1
Monday 26 Sep 2022 11:33

ایران میں حالیہ فسادات کے پس پردہ عوامل (حصہ دوم)

ایران میں حالیہ فسادات کے پس پردہ عوامل (حصہ دوم)
تحریر: علی احمدی

2)۔ یوکرین جنگ اور ورلڈ آرڈر میں تبدیلی
بین الاقوامی تعلقات عامہ کی سوجھ بوجھ رکھنے والا ایسا کوئی شخص نہیں ہوگا، جس نے معروف امریکی تھیوریشن جان مرشمائر کے نظریات کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ وہ یوکرین اور روس سے متعلق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں کے اصلی ترین مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کئی سال پہلے ان حالات کی پیشگوئی کر دی تھی، جن کا مشاہدہ آج ہم مشرقی یورپ میں کر رہے ہیں۔ سیاسی امور کا ماہر شخص بہت اچھی طرح اس بات سے واقف ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا مسئلہ صرف اس حد تک محدود نہیں کہ روس نے دس کلومیٹر پیشقدمی کر لی ہے یا دو کلومیٹر پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یہ مسئلہ حتی یوکرین کے بعض علاقوں کے علیحدگی اختیار کرکے روس سے ملحق ہو جانے سے بھی ماوراء ہے۔

ایڈولف ہٹلر کی شکست اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا میں امریکہ کی مرکزیت میں ورلڈ آرڈر تشکیل پا گیا۔ سابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اس آرڈر کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔ اس ورلڈ آرڈر میں حکمفرما قوانین سرمایہ دارانہ نظام پر استوار تھے، جو شمالی امریکہ اور مغربی یورپ میں رائج تھا۔ لیکن 24 فروری 2022ء کے دن روس نے جس فوجی کارروائی کا آغاز کیا، اس کا نشانہ یوکرین کی فوجی تنصیبات سے زیادہ مذکورہ بالا ورلڈ آرڈر تھا۔ روس کی جانب سے چلنے والے میزائلوں اور گرجتے سوخو جنگی طیاروں میں بہت آسانی سے موجودہ ورلڈ آرڈر میں تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ روسی حکمران اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اگر وہ نیٹو کی توسیع پر مزید خاموشی اختیار کریں گے تو مغربی طاقتوں کے سامنے بے بس ہو کر رہ جائیں گے۔ لہذا انہوں نے انتہائی اقدام کا فیصلہ کر لیا۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس کا مقابلہ کرنے کیلئے فوجی طریقہ کار کی بجائے اقتصادی پابندیوں کا انتخاب کیا۔ یہ وہ ہتھکنڈہ تھا جسے وہ گذشتہ چالیس برس سے ایران کے خلاف استعمال کرتے آئے تھے۔ لیکن امریکہ سمیت دیگر مغربی طاقتیں جس حقیقت سے غافل تھیں، وہ روس کے پڑوس میں ایسے ملک کا وجود تھا، جو گذشتہ طویل عرصے سے امریکہ کا حریف چلا آرہا تھا اور اس کا نام چین ہے۔ دوسری طرف ایران گذشتہ چالیس برس سے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے شدید اقتصادی جنگ اور پابندیوں کا کامیابی سے سامنا کر رہا ہے اور اس میدان میں اسے بہت زیادہ تجربہ اور مہارت حاصل ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایران خود کو خطے میں فوجی اور اقتصادی طاقت کے طور پر منوا چکا ہے۔ لہذا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں ایران، روس اور چین کا اتحاد ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

ایسے حالات میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے ایران میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کا فیصلہ کیا، تاکہ ایک تیر سے کئی نشانے لگا سکیں۔ ایک تو ایران میں حکمفرما دیرینہ دشمن یعنی اسلامی جمہوری نظام پر کاری ضرب لگا سکیں۔ دوسرا اسلامی جمہوریہ ایران کو اندرونی بحران کا شکار کرکے اسے علاقائی اور بین الاقوامی سیاست سے دور کرسکیں۔ تیسرا اپنے مطلوبہ ورلڈ آرڈر کیلئے خطرہ بن جانے والے روس، چین اور ایران کے درمیان مضبوط اتحاد میں دراڑ ڈال سکیں۔ چوتھا خطے میں جاری اسلامی مزاحمتی تحریک کو کمزور کرسکیں، جس نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا گلا دبا رکھا ہے اور اس کے خلاف ایجاد کردہ گھیرا روز بروز تنگ کرتی جا رہی ہے۔ ایران میں فسادات اور ہنگاموں کا سہارا لینے سے امریکہ اور اس کی اتحادی قوتوں کی بے بسی اور لاچاری ظاہر ہوتی ہے۔

3)۔ ویانا مذاکرات اور ایران کا شجاعانہ موقف
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی صدارتی الیکشن مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرکے جوہری معاہدے میں واپس جائیں گے۔ دوسری طرف ایران میں حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کی سربراہی میں تشکیل پانے والی نئی حکومت نے بھی مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ جب تک امریکہ گذشتہ غلطیوں اور وعدہ خلافیوں کا ازالہ نہیں کرتا اور آئندہ معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہ ہونے کی مضبوط ضمانت فراہم نہیں کرتا، نہ تو بورجام میں اس کی واپسی قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی نیا معاہدہ انجام دیا جائے گا۔ کچھ ماہ پہلے ویانا میں یورپی یونین اور ایران میں بورجام کی بحالی کیلئے مذاکرات کا آغاز ہوا، لیکن اب تک امریکہ کی ضد کی وجہ سے کوئی خاطرخواہ پیشرفت حاصل نہیں ہوسکی۔

امریکہ اپنی فطرت کے مطابق ہمیشہ کی طرح ایران پر دھونس جمانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ ایرانی حکومت جو "انقلابی حکومت" کے طور پر معروف ہوچکی ہے، اس کے سامنے سختی سے ڈٹی ہوئی ہے۔ اب تک امریکہ کئی بار دھمکی اور لالچ کے ذریعے ایران کو جوہری معاہدہ بحال کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرچکا ہے، لیکن اسے بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران میں حالیہ فسادات اور ہنگاموں کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدہ بحال کرنے کیلئے بلیک میل کرنا ہے۔ امریکہ کو جب سفارتکاری کے میدان میں بری طرح ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ ان اوچھے اور پست ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور دہشت گرد عناصر کی مدد سے ایران میں بدامنی پھیلا کر ایرانی حکومت کو اپنے ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن تاریخ کا جائزہ لینے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ان پست ہتھکنڈوں کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 1016189
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش