرم اپنے جرم کا تاوان ادا کریں؟
 
5)۔ سید حسن نصراللہ نے عرب حکومتوں اور ان کے ذرائع ابلاغ کی شدید مذمت کی اور انہیں سرزنش کیا۔ یہ شاید پہلی بار تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نجف اشرف سے کربلا تک اربعین مشی میں دو کروڑ کے قریب زائرین کی شرکت اور یہ عظیم مشی انتہائی پرسکون اور پرامن طریقے سے انجام پانے کے باوجود عرب ذرائع ابلاغ نے اسے بالکل کوریج نہیں دی۔ گویا یہ واقعہ کسی اور کہکشان میں انجام پایا ہے۔
6)۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کے حالیہ بیانیے کو سراہا جس میں شام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یہ اقدام دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنا دے گا جن کا مقصد اسلامی سرزمین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔
 
7)۔ سید حسن نصراللہ نے لبنان حکومت کو خبردار کیا کہ وہ ہر گز امریکہ کی کسی یقین دہانی پر اعتماد نہ کریں کیونکہ امریکہ اپنے وعدوں کا پابند نہیں ہے۔ امریکہ نے غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے صبرا اور شتیلا میں قتل عام پر بھی فلسطینیوں کی حمایت نہیں کی تھی۔ اسی طرح امریکہ اوسلو معاہدے اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا بھی پابند نہیں رہا۔
8)۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ لبنان اور دیگر عرب ممالک کے پاس تیل کے ذخائر جیسی عظیم دولت واپس لینے کا تاریخی موقع میسر ہو چکا ہے۔ شاید ان کا اشارہ یوکرین جنگ میں مغربی طاقتوں کی بے بسی اور ان کے درمیان پیدا ہونے والے شدید اختلافات کی جانب تھا۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1014983
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش