0
Saturday 26 Nov 2022 22:01

تہران اور ریاض کے درمیان ثالثی کا مشن

تہران اور ریاض کے درمیان ثالثی کا مشن
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
 
عراق کے نئے وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ اردن اور کویت کا کیا ہے۔ عراق کے نئے وزیر اعظم نے پیر کو اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے پر اردن کا دورہ کیا۔ محمد شیاع السوڈانی پہلے عراقی وزیراعظم نہیں ہیں، جنہوں نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ اردن کا کیا بلکہ اس سے قبل نوری المالکی نے بھی اپنی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران اپنا پہلا غیر ملکی دورہ اردن کا کیا تھا۔ عراق کے دونوں وزرائے اعظم کے پہلے غیر ملکی دورے کی منزل کے طور پر اردن کو منتخب کرنے کی ایک وجہ دونوں ممالک کی جغرافیائی قربت سے متعلق ہے۔ عراق اور اردن کی مشترکہ سرحد 180 کلومیٹر ہے۔ یہ جغرافیائی عنصر کے ساتھ ساتھ مشترکہ عرب شناخت بھی وہ عنصر ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک نے تعلقات کی ترقی میں قدم اٹھایا۔

محمد شیاع سوڈانی کے دورہ اردن میں اقتصادی تعلقات کی ترقی اور علاقائی معاملات کے بارے میں مشاورت اس سفر کے مقاصد میں سے ایک تھی۔ اردن اور عراق کے درمیان تعلقات وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کے دور میں پروان چڑھے اور دونوں ممالک نے مصر کے ساتھ مل کر کئی سہ فریقی ملاقاتیں کیں۔ عراق کے سابق وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی اور اردن کے وزیراعظم بشر الخصاونه نے گذشتہ اکتوبر میں دونوں ملکوں کی سرحد کے قریب ایک علاقے میں دونوں ملکوں کے درمیان بجلی کے رابطے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

السوڈانی نے بطور وزیراعظم اپنا دوسرا غیر ملکی دورہ کل کویت کا کیا۔ کویت کی عراق کے ساتھ 254 کلومیٹر کی سرحد مشترک ہے۔ اردن کے بعد السوڈانی کا کویت کا دورہ نئی عراقی حکومت کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی طرف توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں شیاع السوڈانی نے کویت کے دورے کے دوران کہا: عراق اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور دونوں ممالک کی خود مختاری کو برقرار رکھنے کی بنیاد پر متوازن تعلقات کا خواہاں ہے اور بہت سے معاملات کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جس کا مقصد خطے میں استحکام حاصل کرنا ہے۔ السوڈانی کا کویت کے ساتھ تعلقات میں مقدمات کے حل کا حوالہ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاسی اختلافات سے متعلق ہے۔

عراقی میڈیا نے آج شیاع سوڈانی کے تین ممالک ایران، ترکی اور سعودی عرب کے قریب آنے والے سفر کی خبر دی ہے۔ یہ ممکنہ دورے نئی عراقی حکومت کی خارجہ پالیسی کی توجہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور تنازعات کو حل کرنے پر بھی ظاہر کرتے ہیں۔ نیز یہ دورے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عراق ایک ایسی متوازن خارجہ پالیسی کی تلاش میں ہے، جس کی بنیاد پر کوئی لابی دوسری لابی کے خلاف نہ ہو۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ عراق کی نئی حکومت بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز سعودی عرب اور ایران کے سیاسی حکام کے درمیان بغداد میں مذاکرات کے امکان کے بارے میں خبریں شائع ہوئی تھیں۔ عراقی پارلیمنٹ میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ عامر الفائز نے بھی العربی الجدید کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تہران اور ریاض کے درمیان ثالثی کا مشن السوڈانی حکومت کے ذریعے جاری رہے گا، کیونکہ ایران اور عراق کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور اس کا کا فائدہ سعودی عرب اور عراق دونوں کو ہوگا۔

یاد رہے کہ عراق کے نئے وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے 2003ء میں ظالم بعث حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور وہ 2004ء اور 2010ء کے درمیان کئی قومی عہدوں پر فائز رہے، جن میں الامارہ شہر کے گورنر، میسان کی صوبائی کونسل کے رکن اور پھر میسان صوبے کے گورنر۔ وہ سابق وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے استعفیٰ کے بعد 2019ء میں وزیراعظم کے عہدے کے امیدواروں میں سے ایک تھے۔ 2019ء میں موجودہ وزیراعظم نے سیاسی اور اقتصادی اصلاحات، بہتر خدمات، روزگار اور سماجی انصاف کے مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی، اس وقت انہوں نے اقتصادی اصلاحات، خدمات کو بہتر بنانے اور غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی سے لڑنے کے لیے حکومتی اصلاحی پروگرام کی تجویز پیش کی۔ السوڈانی نے قومی سطح پر سیاسی اختلافات کو حل کرنے کے لیے پرامن طریقے اپنانے کے لیے قومی مذاکرات پر زور دیا، جس کا مقصد جنوب سے شمال تک ایک خوشحال اور متحد عراق بنانا ہے۔

جنوری 2021 میں انہوں نے "الفراتین" سیاسی تحریک کی بنیاد رکھی اور اس کے منتخب جنرل سیکرٹری بن گئے۔ الفراتین ایک شہری سیاسی جماعت ہے، جو تمام عراقیوں کے لیے شہریت کے حقوق، سماجی انصاف اور مساوات کا مطالبہ کرتی ہے اور اس نے 2021ء کے پارلیمانی انتخابات میں تین نشستیں جیتی ہیں۔ السوڈانی، جو درجنوں سرکاری خدماتی کمیٹیوں کے چیئرمین اور رکن تھے، انہوں نے عراق کی صنعت کے تحفظ اور بحالی کے لیے سیاسی اور عوامی دباؤ کی حکمت عملی کو "عراق بنائیں گے" کے نعرے کے ساتھ استعمال کیا۔ ان کی انتظامیہ، انتظامی بدعنوانی کے خلاف لڑنے کے حوالے سے مشہور ہے ۔انہوں نے مختلف وزارتوں (محنت، سماجی امور، صنعت و تجارت) کو کروڑوں ڈالر  واپس لوٹائے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1027075
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش