2
Friday 9 Dec 2022 17:47

ایک مولانا پر انوکھا الزام

ایک مولانا پر انوکھا الزام
تحریر: نذر حافی

ویسے ارشد شریف بڑے کام کا آدمی تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اُسے اُس کا کام مہنگا پڑ گیا۔ اُدھر کوئٹہ سے بھی ایک امام جمعہ صاحب کی گرفتاری کی خبر ملی ہے۔ ارشد شریف کی مانند اُن کا تعاقب کرنے کی وجہ بھی "لب کُشائی" بیان کی گئی ہے۔ گرفتاری کی یہ کارروائی بھی سی ٹی ڈی کی ایما پر ہوئی۔ ہم نے سوچا کہ سکیورٹی ادارے آخر ویسے ہی تو کسی کا تعاقب نہیں کرتے۔ کچھ معلومات جمع کیں تو پتہ چلا کہ گرفتار ہونے والے مولانا صاحب کا نام غلام حسنین وجدانی ہے۔ مولانا وجدانی پر ایک انوکھا الزام لگا۔ وہ الزام میرے لئے مزید بے تابی کا باعث بنا۔ بعید نہیں کہ آپ بھی تعجب کا اظہار کریں۔ اُن پر اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ کی شہادت کے واقعات بیان کرنے کا الزام لگایا گیا۔

مجھے سی ٹی ڈی کے بے چارے تنخواہ دار طبقے کے روییّے اور کردار پر کچھ نہیں کہنا۔ اسی طرح اربابِ اقتدار سے بھی کوئی گزارش یا اپیل نہیں کرنی۔ البتہ اس ملک کے پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں سے کچھ پوچھنا ضرور ہے! فرض کیجئے کہ اگر کوئی حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ کی شہادت کے واقعات کو جاننا چاہے تو کیا یہ جاننے کیلئے اُسے زبردستی پابند کیا جانا چاہیئے کہ وہ فقط فلاں مولوی، فلاں فرقے اور فلاں کتاب سے معلومات حاصل کرے۔؟ فرض کیجئے کہ اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ اللہ کے آخری نبیؐ کے بعد اُن کی اکلوتی بیٹی پر کیا بیتی؟ تو کیا اُسے آزادانہ طور پر یہ جاننے اور بیان کرنے کا حق نہیں دیا جانا چاہیئے۔؟ آپ یوں فرض کرلیں کہ اگر چودہ سو سال پہلے کسی کے اکابرین کو کچھ حکومتی لوگوں نے قتل کرکے اُن کے قتل کو دبا دیا تھا تو کیا اُن مقتولین کے ورثاء کو اپنے شہداء کا ذکر کرنے کیلئے قاتل طبقے سے یہ اجازت لینی چاہیئے کہ ہم آج بھی اپنے اسلاف کے قتل کے واقعات کو بیان کریں یا نہ کریں۔؟

اس بات کو چھوڑیئے کہ قتل کون ہوا؟ اور قاتل کون تھا۔؟ وہ خواہ حضرت سعد بن عبادہؓ کا قتل ہو یا حضرت مالک بن نویرہ ؓکا، وہ حضرت فاطمۃ الزہراؑ کا قتل ہو یا حضرت محمد ابن ابی بکرؓ کا، وہ لیاقت علی خان کا قتل ہو یا ارشد شریف کا۔ ہمارے نزدیک کسی کی بھی تاریخ اُس کا ماضی، اُس کا حافظہ، اُس کی آپ بیتی اور اُس کا علمی سرمایہ ہوتی ہے۔ کسی باشعور انسان کو بھی اُس کا حافظہ، اُس کی آپ بیتی اور اُس کا علمی سرمایہ چھینے جانے پر راضی نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ تاریخی واقعات کی صحت یا سقم کو جاننے کی خاطر محققین کو قبرستانوں اور زندانوں میں ٹھونسنے کے بجائے مکالمے اور مباحثے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ماہرینِ تاریخ کی طرف رجوع کیا جانا چاہیئے۔ معاشرے سے تحقیق کرنے اور سوال پوچھنے کا حق چھیننا، عقلمندی اور دانش مندی نہیں۔

ہمارے نزدیک اگر کسی کے لیکچر، خطاب یا تقریر پر کسی کو اعتراض ہو تو وہ معترضہ گفتگو ماہرینِ تعلیم و تاریخ کے کسی مستند گروہ کے پاس بھیجی جائے۔ ماہرین یہ تشخیص دیں کہ ہاں اس شخص نے یہ جو بیان کیا ہے، وہ مسلمانوں کے تاریخی منابع میں درج ہے یا نہیں۔ اگر کہیں پر درج نہیں ہے اور محض فتہ و فساد کیلئے خود سے واقعات کو گھڑا گیا ہے تو بلاشبہ یہ ناقابلِ معافی جُرم ہونا چاہیئے اور اس پر سخت سزا ہونی چاہیئے، لیکن اس کے برعکس جو واقعات تاریخی منابع میں موجود  ہیں، انہیں بیان کرنے سے روکنا یہ قرینِ انصاف نہیں۔ ہمیں یہ سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ تاریخ اسلام بیان کرنا اور تاریخ اسلام کے نام پر غلط بیانی کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔اگر آپ حقائق بیان نہیں کریں گے تو لوگ سوچیں گے نہیں اور اگر لوگ سوچیں گے نہیں تو سماج میں رُشد کیسے آئے گا!؟

سوچنے والوں اور نہ سوچنے والوں کا ٹکراو "ازل سے تا امروز" ہے۔ طاقتوروں نے تو اسی جُرم میں سقراط کو زہر کا جام پلا دیا تھا۔ حقائق بیان کرنے کی خاطر علامہ وجدانی کی طرح پابندِ سلاسل ہونا، یا سقراط اور ارشد شریف کی مانند موت کو گلے لگانا، یہ سب وجدانی، ارشد شریف اور سقراط کے لئے تو اعزاز کی بات ہے، لیکن کیا ایسا معاشرہ بھی قابلِ فخر ہے، جہاں سچائی بیان کرنے کو جُرم سمجھا جاتا ہے۔ سوچئے! اس لئے کہ سوچنے والوں کی دنیا، دنیا والوں کی سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 1029313
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش