0
Sunday 25 Sep 2022 14:54

عزادار سے زوار تک، سفرِ عشق(8)

عزادار سے زوار تک، سفرِ عشق(8)
تحریر: محمد اشفاق شاکر

جناب میثم تمار کے مزارِ اقدس سے نکل کر پیدل ہی کوفہ کے اس گھر کی طرف چل پڑے، جس گھر میں اپنے وقت کا امام، امیرالمومنین، خلیفہءِ وقت اور نبی آخرالزماں کا منصوص من اللہ وصی رہتا تھا، جس گھر میں جنت کے سردار رہتے تھے، جہاں زینب و کلثوم جیسی شہزادیاں قیام پذیر تھیں، جس گھر میں بیٹوں کی ماں جناب فاطمہ کلابیہ (اُم البنین) اپنے بیٹوں کے ساتھ مقیم تھیں، جس گھر میں ابوالفضل العباس جیسے چاند نے وقت گزارا کہ جس کو پورے بنی ہاشم میں چاند کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ جی ہاں اب ہماری منزل مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا وہ گھر تھا کہ جس گھر میں آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ تادمِ شھادت قیام پذیر رہے، یہ گھر جناب میثم تمار کے مزار سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے، کچھ ہی وقت کے بعد ہم اس گھر کے سامنے تھے کہ جس گھر میں اولادِ علی شہزادے بن کر بھی رہے اور جس گھر میں یتیم بھی ہوئے۔ تاریخ کا ایک ایک منظر نگاہوں سے گھوم رہا تھا۔ گھر کے اندر اور باہر دنیا بھر سے آئے مومنین گریہ کناں تھے اور میں اس 19 رمضان کے وقتِ فجر کو سوچ رہا تھا کہ جب اسی کوفہ کی اُداس فضاؤں میں ندائے غیبی بلند ہوئی تھی کہ "قَد قُتِلَ اَمِیرِاَلْمُوْمِنِیْن"، "لوگو امیرالمومنین (ع) مارے گئے"

میری نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ سارا کوفہ ماتم کناں مسجدِ کوفہ کی طرف دوڑ رہا تھا اور علی کے بیٹے اپنے زخمی بابا کو گھر لا رہے تھے. جی ہاں یہی گھر تھا اور میں اس گھر کے اسی کمرے میں تھا، جہاں میرے مولا نے 3 دن زخمی حالت میں انتہائی شدید تکلیف کے ساتھ گزارے تھے۔ میرے کان تو سُن رہے تھے کہ آج گھر کے اندر اور باہر دنیا بھر سے آئے عزاداران نوحوں کی گونج میں گریہ کناں اور محوِ عزاء تھے، لیکن میرے دل کی آنکھوں میں وہ منظر گھوم رہا تھا، جب شدید زخمی علی نے کہا بیٹا حسن َان لوگوں سے کہو گھر چلے جائیں، کہا بابا یہ آپ کے اصحاب ہیں، آپ کے غم میں گریہ کناں ہیں، فرمایا بیٹا حسن میں نہیں چاہتا کہ ان لوگوں کے رونے کی آواز میری بچیوں کے کانوں میں پڑے۔

میرے ذہن کے دریچوں پر تاریخ کا وہ ورق گھوم رہا تھا کہ سب تو چلے گئے، لیکن جناب اصبغ بن نباتہ بیٹھے رہے اور جب مولا حسن نے پوچھا کہ اصبغ آپ کیوں نہیں گئے، میرے بابا کی طبیعت بہت خراب ہے تو اصبغ بن نباتہ نے سرجھکا کر آنسوؤں کی برسات میں عرض کیا کہ شہزادے میں ایک نظر اپنے آقا کو دیکھنا چاہتا ہوں، میں کوئی بات نہیں کروں گا، بس ایک نظر مولا کی زیارت کرکے باہر آجاؤں گا۔ وہ کمرہ کہ جہاں اسوقت میں کھڑا تھا، یہ وہی کمرہ تھا کہ جہاں اصبغ نے مولا کی زیارت کی، چند لمحے رُکا اور آنسو داڑھی پر سجائے باہر چلا گیا اور پھر رو رو کر ہر ملنے والے کو بتاتا تھا کہ جب میں نے امیرالمومنین کی زیارت کی تو آنجناب کی پیشانی کے زخم پر ایک زرد رنگ کا کپڑا لپٹا ہوا تھا۔ اصبغ کہتے تھے کہ میں نے اس زرد کپڑے کو بھی دیکھا اور مولا کے چہرے کو بھی دیکھا اور بار بار دیکھا، لیکن میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ مولا کے چہرے کا رنگ زیادہ زرد ہے یا اس زخم پر بندھے کپڑے کا رنگ زیادہ زرد ہے۔

آج اسی گھر کے باہر عزاداروں کو مختلف قسم کے مشروبات پیش کیے جا رہے تھے کہ 19 رمضان المبارک کی صبح جس گھر کے سامنے کوفے کے سینکڑوں گریہ کناں یتیم دودھ کے کٹورے لیے کھڑے تھے کہ کیوں نہ اس زہر آلودہ تلوار سے لگے زخم سے زہر کا اثر زائل ہو جائے۔ انہی سوچوں میں گم امیرالمومنین کے گھر کی مکمل زیارت کرنے کے بعد بالکل سامنے موجود مسجدِ کوفہ کی طرف چل پڑے، وہی مسجد کہ جہاں عبدالرحمن بن ملجم ملعون نے امیرالمومنین کو زہر آلودہ تلوار سے ضرب مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ مسجدِ کوفہ ایک قدیم ترین تاریخی مسجد ہے کہ جس کے متعلق روایت میں ملتا ہے کہ اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی تھی، کتبِ احادیث و تاریخ اس مسجد کی فضیلتوں سے متعلق روایات سے بھری پڑی ہیں، لیکن ان تمام کا احاطہ کرنا طوالت کا سبب بھی ہوگا اور کسی ماہر عالم اور مؤرخ کے علاوہ کسی سے ممکن بھی نہیں ہے۔

تاہم جند ایک چیدہ چیدہ فضائل جو اس مسجد کے متعلق معروف ہیں، ان کا ذکر کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ قارئین جو اس مسجد کی زیارت کے خواہشمند ہیں، وہ ان روایات سے استفادہ کرتے ہوئے اس مسجد کی بامعرفت زیارت کا شرف حاصل کرسکیں۔ یہ مسجد دنیا کی چار باعظمت مساجد میں سے ایک ہے، جن میں مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصٰی بھی شامل ہیں۔ اس مسجد میں مسافر نمازی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پوری نماز پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ مسجد الحرام، مسجد نبوی اور حرم أمام حسین علیہ السلام میں بھی مسافروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔ مسجد کوفہ میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری مساجد میں پڑھی گئی ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ روایات میں ملتا ہے کہ مسجد کوفہ میں ایک ہزار انبیاء کرام علیہم السلام اور انبیاء کے 1000 اوصیاء نے نماز ادا کی ہے۔

روایات میں ہے کہ مسجد کوفہ میں ایک مستحب نماز کا ثواب اس عمرے کے برابر ہے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ادا کیا جائے، جبکہ فریضہ نماز کا ثواب اس مقبول حج کے برابر ہے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ادا کیا جائے اور اسی طرح دیگر کئی روایات میں مسجد کوفہ کی بےشمار فضیلتیں مزکور ہوئی ہیں۔ مسجد کے اندر بہت سے اہم واقعات کے ساتھ منسوب بہت سارے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے چیدہ چیدہ مقامات یہ ہیں، وہ مقام جہاں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ وہ مقام کہ جہاں امیرالمومنین علی علیہ السلام اپنے ظاہری دور خلافت میں لوگوں کے سوالات کے جواب عنایت فرمایا کرتے تھے۔ وہ مقام جہاں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام عدالت لگاتے اور فیصلے سناتے تھے اور اسی طرح مقام جبرئیل، مقام امام زین العابدین علیہ السلام، مقامِ ابراہیم علیہ السلام وغیرہ۔

ان تمام مقامات پر حاضری کے وقت مخصوص مستحب اعمال تعلیم کیے گئے ہیں، جو کہ زائرین دعاؤں کی کتب سے دیکھ کر یا اپنے اپنے قافلوں کے ساتھ موجود علمائے کرام کی راہنمائی اور نگرانی میں ادا کرتے ہیں۔ ہمارے قافلے کے ساتھ یہ ذمہ داری مولانا آقائے شاکری اور مولانا سید یاسر نقوی صاحب کے ذمہ تھی، جنہوں نے اس کو بطریق احسن نبھایا۔ سفر زیارات میں سب سے زیادہ وقت مسجد کوفہ کی زیارت مکمل کرنے میں لگتا ہے، کیونکہ روایات میں بہت زیادہ اعمال اس مسجد میں ادا کرنے کے لیے تعلیم کیے گئے ہیں۔ مستحب اعمال کی ادائیگی کے دوران اسی مسجد میں نماز ظہرین باجماعت ادا کی اور پھر بعد نماز ظہرین دیگر مستحب اعمال سرانجام دیئے۔ مسجد کوفہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس میں کچھ انتہائی جلیل القدر اور باعظمت شھداء بھی مدفون ہیں، جن میں جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام، جنابِ ہانی ابن عروہ اور جناب حضرت مختار ثقفی رض اللہ عنہ شامل ہیں۔ مسجدِ کوفہ کی زیارات و اعمال سے فارغ ہوکر دن کا کھانا ایک ہمسفر خاتون زائرہ کی طرف سے تھا، جس نے اپنے خاندان کے مرحومین کے ایصالِ ثواب کیلئے مجلس اور ساتھ انتہائی پرتکف قسم کے لنگر کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

کھانے کے بعد ہماری منزل کوفہ میں ہی مسجدِ سہلہ کی زیارت تھی، مسجد سہلہ کا شمار بھی انتہائی تاریخی اور باعظمت مساجد میں ہوتا ہے۔ روایات میں مسجد سہلہ کی عظمت کیلئے ایک یہی روایت کافی ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ اپنے ظہور اور عالمی اسلامی حکومت کے قیام کے بعد اسی مسجد میں سکونت اختیار فرمائیں گے، یعنی دوسرے لفظوں میں یہ مسجد امام زمانہ کے دور میں آپ کی عالمی اسلامی حکومت کا مرکز یا پارلیمنٹ ہاؤس کا کردار ادا کرے گی۔ مسجد سہلہ میں بھی دیگر تاریخی مساجد کی طرح بہت سے اہم واقعات سے منسوب مقامات ہیں، جن میں مقام حضرت ابراہیم، مقام حضرت یونس، مقام حضرت ادریس، مقام عیسیٰ، مقام حضرت صالح، مقام امام سجاد، مقام امام صادق، مقام امام زمان وغیرہ شامل ہیں۔ اس مسجد کی زیارت کے لئے مخصوص اعمال بھی تعلیم کیے گئے ہیں، جن کی طرف راہنمائی اور نگرانی کے لیے ہر قافلے کے ساتھ علماء کرام موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ ہمارے ساتھ آقائے شاکری اور مولانا سید یاسر نقوی صاحب تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 1015981
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش