0
Tuesday 27 Sep 2022 07:30

فلسطین کا دو ریاستی حل، نئی سازش؟

فلسطین کا دو ریاستی حل، نئی سازش؟
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

غاصب اسرائیل میں، ایسے وقت جب قبل از وقت انتخابات ہونے والے ہیں، صیہونی وزیراعظم یائر لاپڈ پر تنقید میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ صیہونی وزیراعظم یائر لاپڈ نے پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستترویں اجلاس میں تقریر کی تھی۔ صیہونی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ سمجھوتہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لئے مناسب راستہ ہے۔ صیہونی وزیراعظم لاپڈ کے یہ خیالات مسئلہ فلسطین کے بارے میں اسرائیل کے سیاسی ڈھانچے میں شگاف کی علامت ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں اسرائیلی کابینہ نے دو حکومتی راہ حل کو حذف کرنے کے سلسلے میں قدم بڑھایا ہے اور عملی طور پر سرزمین فلسطین پر حکومت کی تشکیل کے فلسطینیوں کے حق کو تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن اب یائر لاپڈ نے دو ریاستی راہ حل کو قبول کرلیا ہے۔

اگرچہ اسرائیلی حکومت غیر قانونی اور غاصب حکومت ہے اور اس نے فلسطینیوں کی سرزمین کو ہڑپ لیا ہے، لیکن اسی غاصب حکومت کو فلسطینیوں کی اپنی سرزمین پر فلسطینی حکومت کی تشکیل دیکھنا پسند نہیں ہے۔ جو چیز یائر لاپڈ کے ذریعے فلسطینیوں کے حق کو سرکاری طور پر تسلیم کئے جانے کا سبب بنی ہے، وہ حکومت کی تشکیل کی ضرورت کے بارے میں، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو اور غاصب اسرائیلی حکومت کے مظالم کے خلاف فلسطینیوں کی استقامت ہے۔ قیام اسرائیل سے لے کر اب تک دو ریاستی حل کا لالی پاپ ہی دے کر امریکہ کے مختلف صدور داخلی اور خارجہ محاذ پر سیاست کرتے رہے ہیں۔ ایسے دلفریب نعروں سے فلسطینی نوجوانوں اور سیاسی کارپردازوں کو لبھایا جاتا رہا ہے۔ اسی اثناء میں سب سے زیادہ فلسطین دشمن اور اسرائیل نواز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی منظرنامے پر نمودار ہوتے ہیں۔

 سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 28 جنوری کو جاری کردہ امن منصوبے اور اسرائیل میں ہونے والے 2 مارچ کے انتخاب کی مدت کے دوران فلسطین میں ایک سروے کا اہتمام کیا گیا، تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے آپشن سے متعلق فلسطینی کیا سوچتے ہیں۔؟ اس سروے کے نتائج ہوشربا تھے، جن میں فلسطینیوں کی بڑی اکثریت نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ مسئلہ فسلطین کا حل اب فلسطینیوں کی غصب کردہ سرزمین پر پہلو بہ پہلو اسرائیل اور فلسطینی ریاست کا قیام نہیں بلکہ اس کا حل تاریخی فلسطینی پر مشتمل علاقے فلسطینیوں کو واپس کرکے ہی ممکن ہوسکے گا۔

مقبوضہ فلسطین میں دو ریاستی حل کے بارے میں یائر لاپڈ کے بیان پر لیکوڈ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نیتن یاہو نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نیتن یاہو نے لاپڈ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان پر اسرائیل کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی یائر لاپڈ کی تقریر کو کمزوری، شکست اور شرمندگی سے بھری تقریر قرار دیا۔ غاصب اسرائیل کے سابق وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو دوبارہ اوسلو سانحے سے دوچار نہیں کریں گے، میں اور میرے ساتھی اس کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ یائر لاپڈ پر نیتن یاہو کی تنقید کا ہدف زیادہ تر داخلی ہے اور قبل از وقت انتخابات سے اس کا تعلق ہے، جو آئندہ نومبر میں منعقد ہوں گے۔ ان انتخابات میں نیتن یاہو کے اصل حریف یائر لاپڈ ہیں۔ نیتن یاہو نے پچھلے ہفتے بھی مقبوضہ اراضی میں یائر لاپڈ پر تنقید کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ "یکم نومبر کو آپ لوگوں کی مدد سے میری لیکوڈ پارٹی لاپڈ کی کمزور اور خطرناک حکومت کی جگہ ایک مستحکم حکومت آئندہ چار سال کے لئے تشکیل دے گی۔ یہی حکومت اسرائیل کی قومی عزت و سلامتی کو واپس لائے گی۔

ادھر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہہ چکے ہیں کہ فلسطین کے مسئلہ کا حل خطے اور دنیا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان فلسطین میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ عمران خان کے اس بیان پر شکوک و شبہات موجود ہیں کہ پاکستان دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے، کیونکہ یہ فلسطینیوں کا موقف ہرگز نہیں ہے۔ بانی پاکستان کا موقف عمران کے موقف سے بالکل جدا ہے۔ ایک ایسے وقت جب کئی عرب ممالک اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرچکے ہیں، ایسے میں صیہونی وزیراعظم کا دو ریاستی حل پر آمادہ ہونا اور پھر پاکستان جیسے ملک کے مقبول لیڈر کا دو ریاسی حل کو تسلیم کرنا کوئی نیا کھیل تو نہیں۔ کیا یہ کوئی نئی سازش ہے کہ جس کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 1016345
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش