0
Wednesday 28 Sep 2022 07:03

عزادار سے زوار تک، سفرِ عشق(10)

عزادار سے زوار تک، سفرِ عشق(10)
تحریر: محمد اشفاق شاکر
 
24 صفرالمظفر کی بہت خوبصورت لیکن بہت اُداس صبح، جب حرم امیرالمومنین علی علیہ السلام میں جاکر نماز زیارت ادا کی، سلام کے جملے ادا کیے، کانپتے ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے اور لرزتے ہونٹوں سے کچھ ٹؤٹے پھوٹے لفظ نکلے کہ اے مہربان اللہ تجھے اس صاحبِ مزار کا واسطہ ہماری آج کی زیارت الوداعی زیارت تو ہے، لیکن یہ زیارت آخری زیارت نہ ہو۔ اب ہماری منزل کربلا تھی، جی کربلا جہاں اربعین کی شب اور یومِ اربعین گزار چکے تھے، لیکن وہ حاضری بہت مختصر بھی تھی اور محدود بھی جبکہ اب ہمیں کچھ دن کربلا میں رکنا تھا، کربلا کو زیادہ قریب سے دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کرنا تھی، سو ہمارا قافلہ اپنے سالار کی راہنمائی میں نجف سے حلہ کے راستے کربلا روانہ ہوا۔ اس سفرِ زیارات کے دوران نجف اشرف وہ پہلی منزل تھی، جہاں اپنے شریکِ کارواں بزرگان، برادران، عزیزان، خواہران اور ماؤں کا درجہ رکھنے والی عظیم المرتبت خواتین کو انتہائی قریب سے دیکھنے اور ان کی بےلوث محبت اور خلوص کو پرکھنے کا موقع ملا۔ کیسے ہیرے لوگ ہمارے ہمسفر تھے، کتنا خیال رکھنے والے، کتنے خدمتگار، کتنی محبت کرنے والے، میں جتنے بھی لفظ لکھتا چلا جاؤں، پھر بھی آخر میں لفظوں کا دامن خالی ہوسکتا ہے، لیکن میرے ہمسفروں کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کا حق ادا نہیں ہوسکتا، کس کس کا نام لوں۔
 
مرحوم بزرگ سید امداد حسین شاہ، سید زبیر شاہ مرحوم ہم سارے قافلے والے ان کو ماموں کہہ کر بلاتے تھے، مولانا شاکری، مولانا سید یاسر نقوی، بابا سید صفدر شاہ صاحب، ہنگو سے برادر ساجد، کاٹھ گڑھ سے سید نیاز حسین شاہ، محترم بھائی رضا اختر خان، سید عماد کاظمی، احمد بھائی، سید طاہر عباس شاہ، سید احسن رضا شاہ، سید بازخ نقوی (اس بالکل بچے کا تفصیل سے ذکر نہ کرنا یقیناً انصاف نہیں ہوگا، اس لیے آگے چل کر اس عزیز کا مکمل اور تفصیلی ذکر ضرور آئے گا) سید حمزہ شاہ، سید تفویض الحسن نقوی اور برادر عزیز سید محسن رضا اور پھر ہمارے قافلے کے منتظم برادر سید مرتضیٰ نقوی اور سالارِ قافلہ برادر محترم سید ماجد نقوی کہ جنہوں نے پورے سفر کے دوران خود ہم سے زیادہ ہمارا خیال رکھا، ان سب کے علاوہ ہمارے قافلے میں شریک وہ شفیق مائیں اور بہنیں کہ جنہوں نے ماؤں کی سی شفقت بھی دی اور بہنوں کی طرح فکر بھی کی، کتنے عظیم تھے یہ سارے لوگ، آگے چل کر کسی نہ کسی مقام پر ان سب کا ذکر کسی نہ کسی  حوالے سے ضرور آئے گا۔
 
ہماری گاڑی کا رٗخ حلہ کی طرف تھا۔ حلہ وسطی عراق کے صوبہ بابل کا ایک تاریخی شہر جو کہ دریائے دجلہ کی حلہ شاخ کے کنارے پر واقع ہے، حلہ نجف و کربلا کے تقریباً درمیان میں ہے، جبکہ حلہ سے بغداد کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔ حلہ میں کئی ایک ہستیوں کے مزارات اور دوسرے مقدس مقامات ایک دوسرے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موجود ہیں، ہم نے اپنے سالارِ قافلہ برادر محترم سید ماجد نقوی کی راہنمائی میں (جو کہ نہ صرف ایک بہترین سالارِ ہیں بلکہ ایک انتہائی تجربہ کار اور باخبر گائیڈ بھی ہیں) یہاں حلہ کی تقریباً تمام زیارات اور مقدس مقامات پر حاضری کا شرف حاصل کیا اور ہر زیارت کے حوالے سے جو اعمال تعلیم کیے گئے ہیں، وہ مولانا شاکری صاحب اور مولانا سید یاسر نقوی کی نگرانی میں انجام دیئے۔
 
حلہ کی جن زیارات پر حاضری دی، ان میں سے چیدہ چیدہ یہ ہیں، نبی خدا حضرت ایوب علیہ السلام کا مزار مبارک، اسی طرح نبیءِ خدا حضرت ذوالکفل علیہ السلام اور ساتھ ہی ان کچھ اصحاب کی زیارت ہے، حضرت بکر بن علی علیہ السلام کا مزار ہے۔ امام زادہ حضرت زید بن امام زین العابدین علیہ السلام امیرالمومنین علیہ السلام کے ایک بہت معروف صحابی حضرت رُشید ہُجری کا مرقد ہے، مقام ردالشمس یعنی وہ مقام جہاں امام علی علیہ السلام نے سورج کو پلٹایا تھا، مسجد نخیلہ اس جگہ پر ہے، جہاں امام حسین علیہ السلام نے روز عاشور عَلَم نصب کیا تھا اور ان مقامات کے علاوہ بھی کچھ مزاراتِ و زیارات ہیں، جو ابھی ذہن میں نہیں آ رہے۔ حلہ میں مدفون شخصیات میں دو انبیاء کرام علیہم السلام ہیں، ان کے علاوہ امام زادے زید بن امام زین العابدین علیہ السلام جو کہ زیدی سادات کے جد ہیں، جبکہ ایک اور شخصیت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے انتہائی خاص اصحاب میں سے ایک جناب رُشید ہَُجری بھی حلہ ہی میں مدفون ہیں۔
 
حلہ کے راستے میں ایک اور مزار بھی ہے، جس میں مدفون صاحبِ مزار کا نام شھید بکر بن علی ہے، ان کی شھادت کے زمانے کے بارے اختلاف ہے۔ کچھ مؤرخین نے ان کو شھدائے کربلا میں شھید ہوئے والے امیرالمومنین علی علیہ السلام کے فرزندان میں سے قرار دیا ہے۔ ان مؤرخین کا کہنا کہ بکر بن علی کربلا میں دورانِ جنگ شدید زخمی ہوئے اور گھوڑا ان کو دوڑاتا ہوا اس مقام تک لے آیا کہ جہاں اب ان کا مزار ہے، جبکہ کچھ مؤرخین کے مطابق یہ کربلا سے پہلے کے کوئی شھید ہیں، جو 60 ھجری میں شھید ہوئے۔ حلہ کی زیارات کے دوران مقامِ ردالشمس پر برادران سید سبطین حسین شاہ اور ملک مالک اشتر سے ملاقات ہوگئی، یہ لوگ ہماری مخالف سمت یعنی کربلا سے نجف کی طرف جا رہے تھے۔ حلہ اور دیگر زیارات سے فارغ ہو کر ہم کربلا کی طرف روانہ ہوئے، نماذَِ مغربین راستے میں ہی ادا کی اور کربلا کی طرف روانہ ہوگئے۔ کربلائے معلیٰ میں گاڑی کے اندر ہی سالار قافلہ کی طرف سے حُکم ملا کہ کربلا میں ہمارا قیام 3 دن ہے، جس دوران ہم نے کربلا کی تمام زیارات کو مکمل سکوں کے ساتھ کرنا ہے۔
 
ہماری گاڑی کربلائے معلیٰ کی شاہراہ شھداء پر رواں دواں تھی، ابھی ہم ہوٹل نورالقمر کے سامنے رکنے ہی والے تھے کہ کسی دوست کو پاکستان سے فون پر بتایا گیا کہ مولانا سمیع الحق کو قتل کر دیا گیا ہے، ابھی اس خبر کی تفصیل بھی نہ سن پائے کہ گاڑی ہوٹل نورالقمر کے سامنے رک گئی، یہی ہماری منزل تھی، سامان اتارا اور ہوٹل کی لابی میں پہنچے، جہاں سالارِ قافلہ نے کمروں کی چابیاں تھمائیں۔ برادران نے غسل زیارت کیا اور جانبِ حرمین روانہ ہوئے، تاکہ ابتدائی حاضری دے سکیں۔ دن بھر کی بے پناہ تھکاوٹ کے باوجود جناب شہنشاہ وفا غازی عباس علمدار علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کے حرم میں دو دو رکعت نمازِ زیارت کے ساتھ مختصر زیارت پڑھی اور پھر اپنی قیام گاہ ہوٹل نورالقمر آکر سوگئے، کیونکہ دن بھر کے مسلسل سفر کی وجہ سے انتہائی شدید تھکاوٹ ہو رہی تھی، کل سے ان شاء اللہ کربلائے معلیٰ کی مکمل تفصیلی اور تعارفی زیارات کا سلسلہ شروع ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 1016512
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش