0
Friday 30 Sep 2022 17:30

حرم سے حرم تک، ایک تاریخی دستاویز

حرم سے حرم تک، ایک تاریخی دستاویز
تحریر: محمد اشفاق شاکر

اگرچہ حرم سے حرم تک کی تمام أقساط سوشل میڈیا پر لفظ بہ لفظ پڑھ بھی چکا تھا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں توقیر کی محنت کو سلام پیش کرنے کا قرض بھی ایک مختصر سے تبصرے کی شکل میں ادا کرچکا تھا کہ جسے سوشل میڈیا کی معروف سائٹ اسلام ٹائمز نے کمالِ مہربانی سے بروقت شائع بھی کر دیا تھا، لیکن نہ جانے کیوں مجھے پھر بھی توقیر کی کتاب کا شدت سے انتظار تھا اور پھر وہ دن بھی آ ہی گیا کہ کتاب میرے ہاتھوں میں تھی۔ جیسے ہی سوشل میڈیا پر اطلاع دی کہ کتاب "نجف سے کربلا" مل گئی ہے تو کچھ ہی لمحوں میں سفر عشق مکمل کرکے کربلا میں موجود بہت پیارے بھائی سید مطیع الحسنین نقوی کا حکم ملا کہ یہ کتاب مجھے ہر حال میں چاہیئے۔ تعمیلِ حکم کے لیے توقیر سے رابطہ کرکے گزارش کی کہ دو نسخے مزید ارسال کر دیں۔

کتاب نجف تا کربلا کو توقیر کا سفر نامہ سمجھ کر کھولا کہ قسطوں میں پڑھی ہوئی روداد سفر کو ایک بار اکٹھا پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب کتاب کھولی تو یہ صرف سفر نامہ نہ تھا بلکہ یہ تو تاریخ بھی تھی، عقیدت بھی تھی، محبت بھی چھلک رہی تھی اور کسی حد تک عقیدہ بھی تھی۔ کتاب کو تو مسلسل ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا تھا، لیکن کچھ لکھنے میں تاخیر کی وجہ ایامِ اربعین تھے۔ مجالس عزاء اور جلوسوں میں شرکت اور اس طرح کی کئی دوسری مصروفیات جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج  کتاب کو دوبارہ پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی اور ایک بار پھر راہ عشق کا ایک ایک  قدم آنکھوں میں گھوم گیا، بالکل اس طرح جیسے میں 2018ء میں نہیں بلکہ 2015ء میں توقیر کا ہمسفر ہوں اور ابھی ہم نجف سے کربلا کی طرف رواں دواں ہیں۔

توقیر کھرل کی یہ کتاب صرف معجزات و کرامات کا ایک مجموعہ نہیں، صرف ایک چند روزہ سفر کی روداد نہیں بلکہ اس کی حیثیت عشق میں ڈوب کر مرتب کی گئی ایک قیمتی دستاویز کی سی ہے۔ اس کتاب پر کچھ لکھنے کی میری بساط نہیں، یقین کریں کہ جب بھی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، لفظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور دماغ لفظوں کو جملوں میں بدلنے کی بجائے نجف سے کربلا کا سفر شروع کر دیتا ہے، اس لیے صرف اتنا ہی لکھوں گا کہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ سفرِ عشق کا شوق رکھنے والے وہ بھائی کہ جن کا ابھی تک کریمِ کربلا کے در سے بُلاوا نہیں آیا، اس کتاب کو ضرور پڑھیں، وہ یقیناً خود کو نجف سے کربلا کی روحانی فضاؤں میں محسوس کریں گے اور جو دوست اس مقدس سفر کی سعادت حاصل کرچکے ہیں، وہ بھی اس کتاب کا مطالعہ کریں تو وہ اپنے گزرے ہوئے ایک ایک لمحے سے دوبارہ روحانی طور پر مستفید ہوں گے اور انہیں سفرِ عشق کے وہ روحانی لمحات اپنے آپ میں پھر سے محسوس ہوں گے اور دل میں ایک نئی امنگ اور تڑپ پیدا ہوگی کہ
                       "شالا وت بھی آون ان گھڑیاں
توقیر میرے بھائی سلامت رہو، اللہ تمھاری صلاحیتوں کو جِلا بخشے اور تم یونہی اپنے قلم کا جادو جگاتے رہو۔
خبر کا کوڈ : 1016953
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش