0
Tuesday 22 Nov 2022 07:35

ایران کے خلاف ہائبرڈ جنگ(3)

ایران کے خلاف ہائبرڈ جنگ(3)
تحریر: عسکری مقدس

مذہبی مقدسات کی توہین:
حالیہ فسادات کے دوران عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مذہبی مقدسات کی توہین کے واقعات بھی پیش آئے۔ صوبہ گیلان کے شہر رشت میں مسجد کو جلایا گیا۔ قرآنی آیات کو نذر آتش کیا گیا۔ مدارس اور مزارات پر حملے ہوئے۔ شیراز میں واقع حضرت امام رضا علیہ السلام کے بھائی امامزادہ احمد بن موسیٰ شاہ چراغ کے مزار پر دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، جس میں 15 زائر شہید اور 30 زخمی ہوئے۔ دہشت گرد تنظیم داعش کے زیرانتظام نشر ہونے والے ہفت روزہ رسالہ النباء میں تنظیم نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ مذہبی مقامات پر حملے اور مقدسات کی توہین ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔

2009ء میں چھے مہینے احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو دسمبر کے اواخر میں عاشورا کے جلوسوں پر حملے کئے گئے تھے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس اور تعزیوں کی توہین کے خلاف گیارہویں محرم کو پورے ایران میں عوام سڑکوں پر آئے تھے۔ عوام کا یہ عظیم اجتماع ملک اور اسلامی نظام کے خلاف ہونے والی سازشوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا تھا۔ حالیہ فسادات میں بھی شرپسند عناصر نے ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لئے مذہبی مقدسات کی توہین کا حربہ آزمایا۔ ان حملوں کی وجہ سے سازشی عناصر کے خلاف عوامی غم و غصے میں شدید اضافہ ہوا اور ملک کے تمام شہروں میں عوام نے ریلیاں نکال کر حملہ آوروں اور پس پردہ عناصر کی شدید مذمت کی۔

ملکی سالمیت پر حملہ:
حالیہ چند سالوں میں روس، چین اور ایران نے دنیا پر مغرب کی اجارہ داری کو کھل کر چیلنج کیا ہے۔ ابھرتی ہوئی ان طاقتوں کو دبانے کے لئے امریکہ اور یورپی ممالک نے مختلف سازشیں تیار کیں۔ روس کو یوکرائن کے مسئلے میں الجھا دیا گیا۔ امریکی سربراہی میں جاپان، آسٹریلیا اور بھارت جیسے چین کے ہمسایہ ممالک پر مشتمل کواڈ گروپ تشکیل دیا گیا۔ کانگریس کی سربراہ نینسی پلوسی نے چین کے تحفظات کے باوجود تائیوان کا دورہ کیا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے، اسی لئے امریکی اعلیٰ عہدیدار کے دورے کو اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا گیا۔ امریکہ آبنائے تائیوان میں چین کے خلاف جنگ چھیڑنے کی خواہش رکھتا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے بھی تیسری دفعہ صدارت سنبھالنے کے بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی کو الرٹ رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔

ایران کو اقتصادی پابندیوں میں جکڑنے کے بعد فسادات ایجاد کرکے کئی ٹکروں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گذشتہ اور حالیہ فسادات کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ گذشتہ فسادات میں کسی مخصوص فرد کو لیڈر بنا کر پیش کیا گیا تھا، لیکن حالیہ فسادات میں کسی خاص فرد کو سامنے لانے کے بجائے علیحدگی پسند تنظیموں کو آگے لایا گیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایران کا وجود ہی ختم کرکے پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ مہسا امینی، آزادی اور معاشی مشکلات جیسے امور کو صرف بہانہ بنایا گیا۔ چنانچہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کی تقسیم کو حالیہ فسادات کا اصلی محرک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ایران کو طاقتور دیکھنا نہیں چاہتے ہیں، اس لئے ملک کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے کمزور کرنا اصل ہدف ہے۔

بدامنی اور فسادات کسی بھی ملک کا بخیہ ادھیڑ دیتے ہیں۔ علیحدگی پسند عناصر ملک کی مخدوش صورتحال کا فائدہ اٹھا کر آشوب بپا کرتے ہیں۔ بیرونی دشمن شرپسندوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرکے ملک کی بنیادیں کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایران میں حالیہ فسادات کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مخفی اور بیرون ملک مقیم علیحدگی پسند عناصر کھل کر سامنے آئے۔ مختلف ممالک میں مہسا امینی اور دیگر افراد سے اظہار ہمدردی کے نام پر ہونے والے مظاہروں میں یہ عناصر اپنے پرچموں کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مظاہرین کے درمیان غیر ایرانی چہرے بھی دیکھے گئے، جن کے آنے کا مقصد مظاہرین کی تعداد میں اضافہ اور ایران پر دباؤ بڑھانا تھا۔ امریکہ اور مغربی ممالک علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے لگے۔ فرانس اور جرمنی کے حکمرانوں نے علیحدگی پسند گروہوں کے سربراہوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور ایران میں فسادات پھیلانے والے کی حوصلہ افزائی کی۔

 کئی مراحل پر مشتمل ہائبرڈ جنگ میں ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنا اور ملک میں بدامنی پھیلانا ابتدائی مراحل تھے۔ اگلے مرحلے میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کو مسلح کرکے عوام کی صفوں میں داخل کرنے اور پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، اس مقصد کی خاطر عراق، اردن اور شام وغیرہ میں تقریباً ایک ہزار دہشت گردوں کو خصوصی تربیت دی گئی تھی۔ چنانچہ پولیس اور رضاکار فورسز کے جوان شرپسندوں کے حملوں کا شکار ہوئے۔ امریکہ اور یورپ سمیت تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر تشدد اور غیر انسانی سلوک کے واقعات وقتاً فوقتاً میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ایسے مناظر بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں، جب ہاتھوں میں اسلحہ اٹھائے پولیس اہلکار مظاہرین کے ہاتھوں تشدد کا شکار بنیں۔

ایرانی پولیس کے نائب سربراہ سردار قاسم رضائی کے مطابق حالیہ فسادات میں اب تک پولیس اور رضاکار فورسز کے 24 جوان شہید اور تقریباً دو ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو اپنی صفوں میں دیکھ کر پرامن احتجاج کرنے والوں نے خود کو جدا کرلیا۔ احتجاج کی آڑ میں ملک کی سالمیت کے خلاف سازش آشکار ہونے کے بعد عوام کی جانب سے شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے ملکی سلامتی کے خلاف سازش کرنے والوں اور ان کے آلہ کاروں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا اور مختلف مواقع پر نکالی جانے والی ریلیوں میں پولیس و سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہمدردی اور ملکی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

جوں جوں دشمن کی سازشیں ناکام ہوئیں، انقلاب مخالف ذرائع ابلاغ کے اداروں میں اختلافات نمودار ہونے لگے اور ایک دوسرے پر ایران کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں چند روز پہلے بی بی سی فارسی کی خاتون میزبان رعنا رحیم پور کی آڈیو ٹیپ سامنے آئی، جس میں انہوں نے سعودی عرب کے زیراہتمام لندن میں قائم نیوز چینل ایران انٹرنیشنل کو ایران کو تقسیم کرنے کی سازش میں شریک قرار دیا۔ ایران انٹرنیشنل نے جوابی وار کرتے ہوئے بی بی سی اور اس کی خاتون میزبان پر ایرانی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ دونوں اداروں میں چپقلش اس قدر بڑھ گئی کہ ایران انٹرنیشنل کے بعض اہلکاروں نے ایرانی وزارت اطلاعات سے رابطہ کرکے اس حوالے سے کی پیشکش کی۔

یاد رہے حالیہ فسادات اور ہنگامے اسلامی انقلاب کے خلاف دشمن کی سازشوں کی ایک کڑی ہے۔ مستقبل میں بھی دشمن ہر موڑ پر انقلاب اسلامی کو نقصان پہنچانے کی سازش کریں گے، لیکن ایرانی عوام نے چالیس سال تک دشمن کے سامنے مقاومت اور اپنی خود مختاری کا دفاع کرکے یہی سبق سیکھا ہے کہ کامیابی اس کے قدم چومتی ہے، جو دشمن کے سامنے سرنڈر ہونے کے بجائے سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کرے۔
خبر کا کوڈ : 1026082
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش