0
Sunday 25 Sep 2022 09:36

سفرِ عشق اور عشاقِ حرم

سفرِ عشق اور عشاقِ حرم
تحریر: عارف بلتستانی از کربلا 

انسان کے ملکوتی باطن سے جرس کی صدا آرہی ہے، جاگ اٹھو! بیدار ہو جاؤ! قافلہ عشق رواں دواں ہے، عشاقِ حرم کو بلاوا آیا ہے۔ لیکن درونی و بیرونی دشمن کی امیدیں انسانوں کے خوف اور ہراس سے ہیں۔ وہ ڈر پیدا کرنا چاہتا ہے، تاکہ انسان، انسانیت کی زنجیر سے جڑ کر دنیا کی بہشت بریں میں قدم نہ رکھ سکے۔ لیکن عاشقوں کو ان چیزوں کی کہاں فکر! جب کودنے کی باری آتی ہے تو عشق آگے ہی ہوتا ہے۔ عشق عقل سے کہتا ہی یہی ہے کہ تو مجھے راستہ دکھا "کر گزرنا" میرا کام ہے۔ یہی حالت عشاقِ حرم کی بھی ہے، جو دشمن کے تمام مصنوعی خوف و ہراس کی پروا کئے بغیر اپنی منزل مقصود کی طرف نکل پڑے ہیں۔ اس منزل تک پہنچنے والوں کی حالت بھی معمول سے ہٹ کر ہے۔ کاروانِ عشق کا سفرِ منزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کوئی وضو کر رہا ہے۔ کوئی سر پر پٹی باندھ رہا ہے، جس پر "راہیان کربلا" لکھا ہوا ہے۔ کوئی پا برہنہ چل رہا ہے تو کسی کے پاؤں سے خون جاری ہے۔ پھر بھی سفر جاری ہے۔ تھکن کے کوئی آثار نہیں بلکہ پہلے سے ہشاش بشاش لیکن رخسار پر اشکوں کی بارش ہے، نظر عرش بریں کی جانب جبکہ قدم فرش پر اٹھ رہے ہیں۔ یہاں اس وقت اور اس لمحے میں ان عشاق کے عشق کے وصف ممکن نہیں ہے۔

خندانِ گریان، گریانِ خندان، مطمئن و آرام لیکن دل بے قرار و مضطرب نظر آرہا  ہے۔توصیف کے لئے الفاظ نہیں مل رہے اور نہ ہی وضع کیے جا سکتے ہیں۔ کلام احساسات و ماہیات کے بندھن میں بند ہیں۔ عشاق عین الوجود تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں پہنچ کر خود تھکاوٹ تھک چکی ہے۔ جوان اور بوڑھوں کی بات ہی چھوڑیں، چھوٹے بچے مرکزِ کرۂ زمین کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں جیسے ماں کی آغوش کی طرف بڑھتے ہیں۔ معنویت کے اس سفر میں انسانیت کی ہر قسم کی پیاس بجھ رہی ہے۔ کوئی پانی کا پیاسا ہے تو اس تک دنیا کو ہر جائز مشروب پہنچ رہا ہے۔ کوئی کھانے کا پیاسا ہے تو ہر قسم کے حلال و پاکیزہ کھانے مل رہے ہیں۔ کوئی معنویت کا پیاسا ہے تو وہ شہد کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کے لبوں پر ذکر خدا کی ترنم جاری ہیں۔ کوئی ہاتھ میں تسبیح لئے حمد و ثناء میں مشغول ہے۔

ان عشاق کی خاطر داری کرنے والوں کا بھی عجیب ایثار و فدا کاری ہے۔ پوری دنیا ان زائرین و عشاقِ حرم کی آغوش پر لُٹا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی افسوس سے ہاتھ مَل رہے ہیں کہ ہمارے پاس اس کے علاؤہ دینے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ عقلِ بشریت اس ایثار و فداکاری کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے، جب عشق، عقل کے سائے میں زندگی بسر کرنا شروع کرے۔ یہی اسی مکتب و مسلک کی اہم خصوصیت ہے، یہاں انسانیت کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہے، چاہے جس رنگ و نسل سے ہو۔ یہی مہدوی معاشرے کی ایک جھلک ہے، جہاں خود سے زیادہ دوسروں کو آسائش فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ خود بھوکا رہ کر دوسروں کو سیر کرانے کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ پیادہ روی اربعین مقدمہ ظہور ہے۔ دنیا ہر لحاظ سے بن بست پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا واحد راہ حل تعلیمات وحی الٰہی کی طرف لوٹنا ہے۔ وحی الٰہی انسانیت کا بہترین و لاریب نصاب ہے۔ یہی اس مکتب کا خاصہ ہے، جو کہ حجت کی شکل میں اب بھی باقی ہے۔ انسانیت اسی کی محتاج ہے۔ اس کے لئے حسین سے آشنائی ضروری ہے۔ جس نے انسانیت کی نجات کے لئے خود کو اور اپنے اصحاب و انصار کو قربان کیا۔

انسانیت کے اس سفر عشق میں کسی خاص مکتب کے لوگ شامل نہیں ہیں۔ دنیا کے تمام حریت پسند لوگ موجود ہیں۔ اس سفر میں امیر و غریب، رنگ و نسل، ملکی و غیر ملکی کوئی فرق نہیں کرتا بلکہ یہ سفر عدالت، مساوات، انسانیت اور عالمی حقوق کا حسین ترین امتزاج ہے۔ اس سفر میں نیلسن منڈیلا کے رشتہ داروں سے لے کر ایک جھونپڑی میں رہنے والے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ یہ عقلانیت اور عشق کا مسئلہ ہے۔ ہر کسی کی آنکھوں سے اشک جاری ہے۔ ہر کوئی گریہ کر رہا ہے، لیکن ہنس بھی رہا ہے۔ ہر کوئی ہنس رہا ہے، لیکن گریے کے ساتھ۔ لیکن نہیں معلوم اس گریے کا راز کیا ہے؟ 

گریہ تو کسی مسلک و مکتب کا خاصہ نہیں ہے بلکہ فطرت کا حصہ ہے۔ گریہ کمزوری کی نشانی نہیں ہے بلکہ طاقت کی نشانی ہے۔ گریہ انسان کو خدا سے کئے ہوئے  اولین عہد (عہد ازلی) کی یاد دلاتا ہے۔ گریہ ایسا پانی ہے، جو کدورت و کثافت کو دھو ڈالتا ہے اور فطرت الہیٰ کی طرف پلٹاتا ہے۔ گریہ شوق بے انتہا کی تجلی ہے، جو انسان کے دل کو زندگی جاویدانی اور لقاء الله  سے جوڑتا ہے۔ خیر! چھوڑیں ہمیں "اہل گریہ" کہنے دو۔ نوح و یعقوب و محمد رحمۃ للعالمین بھی گریے کے ذریعے عالم ملکوت سے جڑ جاتے ہیں۔ 

سفرِ عشق کی آج آخری شب ہے۔ منزل مقصود کربلا ہے۔ کربلا عشق کا مسکن ہے اور کربلا کے لائق وہی لوگ ہیں، جن کے دل عشق سے لبریز ہیں۔ خوفِ مرگ کی ان کے دل میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کربلا زمان و مکان سے ماوراء ہے اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ کربلا تک رسائی حاصل کر سکو تو اپنے آپ سے، اپنی وابستگیوں سے، جاودانہ زندگی کی خواہش اور دنیا کو کھونے کے ڈر سے رہا ہونا ہوگا۔ محبت حسین (ع) اس دل میں جو خود پرست ہے، بیدار نہیں ہوتی۔

شب کی تاریکی اور خاموشی کرۂ زمین پر موجود لوگوں کو عالم شہود سے جوڑ رہی ہے، زمین کو آسمان سے متصل کر رہی ہے۔ ہر جگہ لوگ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح گریہ و زاری میں مشغول ہیں۔ کاش کوئی اس معنوی ماحول کو دیکھے تو معلوم ہوگا کہ انسانیت معنویت و عقلانیت کی کتنی محتاج ہے۔ اگر انسان دل کی آنکھوں سے دیکھے تو یہ سفر ہر انسان کے سکون اور سیراب قلبی کا باعث ہے۔ لیکن حیوان صفت انسان اس راز کو سمجھنے کی قدرت نہیں رکھتے، اسی لئے ڈنڈے لئے اس جیسے معنوی سفر کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے چارے ان لوگوں کی کوئی غلطی نہیں ہے، یہ تو فقط عامل ہیں۔ اصل قصور وار تو وہ ماسٹر مائنڈ ہیں، جو  یہ سب کروانے پر مجبور کرتے ہیں۔

جیسے حال ہی میں ملک عزیز پاکستان میں ہوا۔ یہ ان کے آبا و اجداد کی سیرت رہی ہے۔ جیسے کہ شہید آوینی اس بارے میں لکھتے ہیں؛ "وہ لوگ (یزیدی) بھی سوچتے تھے کہ سید الشہداءؑ کی "ھل من ناصر" کی صدا کربلا کے صحرا میں ہی دفن ہو جائے گی، وہ اس بات سے غافل تھے کہ انسان کی تاریخی حیات شہید کے خون کی بدولت ہے اور خدا تعالیٰ نے مومنین کے وجود کے خمیر کو خاکِ کربلا اور اُس کے شہداء کے خون سے گوندھا ہے اور جب تک شب و روز باقی ہیں، یہ تاریخی پیوند کہ جو مومنین کا عاشوراء سے تعلق قائم کرتا ہے، فطرت کی گہرائی میں بیدار رہے گا۔"

ان سے شہید آوینی کی زبان میں یہی کہونگا کہ "قافلہ عشق ہر زمانے میں سفر کر رہا ہے اور یہ اس جملے کی تفسیر ہے """"کُلُّ یَومٍ عاشورا و کُلُّ ارضٍ کَربَلا"""" یہ جملہ شیطان کو لرزہ بر اندام کر دیتا ہے اور ناصرین حق کو رحمتِ دائم اور فیضان کے لیے امیدوار کر دیتا ہے۔ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ تم طالب علم ہو یا مزدور ،مولوی ہو یا تاجر۔۔۔ وہ خصوصیت جو ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے، تمہاری انسانیت اور تمہارا انسان ہونا ہے۔ اگر انسان ہو اور اپنے ضمیر کی طرف رجوع کرتے ہو، تو سید الشهداء (ع) کی "ھل من ناصر" کی صدا اپنے باطن سے سن سکتے ہو کہ جو اُس فطرت کے عہد کا تذکر دے رہی ہے۔" حسین سب کا ہے۔
خبر کا کوڈ : 1016040
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش