1
0
Sunday 10 Nov 2013 21:55

لاہور کی تاریخی عزاداری (حصہ دوئم)

لاہور کی تاریخی عزاداری (حصہ دوئم)
تحریر: سید صفدر ہمدانی
ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر

علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم کو دراصل پہلی بار نواب قزلباشوں نے ہی مجلس خوانی کے لئے لاہور مدعو کیا تھا اور یہ بات سن اٹھارہ سو کے درمیانی عشروں کی ہے۔ پھر اسی زمانے میں وسن پورہ میں جو ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا، علامہ حائری کے والد ابوالقاسم نے وسن پورہ کی زمین خریدی تھی اور یہیں پر اہل تشیع کی لاہور میں باقاعدہ پہلی جامع مسجد علامہ حائری کا قیام عمل میں آیا اور علامہ قاسم نے مختصر پیمانے پر ایک مدرسہ اور کتب خانہ بھی قائم کیا اور اسی مسجد میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا جہاں نو محرم کو ذوالجناح کا جلوس نکلنا شروع ہوا اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔ شمس العلماء مولانا ابوالقاسم کی وفات 1906ء میں ہوئی جس کے بعد یہ سب انتظام انکے بیٹے علامہ سید علی الحائری نے سنبھالا اور انکی وفات کے بعد علم کا یہ در اس خاندان میں بند ہو گیا لیکن علامہ حائری کے بیٹوں نے مسجد میں نماز اور عزاداری کا سلسلہ قائم رکھا۔

علامہ حائری کے بیٹوں میں آغا سید رضی، آغا سید ذکی اور آغا سید تقی سب وفات پا چکے ہیں اور اب یہ خاندان لگ بھگ سارے کا سارا وسن پورہ چھوڑ کر لاہور کی جدید آبادیوں میں مقیم ہو چکا ہے۔ علامہ سید علی الحائری کی تین بیٹیاں تھیں جن میں محترمہ سائرہ جن کے شوہر آغا سید رضی تھے جو کالا شاہ کاکو کے حادثے میں فوت ہوئے تھے۔ محترمہ ذکیہ جن کے شوہر آغا سید حامد حسین تھے انہوں نے ستر کے عشرے میں لاہور گلبرگ میں مجالس کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ علامہ حائری کی سب سے چھوٹی بیٹی عالیہ تھیں جنکے شوہر سید تقی تھے جنہیں ہم سب آغا بابا کہتے تھے۔ صفدر ہمدانی کہتے ہیں کہ یہاں ایک اور تاریخی حقیقت کی طرف صرف اشارہ کرتا چلوں جو مجھے میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی نے بتائی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے لاہور کی عزاداری کی تاریخ کے موضوع پر بنائی جانے والی ریڈیو لاہور کے اس واحد دستاویزی پروگرام میں کیا تھا جو شاید اب ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں بھی موجود نہ ہو حالانکہ اس پروگرام کو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سنٹرل پروڈکشن کے آرکائیو رجسٹر میں درج کیا تھا۔

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ لاہور کے دس محرم کے تاریخی جلوس کا جو راستہ ہم گذشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں دراصل یہ وہ (روٹ) راستہ نہیں ہے جو ابتداء میں تھا۔ 1850ء کے عشرے میں موچی دروازے سے دس محرم کے ذوالجناح کا پہلا جلوس مبارک حویلی سے نکلا تھا کیونکہ اسوقت نثارحویلی الگ نہیں تھی۔ یہ تو بعد میں 1928ء میں خاندانی تنازعوں اور جائیداد کی تقسیم کی وجہ سے عمل میں آئی اور یہ جلوس نثار حویلی سے نکلنے لگا۔ بر سبیل تذکرہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے عرض ہے کہ کوہ نور ہیرا ایک زمانے میں اس مبارک حویلی میں بھی رکھا گیا تھا۔ مرحوم شاہد نقوی نے بھی اپنی تحقیقی کتاب‘‘عزاداری‘‘ میں اس تاریخی جلوس کا جو راستہ لکھا ہوا ہے وہ بھی موجودہ راستہ ہے۔ ابتدا میں دس محرم کی نصف شب میں نثار حویلی سے برآمد ہو کر نماز فجر تک محلہ شیعاں میں پہنچتا، جہاں فجر کی نماز ادا کی جاتی اور پھر یہاں سے لال کھوہ سے ہوتا ہوا جلوس کیلیاں والی سڑک پر نکل جاتا جسے آج کل براندرتھ روڈ کہا جاتا ہے۔

اس کیلیاں والی سڑک سے جلوس سیدھا انار کلی کے باہر سے ہوتا ہوا بھاٹی دروازے پہنچتا تھا جہاں سے داتا دربار کے عقب میں کربلائے گامے شاہ میں اسی جگہ اختتام پذیر ہوتا تھا جہاں آج تک ہوتا ہے۔ اس طرح اس بڑے اور کشادہ راستے پر اس تاریخی عظیم الشان جلوس کی شان ہی کچھ اور ہوتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ 1958ء میں جب وہ اسوقت کے مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے تو حکومت کے ارباب بست و کشاد نے انہیں اس راستے کو تبدیل کرنے کو کہا۔ سیاست اور سیاست دانوں کی اپنی دنیا اور اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ نواب مظفر علی خان قزلباش نے اپنی چیف منسٹری کے زمانے میں اس راستے کو تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور آج یہ تاریخی جلوس اندر ہی اندر تنگ و تاریک گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا کربلائے گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور باہر دنیا کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا بڑا اور کیسا تاریخی جلوس ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد خاندان نواباں کے نواب مظفر علی خان واحد آدمی تھے جو سیاست میں آنے کے باعث معروف ہوئے اور انکے بعد انکی بیٹی افسر رضا قزلباش، نواب مظفر علی سیاستدان کے طور پر پہلے یونینسٹ، پھر مسلم لیگی اور پھر رپبلکن پارٹی میں رہے اور اسی پارٹی کے جھنڈے تلے 1957ء میں وزیراعظم اسماعیل چندریگر کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔ اسی سن میں وزیراعظم فیروز خان نون کی حکومت میں صنعت، تجارت اور پارلیمانی امور کے وزیر رہے اور اٹھارہ مارچ 1958ء میں مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے اور سکندر مرزا کے مارشل لاء تک اس عہدے پر تھے۔ پھر ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل یحییٰ کے مارشل لاء میں نواب مظفر علی خان 4اگست 1969ء سے 22 فروری 1971ء تک وزیر خزانہ رہے۔
خبر کا کوڈ : 318925
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

السلام علیکم بہت اچھی کاوش ہے لیکن اگر اس میں کتابوں کا حوالہ دیا جاتا تو بہتر تھا
منتخب