1
Friday 25 Nov 2022 00:14

امریکہ کی داعش کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت

امریکہ کی داعش کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت
تحریر: ہادی محمدی
 
پیر 21 نومبر کی صبح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے میزائلوں اور خودکش ڈرون طیاروں کے ذریعے سلیمانیہ اور اربیل میں اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ اقدام کردستان اور بغداد کے حکام کو بارہا سرکاری سطح پر یہ مطالبہ پیش کرنے کے بعد انجام پایا کہ وہ ایران کی سرحد کے قریب موجود کوملہ، ڈیموکریٹ اور اسرائیلی، برطانوی اور امریکی جاسوسوں کو غیر مسلح کریں۔ ان دہشت گرد گروہوں نے ایران میں جاری مظاہروں کو شدت پسندی کی جانب بڑھاوا دے کر انہیں مسلح دہشت گردانہ اقدامات میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ جب کئی بار سفارتی طریقہ کار سے پیش کئے گئے مطالبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تو ایران خود ان کے خلاف کاروائی کرنے پر مجبور ہو گیا۔
 
ایران کے اس اقدام کے بارے میں کرد انتظامیہ، مغربی ایشیا میں امریکہ کی مرکزی کمان سینٹکام اور بغداد میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے ایک جیسا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان تینوں نے ایران کی جانب سے اپنے دفاع پر مبنی قانونی اور جائز اقدام کو عراق اور خطے میں عدم استحکام کا سبب قرار دیا ہے۔ ان تینوں کی جانب سے ایک جیسا موقف سامنے آنا خاص مفہوم رکھتا ہے اور واضح پیغام کا حامل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کے اصل کرتا دھرتا کون ہیں اور وہ کن کن گروہوں کو اس مقصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں؟ دراصل کوملہ، ڈیموکریٹ، منافقین اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے کرائے کے ذرائع ابلاغ ایران کے خلاف داعش کی مرکزیت میں پراکسی جنگ پر مبنی اسٹریٹجی کی ایک نئی سطح ہے۔
 
اس پراکسی جنگ کا اصل مقصد علاقائی سطح پر امریکہ کی شکست کا ازالہ کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اور مغربی حکمرانوں کی ذہنیت ایسے نظریے پر استوار ہے جس کی روشنی میں وہ طاقت کے بل بوتے پر مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے کا راستہ اپناتے ہیں اور یوں جنگ کی آگ جلانے، دہشت گردی کو فروغ دینے اور اس کی حمایت کرنے اور بین الاقوامی تنظیموں کو دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیلئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ انہیں اس نظریے کو لاگو کرنے والے عناصر کے ہمراہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کی فکری تاریخ کی ڈسٹ بن میں ڈال دینے کی ضرورت ہے۔ کردستان میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں پر ایران کے میزائل حملے سے متعلق سینٹکام کا بیانیہ دراصل خطے میں داعش اور دہشت گردی پر مبنی حکمت عملی اختیار کئے جانے پر اصرار ظاہر کرتا ہے۔
 
یہ بیانیہ خطے میں دہشت گرد گروہوں کو کھل کر کام کرنے کی اجازت مل جانے کو امریکی استحکام کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر اصرار کا مطلب سینٹکام اور دہشت گردوں کا ایک پیج پر ہونا ہے۔ ان دونوں کی حقیقت بھی ایک ہی ہے اور وہ خطے کی لوٹ مار کرنے کیلئے یہاں عدم استحکام، بدامنی اور جنگ پھیلانا چاہتے ہیں۔ لہذا خطے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی استکباری دھونس اور بدمعاشی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بغداد میں امریکی سفیر نے نئے عراقی وزیراعظم کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے تعمیر کئے گئے مراکز میں تبدیلی کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔
 
اربیل پر حکمفرما قبیلہ، کوملہ اور ڈیموکریٹ جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے ذریعے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کی جانب سے اپنی بقا کی ضمانت فراہم کرنے پر مبنی وعدے حاصل نہیں کر پائے گا۔ اگر وہ ایران کی سرحد کے قریب دہشت گرد عناصر کو باقی رکھنے پر ضد کرتا ہے تو اسے جان لینا چاہئے کہ ایک دن یہی دہشت گرد اس کے ان محل نما مراکز کو بھی نشانہ بنائیں گے جو اس نے کرد عوام کا خون نچوڑ کر تعمیر کئے ہیں۔ اسٹریٹجک بند گلی میں داخل ہونے کے باعث دنیا بھر میں مغربی حکمرانوں کا دہشت گردانہ چہرہ سامنے آ رہا ہے۔ لندن میں ملکہ کے ہرکارے بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے ایران کے سفارتخانے پر حملہ ور ہوتے ہیں اور ایران کے پرچم کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ دوسری طرف بی بی سی، انٹرنیشنل اور من و تو جیسے فتنہ انگیز اور منافق ذرائع ابلاغ انہیں ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔
 
کس قدر دلچسپ بات ہے کہ سعودی عرب کا "ابو آری" اس ملک کا وزیراعظم بن جانے کی بنیاد پر قانونی استثناء کا حامل قرار پاتا ہے جبکہ ایران کا ایک اعلی سطحی فوجی عہدیدار (شہید قاسم سلیمانی) تیسرے ملک میں جبکہ اس کا سرکاری مہمان ہوتا ہے قانونی استثناء کا حامل قرار نہیں پاتا اور داعش کی طرز پر وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں جنگ احزاب جاری ہے اور اس جنگ نے جرمنی کو بھی نازی گری پر مجبور کر دیا ہے۔ جرمنی انسانی حقوق کا ہتھکنڈہ لے کر ایران کے خلاف عالمی کردار ادا کرنے لگا ہے۔ لیکن حقیقت وہ ہے جس کا اعتراف فیفا کے موجودہ سربراہ نے کیا ہے اور کہا ہے کہ یورپ، امریکہ اور اس کے تمام اتحادیوں کو انسان سوز جرائم اور دہشت گردی کی بابت ہزاروں سال تک معافی مانگنی چاہئے اور انہیں سزا ملنی چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 1026679
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش