1
Sunday 25 Sep 2022 15:03

ایران میں حالیہ فسادات کے پس پردہ عوامل (حصہ اول)

ایران میں حالیہ فسادات کے پس پردہ عوامل (حصہ اول)
تحریر: علی احمدی
 
گذشتہ چند روز کے دوران ایران کے دارالحکومت تہران اور چند دیگر شہروں میں کچھ شرپسند عناصر نے ہنگامے اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ سماجیات اور سیاسیات کی تھوڑی بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص جب ان ہنگاموں پر غور کرتا ہے اور اس میں ملوث عناصر کے طرز عمل کا جائزہ لیتا ہے تو فوراً اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ یہ ایک طے شدہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں۔ کوئی بھی انسان اس بات پر یقین نہیں کر سکتا کہ سکیورٹی فورسز پر حملہ، عام بسوں اور حتی ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنا، انارکی پھیلانا، عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو خطرے سے روبرو کرنا، مذہبی مراکز پر حملہ ور ہونا وغیرہ وغیرہ پولیس کے دفتر میں کسی خاتون کی موت واقع ہونے پر عوامی احتجاج قرار پا سکتا ہے۔
 
لہذا تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں ہی انسان اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ ایک خاتون کی موت محض ایک بہانہ ہے اور اصل مقصد پہلے سے طے شدہ سوچی سمجھی سازش کو عملی جامہ پہنا کر اسلامی جمہوریہ ایران میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ پس اس سازش کو سمجھنے کیلئے ان فسادات اور ہنگاموں کے پس پردہ عوامل کی پہچان ضروری ہے۔ تحریر حاضر میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایران میں ہنگامے اور فسادات کیوں اور اس وقت کیوں؟ اس وقت ایسے کون سے حالات ہیں جن کے باعث ایران کی دشمن قوتوں نے ایران کی رائے عامہ کو اندرونی مسائل پر مرکوز کرنے کی کوشش کی ہے؟ وہ بھی ایسا مسئلہ جو ابھی وقوع پذیر ہی ہوا تھا اور اس کے حقیقی اسباب پوری طرح واضح بھی نہیں ہوئے تھے۔ موجودہ حالات میں کن وجوہات کی بنا پر ایران کو ایک اندرونی بحران سے روبرو کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟
 
ان سوالات کا جواب پانے کیلئے ہمیں تین امور کا جائزہ لینا ہو گا۔ ان میں سے ایک ایران کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ باقی دو بین الاقوامی امور ہیں اور ایران کی خارجہ پالیسی سے مربوط ہیں۔ یہ تینوں امور گذشتہ ایک سال کے اندر اندر پیش آئے ہیں۔
1)۔ تہران میں نئی حکومت کا برسراقتدار آنا
ایران میں حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم رئیسی نے تیرہویں صدر کے طور پر کچھ ماہ پہلے حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے جن حالات میں حکومت سنبھالی وہ سب پر واضح ہے۔ گذشتہ حکومت نے اپنی تمام تر اقتصادی پالیسیوں کی بنیاد امریکہ سے جوہری معاہدے کے انعقاد پر منحصر کر رکھی تھیں اور جب امریکہ یکطرفہ طور پر بورجام سے دستبردار ہو گیا تو وہ تمام پالیسیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ یوں ملک اقتصادی لحاظ سے شدید بحران سے روبرو تھا۔
 
حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم رئیسی کی سربراہی میں حکومت نے ایک ایک کر کے درپیش مسائل پر قابو پانا شروع کر دیا۔ اس حکومت کا ایک اہم اور شجاعانہ اقتصادی اقدام سبسڈی پر بعض کمپنیوں کو فراہم کئے جانے والے سستے ڈالرز کا سلسلہ بند کرنا تھا۔ اگرچہ اس اقدام نے مختلف اشیاء کی قیمتوں کو شدید دھچکہ پہنچایا لیکن دوسری طرف ملکی خزانے پر پڑنے والے عظیم بوجھ کو بھی ہلکا کر دیا گیا۔ اسی طرح نئی حکومت نے عوام کو فراہم کی جانے والی مالی امداد بڑھا کر پیدا ہونے والی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ یوں دشمن کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور نئی حکومت اپنے قدم جمانے میں کامیاب رہی۔ امریکہ میں رابرٹ مالی، اینتھونی بلینکن اور جک سلیوان جیسی فیصلہ ساز شخصیتوں نے جب اس صورتحال کا مشاہدہ کیا جو ان کی نظر میں مطلوبہ نہیں تھی تو انہوں نے ایران کو اندر سے ضرب لگانے کا فیصلہ کر لیا۔
 
ایران میں اس سے پہلے بھی کئی بار ہنگامے اور فسادات برپا ہو چکے ہیں۔ گذشتہ ہنگاموں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پکڑے گئے افراد کی تفتیش سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ مرکزی کردار ادا کرنے والے کا امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیز سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے۔ سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 ایران میں فساد اور ہنگامے برپا کرنے کیلئے بھرپور منصوبہ بندی اور فنڈنگ انجام دیتی ہیں۔ اس بار بھی قصہ یوں ہی ہے۔ امریکی پالیسی میکرز ہمیشہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں مطلوبہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے انتہائی غیر انسانی، پست اور اوچھے ہتھکنڈے بروئے کار لاتے آئے ہیں۔ امریکی حکمران اپنے جاہ طلبانہ اہداف میں نہ تو انسانی اقدار پہچانتے ہیں اور نہ ہی اخلاق اور جمہوریت کا لحاظ کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں محض سیاسی اور اقتصادی مفادات کی خاطر امریکہ کے انسان سوز اقدامات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
 
لہذا اسلامی جمہوریہ ایران میں نئی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد ان ہنگاموں اور فسادات کا اصل مقصد ایرانی معاشرے اور عوام کو مایوسی کا شکار کرنا تھا۔ امریکہ کی سربراہی میں عالمی استکباری نظام ایرانی عوام میں یہ تاثر پھیلانے کے درپے تھا کہ اس کی گود میں آئے بغیر ملک ترقی کی جانب گامزن نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں، نئی حکومت کو اندرونی بحران میں الجھا کر اسے عالمی امور سے غافل کرنا اور بین الاقوامی محاذوں پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرنا بھی مقصود تھا۔ حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم رئیسی کی سربراہی میں تشکیل پانے والی حکومت "انقلابی حکومت" کے طور پر معروف ہے اور کچھ ہی ماہ میں اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر عظیم کامیابیوں سے ہمکنار ہوئی ہے۔ دشمن قوتیں اس بات سے بھی شدید خوفزدہ ہیں کہ خود کو انقلابی کہلوانے والی حکومت کی ممکنہ کامیابی، ایرانی عوام کے اندر اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام پر اعتماد اور ایمان میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 1016085
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش