0
Thursday 11 Jul 2024 14:43

کربلا کے شہید، اصحاب رسول ؐ

کربلا کے شہید، اصحاب رسول ؐ
تالیف و تدوین: سید اسد عباس

ویسے تو اصحاب امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ کتب مقاتل، تاریخ اور رجال میں درج ہے، تاہم اس عنوان پر متعدد خصوصی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں۔ سب سے قدیم کتاب جو اس عنوان سے میری نظر سے گزری، امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کے محدث الفضیل بن زبیر بن عمر بن درھم الکوفی الاسدی کی کتاب "تسمیۃ من قتل مع الحسین" ہے، جسے موسسہ اہل بیت لاحیاء تراث نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ اسی طرح "ابصار العین فی انصار الحسین" تیرھویں صدی ہجری کے عالم محمد بن طاہر سماوی کی کتاب ہے، جس میں انصار امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ موجود ہے۔ ایک کتاب "انصار الحسین الثورۃ الثوار" عتبات حسینیہ کی جانب سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب محمد علی الحلو کی تحقیق ہے۔

محمد باقر روشن دل کی کتاب "شہدای کربلا"، محمد علی الحلو کی کتاب "نساء الطفوف"، حسین انصاریان کی کتاب "باکاروان نور"، حسین دوستی کی کتاب "زنان عاشورایی"، مسجد جمکران کی تحقیق "یاران باوفا و شہیدان بی ھمتا"، مصلح الدین مہدوی کی کتاب "یاران باوفای حسین"، محمد محمدی ری شہری کی کتاب "الصحیح من مقتل سیدالشھداء و اصحابہ"، محمد بن شیخ طاہر سماوی کی کتاب "حماسہ سازان دشت نینوا"، ذبیح اللہ محلاتی کی کتاب "فرسان الہیجا"، گروہ مصنفین کی تحقیق "شہدائے کربلا" اور دیگر بھی اس موضوع کے حوالے سے مطالعہ کی جاسکتی ہیں۔ مختلف شخصیات پر تحریر کی جانے والی کتابیں مثلاً حضرت عباس، مسلم عوسجہ، حبیب ابن مظاہر، بنی ہاشم، آل عقیل کے شہداء کے تذکرے اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں دستیاب ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کربلا کے تمام شہداء کے احوال کو بیان کیا جائے، ان عظیم شخصیات کی زندگیوں کو نسل نو کے سامنے بطور نمونہ اور مثال رکھا جائے۔ یہ تحریر اسی سلسلے کی ایک کاوش ہے۔ شیخ طوسی نے اپنی رجال کی کتاب میں اصحاب ابی عبدالله الحسین بن علیؑ کے ذیل میں 101 افراد کا نام ذکر کیا ہے۔ بعض نے امام حسینؑ کے 146 اور بعض نے 266 اصحاب کا نام ذکر کیا ہے، جن میں سے بعض اصحاب نے امام حسینؑ سے بالواسطہ روایت نقل کی ہے۔ اصحاب امام حسین علیہ السلام میں ان شخصیات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، جو کوفہ اور بصرہ میں عاشورہ سے قبل اور عاشورہ کے بعد شہید ہوئے۔ ان کتب میں ان اصحاب امام حسین علیہ السلام کے احوال زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے قبائل اور انساب کا بھی تعارف پیش کیا گیا ہے۔

بعض کتب میں شہداء کو قبائل کے زیر عنوان جمع کیا گیا  ہے۔ ان قبائل میں بنی اسد، بنی تمیم، بنی غفار، بنی سعد، بنی تغلب، بنی قیس بن ثعلبۃ، بنی عبد القیس بصرہ، انصار، بنی حارث بن کعب، بنی خثعم، طی، مراد، بنی شیبان بن ثعلبہ، بنی حنیفۃ، بنو ہمدان، بنو الازد وغیرہ۔ لکھنو سے 1960ء میں شائع ہونے والے ایک مجلے "انصار حسین نمبر" میں شخصیات کو ان کی خصوصیات کے ہمراہ ذکر کیا گیا ہے، مثلاً صحابی رسول ؐ، صحابی امیر المومنین ؑ، صحابی امام حسین ؑ ، حافظ قرآن ، محدث  وغیرہ۔ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہونے والی بعض شخصیات کا تذکرہ ہم عموماً ذاکرین سے سنتے ہیں، تاہم باقی احباب کا تذکرہ نہ کیا جانا میرے لیے ہمیشہ سے سوال انگیز رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان شخصیات کا تذکرہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ اردو زبان میں یہ تذکرے دستیاب نہ ہونا ہے۔ عربی اور فارسی زبانوں میں یہ تذکرے موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود لوگ ان عظیم ہستیوں کا اپنی تقاریر میں کم حوالہ دیتے ہیں۔

یہ شخصیات اگرچہ اپنے معاشرے کی عام شخصیات ہی رہی ہوں، جیسا کہ بعض غلام لیکن امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہونے کے بعد یہ ہستیاں کسی طور بھی عام نہیں ہیں اور ان کا تذکرہ کیا جانا ایسے ہی ضروری ہے، جیسے واقعہ کربلا کے کسی دوسرے شہید کا تذکرہ، نیز ان کے ذکر کو چھپانا بھی ایسے ہی ہے، جیسے ہم کربلا کے کسی معروف شہید کا تذکرہ چھپائیں۔ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ نبی کریم ؐ کی صحبت پانے والے افراد کی ایک جماعت موجود تھی، میری خواہش ہے کہ تمام شہدائے کربلا کا تذکرہ اس تحریر کے ذریعے آپ احباب تک پہنچاؤں، تاکہ ہمارے لیے یہ تذکرہ پڑھنا اور لکھنا توشہ آخرت قرار پائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو اصحاب امام حسین علیہ السلام کا تعارف ہوسکے۔ ان ہستیوں کا تذکرہ عام ہو۔ ہم جان سکیں کہ اسلام اور خاندان نبوت و طہارت کے دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے کون تھے۔

محمد علی الحلو نے اپنی کتاب انصار الحسین الثورۃ والثوار میں چھبیس اصحاب رسول ؐ کا تذکرہ کیا ہے، جو کربلا میں موجود تھے۔ اگر کوفہ اور کربلا میں شہید ہونے والے اصحاب پیغمبر اکرم ؐ کو دیکھا جائے تو ان کی تعداد 29 بنتی ہے۔ وکی پیڈیا پر انصار امام حسین علیہ السلام جو صحابی رسول ؐ بھی تھے، ان کے ذیل میں ایک بہت اچھی اور مفصل تحقیق بعنوان "امام حسین کا ساتھ دینے والے صحابہ کی فہرست "درج ہے، جس میں ان اصحاب امام حسین ؑ کا تذکرہ موجود ہے، جن کو صحبت رسول ؐ کا بھی شرف حاصل ہوا۔ میری کوشش ہوگی کہ اس تحریر سے ایک خلاصہ، کتاب انصار الحسین الثورۃ الثوار میں درج ان اصحاب کے تذکروں نیز دیگر اہم کتب کے اندراجات کو احباب کے سامنے پیش کروں۔

الادھم بن امیہ العبدی:
صاحب کتاب انصار الحسین کے مطابق ابن سعد نے اپنے طبقات میں الادھم بصری کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ صحابی رسول ؐ تھے اور کربلا میں شہید ہوئے۔(تنقیح المقال: ج1، ص106)

اسلم بن کثیر الازدی (یا مسلم بن کثیر):
زیارت ناحیہ میں ان کا نام اسلم ذکر ہوا ہے جبکہ کتب رجال میں بجائے اسلم کے مسلم بن کثیر بیان ہوا ہے۔ زیارت ناحیہ کے جملے یوں ہیں: السلام علیٰ اسلم بن کثیر الازدی الاعرج۔۔۔ ( اقبال الاعمال، ج 3، ص 79) مسلم بن کثیر ازد قبیلہ کے فرد تھے، جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے ہجرت کی تو ان دنوں یہ صحابی رسولؐ کوفہ میں قیام پذیر تھے، یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو کوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں یہ شامل ہیں۔ پھر حضرت مسلم بن عقیل ؑ جب کوفہ میں سفیر حسینؑ بن کر پہنچے تو انھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی، لیکن حضرت مسلمؑ کی شہادت کے بعد کوفہ کو ترک کیا اور کربلا کے نزدیک حضرت امام حسین علیہ السلام سے جا ملے اور پہلے حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔ (شہدائے کربلا، گروہ مصنفین، ص358)

انس بن حرث کاہلی:
انس بن حرث کاہلی حضرت پیغمبر ؐ کے صحابی تھے، جنگ بدر و حنین میں شرکت بھی کی۔( تنقیح المقال، مامقانی، ج1، ص154) ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن الحرث ان عظیم اصحاب رسولؐ میں سے تھے، جنھیں حضرت پیغمبرؐ کی زیارت نصیب ہوئی۔ انھوں نے آپؐ سے حدیث بھی سنی تھی، عبد الرحمٰن سلمی نے انھیں اصحاب صفہ میں شمار کیا ہے۔ بلاذری لکھتے ہیں کہ حضرت انس کوفہ سے نکل پڑے، ایک مقام پر امام حسینؑ اور عبیداللہ بن حر جعفی کے درمیان میں ہونے والی گفتگو سنی، فوراً امام حسینؑ کی خدمت حاضر ہوئے اور قسم کھانے کے بعد عرض کی، کوفہ سے نکلتے وقت میری نیت یہ تھی کہ عبیداللہ بن حر کی طرح کسی کا ساتھ نہ دوں گا (نہ امامؑ کا، نہ دشمن کا) یعنی جنگ سے اجتناب کروں گا، لیکن خدواند نے میری مدد فرمائی کہ آپؑ کی مدد و نصرت کرنے کو میرے دل میں ڈال دیا اور مجھے جرأت نصیب فرمائی، تاکہ اس حق کے راستے میں آپؑ کا ساتھ دوں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں ہدایت اور سلامتی ایمان کی نوید سنائی اور انہیں اپنے ساتھ لے لیا۔(انساب الاشراف، بلاذری، ج3، ص175 (دارالتعارف))

بکر بن حی تیمی:
علامہ سماوی نے اپنی کتاب ابصارالعین میں حدایق الوردیہ سے نقل کیا ہے کہ بکر بن حی تیمی کوفہ سے عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہوکر کربلا پہنچے، لیکن جب جنگ شروع ہونے لگی تو حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عمر بن سعد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پہلے حملے میں شہید ہوگئے۔ منتہی الآمال میں ان کا ذکر ان شہداء میں موجود ہے، جو حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے۔ کتاب انصار الحسین الثورۃ و الثوار میں ان کا تذکرہ شہدائے کربلا میں نہیں کیا گیا ہے۔

جابر بن عروہ غفاری:
کتاب شہدائے کربلا میں بیان ہوا ہے کہ متاخرین کے نزدیک جابر بن عروہ غفاری صحابی رسول خداؐ تھے، جو کربلا میں شہید ہوئے۔ جنگ بدر اور دیگر غزوات میں رسول اکرمؐ کے ہمراہ شریک ہوئے۔ یہ بوڑھے صحابی روز عاشورا رومال باندھ کر اپنے ابرؤوں کو آنکھوں سے ہٹاتے ہیں اور عازم میدان جنگ ہوتے ہیں۔ جب امام علیہ السلام کی نظر پڑی تو فرمایا: اے بزرگ! خدا تجھے اجر دے۔(الاصابہ فی تمیز الصحابہ، ج1، ص118) بعض کتب جیسے تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف اور وسیلۃ الدارین میں صحابی رسولؐ اور شہید کربلا کے عنوان سے بیان ہوا ہے، البتہ دیگر معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود نہیں۔ اس وجہ سے بعض محققین ان کے بارے میں تردد رکھتے ہیں۔ کتاب انصار الحسین الثورۃ و الثوار میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔

جنادۃ بن کعب الانصاری:
جنادہ بن کعب انصاری وہ صحابی رسولؐ ہیں، جو حضرت امام حسینؑ کی نصرت کے لیے کربلا میں اپنی صحابیہ زوجہ اور فرزند کے ساتھ شریک ہوئے۔ خود کو اپنے بیٹے سمیت نواسۂ رسولؐ کے قدموں پر قربان کر دیا۔ علامہ رسولی محلاتی نقل کرتے ہیں کہ جنادہ صحابی رسول خداؐ اور حضرت علی علیہ السلام کے مخلص شیعہ تھے، جنگ صفین میں حضرت علی ؑ کے ساتھ شریک ہوئے۔(زندگانی امام حسینؑ، رسول محلاتی، ص252) کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل کے لیے بیعت لینے والوں میں شامل تھے، حالات خراب ہونے کی وجہ سے کوفہ کو ترک کیا اور امام حسینؑ سے جا ملے۔

جندب بن حجیر الخولانی الکوفی:
جندب بن حجیر کندی خولانی یا جندب بن حجر پیغمبر اکرمؐ کے عظیم صحابی اور اہل کوفہ میں سے تھے۔ یہ ان افراد میں سے ہیں، جنھیں حضرت عثمان نے کوفہ سے شام بھیجا تھا۔ جنگ صفین میں بھی شرکت کی اور حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے قبیلہ کندہ اور ازد کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے اور واقعہ کربلا میں امام حسینؑ کے ہمرکاب جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص136) جندب کوفہ کے نامدار اور معروف شیعہ افراد سے تعلق رکھتے تھے۔ کوفہ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکل پڑے۔ عراق میں حر کا لشکر پہنچنے سے قبل حضرت امام حسینؑ سے مقام حاجر میں ملاقات کی اور امام ؑ کے ہمراہ وارد کربلا ہوئے۔ جب روز عاشور (عمر سعد کی طرف سے) جنگ شروع ہوئی، تو یہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے پہلے حملہ میں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔ (شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص136)

حبیب بن مظاہر الاسدی:
حبیب بن مظاہر اسدی، بنی اسد کے معروف فرد، حضرت رسول اکرمؐ کے صحابی اور امام علی، امام حسن و امام حسین علیہم السلام کے وفادار ساتھی تھے۔ (رجال، شیخ طوسی ؒ، ص38، 68) حضرت حبیب بن مظاہر کا شمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے۔ روایت میں ہے کہ حبیب ایک مرتبہ امام حسینؑ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ حضرات قبل از خلقت آدمؑ کس صورت میں تھے۔؟ حضرت امام حسینؑ نے فرمایا: ہم نور کی مانند تھے اور عرش الہیٰ کے گرد طواف کر رہے تھے اور فرشتوں کو تسبیح و تحمید و تہلیل سکھاتے تھے۔ (بحارالانوار، مجلسی، ج 40، ص311۔(تسبیح یعنی سبحان اللہ'تحمید یعنی الحمد للہ، اورتہلیل یعنی لاالہ الا اللہ کہنا)) کربلا پہنچنے کے بعد جب عمر سعد کے لشکر میں اضافہ ہوتا دیکھا تو امام ؑ سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ بنی اسد کے پاس گئے اور مفصل خطاب کے بعد انھیں امام حسینؑ کی مدد و نصرت کے لیے درخواست کی۔

شہادت کی موت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ جب شب عاشور اپنے ساتھی یزید بن حصین سے مزاح کرتے ہیں تو یزید بن حصین نے کہا کہ یہ کیسا وقت ہے مزاح کا؟ جبکہ ہم دشمن کے محاصرے میں ہیں اور ہم موت کے منہ میں جانے والے ہیں تو حبیب نے کہا، اے دوست اس سے بہتر کون سا خوشی کا وقت ہوگا جبکہ ہم بہت جلد اپنے دشمن کے ہاتھوں شہید ہو کر بہشت میں پہنچنے والے ہیں۔(اخیارالرجال، الکشی، ص79) ایک روایت کے مطابق شب عاشور جب ہلال بن نافع نے حبیب بن مظاہر کو بتایا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا پریشان ہیں کہ میرے بھائی حسینؑ کے صحابی کہیں بے وفائی نہ کر جائیں تو آپ تمام اصحاب کو جمع کرکے در خیمہ پر لائے اور حضرت زینب ؑ کی خدمت میں صمیم دل سے اظہار وفاداری کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا دوبارہ عہد کیا، تاکہ حضرت زینبؑ کی یہ پریشانی ختم ہوسکے۔ (الدّمعۃ الساکبہ، ج4، ص274)

زاہر بن عمرو الاسلمی:
ذبیح اللہ محلاتی وسیلۃ الدارین کی عبارت نقل کرتے ہیں: قال العسقلانی فیالاصابہ فی تمیز الصحابہ: ھو زاہر بن عمرو بن الاسود بن حجاج بن قیس الاسدی الکندی من اصحاب الشجرۃ وسکن الکوفہ وروی عن النبیؐ وشہدالحدیبیہ وخیبر۔۔۔۔(فرسان الہیجاء ص138 از وسیلۃ الدارین، ص137۔)۔۔۔ زاہر درحقیقت زاہر بن عمرو۔۔۔ الکندی ہیں، جو اصحاب شجرہ میں سے تھے۔ کوفہ میں مقیم تھے اور حضرت رسول خداؐ سے روایت بھی نقل کی ہے۔ حدیبیہ اور خیبر میں شریک تھے۔ زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں سلام ان الفاظ میں ذکر ہوا: السلام علی زاہر مولیٰ عمرو بن حمق۔

زیاد بن عریب ابو عمرو:
ابو عمرو زیاد بن عریب نے حضرت پیغمبرؐ کے محضر مبارک کو درک کیا۔ ان کے والد بزرگوار بھی صحابی رسول تھے ابو عمرو شجاع، عابد و زاھد اور شب زندہ دار شخص تھے۔ زیادہ نماز گزار تھے، زہد و تقویٰ کی وجہ سے عزت دینی نے آرام سے نہ بیٹھنے دیا۔ لہذا واقعہ کربلا میں اپنا کردار ادا کرنے کی غرض سے حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچے اور دشمن کے خلاف جہاد و مبارزہ کرنے کے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ (ابصارالعین، سماوی، ص134، عنصر شجاعت، ج2، ص94)

سعد بن الحرث الخزاعی مولی امیر المومنینؑ:
سعد بن حرث خزاعی (غلام امام علی) کے نام سے معروف ہیں۔ قدیم منابع میں ان کا نام شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر نہیں، لیکن بعض متاخرین نے شہید کربلا کے عنوان سے ان کے حالات زندگی قلمبند کیے ہیں۔ سعد بن حرث خزاعی نے محضر پیغمبر اکرمؐ کو درک کیا۔ اس لحاظ سے صحابی رسولؐ ہیں۔ پھر امیرالمؤمنینؑ کے ہمراہ رہے، حضرت نے انھیں کچھ عرصہ کے لیے سپاہ کوفہ کی ریاست سونپی تھی، نیز کچھ مدت کے لیے انھیں آذربائیجان کا گورنر بھی منصوب کیا۔ صاحب فرسان نے حدایق الوردیہ، ابصارالعین، تنقیح المقال اور الاصابہ جیسی معتبر کتب سے ان کے حالات نقل کیے ہیں۔

شبیب بن عبداللہ مولیٰ الحرث:
حضرت رسول اکرمؐ کے صحابی اور کوفہ کی معروف و مشہور شخصیت اور بڑے بافضیلت انسان تھے، جہاں بھی ظلم و ستم دیکھا، اس کے خاتمہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل و صفین و نہروان میں بھی شرکت کی اور حضرت علیؑ کے وفادار یار و مددگار رہے۔ مختلف معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود ہے، جیسے رجال طوسی، استرآبادی، تنقیح، مقتل ابی مخنف، تاریخ طبری وغیرہ۔ تنقیح میں ان کا ترجمہ اس طرح درج ہے: شبیب بن عبداللہ مولی الحرث صحابی شہیدالطف، فوق الوثاقہ شبیب سیف بن حارث اور مالک بن عبداللہ کے ہمراہ کربلا پہنچے اور اپنے مولا اما م حسینؑ کی اطاعت میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

شوذب بن عبداللہ الہمدانی الشاکری:
جناب شوذب صحابی رسول اور حضرت علیؑ کے باوفا ساتھی تھے۔مرحوم زنجانی نے علامہ مامقانی سے ان کا ترجمہ نقل کیا ہے: ذکر العلامہ مامقانی فی رجالا شوذب بن عبد اللہ الہمدانی الشاکری ان بعض من لایحصل لہ ترجمہ تخیل انّہ شوذب مولی عابس والحال ان مقامہ اجل من عابس من حیث العلم والتقویٰ وکان شوذب صحابیاً واشترک مع امیر المومنینؑ۔۔۔( وسیلۃ الدارین، ص154) شوذب علم و تقویٰ کے اعتبار سے بلند پایہ شخصیت تھے۔ کوفہ کی معروف علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے اہل کوفہ کے لیے حضرت امیرالمومنین ؑ کی احادیث نقل کرتے تھے۔ امام علیؑ کے ساتھ تینوں جنگوں میں شریک رہے۔ جب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ میں پہنچے تو ان کی بیعت کرنے کے بعد حضرت امام حسینؑ تک اہل کوفہ کے مزید خطوط پہنچانے میں عابس شاکری کے ہمراہ رہے۔

نہایت مخلص اور عابد و زاھد انسان تھے۔ بڑھاپے کے عالم میں بھی ظلم کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ کوفہ میں حضرت مسلم کی شہادت کے بعد عابس شاکری کے ہمراہ حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں کربلا پہنچتے ہیں۔ جب حنظلہ بن سعد شبامی شہید ہوگئے تو عابس نے شوذب سے پوچھا کہ کیا خیال ہے۔؟ کہتے ہیں تیرے ہمراہ فرزند رسول خداؐ کی نصرت کے لیے جنگ کرنا چاہتا ہوں، تاکہ شہادت کا مقام حاصل کرسکوں۔ عابس نے کہا اگر یہ ارادہ ہے تو امام ؑ کے پاس جا کر اجازت طلب کرو۔ حضرت امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر اجازت جہاد حاصل کی اور وارد جنگ ہوئے۔ چند دشمنوں کو واصل جہنم کیا، آخر میں شہید ہوگئے۔ زیارت رجبیہ اور زیارت ناحیہ میں ان پر سلام بھیجا گیا ہے: السلام علی شوذب مولی شاکر۔

عبد الرحمٰن الارحبی:
عبد الرحمن ارحبی حضرت رسول اکرمؐ کے صحابی تھے۔ تمام معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود ہے۔ جیسے رجال شیخ طوسی، رجال استرآبادی، مامقانی، نیز الاستیعاب، الاصابہ فی تمیز الصحابہ اور وسیلۃ الدارین نے بھی نقل کیا ہے۔ تاریخ طبری اور الفتوح میں ان کے بعض واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ عبد الرحمن امام حسین ؑ کو کوفہ کی جانب آنے کی دعوت دینے مکہ گئے۔ آپ کا کربلا میں پڑھا جانے والا رجز "انی لمن ینکرنی ابن الکدن انی علی دین حسین وحسن (انساب الاشراف، ج 3، ص196) زیارت ناحیہ میں ان الفاظ میں سلام پیش کیا گیا ہے: "السلام علی عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن کدرالارحبی۔

عبد الرحمٰن بن عبدربہ الخزرجی
العسقلانی یوں رقمطراز ہیں: "عبد الرحمٰن بن عبدرب الانصاری ذکرہ ابن عقدہ فی کتاب المولاۃفی من روی حدیث: من کنت مولاہ فعلیٌّّ مولاہ وساق من طریق الاصبغ بن نباتہ قال لما نشدعلیٌّ الناس فی الرحبہ من سمع النبی ؐ یقول یوم غدیر خم ماقال الاقام، ولایقوم الامن سمع، فقام بضعۃ عشر رجلاً منہم: ابو ایوب، ابو زینب و عبد الرحمٰن بن عبد رب فقالوا نشہد انا سمعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول ان اللہ ولی وانا ولی المومنین؛ فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ(الاصابہ فی تمیز الصحابہ، ج2، ص328) اس عظیم محقق کی عبارت کے مطابق دس سے زیادہ افراد کھڑے ہوئے اور گواہی دی کہ ہم نے سنا تھا کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: بے شک اللہ ولی ہے، میں بھی مومنین کا ولی ہوں، پس جس کا میں مولا ہوں، اس کا علیٰ ؑ مولا ہے۔ ابصارالعین نے بھی بیان کیا ہے: کان ھذا صحابیاً و علمہ امیر المومنین القرآن ورباہ وہواحدرواۃ حدیث من کنت مولاہ۔۔۔حین طلب علیہ السلام۔۔۔

عبد اللہ بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب:
عبداللہ بن ابوسفیان کے والد ابو سفیان بن حارث حضرت رسول اکرمؐ کے چچا زاد اور رضاعی بھائی اور حضرت علی کے بہنوئی تھے۔ عبد اللہ کی والدہ جمانہ بنت ابی طالب یا فغمہ بنت ہمام تھیں۔ عبد اللہ صحابی رسولؐ ؐ، عظیم شاعر بھی تھے اور انھوں نے پیغمبرؐ سے روایت بھی نقل کی ہے۔ اپنے بعض اشعار میں حضرت علیؑ کی مدح و ثناء بھی بیان کی ہے۔ حضرت رسول اکرمؐ کی وفات کے بعد امام علیؑ کے ساتھ رہے۔ انھیں کے ہمرکاب مختلف جنگوں میں شرکت کی۔ ایک مرتبہ جب حضرت عبد اللہ کو علم ہوا کہ عمرو عاص نے بنی ہاشم پر طعن و تشنیع اور عیب جوئی کی ہے تو عمرو بن عاص پر سخت غصہ ہوئے اور اسے مورد عتاب قرار دیا۔ آخر تک اہل بیتؑ کے ہمراہ رہے۔ کربلا میں جب حضرت امام حسینؑ کا معلوم ہوا تو ان کی خدمت میں پہنچ کر اپنی وفاداری کا عملی ثبوت دیا۔ اس طرح عاشور کے دن رسول خداؐ کے نواسہ کی حمایت کرتے ہوئے یزیدی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ (شہدائے کربلا، ص229)

عبد اللہ بن یقطر:
عبد اللہ بن یقطر صحابی رسول تھے۔ ان کا تذکرہ تسمیہ الفضیل اور انصار الحسین میں درج ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امام حسین ؑ کے رضاعی بھائی تھے۔ تاہم انصار الحسین کے مطابق امام حسین ؑ کا جناب سیدہ کے علاوہ کسی سے رضاعت کا ہونا ثابت نہیں ہے۔

عقبہ بن صلت:
عقبہ بن صلت جہنی صحابی رسول تھے۔ انصار الحسین کے مطابق ان سے رسول اکرم ؐ کی روایت موجود ہے، جو ان کی صحبت رسول ؐ کو ثابت کرتی ہے۔ (تنقیح المقال: ج2، ص254)

عمار بن ابی سلامہ الدالانی:
انصار الحسین کے مطابق ابن حجر نے ان کو صحابی امیر المومنین اور صحابی رسول قرار دیا ہے اور یہ کربلا میں شہید ہوئے۔ ( الإصابة فی تمییز الصحابة: ج3، ص111)

عمرو بن ضبیعۃ:
مختلف منابع رجال و مقاتل میں ذکر ہوا ہے کہ عمرو بن ضبیعہ ضعبی صحابی پیغمبرؐ تھے اور کربلا میں حضرت امام حسینؑ کے ہمرکاب شہادت پائی۔ کتاب فرسان الہیجاء میں الاصابہ فی تمیز الصحابہ سے نقل کیا گیا ہے کہ: ھو عمرو بن ضیبعۃ بن قیس بن ثعلبہ الضبعی التمیمی لہ ذکر فی المغازی۔۔۔ جناب مامقانی نے بھی انھیں صحابی ادراکی نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ تجربہ کار اور ماہر جنگجو شخص تھا۔ کئی ایک جنگوں میں شرکت کی نیز شجاعت میں شہرت رکھتا تھا۔ (تنقیح المقال، ج2، ص332)

عون بن جعفر طیار:
عون بن جعفر طیار کی کنیت ابو القاسم ہے، حضرت جعفر ابن ابی طالب کے بیٹے ہیں۔ اگرچہ سنہ ولادت واضح بیان نہیں ہوا، لیکن چونکہ واقعہ کربلا میں 54 یا 57 سال کے تھے، لہذا امکان ہے کہ 4 ھ یا 7 ھ کو حبشہ میں ولادت ہوئی ہوگی۔ حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد ہمیشہ امام حسن و حسین علیہما السلام کے ساتھ رہے۔ حضرت عون اپنی زوجہ محترمہ (ام کلثوم) دختر امام علی ؑ کے ہمراہ اپنے مولا کے ساتھ اس جہاد میں شریک رہے اور روز عاشور حضرت علی اکبرؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام ؑکی اجازت سے وارد میدان ہوئے، 30 سوار اور 18 پیادے واصل جہنم کیے، لیکن زید رقاد جہنمی نے آپ کے گھوڑے کو زخمی کر دیا، جس کی وجہ سے آپ گھوڑے پر نہ سنبھل سکے، پھر اس ملعون نے تلوار کا وار کرکے شہید کر دیا۔ ان کے رجز کو تاریخ نے یوں نقل کیا ہے:
ان تنکرونی فانا بن جعفر شہید صدق فی الجنان ازہر
یطیر فیہا بجناح اخضر کفی بہذٰا شرفاً فی المحشر 
اگر تم میرا انکار کرتے ہو تو جان لو کہ میں جعفر کا بیٹا ہوں، جو سچا شہید اور جنت میں اپنے سبز پروں سے پرواز کرتا ہے اور میرے لیے روز محشر یہی شرف کافی ہے۔(مقتل الحسینؑ، خوارزمی، ج 2، ص 31)

کنانہ بن عتیق:
جناب کنانہ اور ان کا باپ عتیق حضرت رسول اکرمؐ کے ہمرکاب جنگ احد میں شریک ہوئے۔ (تنقیح المقال، ج2، ص42) وسیلۃ الدارین نے کنانہ کے ترجمہ کو رجال ابو علی سے یوں نقل کیا ہے: "جناب کنانہ بھی ان اصحاب رسول خداؐ میں سے ہیں، جو حضرت امام حسین علیہ السلام کی مدد و نصرت کے لیے کربلا تشریف لائے اور اپنی جانوں کو نواسہ رسولؐ کے قدموں میں نچھاور کیا۔" (وسیلۃ الدارین، ص184) زیارت رجبیہ اور ناحیہ میں ان پر سلام پیش کیا گیا ہے: السلام علی کنانۃ بن عتیق۔

مجمّع بن زیاد جہنّی:
تنقیح المقال نے الاصابہ فی تمیز الصحابہ اور الاستعیاب سے نقل کیا ہے کہ: یہ صحابی رسولؐ تھے، بدر و احد میں شریک بھی رہے۔ مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم کی بیعت کی، سب لوگ حضرت مسلم کو چھوڑ گئے، لیکن حضرت مجمع ان افراد میں سے تھے، جو ڈٹے رہے اور کوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کیوجہ سے کربلا میں حضرت امام حسینؑ سے ملحق ہوکر یزیدی ارادوں کو خاک میں ملانے کی خاطر حضرت امام حسینؑ کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ اپنی جان قربان کر دی۔ دشمن کربلا میں اس مجاہد کو آسانی سے شکست نہ دے سکا تو ان کا محاصرہ کر لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہید ہو جاتے ہیں۔

مجمع بن عائذ العائذی:
محمد علی الحلو کی تحقیق انصار الحسین کے مطابق مجمع بن عائذ صحابی تھے اور ان کے فرزند مجمع تابعی تھے۔ (إبصار العین للسماوی: ص112)

مسلم بن عوسجہ:
مسلم بن عوسجہ اسدی کا ذکر شیعہ و سنی کے تمام معتبر ترین منابع جیسے الاستعیاب، الاصابہ فی تمیز الصحابہ، طبقات بن سعد، تنقیح، تاریخ طبری وغیرہ میں موجود ہے کہ یہ صحابی رسول خداؐ تھے اور صدر اسلام کے بزرگ اعراب میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائے اسلام کی بہت سی جنگوں میں شریک رہے۔ غزوہ آذربائیجان اور جنگ جمل و صفین و نہروان میں بھی شرکت کی۔ حضرت علیؑ کے باوفا یار و مددگار تھے۔ حضرت مسلم و جناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد مخفی طور پر رات کے وقت اپنی صحابیہ زوجہ کو ساتھ لے کر حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچے۔ سات یا آٹھ محرم کو مسلم کوفہ سے کربلا پہنچ گئے اور سپاہ یزید کے خلاف ہر مقام پر پیش پیش رہے۔ جب امام ؑ نے حکم دیا کہ خیمہ کے اطراف میں آگ روشن کی جائے تو شمر ملعون نے آکر توہین آمیز جملات کہے، جس پر مسلم بن عوسجہ نے حضرت امام حسینؑ سے عرض کی کہ اگر اجازت دیں تو اسے ایک تیر سے ڈھیر کر دوں، لیکن حضرتؑ نے فرمایا نہیں، کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ ہماری طرف سے جنگ کا آغاز ہو۔

شب عاشور جس وقت امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کو چلے جانے کی اجازت دی تو جہاں بعض دیگر اصحاب امام ؑ نے اپنی وفاداری کا یقین دلایا، وہاں حضرت مسلم بن عوسجہ نے جو تاثرات بیان کیے، وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں عرض کی: خدا کی قسم! ہرگز نہیں چھوڑ کے جاؤں گا، یہاں تک کہ اپنے نیزہ کو دشمن کے سینہ میں توڑ نہ دوں، خدا کی قسم اگر ستر بار مجھے قتل کر دیا جائے، پھر جلا کر راکھ کر دیا جائے اور ذرہ ذرہ ہو جاؤں، پھر اگر زندہ کیا جاؤں تو بھی آپؑ سے جدا نہیں ہوں گا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ ہر بار آپؑ پر اپنی جان قربان کروں گا، اس لیے کہ جان تو ایک ہی جائے گی، لیکن عزت ابدی مل جائے گی۔ (تاریخ الطبری، ج5، ص419)

نعیم بن عجلان:
ایک روایت کے مطابق نعیم اور ان کے دو بھائیوں نضر و نعمان نے حضرت رسول اکرمؐ کو درک کیا۔ اس طرح یہ صحابی ادرکی ہیں۔ خزرج قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت رسول اللہ ؐ کی وفات کے بعد امام علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ صفین میں حضرت کا ساتھ دیا۔ حضرت علیؑ نے ان کے بھائی نعمان کو بحرین کے علاقے کا والی بنایا۔( تنقیح المقال، ج 3، ص 274) نعیم کے دونوں بھائی حضرت امام حسن ؑ کے زمانہ میں انتقال کرگئے جبکہ نعیم کوفہ میں زندگی بسر کر رہے تھے کہ مطلع ہوئے کہ حضرت امام حسینؑ عراق میں وارد ہوچکے ہیں۔ کوفہ کو ترک کرتے ہیں اور حضرت امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر غیرت دینی کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں اور نواسۂ رسولؐ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے سپاہ یزید کے خلاف جنگ میں اپنے خون کا آخری قطرہ بھی قربان کر دیتے ہیں۔ زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں ان پر سلام ذکر ہوا ہے: السلام علی نعیم بن العجلان الانصاری۔

حارث بن نبہان:
حارث بن نبہان شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ آپ کے والد حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے۔ نبہان ایک بہادر شخص تھا، جن کا انتقال حضرت حمزہ کی شہادت کے دو سال بعد ہوا۔ اس لحاظ سے حارث نے حضرت رسول اللہ کو درک کیا ہے۔ حارث بن نبہان نے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسن کا ساتھ دیا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں آئے اور عاشورا کے دن پہلے حملے میں شہید ہوئے۔

جون بن حوی (غلام ابو ذر غفاری)
صاحب کتاب انصار حسین تحریر کرتے ہیں کہ جون فضل بن عباس کے غلام تھے، امیر المومنین نے ان کو خرید کر ابو ذر کو ہدیہ کیا، یہ ان کے ہمراہ ربذہ گئے۔ احتمال یہی ہے ان کو بھی رسول اکرم ؐ کی صحبت نصیب ہوئی۔ (انصار الحسین: الثور ۃالثوار ص ۳۵۸)

حبشی بن قیس
کتاب انصار الحسین کے مطابق ان کا تذکرہ بھی رسول اکرم ؐ سے مشرف ہونے والوں میں کیا گیا ہے۔

قرة بن أبی قرّة الغفاری
محمد علی الحلو کی تحقیق کے مطابق الاصابہ فی تمیز الصحابہ کے مصنف نے قرۃ کو ان افراد میں رکھا ہے، جنھوں نے رسول اکرم ؐ کو دیکھا اور ان کو سنا۔(الإصابة فی تمییز الصحابة: ج3، ص334)

یزید بن مغفل الجفعمی
محمد علی الحلو کی تحقیق کے مطابق ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب الاصابہ فی تمیز الصحابہ میں یزید بن مغفل کا اصحاب رسول ؐ میں تذکرہ کیا ہے۔(الإصابة فی تمییز الصحابة: ج3، ص677)
خبر کا کوڈ : 1147156
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش