0
Wednesday 23 Nov 2022 11:30

وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ

وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ
تحریر: سید نثار علی ترمذی

23 نومبر 2016ء میں وزارت حسین نقوی صاحب بھکر میں انتقال فرما گئے۔ ﺍﻧﺎ ﻟﻠﮧ ﻭﺍﻧﺎ ﺍﻟﯿﮧ ﺭﺍﺟﻌﻮﻥ۔ ان کے انتقال سے اس دور کا خاتمہ ہوا کہ جب غیر روحانی بھی قومیات میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ اب یہ سلسلہ تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ وزارت حسین نقوی کا خاندان انڈیا سے ہجرت کرکے بھکر میں رہائش پذیر ہوا۔ سید وزارت حسین نقوی (پیدائش 1928ء) کا تعلق سہارن پور سے تھا۔ وہ اپنے سید خاندان کے سربراہ تھے۔ وہ تحریکِ پاکستان کے بہت سرگرم رکن تھے اور جب مہاجرین کی ریل گاڑیاں سہارن پور سے گزرتی تھیں تو وہ اپنے مریدین اور عقیدت مندوں کی مدد سے مہاجرین کو کھانا پینا اور دوسری بنیادی اشیاء فراہم کرتے تھے۔ انہیں اس کام سے روکنے کے لیے سکھوں اور ہندوؤں کی طرف سے تین دفعہ حملہ کیا گیا۔ حتیٰ کہ انہیں مارنے والے کے لیے انعام کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا اور بریلی سے آنے والی ریل گاڑی پر سوار ہوکر پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں تحریک آزادی پاکستان میں حصہ لینے پر گولڈ میڈل بھی دیا۔

اپ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے سے منسلک تھے۔ اس پیشے میں وہ ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ قانونی معاملات کے علاوہ وکلاء سیاست میں بھی کافی اثر رکھتے تھے۔ یہ کہا جا سکتا یے کہ اپنے علاقہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ دین داری اور دین کے کاموں میں ہمیشہ پیش رو رہے۔ بھکر میں شاندار مرکز "قصر زینب" کے نام سے تعمیر کرایا، جو علاقہ کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ اس کے معاملات کی نگرانی آخر تک کرتے رہے۔ اس میں مسجد امام بارگاہ، ضریع مبارک اور تنظیموں کے دفاتر ہیں۔ اپنے علاقے کی مذہبی سرگرمیوں اور سیاست میں کام کرتے رہے۔ 1979ء میں ضیاء الحق نے اپنی من پسند طرز کے فقہی قوانین کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ دور تھا کہ ملک میں سناٹے کا سماں تھا۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں خاموشی کی پالیسی پر گامزن تھیں۔ ایسے میں وزارت حسین نقوی صاحب نے بھکر میں ملک گیر مرکزی شیعہ کنونشن کا اعلان کر دیا۔ اس سے قبل علماء کرام اور زعماء قوم کو اعتماد میں لیا۔ اس کے لیے ملک بھر کا دورہ کیا۔

یہ ایک تاریخی اور ملت کے لیے اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس کنونشن کے انتظامات آپ کی مہارت کا ثبوت ہے۔ جو اس کنونشن میں شریک ہوا، وہ انتظامات کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس کنونشن نے آپ کو ملک بھر میں متعارف کروا دیا۔ اس کنونشن میں طے پایا کہ ملت کے لیے ایک پلیٹ فارم "تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان" کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ملت کی قیادت کے لیے علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کو چنا گیا۔ اس عمل نے ملت کو ایک تسبیح میں پرو دیا۔ مخالفت کی کمزور سی آواز دب کر رہ گئی۔ 1980ء میں اسلام آباد کنونشن منعقد ہوا، جو ملت کے حقوق کے حصول کا مرحلہ قرار پایا۔ مفتی جعفر حسین صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ مولانا صفدر حسین نجفی مرحوم کیونکہ مرکزی سینیئر نائب صدر تھے، وہ قائم مقام صدر بن گئے۔ لیکن انہوں نے اپنا ایجنڈا طے کر لیا تھا اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

انہوں نے خود بتایا کہ علامہ محمد حسین ڈھکو صاحب اور وزارت حسین نقوی صاحب ایک ہفتہ ان کے پاس رہے اور انہیں قائل کیا کہ ملی پلیٹ فارم کا احیاء ہونا چاہیئے۔ ان سے تائید لے کر ملک بھر کا دورہ کیا۔ دستور کے مطابق ہر ضلع میں نمائندے مقرر کیے۔ ان کا اجلاس بھکر میں دس گیارہ فروری 1984ء کو منعقد کیا، جس میں علامہ عارف الحسینی شہید کا بطور قائد ملت چناو عمل میں آیا۔ شہید نے آپ کو مرکزی جنرل سیکرٹری مقرر کیا۔ چھ جولائی 1985ء کو جب سانحہ کوئٹہ پیش آیا تو آپ بھکر سے براستہ سڑک کوئٹہ پہنچے تو آرمی آچکی تھی۔ جیسے ہی آپ شہر میں داخل ہوئے گرفتار ہوگئے۔ انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے آپ کی صحت پر برے اثرات پڑے۔ شہید کے دور میں مرکزی جنرل سیکرٹری ہونے کے باوجود پھر اس طرح کی فعالیت نہ کرسکے۔ مرکزی اجلاسوں میں شرکت کرتے۔ بعض اوقات غیر حاضر رہتے۔ شہید کے دور میں دیو سماج لاہور کا دفتر فعال تھا۔ ان کی کمی گو پوری ہوتی رہتی۔

شہید علامہ عارف الحسینی کی شہادت کے بعد سپریم کونسل اور مرکزی کونسل  کے اجلاس کنڈکٹ کیے، جس نے نئے سربراہ کا انتخاب کیا۔ علامہ ساجد نقوی صاحب نے جب 1988ء میں الیکشن میں حصہ لیا تو آپ نے اس کی حمایت نہ کی، بلکہ پیپلز پارٹی کو مقامی سطح پر سپورٹ کیا۔ الیکشن کے بعد جب مرکزی دفتر میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے دل کھول کر الیکشن پر تنقید کی۔ وہ سپریم کونسل کے رکن رہے۔ نواز شریف کی حکومت جب ختم ہوئی اور نگران حکومت میں منیر حسین گیلانی صاحب مرکز میں وزیر ہوگئے تو اس پر وہ سخت نالاں تھے اور گلہ کرتے تھے کہ "قربانیاں میں نے دیں اور جب اعزاز دینے کی باری ہوئی تو کسی اور کو نواز دیا۔" فعالیت اور عدم فعالیت کا نشیب و فراز ان کی تنظیمی زندگی کا حصہ رہا۔ وہ روائتی تشیع اور انداز کے نمائندے تھے۔ قومیات سے وابستگی انہوں نے کسی نہ کسی طرح برقرار رکھی۔ وہ تشیع کی چلتی پھرتی تاریخ تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ دور دراز علاقے میں رہنے کے باوجود مرکزی کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ وہ رواداری کا مرقع تھے۔ انہوں نے پوری زندگی بامقصد گزاری۔ ان کے اس دنیا سے جانے سے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ آخری دور میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سینیئر نائب صدر تھے۔ آپ 23 نومبر 2016ء خالق حقیقی سے جاملے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین 
خبر کا کوڈ : 1026383
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش