0
Saturday 3 Dec 2022 11:12

علامہ سید صفدر حسین نجفی ناقابل فراموش کردار

علامہ سید صفدر حسین نجفی ناقابل فراموش کردار
تحریر: ارشاد حسین ناصر

علامہ سید صفدر حسین نجفی پیکر خلوص، علم و عمل، تقویٰ و پرہیز گاری کی روشن مثال شخصیت کے مالک تھے، ان کی زندگی قومی خدمات سے بھرپور اور دین کی تبلیغ و اشاعت نیز محافظت سے بھرپور گزری۔ علامہ سید صفدر حسین نجفی جنہیں محسنین ملت میں بلند مقام حاصل ہے، ان کی زندگی کا سفر کیسے آگے بڑھا، اس کو جاننا آج کی نسل کیلئے بے حد ضروری ہے، تاکہ قوم کی تاریخ میں اس زندہ و روشن کردار سے آگاہی ہوسکے۔ یہ زندہ کردار ان سب کیلئے باعث حوصلہ اور آگے بڑھنے کی جستجو کا باعث بنتا ہے۔ جب کوئی حالات کا رونا روتا ہے، وسائل کی عدم دستیابی کا ماتم کرتا ہے، دوستان کے تعاون نہ کرنے کا گلہ کرتا ہے، مشکلات اور مسائل کے انبار گنواتا ہے۔ ایسے میں ایسی ہی جدوجہد کرنے والی شخصیات کے کردار و عمل سے حوصلہ ملتا ہے کہ کیسے ان لوگوں نے کام کیا، کیسے کامیابیاں سمیٹیں، جبکہ مشکلات آج سے کہیں بڑھ کر تھیں، مسائل اس سے بہت زیادہ گھمبیر تھے۔ ذرا ان کے زندگی نامہ پہ نظر دوڑائیں۔

علامہ حاج سید صفدر حسین نجفی 1933ء میں شہر علی پور، ضلع مظفر گڑھ، ملتان ڈویژن میں پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے والد مرحوم سید غلام سرور چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا دین کی تعلیم حاصل کرے۔ چنانچہ سات سال کی عمر میں ان کے بڑے چچا علامہ سید محمد یار نجفی نے، جو انہی دنوں میں نجف اشرف سے دینی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آئے تھے، ان کے پاس بھیج دیا گیا۔ قبلہ صفدر حسین صاحب کو ابتدائی دینی علوم کی تعلیم و تربیت کیلئے علامہ یار محمد نجفی اپنے ساتھ خانیوال شہر لے آئے۔ وہاں انہوں نے اپنے چچا اور دوسرے اساتیذ سے خوب علم و فیض حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ 1951ء میں نجف اشرف روانہ ہوئے، جو اس وقت علوم آل محمد کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ نجف اشرف جانے کا قصہ بھی بہت دلچسپ اور عجب ہے، اس میں بھی کئی ایک واقعات ہیں، مشکلات ہیں، مسائل درپیش ہیں۔ اس وقت آپ کی عمر ابھی اٹھارہ سال تھی اور تقریباً 6 سال امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑکے حرم کے سائے و قرب میں گزارے اور دین کا علم و فیض حاصل کیا اور درس خارج حاصل کیا اور 1956ء میں وطن واپس لوٹ آئے۔

نجف اشرف میں انہوں نے نامور آیات عظام سے کسب فیض حاصل کیا، انہوں نے آیت اللہ تہرانی سے روایات اور احادیث روایت کرنے کی اجازت بھی حاصل کی۔ 1956ء سے 1966ء تک لاہور کے وسن پورہ نامی علاقے میں جامعۃ المنتظر کے مدرس اور نائب پرنسپل کے طور پر کام کیا اور پھر 1966ء میں جب علامہ اختر عباس نجفی مرحوم جو  پرنسپل تھے، نجف چلے گئے تو ان کی جگہ پرنسپل کے فرائض ادا کرنے شروع کئے۔ حیات طیبہ کی زندگی کے آخر تک مدرسہ کے سربراہ اور کئی مدارس دینیہ کے بانی اور سربراہ کی حیثیت سے وہ دن رات اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1970ء میں لاہور کے ایک علاقے ماڈل ٹاؤن میں، جو کہ لاہور کے اہم اور بنیادی علاقوں میں سے ایک ہے، تقریباً 21 کنال اراضی پر ایک مدرسہ بنایا گیا، جس میں 14 کلاس روم، دو بڑے ہال، 60 کمرے تھے۔ طلباء کے ہاسٹل اور ایک بڑی مسجد، انہوں نے ایک لائبریری اور مدرسین و اساتیذ کے لیے 13 گھر بنائے۔

مرجع شیعیان جہان آیت اللہ محسن الحکیم اعلیٰ اللہ مقامہ کی وفات و رحلت کے بعد جب مرجعیت کے عنوان سے امام خمینی کا نام لینا کافی دشوار اور کٹھن سمجھا جاتا تھا۔ آپ نے امام کی مرجعیت کا اعلان کیا اور حضرت امام کی توضیح المسائل کا اردو ترجمہ کرکے اسے شائع کرنے کا اعلان کیا۔ اپنے اس پیغام و پروگرام کو خطوط، اخبارات وغیرہ کے ذریعے شیعیان پاکستان تک پہنچایا۔ بعد میں جب امام خمینی، نجف سے پیرس تشریف لائے تو جناب شیخ نوازش علی ساعتی، مولانا امیر حسین نقوی کے ساتھ امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ بعض احباب کے بقول اس دورہ میں کچھ رقم جو وہ ساتھ لائے تھے، امام خمینی کی خدمت میں پیش کی۔ اس وفد نے حضرت امام خمینی سے پاکستان میں اپنا نمائندہ بھیجنے کی درخواست کی، تاکہ ان کے افکار و کردار اور پیغام کو موثر انداز میں اہل پاکستان میں راسخ کیا جائے۔

امام نے ان کی درخواست کو قبول کیا اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی دامت برکاتہم کو تین ماہ کے لیے بھیجا اور وہ بعض وجوہات کی بنا پر قیام نہ کرسکے۔ بعد ازاں آیت اللہ طاہری خرم آبادی نمائندہ خصوصی برائے امور پاکستان کے طور پر مقیم رہے۔ قبلہ صاحب کی وفات تک آیت اللہ سید حسن طاہری خرم آبادی امور پاکستان میں امام کے نمائندے تھے۔ یہ قبلہ سید صفدر نجفی ہی تھے، جنہوں نے سب سے پہلے امام کی کتابوں "توضیح المسائل"، "ولایت فقیہ" اور "جھاد اکبر" کا ترجمہ کیا اور انہیں پاکستان میں شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ دراصل علامہ سید صفدر نجفی کا ویژن تھا کہ پاکستان میں انقلابی افکار کی حامل دینی کتب کی اشاعت، تراجم و تفسیر کا کام شروع ہوا۔ اس مقصد کیلئے مصباح القرآن ٹرسٹ جیسا ادارہ قائم کیا، جس کے تحت انہوں نے کئی کتب شائع کیں، جبکہ معروف تفسیر "تفسیر نمونہ" کا اردو ترجمہ بھی کیا اور اسے 27 جلدوں میں شائع کیا۔

علامہ سید صفدر حسین نجفی کی دینی، تعلیمی، اجتماعی کاوشوں پر نظر دوڑائیں تو فہرست بہت طویل ہے۔ ہاں ان کا تنظیمی کردار بھی کسی سے کم نہیں رہا، وہ تمام دینی تنظیموں، تحریکوں کے سرپرست و بانی کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے۔ آئی ایس او، آئی او، تحریک نفاز فقہ جعفریہ، وفاق علماء الشیعہ اور بعض لوکل تنظیمات کیساتھ بھی ہمیشہ ایک رہنماء اور سرپرست کے طور پر سامنے رہے۔ سب تنظیمیں ان پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں۔ اپنے پروگراموں میں بلاتیں، لیکچرز لیتیں اور تربیتی امور میں معاونت لیتیں۔ آئی ایس او کو جامعۃ المنتظر میں مرکزی کنونشن کروانے میں ان کی زندگی میں کبھی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ وہ علماء و نوجوانوں میں فاصلے مٹانے والے تھے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی سے رشتہ داری و قربت کے باعث شہید کی تربیت میں ان کا کردار تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ وہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کے پشتبان تھے۔ جن کا احترام شہید قائد کو ہمیشہ عزیز تر تھا، کئی ایک اہم مواقع پہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کو پیش آنے والی مشکلات و مسائل میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کا قومی کردار ہمیشہ یادگار و ناقابل فراموش رہیگا۔

علامہ سید صفدر حسین نجفی کا پروگرام، منصوبہ اور سوچ و فکر تھی کہ پاکستان کے ہر پچاس کلومیٹر پر ایک شیعہ دینی مدرسہ و ادارہ قائم کیا جائے۔ یہ ان کا خواب تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے علاوہ قم، انگلستان (مانچسٹر) اور امریکہ میں بھی کئی مدارس قائم کئے، جو اس وقت بھی معاشرہ میں علوم آل محمد کی تشہیر و اشاعت کا کام کر رہے ہیں۔ ان کے لگائے ہوئے پودے اب تناور درخت بن چکے ہیں، پاکستان کے علماء کی اکثریت میں ان کے شاگردان شامل ہیں یا ان کے قائم کردہ مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کی ذاتی خصوصیات میں سے ایک ان کی سادگی اور مادی چیزوں اور زندگی کی آرائشوں سے دوری اختیار کرنا نظر آتا ہے اور خدا کی رضا کیلئے خالص خدمت کرتے تھے، شہرت، تعریف اور مقام و منصب سے اجتناب برتتے ہوئے کاموں کو انجام تک پہنچانا ہوتا تھا۔

اسی طرح دیگر عادات و خصوصیات میں ہمیشہ سچائی کا سہارا لینا ہوتا تھا، صاف و سیدھا بولنا، استقامت، حلم، تقویٰ، قرآن کی تلاوت، رات کو نماز پڑھنا، ہر جگہ پر اول وقت میں نماز پڑھنا، ضرورت مندوں، بیواؤں اور غریبوں کی مدد کرنا ان کے معمولات میں شامل تھا۔ وہ واقعی ایک خدا رسیدہ الہیٰ انسان تھے، جو خال خال دکھتے ہیں۔ مگر ان کے وجود کی برکات اور خوشبو ان کا پتہ دیتی ہے۔ 3 دسمبر 1989ء ان کی رحلت جانگداز کا دن ہے۔ ان پر بہت طویل لکھا جا سکتا ہے اور لکھا جا رہا ہے، مگر ان کیلئے شہید محسن نقوی کے کہے قطعہ سے اختتام کرتا ہوں۔
مومن کی موت بھی ہے شہادت کا ایک روپ
صدق و صفا کی راہ میں جاں سے گذر گیا
تقسیم کرکے علم و عمل کی بشارتیں
"صفدرحسین" آنکھ سے دل میں اتر گیا
خبر کا کوڈ : 1028233
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش