0
Friday 9 Dec 2022 22:30

میں اسرائیلی ٹی وی سے بات نہیں کرتا

میں اسرائیلی ٹی وی سے بات نہیں کرتا
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابقہ چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کے ساتھ سفر میں تھا، وہاں انہوں نے فرمایا کہ ایک امریکی پروفیسر میرے ساتھ جہاز میں سفر کر رہا تھا اور ہم دونوں مراکش جا رہے تھے۔ وہ اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ امت کا تصور صرف کتابوں میں ہے اور عملی طور پر مر چکا ہے۔ میں اسے سمجھا رہا تھا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ امت موجود ہے اور یہ نظریہ پوری آب و تاب کے ساتھ ہے۔ جب جہاز مراکش اترا تو ہم امیگریشن کے کاوئنٹر پر آئے، وہاں انہوں نے مجھے لائن میں کھڑا کر دیا اور امریکی پاسپورٹ کی وجہ سے وہ سپیشل پروٹوکول میں چلا گیا اور لائن میں کھڑا نہیں ہوا۔ وہ جاتے ہوئے مجھے ایسے دیکھ رہا تھا، جیسے بتا رہا ہو کہ یہ پڑا ہے تمہارا تصور امت، تم لائن میں کھڑے رہو اور میں جا رہا ہوں۔ خیر امیگریشن کے بعد جب ہم باہر نکلے تو ایک ہی کانفرنس میں شریک ہونا تھا۔ ہم نے ٹیکسی لے لی، ڈرائیور نے اس سے پوچھا کہاں سے ہو؟ اس نے امریکہ کا بتایا تو اس نے رسمی علیک سلیک کی۔ مجھ سے پوچھا تم کہاں سے ہو؟ میں نے بتایا پاکستان سے ہوں تو اس کا چہرہ کھل اٹھا اور مسلمان بھائی اس نے پورا راستہ مجھ سے باتیں کیں۔ جب ٹیکسی سے اترے تو بڑے پرجوش انداز میں رخصت کیا، باہر نکل کر میں نے اس امریکی پروفیسر سے کہا یہ ہے امت۔

قطر سے آنے والی کچھ چیزیں حیران کر رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ اس گئے گزرے دور میں بھی مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے سوچتا ہے اور ان کے لیے قربانی کا جذبہ رکھتا ہے۔ ان کی اپنی ریاستوں نے پروپیگنڈا کیا اور بین الاقوامی میڈیا کے ادارے تو ہیں ہی انہی کے قبضہ میں، وہ یکطرفہ بیانیہ چلاتے ہیں۔ اسرائیل سے آنے والے ایک صحافی نے قطر میں مختلف ممالک کے آنے والے نوجوانوں پر ایک سوشل تجربہ کیا، جس میں وہ یہ بتاتا ہے کہ میں اسرائیلی ٹی وی کا صحافی ہوں، اس سوال کے جواب میں آنے والا ردعمل کچھ یوں تھا: "آپ کہاں سے ہیں؟ میں ریاض سعودی عرب  سے ہوں، آپ کا نام؟ میرا نام مشال المطیری ہے۔ آپ کو مبارک ہو، یہ کسی عرب ٹیم کی پہلی جیت ہے، خدا آپ کو خوش رکھے، ہم اسرائیلی چینل کی طرف سے آپ کے ساتھ ہیں اور ورلڈ کپ کے انعقاد کے حوالے سے آپ کا تاثر حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کہاں کا چینل۔؟ اسرائیل کا چینل، جوان ہاتھ بڑی شدت سے کیمرے کی طرف بڑھاتا ہے، کیمرا مین چیختا ہے کہ کیا مسئلہ ہے؟ اور جوان چلا جاتا ہے۔

آپ کا تعارف؟ عباس، آپ کو مراکش کی ٹیم کی فتح مبارک ہو، شکریہ، ہم اسرائیلی چینل کی طرف سے ہیں، آپ قطر میں ورلڈ کپ کے انعقاد کو کیسے دیکھتے ہیں؟  اسرائیل؟؟؟ یہاں سے بھاگو۔۔۔۔ آپ کون ہیں؟ میں اسد السعدی سلطنت عمان سے ہوں، ہم اسرائیلی چینل کی طرف سے آپ سے مخاطب ہیں، معاف کرو اور بڑی حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نوجوان چلا گیا۔ السلام علیکم اپنا تعارف کرائیں؟ میں محمد النعمان سوڈان سے ہوں، خوش آمدید، شکریہ، ہم اسرائیلی چینل کے لیے آپ کا انٹرویو لینا چاہتے ہیں؟ ہنستا مسکراتا چہرا متغیر ہوا اور کیمرے کے آگے ہاتھ رکھ دیا  اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے چلا گیا۔ آپ کہاں سے ہیں؟ میں مدینہ منورہ سے ہوں، یہ اسرائیل کا چینل ہے؟ نام سنتے ہی معذرت چاہتا ہوں، کچھ تو بات کریں، معذرت، پھر بھی معذرت، یہ کہہ کر دوسری طرف چلا جاتا ہے۔

بارہ سال کے ایک بچے سے تمہارا نام کیا ہے؟ صالح عبدالرحمن العمیری۔ کہاں سے ہیں؟ میں قطر سے ہوں، مراکش کی ٹیم کے جیتنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں، شکریہ۔ ہم اسرائیلی چینل سے آپ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ورلڈ کپ کے قطر میں انعقاد پر آپ کیا کہیں گے؟ کوئی بات نہیں کروں گا، ساتھ میں بارہ تیرہ سال کے دیگر بچوں کی طرف مائیک کرتا ہے تو سب تیزی سے وہاں سے چلے جاتے ہیں اور بات نہیں کرتے۔ انٹرویو سے انکار کرنے کے بعد ایک نوجوان نے کہا۔ اسرائیل نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے۔ یہ صرف فلسطین ہے اور تم نے ان سے زمینیں چھین لی ہیں۔ مراکش کے ایک شہری سے اسرائیلی صحافی نے کہا تم نے تو ہمارے ساتھ امن معاہدہ کیا ہوا ہے؟ اس پر مراکشی نے بلند آواز میں فلسطین فلسطین فلسطین کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ بہت سے جوانوں نے کہا کہ تم بچوں کو قتل کر رہے ہو، کوئی نارملائزیشن نہیں۔۔۔ مشرق وسطی کے ایک ماہر کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لوگ اسرائیل کو قبول نہیں کرتے۔

کوریج کرنے والے اسرائیلی صحافی مسٹر شیچنک نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ میں نے قطر میں آکر اپنا ذہن بدل لیا ہے، کیونکہ وہ ہمیں نقشے سے مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ مناظر یقیناً اسرائیل اور خطے میں اس کے نام نہاد نئے دوستوں کے لیے کافی پیغام لیے ہوئے ہیں، جس میں مراکش کی فٹ بال ٹیم میج جیتنے کے بعد سجدے میں گر جاتی ہے اور پھر سب کھلاڑی مل کر بڑے جذبے سے فلسطین کا پرچم اٹھا لیتے ہیں۔ امت کا درد موجود ہے اور پوری طرح سے مسلمانوں نے قبلہ اول کو یاد رکھا ہوا ہے۔ میں نے بڑے غور سے دیکھا کہ قطر ورلڈ کپ میں جانے والے عام پسماندہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالدار گھروں کے لوگ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان خواتین اور بچوں تک کا ردعمل یہی تھا کہ ہمیں اسرائیل کسی صورت میں قبول نہیں ہے اور ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ یہ پیغام بڑا واضح ہے عرب دارالحکومت بھی اسے غور سے دیکھ لیں اور سن لیں کہ اسرائیل نے تو بہرحال اسے لائیو سن لیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 1029367
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش