0
Sunday 24 Sep 2023 08:58
7 اساتذہ کے قاتل آزاد پھر رہے ہیں

ایک بے گناہ طوری جوان کی ماورائے عدالت ٹارگٹنگ

کسی جرم کے بغیر صرف دشمن کے کہنے پر کارروائی
ایک بے گناہ طوری جوان کی ماورائے عدالت ٹارگٹنگ
تحریر: ایس این حسینی

منگل 19 ستمبر 2023ء کو مبینہ طور پر ارشاد حسین المعروف قلندر طوری ایک دعوت میں شرکت کرنے موٹر سائیکل پر اپنے دوست کے پاس کڑمان جا رہا تھا کہ راستے میں عام لباس میں ملبوس مسلح نقاب پوشوں نے اسے گھیر لیا اور اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ ارشاد حسین نے عام افراد کو دہشتگرد طالبان سمجھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔ مگر مسلح افراد نے پیچھے سے اس پر فائرنگ کر دی۔ جس کی وجہ سے ارشاد حسین زخمی ہوکر بائیک سے اتر گیا اور پاس ہی ایک کھڈ میں خود کو محفوظ کر لیا اور اپنے دیسی پستول سے دو تین فائر بھی کئے۔ جسے دیکھ کر مسلح افراد نے اپنی پیش قدمی روک دی۔ اس دوران ارشاد حسین نے فون پر اپنے رشتہ داروں کو حادثے کی اطلاع کر دی۔ چونکہ یہ ایک خطرناک علاقہ ہے اور یہاں مسلح طالبان کی نقل و حرکت ہر وقت جاری رہتی ہے، بلکہ لوئر اور سنٹرل کرم میں تو اکثر پولیس اسٹیشن خالی ہوکر طالبان کے قبضے میں چلے جاچکے ہیں۔

لہذا رشتہ داروں نیز علاقے کے لوگوں نے فوراً وقوعہ پر پہنچ کر اسے بچا لیا۔ نیز پاس کھڑی گاڑیوں اور اس میں موجود مسلح نقاب پوشوں کو بھی اپنے قبضے میں لیا۔ ایک دو گھنٹے بعد جب پتہ چلا کہ مسلح حملہ آور سرکاری اہلکار ہیں تو انہیں جانے دیا گیا۔ اگلے دن پتہ چلا کہ یہ ساری کارروائی خود ان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ایک دوست کے خلاف کٹی ایک معمولی ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر کی گئی ہے۔ جس میں اسے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ بیان کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس ملزم پر بھی عدالت سے یا دیگر مصدقہ ذرائع سے ثابت شدہ کسی قسم کا کوئی جرم ثابت نہیں۔ ملزم اور اس کے ساتھیوں کو عدالت یا پولیس کی جانب سے کوئی سمن جاری ہوا، نہ ہی عدالت نے انہیں مجرم ٹھہرایا، بلکہ مقابل اور دشمن قبائل کے کہنے پر انہیں براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ جس پر سوشل میڈیا نیز قومی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار ہوا۔

طوری بنگش اقوام اسے سرکار کی جانبداری قرار دیکر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ سے عوام کے تحفظات کی لسٹ کافی طویل ہے، تاہم ان میں سے کچھ مذکور ذیل ہیں۔
1۔ ملزم کا جرم کتنا بڑا تھا؟ جس نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا، بلکہ مبینہ طور پر فیس بک پر دھمکی دینے والے ایک فرضی کردار تہران طوری کا دوست اور ساتھی ہے اور اگر یہ کوئی ناقابل معافی جرم ہے بھی تو کیا تری منگل میں دن دیہاڑے 4 اساتذہ سمیت 7 افراد کو سرکاری ڈیوٹی کے دوران، سرکاری ادارے کے اندر بیدردی سے قتل کرنا اس سے چھوٹا جرم تھا۔
2۔ 4 مئی 2023ء کو ہونے والے سانحہ تری پر عملاً کتنا کام ہوا ہے۔ اب تک کتنے مجرم گرفتار ہیں، یا انہیں گرفتار کرنے میں ایسی توانائی اور مسلح کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔؟
3۔ اپر کرم میں کسی بھی معمولی کارروائی کے ردعمل میں صدہ میں مین سرکاری شاہراہ کو بند کرنے کا رواج چلا آرہا ہے تو کیا ابھی تک اس کا سرکاری سطح پر کوئی نوٹس لیا گیا ہے اور ہاں کیا اسی طرح یعنی مین روڈ بند کرنے پر مبنی کوئی اقدام طوری بنگش قبائل کی جانب سے کبھی تاریخ میں ہوا ہے۔؟

4۔ طوری بنگش قبائل کی جانب سے کوئی پتہ بھی ہل جائے، بلکہ بغیر کسی وجہ کے صرف دشمن کی جعلی ایف آئی آر حتی زبانی کہنے پر ایسی خطرناک کارروائیاں عمل میں آتی ہیں، اس کا قانوناً کوئی جواز موجود ہے۔؟
5۔ کیا طوری بنگش علاقے میں کبھی کوئی سرکاری اہلکار قتل ہوا ہے۔ قتل تو دور کی بات کبھی کسی اہلکار کو کوئی خراش آئی ہے۔ دوسری جانب تری منگل کے ساتھ بارڈر نیز مقبل کے پاس انزرکی کنڈاو سرحد کے ساتھ درجنوں سرکاری اہلکاروں کو مقامی سہولتکاروں کے تعاون سے دہشتگردوں نے ٹارگٹ کیا ہے۔
6۔ کرم سمیت تمام سات قبائلی اضلاع میں کس ضلع میں سرکاری اہلکار سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔ کیا دیگر قبائلی اضلاع کی طرح کرم میں آفیسرز سمیت سرکاری اہلکاران تک کوئی کبھی فوجی کانوائے میں گیا ہے۔ اگر نہیں تو کرم سے کس بنیاد پر بدلہ لیا جا رہا ہے۔ لہذا حق تو بنتا ہے کہ عوام کو یہ بتایا جائے کہ کرم میں دہشتگرد اور ان کے سہولتکار یا معاون کونسا قبیلہ ہے۔ طوری بنگش یا ان کے مدمقابل طالب نواز قبائل، جواب مطلوب ہے۔
خبر کا کوڈ : 1083608
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش