0
Tuesday 29 Nov 2022 01:39

29 نومبر فلسطینی عوام کیساتھ اظہار یکجہتی کا دن

29 نومبر فلسطینی عوام کیساتھ اظہار یکجہتی کا دن
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

فلسطین پر غاصبانہ قبضہ اور مئی 1948ء میں ناجائز صیہونی حکومت کا قیام مغربی ایشیاء میں جنگ اور عدم تحفظ کا آغاز تھا۔ اس ظالم حکومت کے سپاہیوں نے ہزاروں مظلوم فلسطینیوں کو شہید، زخمی اور اسیر کیا اور لاکھوں بچوں، مردوں اور عورتوں کو بے گھر کیا۔ اسی وجہ سے 29 نومبر 1977ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو "فلسطینی قوم کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن" کا نام دیا، تاکہ اس مظلوم قوم کے مسائل کی طرف ممالک کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ بلاشبہ یہ قرارداد بھی فلسطینی عوام کے حوالے سے اس تنظیم کی دیگر قراردادوں کی طرح صرف زبانی حمایت تھی اور ان کے دکھ درد کو دور نہیں کرتی تھی۔ شاید 29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دن کا نام دینا 1947ء کی اس ظالمانہ قرارداد 181 کے حوالے سے مطمئن کرنا ہے، جسے اسی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ اس قرارداد کے مطابق فلسطین کی زمین کا 57% حصہ یہودیوں کو دیا گیا، جو زیادہ تر دوسرے ممالک سے آئے تھے اور یہی قرارداد 181 تقریباً چھ ماہ بعد صیہونی حکومت کے وجود کے اعلان کا پیش خیمہ بن گئی۔ اس جارح حکومت نے جنگ اور تسلط کے ذریعے فلسطین کے تقریباً 85 فیصد حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اب تک صیہونی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے اور تشدد اور جارحیت کے خاتمے کی ضرورت پر قراردادیں جاری کی ہیں، لیکن اس حکومت کے حکام ان قراردادوں پر توجہ نہیں دیتے۔ تاہم سلامتی کونسل جو اپنی قراردادوں پر عمل نہ کرنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کرتی ہے اور حتیٰ کہ فوجی حملے بھی کرتی ہے، ابھی تک صیہونیوں کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلاشبہ فلسطینیوں کو نہ صرف اقوام متحدہ کی نظر اندازی کا سامنا ہے بلکہ بدقسمتی سے عرب حکومتوں سمیت کئی اسلامی حکومتیں نہ صرف ان کی زیادہ حمایت نہیں کرتیں بلکہ صہیونیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرچکی ہیں۔ مصر پہلا عرب ملک تھا، جس نے 1978ء میں صیہونی حکومت کے ساتھ امن اور دوستی کے معاہدے پر دستخط کیے اور اردن نے 1994ء میں اس کی پیروی کی۔ یقیناً کئی دوسرے عرب ممالک کے ماضی میں اس حکومت کے ساتھ خفیہ تعلقات رہے ہیں، حالانکہ وہ خود کو فلسطینی عوام کے حامی ظاہر کرتے ہیں۔

2020ء میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے ان تعلقات کو "ابراہیم معاہدہ" کے عنوان سے عام کیا اور مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور کئی دیگر عرب حکومتیں بھی فلسطین سے غداری پر مبنی اس معاہدے میں شامل ہوں گی۔ دوسری طرف، ترکی اور جمہوریہ آذربائیجان جیسی حکومتوں کے اسرائیل کی مجرمانہ حکومت کے ساتھ طویل عرصے سے وسیع سیاسی، تجارتی اور یہاں تک کہ فوجی اور سکیورٹی تعلقات ہیں۔ اس طرح وہ اس ناجائز حکومت کو سیاسی اور اقتصادی طور پر مضبوط کر رہے ہیں، بلکہ اس عمل سے درحقیقت وہ فلسطینیوں کے خلاف صیہونیوں کی بربریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ بلاشبہ ایسی حکومتوں کے مقابلے میں جنہوں نے فلسطینیوں کے ظلم و ستم اور ان کی سرزمین پر قتل و غارت گری اور قبضے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، کئی عرب اور غیر عرب دونوں ممالک ایسے ہیں، جنہوں نے فلسطینیوں کو فراموش نہیں کیا اور ان کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور اس کے لئے آواز بھی اٹھاتے ہیں۔ اسرائیل محالف ممالک فلسطینی عوام کی اپنے وطن واپسی اور صیہونیوں کے جرائم کے خاتمے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران اپنی ہمہ جہت، دیانتدارانہ اور عملی حمایت کی وجہ سے فلسطینی قوم کی امیدوں کا ایک قابل اعتماد مقام اور سہارا بن گیا ہے اور اس پر صیہونیوں کا غصے میں تلملانا ایک قطری امر ہے۔ 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران نے صیہونی ریاست کے وجود کو غیر قانونی اور ناجائز سمجھا ہے اور دوسری حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی امنگوں کی عملی حمایت کریں۔ اسی سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی (رہ) نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو "یوم القدس" قرار دیا اور تمام مسلمانوں سے کہا کہ وہ ہر سال اس دن کو فلسطینی عوام سے یوم یکجہتی کے طور پر مظاہرے اور اجتماع کریں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک جمہوری اور منصفانہ حل بھی پیش کیا ہے، جس کے مطابق پہلے فلسطینی پناہ گزینوں کی اپنی سرزمین پر واپسی اور پھر فلسطین کے اصل باشندوں کو جن میں مسلمان، یہودی اور عیسائی، شامل ہیں، کے ذریعے ایک ریفرنڈم کرایا جائے، جس میں وہ اپنے مستقبل کے سیاسی نظام کا تعین کریں۔ بلاشبہ صیہونی حکومت جو خود کو جمہوری کہتی ہے، اس نے عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر اس منطقی منصوبے کو کبھی قبول نہیں کیا۔ غاصب صیہونی حکومت نے اپنے وجود کے سالوں کے دوران یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کسی بھی منصوبے یا معاہدے کو قبول نہیں کرے گی، جب تک کہ اس میں یکطرفہ طور پر اس کے ناجائز مفادات پوری طرح پورے نہ ہوں۔ جیسا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان 1993ء اور 1995ء میں اوسلو امن معاہدے میں، صیہونی حکومت نے بہت سی رعایتیں حاصل کرنے کے باوجود، فلسطینیوں کے حوالے سے اپنے چند وعدوں پر عمل درآمد کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔

اب صیہونی حکومت کے قیام کے 74 سال بعد فلسطینی عوام اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ وہ اپنے کھوئے ہوئے حقوق کے حصول کے لیے عرب اور غیر عرب سمجھوتہ کرنے والی حکومتوں اور بین الاقوامی اسمبلیوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ نیز تجربے نے انہیں دکھایا ہے کہ صیہونی قابضین مذاکرات کے ذریعے ان کے کم سے کم انسانی حقوق کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اپنے حقوق کے حصول کا بہترین اور باعزت آپشن صہیونی جارحین کے خلاف عوامی مزاحمت ہے۔ اسی رویئے کی بنیاد پر فلسطینی انتفاضہ کا آغاز ہوا اور عوام نے خالی ہاتھ، ارادے اور ایمان سے قابضین کا مقابلہ کیا۔ سیاسی انتفاضہ کے ساتھ ساتھ مزاحمت کے عسکری بازو میں گذشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے بارہا صیہونیوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ صیہونی حکومت کے ساتھ ان کا سب سے اہم تصادم مئی 2021ء میں "شمشیر القدس" جنگ کے دوران تھا، جس میں فلسطینیوں نے صیہونی جنگی جرائم کا جواب دینے کے لیے سیکڑوں راکٹ استعمال کیے تھے۔

لیکن ایک اہم پیش رفت جو فلسطینی عوام کی ایک سال سے زائد عرصے سے جاری مزاحمت کے دوران ہوئی ہے، وہ مقبوضہ فلسطین کے مشرق میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے لوگوں کا صیہونی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد میں شامل ہونا ہے۔ اب مغربی کنارے کے فلسطینی مجاہدین لوگوں کے قتل، گھروں کی تباہی اور ان کی اسیری کو برداشت نہیں کرتے اور وہ صیہونی فوجیوں اور آباد کاروں کے حملوں کا دردناک جواب دیتے ہیں اور اس وقت انہوں نے صیہونی حکومت کے لیے ایک نیا سکیورٹی مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ اب، یہ توسیع پسند حکومت، جس نے کبھی مصر میں دریائے نیل سے عراق کے دریائے فرات تک کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مقبوضہ فلسطین میں شمال سے لبنانی حزب اللہ کی مزاحمتی قوتوں اور جنوب اور مغرب میں فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے گھیرے میں ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ فلسطین کے ان علاقوں سے بھی صیہونیوں کے خلاف پرتشدد تحریکوں کی خبریں سامنے آئی ہیں، جنہیں صیہونی حکومت نے دیواروں اور سکیورٹی کے حصار میں بظاہر محفوظ کر رکھا ہے اور یہ صیہونی حکومت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جا رہا۔ فلسطینیوں کے اس غاصب حکومت کے خلاف مزاحمت کے جذبے اور حوصلہ میں اضافہ مستقبل قریب میں ان کی فتح کی نوید ہے۔
خبر کا کوڈ : 1027200
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش