0
Saturday 24 Sep 2022 17:26

ایرانی خواتین اور انکی آزادی کی فکر میں غلطاں اہل وطن 

ایرانی خواتین اور انکی آزادی کی فکر میں غلطاں اہل وطن 
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
 

ایرانی سیاسیات کے ایک پروفیسر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے ملک میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ میں نے کافی مبالغے سے کام لیتے ہوئے بہت کچھ بتا دیا کہ وطن کی عزت عزیز تھی۔ پھر اس نے پوچھا کیا آپ کی خواتین بغیر کسی مرد کے پورا پاکستان اکیلے گھوم سکتی ہیں یا انہیں ساتھ کسی مرد یا بزرگ خاتون کی ضرورت ہوتی ہے؟ اس پر جو حقیقت تھی، عرض کر دی۔ البتہ یہ ضرور کہا کہ ہم بیٹیوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں، اس لیے انہیں یونیورسٹی اور کالج سمیت دیگر مقامات پر خود لے کر جاتے ہیں۔ وہ تھوڑا سا مسکرائے اور کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ بیٹوں کو اہمیت نہیں دیتے، جو انہیں اکیلے آنے جانے دیتے ہو؟ پھر اس نے کہا کہ دیکھو ایک لڑکی قم سے چلے اور پورا ایران گھوم لے، اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ جب تک تم لوگ اپنی بیٹیوں کو یہ اعتماد نہیں دو گے، معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

میرا مشہد مقدس میں پہلا دن تھا، رات کو فلائیٹ لیٹ آئی تھی، اس لیے باہر کے ماحول کا زیادہ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ جیسے ہی ہوٹل سے نکل کر حرم جانے والے بازار کی طرف آئے، یہ خوشگوار منظر منتظر تھا کہ بڑی تعداد میں خواتین اپنے اپنے کاموں کی طرف رواں دواں تھیں۔ دور سے ہی امام علی بن موسیٰ رضاؑ کے مزار کو دیکھ کر سر جھکاتیں ہاتھ کا اشارہ کرتیں اور پھر اس ہاتھ کو آنکھوں اور ماتھے سے لگاتے ہوئے منزل کی طرف رواں دواں ہوتیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ نسلوں کی تربیت کا اثر ہے کہ یہ لوگ اس طرح مودب و مھذب ہیں اور مشہد و قم کی انتظامیہ کو بھی داد دینے کو دل کیا کہ انہوں نے یہ دو شہر اس طرح سے ڈیزائن کیے ہیں کہ دور سے ہی حرم کے مینار نظر آنے لگتے ہیں اور عقیدت مند سروں کو جھکا لیتے ہیں۔

میں نے ایران میں فرمانبردار نہیں برابر کی شریک عورت دیکھیں، جو زندگی کے ہر شعبے میں متحرک ہیں۔ آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہو جائیں، تھوڑی دیر گاڑیوں پر غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ اکثر ڈرائیور خواتین ہیں۔ آپ ٹکٹ لینے جائیں تو ٹکٹ دینے والی خواتین ہیں، ہسپتال، ہوٹلز اور بڑے بڑے سٹور کا انتظام عورت نے سنبھالا ہوا ہے۔ مجھے کسی نے بتایا کہ انقلاب کو ناپسند کرنے والا ایک چھوٹا سا مذہبی گروہ کہتا ہے کہ انقلابیوں نے عورتوں کو گھروں سے نکال کر بازار میں لا کھڑا کیا ہے، اس پر قیامت کے دن ان سے سوال ہوگا۔ ایران کے سکول، کالجز اور یونیورسٹیز خواتین سے بھری ہوئی ہیں۔ دو ہزار تیرہ میں یونیورسٹیز میں طالبات کی تعداد باون فیصد سے متجاوز تھی۔ وہاں آج یہ مسئلہ نہیں ہے کہ بچیاں پرائمری کے بعد انٹر تک تعلیم حاصل نہیں کریں گی اور پھر یونیورسٹی کی تعلیم کی اجازت ہوگی۔

ایک ایرانی سکول کے پرنسپل مجھے فارسی پڑھاتے تھے، ایک دن ایران کا سکول سسٹم دکھانے کے لیے اپنے سکول لے کر گئے، جہاں اور بہت سی چیزوں نے حیران کر دیا، وہاں ایک فیملی آئی ہوئی تھی، جسے اپنے بچے کے رزلٹ پر اعتراض تھا کہ وہ اتنا اچھا نہیں ہے، جتنی انہوں نے محنت کی ہے۔ ماں اور باپ دونوں آئے ہوئے تھے، مگر باپ نے فقط اتنا کہا کہ ہماری خانم کو بچے کے رزلٹ کے حوالے سے کچھ کہنا ہے، جب اس نے بولنا شروع کیا تو انتہائی ادب سے اس اعتماد کے ساتھ بولتی گئیں کہ خاوند پریشان ہو رہا تھا کہ کہیں زیادہ وقت لینے پر پرنسپل صاحب ناراض ہی نہ ہو جائیں۔ ہمارے مذہبی سماج میں خواتین مسجد میں نہیں آسکتیں، یہ انتہائی عجیب فکر ہے۔ میں حرم حضرت معصومہ ؑ قم میں کھڑا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، میں نے سوچا شریک جنازہ ہو کر ثواب حاصل کرتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ کافی ساری خواتین بھی آگئی ہیں، میں حیران ہوا کہ یہ کیوں آئی ہیں۔؟ جب صفیں سیدھی ہوئیں تو وہ بھی شریک جنازہ ہوگئیں۔ میں کافی حیرانی سے جنازہ پڑھتا رہا کہ ہم نے اپنی خواتین کو جنازہ کے ثواب اور مرحوم کو دعا سے محروم کر رکھا ہے۔

ابھی ایران میں ایک بچی کے سوال جواب کے مرکز میں مبینہ طور پر ہارٹ اٹیک سے انتقال کی خبر کو غلط رخ دیا گیا ہے اور ایران میں ہونے والے احتجاج پر من پسند تبصرے ہو رہے ہیں۔ ایک بات تو ذہن میں بٹھا لیں کہ ایران میں خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے حقوق سے آگاہ ہیں۔ ایران میں ہمارے مقابلے میں مالی آسودگی ہے، اس لیے انہیں کپڑے، کھانے اور مکان کے مسائل نہیں ہیں۔ وہ بہترین شاعر، وکیل، صحافی، بزنس وومن، مذہبی رہنماء اور سیاستدان ہے۔ جب ایران کی کچھ خواتین کو لگا کہ اس بچی کے ساتھ شائد ریاستی اداروں نے زیادتی کی ہے تو وہ احتجاج کے لیے نکل آئیں۔ ان کا احتجاج بالکل درست تھا اور ایرانی ریاست نے ان کی آواز کو سنا اور اس پر تحقیقات کے لیے ایک بڑا کمیشن بنایا گیا۔ ایران کے صدر جناب آغا ابراہیم رئیسی نے کہا یہ بچی میری بیٹی جیسی ہے اور اس کی موت سے مجھے ویسے ہی تکلیف ہوئی ہے، انہوں نے بچی کے والدین سے بات کی اور مکمل تحقیقات کا یقین دلایا۔ ایرانی مسئولین نے بھی اس پر ایسے ہی بیانات دیئے۔

بعد میں کچھ ایسے عناصر نے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا  اور پولیس کی گاڑیوں اور عام جائیدادوں پر حملے کرنے لگے۔ کوئی بھی ریاست ایسے پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دے سکتی، ایرانی اداروں کی تحقیقات میں یہ بات آئی کہ ان مظاہروں کو باہر سے ہوا دی جا رہی ہے، اس لیے انہوں نے وقتی طور پر انٹرنٹ کو معطل کر دیا۔ ان پرتشدد مظاہرین نے ان لوگوں کی آواز کو بھی دبا لیا، جو بالکل جائز آواز تھی اور ریاستیں ایسی آوازوں کو تحفظ دیتی ہیں، جو ریاست سے ہونے والی کسی غلطی کی نشاندہی کر رہی ہوں۔ اسی سے ریاستوں کا نظام آگے بڑھتا ہے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ لوگ اس ایک انفرادی واقعہ کی آڑ میں پورے نظام کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں تو اس جمعہ کو پورے ایران میں ملینز کی تعداد میں ایرانی عوام بالخصوص خواتین سڑکوں پر نکل آئے اور ان لوگوں کو عملی جواب دیا، جو نظام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1015982
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش