0
Tuesday 8 Nov 2011 21:19

علامہ اقبال، ایک عظیم شاعر اور اعلٰی ترین انسان

علامہ اقبال، ایک عظیم شاعر اور اعلٰی ترین انسان
تحریر:جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم
 
Floria نے کہا تھا:
"The tears of the poet fill the Pen"
یعنی شاعر اپنی قلم میں سیاہی کی بجائے آنسو بھرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شاعر اپنے تصورات اور خیالات کو اپنے دکھوں اور غموں میں ڈبو کر اپنے قلم کی نوک سے کاغذ پر پرو دیتا ہے۔ 
 Bamerson نے کہا تھا:
"Painting is called silent poetry and peotry speaking painting"
یعنی فن مصوری دراصل خاموش شاعری، اور شاعری ایک بولتی ہوئی مصوری ہے۔ شاعری دراصل ایک خداداد صلاحیت ہے۔ جس کی مدد سے شاعر اپنے تصورات کو ایک دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ شاعری ایک رویے کا نام ہے۔ ہر شعر کہنے والا شائد شاعر نہ ہو اور بہت سے ایسے حساس اور دکھی انسانیت کا دل میں غم رکھنے والے لوگ شعر کہے بغیر بھی دراصل شاعر ہوتے ہیں۔ شاعر کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ مختصر الفاظ میں بہت بڑی بات کہہ دیتا ہے۔ مثلاً 
علامہ اقبال کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہے آفاق
علامہ اقبال پچھلی صدی کے نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک بہت بڑے مفکر اور شاعر تھے۔ اُن کی عظمت کا اصل راز اس بات میں تھا کہ وہ عاشق رسول ص تھے۔ اُن کے کلام کی اصلی بنیاد قرآن کریم کی ہدایات اور نبی کریم ص کے فرمودات تھے۔
قول اور فعل کے تضادات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ختم کرنے کے لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں:
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
 
علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے علاوہ، انگلینڈ اور جرمنی کے مختلف اداروں میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اُن کو اُردو، فارسی، عربی اور انگلش زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اُن کی فارسی شاعری، اُردو شاعری سے بھی زیادہ گہری اور پُر اثر ہے۔ کئی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جس نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کو نہیں پڑھا یا سمجھا وہ علامہ اقبال کی عظمت سے مکمل آشنا نہیں۔
 
علامہ اقبال صحیح معنوں میں اسلامی نظام کے حامی تھے، اور اُن کے خیال میں مذہب کے بغیر سلطنت کا تصور مکمل نہیں۔1907ء میں انہوں نے کہا تھا کہ انگریز قوم چرچ کو ریاست سے الگ کر کے غلطی کر رہی ہے۔ پھر 1931ء میں انہوں نے فرمایا کہ اگر مغرب بیسویں صدی کی ابتداء میں ایسا نہ کرتا تو شائد پہل جنگ عظیم جس میں لاکھوں انسانی جانیں تلف ہوئیں، شائد نہ لڑی جاتی، چونکہ مذہب کو ریاست سے الگ کر کے مغرب نے اخلاقیات کو خدا حافظ کہہ دیا، اس لیے اپنے معاشی مفادات اور توسیع پسندانہ پالیسی کو اپناتے ہوئے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کئی ملین یہودیوں سمیت لاکھوں بے گناہ لوگوں کو تہ تیغ کر دیا۔
 
علامہ اقبال نے جوان نسل کے حوصلے بلند کرنے کے لیے فرمایا:
تو راہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلٰی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
پھر انہوں نے مسلمانوں کو اپنی محنت سے اپنا جہاں پیدا کرنے کی تلقین فرمائی اور کہا کہ محنت اور دل لگی سے دنیا کی ہر چیز کو حاصل کی جا سکتا ہے۔ جس کے لیے ہم اپنی دنیا کو اپنے ایمان، اعتقاد، تصورات اور اعمال سے خود پیدا کرتے ہیں۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
وہی جہاں ہے ترا جسے تو کرے پیدا
یہ سنگ دخشت نہیں جو تیری نگاہ میں ہیں
پھر علامہ اقبال نے انکساری کا درس بھی دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ زندگی میں شاہین یا عقاب تو ضرور بنیں، لیکن ہاتھوں سے افلاک کا دامن بالکل جدا نہ ہونے دیں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:
مانند سحر صحنِ گلستان میں قدم رکھ
آئے تہ پا گوہر شبنم تو نہ ٹوٹے
ہو کوہ دبیایاں سے ہم آغوش و لیکن
ہاتھوں سے ترے دامن افلاک نہ چھوٹے
علامہ اقبال نے بار بار یہ کہا کہ یہ زندگی اور موجودہ جہاں دائمی نہیں۔ اس لیے مومن کو اپنی دائمی زندگی کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ چونکہ یہ زندگی تو ایک پل میں پانی کے بلبلے کی طرح فوراً ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ:
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کی میری ابتداء کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہاء کیا ہے 

علامہ اقبال فرماتے تھے کہ انسان کی عظمت کا راز امارت یا توانگری میں پنہاں نہیں اور نہ ہی انسان کی افضلیت کے معیار کا اصلی پیمانہ اُس کے بڑے عہدے، عالی شان محل، بے پناہ جائیدادیں یا قیمتی پرائیویٹ جہاز اور کاریں ہیں۔ اصل بات تو فقیری اور قلندری ہے، جو روحانیت کا درس دیتی ہے اور یہ رتبہ تقویٰ اور کردار کی بلندی سے حاصل ہوتا ہے۔ علامہ فرماتے ہیں:
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنا تو ہر ایک انسان کا فرض ہے۔ لیکن غفوروالرحیم کا یہ فرمان بھی ہے کہ ’’بندوں کے حقوق اللہ کے حقوق سے بھی زیادہ اہم ہیں‘‘ اور اسی چیز کو علامہ اقبال نے بڑی خوبصورتی سے ان الفاظ میں ادا کیا ہے:
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو، خدا کے بندوں سے پیار ہو گا 

آج کے دور میں پاکستان جس بدترین لعنت کا شکار ہے وہ رشوت خوری کی قابل نفرت اور مہلک مرض ہے۔ کہیں بھی کوئی کام رشوت کے بغیر کروانا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ یہ لعنت ایک پٹواری، پولیس کے سپاہی اور کسٹم کے سٹاف ممبر سے لے کر پاکستان کے سب سے بڑے عہدوں تک کینسر کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ رزق حلال ہی انسان کی دائمی زندگی میں اُس کی نجات کا باعث بنے گا۔ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں کوزے کے اندر سمندر بند کر دیا ہے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
 
بدقسمتی یہ ہے کہ اس دنیا کے اندر مال حرام کھانے والے، دوسرے کو دھوکہ دینے والے اور سرکاری خزانے کو لوٹنے والے، یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہر لحاظ سے کامیاب حکمرانی کر رہے ہیں۔ یہ نہ جانتے ہوئے کہ جس کو وہ اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اللہ کی نگاہ میں وہ اُن کا نہایت ناپسندیدہ فعل بھی ہو سکتا ہے۔ ایک فرانسیسی دانشور نے کہا تھا:
"You will have to wait until the evening to see how splendid the day has been"
اور اسی چیز کو علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں یوں ادا کیا ہے:
ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
 
علامہ اقبال یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’’ہماری عارضی زندگی اور موجودہ دنیا دکھ اور غم سے عبارت ہے اور اس زندگی میں اللہ کے پاکیزہ، بااُصول اور باکردار بندے اپنی صاف گوئی، نیک نیتی اور حق پرستی کی وجہ سے جو تکلیفیں اُٹھاتے ہیں، اُن کو اللہ تعالٰی دائمی زندگی میں بہت زیادہ اپنے کرم اور رحم سے نوازتے ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال نے انسان کے دل کو آئینے سے تشبیح دیتے ہوئے فرمایا:
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
 
یا پھر اعلٰی کردار اور ایمان کی متاع کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں:
بس یہی ہے ساقی متاع فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
ہم کئی دفعہ سوچتے ہیں کہ جن ممالک کے پاس تیل اور گیس کے کنویں نہیں یا جن افراد کے پاس زر اور دولت نہیں۔ وہ زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔ اُنہوں نے فرمایا:
سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں
گر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا
قلندری سے ہوا ہے تونگری سے نہیں
 
علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا، یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال کو اپنے لیے مشعل راہ مانتے تھے۔ اُنہوں نے علامہ کے خواب کو تعبیر میں بدل دیا۔ ابھی ہمیں اپنے پاکستان کی حفاظت کرنی ہے، جو ہم انشاء اللہ ضرور کریں گے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ ہمیں علامہ اقبال کے کلام کو نہ صرف سمجھنا ہو گا بلکہ اُن کے افکار کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ علامہ اقبال بغیر کسی شک کے ایک بہت بڑے مدبر، عظیم شاعر، بہترین سیاستدان، دور رس سوچ والےStatesman اور سب سے بڑھ کے ایک اعلٰی ترین انسان تھے۔
 
علامہ اقبال کے ان اشعار پر اپنے کالم کو ختم کرتا ہوں۔
تیری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود
میری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا
وجود کیا ہے، فقط جوہرِ خودی کی نمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا
خبر کا کوڈ : 111851
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب