0
Tuesday 25 Nov 2014 12:57

نیوکلیئر ایشو، ایران کی ایک اور کامیابی

نیوکلیئر ایشو، ایران کی ایک اور کامیابی
تحریر: عرفان علی

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ ایران کے ساتھ ای تھری/ای یو تھری پلس تھری (E3/EU3+3) کے عارضی مشترکہ منصوبہ عمل میں یکم جولائی 2015ء تک مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یعنی اب زیادہ سے زیادہ 30 جون تک مزید مذاکرات ہوسکتے ہیں، تاکہ مستقل معاہدہ طے پاجائے۔ اس معاہدہ کے فریق ای تھری پلس تھری کے لئے عالمی ذرائع ابلاغ میں پانچ جمع ایک (5+1) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ای تھری/ای یو تھری پلس تھری (E3/EU3+3) میں ای تھری یا ای یو تھری کا مطلب یورپی یونین کے تین ممالک اور پلس تھری یعنی جمع تین سے مراد امریکا، روس اور چین ہیں۔ یہ اصطلاح جرمنی کے وزیر خارجہ نے وضع کی کیونکہ اس گروپ کے لئے دوسری اصطلاح یعنی پانچ جمع ایک میں جرمنی کی حیثیت ثانوی نظر آتی تھی کیونکہ پاورز (یا گروپ) پانچ جمع ایک کا مطلب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاورز کے حامل پانچ ممالک امریکا، روس، برطانیہ، فرانس اور چین تھے اور جمع ایک سے مراد جرمنی ہے۔
 
ان ممالک نے نومبر 2013ء میں صدر روحانی کی حکومت کے دور میں سوئٹزر لینڈ کے عالمی شہرت یافتہ شہر جنیوا میں تین مرحلوں میں طویل گفت و شنید کے بعد ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ جنیوا راؤنڈ تین میں چار روز و شب کے تھکا دینے والے مذاکرات کے بعد بالآخر پانچویں روز یہ عبوری معاہدہ طے پایا تھا۔ چار صفحات پر مشتمل اس عبوری معاہدے کو ایران کی کامیابی قرار دیا گیا تھا، اور اب مزید سات ماہ کی توسیع سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ پابندیوں اور دیگر سازشوں کے باوجود ایران کا اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی پالیسی کامیاب رہی ہے۔ ایران پر حملے کی دھمکی دینے والا امریکا اور معاہدہ کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کی باتیں کرنے والے بڑے ممالک مزید سات ماہ کی توسیع پر مجبور ہوئے، یعنی ایران کی ایک اور کامیابی۔
 
جس عبوری معاہدہ کی مدت میں مزید توسیع کی گئی ہے، اسے جوائنٹ ایکشن پلان (مشترکہ منصوبہ عمل) کا عنوان دیا گیا تھا۔ اسے چھ ماہ کے لئے نافذالعمل رکھ کر زیادہ سے زیادہ مزید چھ ماہ کی توسیع کی جاسکتی تھی اور درمیانی عرصے میں فریقین کو ایک جامع حل پر مبنی طویل المدت معاہدہ کرنا تھا۔ عبوری معاہدے میں فریقین نے رضاکارانہ طور پر کچھ کام کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔ آٹھ عنوانات کے تحت ایران اور نو عنوانات کے تحت ای تھری پلس تھری ممالک کو کچھ کام کرنے تھے جو کئے جا رہے تھے۔ ایران کو کیا کیا کرنا تھا یہ امریکی حکومت نے بڑے فخر سے تفصیلی طور پر نشر کر دیا تھا، لیکن ای تھری پلس تھری نے کیا کرنا تھا، اس کی تفصیلات کو تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا تھا۔ ایران نے اس عبوری معاہدے سے ایسی کون سی چیز حاصل کرلی تھی جسے رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ، صدر روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران کی کامیابی قرار دیا۔ پہلی مرتبہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے یورینیم کو پانچ فیصد تک افزودہ کرنے کے ایرانی حق کو عبوری مدت کے لئے ہی سہی لیکن تسلیم کیا تھا اور ایران سے تقاضا کیا کہ یورینیم کی جتنی مقدار اس نے بیس فیصد تک افزودہ کرلی ہے، اس کے نصف کو پانچ فیصد تک افزودگی میں تبدیل کرے۔
 
اس عبوری معاہدے کے فقط ایک گھنٹے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ ایران کے حق افزودگی کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایک دن بعد برطانوی وزیر خارجہ نے ٹوئٹر پر اسی نوعیت کا بیان جاری کیا۔ ان بیانات کو بنیاد بنا کر ایران میں صدر روحانی کی حکومت پر تنقید بھی کی گئی کہ یہ معاہدہ تو متنازعہ بیان کی وجہ سے ایک گھنٹے بھی نہیں چل پایا۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس معاہدے پر صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے ردعمل کے پیش نظر امریکی و برطانوی وزرائے خارجہ کو ایسے بیانات دینے پڑے، ورنہ آج ایک سال گذرنے کے باوجود ایران نے یورینیم کی افزودگی ترک نہیں کی۔ اب سعودی حکومت سمیت امریکی اسرائیلی اتحادی چھوٹی چھوٹی عرب بادشاہتیں بھی ایران کے پرامن نیوکلیئر پروگرام کے خلاف سرگرم ہیں، حالانکہ ایران کی یہ ٹیکنالوجی ان کے لئے بھی فائدہ مند ہوگی۔
 
اس عبوری معاہدے میں ای تھری پلس تھری نے یقین دلایا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین مزید پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔ ایران کے خام تیل کی فروخت کو مزید کم کرنے کی کوششیں روک دیں گے، جس سے خریدار موجودہ اوسط مقدار تک ایرانی تیل خرید سکیں گے۔ وہ رقوم جو اس مد میں دیگر ممالک میں روک دی گئی تھیں، اس کی ایران کو ادائیگی کر دی جائے گی۔ اس نوعیت کے سودوں اور انشورنس اور ٹرانسپورٹیشن پر امریکی اور یورپی یونین کی پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔ ایران کی پیٹرو کیمیکل برآمدات اور اس سے متعلق سروسز پر اور سونے اور دیگر دھاتوں کی فروخت پر عائد امریکی و یورپی یونین پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔ ایران کی آٹو انڈسٹری اور اس سے متعلق سروسز پر امریکی پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔ ایران کی سول ایوی ایشن کی پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے متعلقہ سروسز کے لئے فاضل پرزہ جات کی اجازت، فراہمی، تنصیب اور بعد ازاں معائنوں اور مرمت وغیرہ کے لئے سیفٹی لائسنس بھی جاری کر دیئے جائیں گے۔ 

اس عبوری معاہدے کے تحت ایسا مالیاتی چینل قائم کیا جانا تھا، جس سے انسانی بنیادوں پر ایران سے تجارت کی جاسکے گی۔ اس سے ایران کے فروخت شدہ تیل کی آمدنی کو ایران کی غذائی، زرعی، طبی شعبے کی داخلی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرنے دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو فنڈز اور دیگر ممالک کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ایرانی طلبہ و طالبات کی فیسوں کی ادائیگی کو بھی اسی مالیاتی چینل کے تحت یقینی بنانا۔ جن شعبوں میں ایران پر پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہیں، ان شعبوں میں مخصوص مالیت تک کے سودوں پر مبنی تجارت میں یورپی یونین کی جانب سے اضافہ۔
 
ملاحظہ فرمایئے کہ ایران پر غیر قانونی طور پر عائد کی گئی پابندیوں میں کمی سے ایران کو وقتی طور پر جو سہولیات دینے کی بات کی جا رہی تھی، وہ تو ویسے بھی ایران کا حق تھیں، لیکن ایران کی آزاد خارجہ پالیسی اور فلسطین کی مسلح مقاومت کی مدد اور اسرائیل کی نابودی کے موقف کی وجہ سے امریکا اور یورپی ممالک نے ایران کے خلاف نیوکلیئر محاذ کھولا اور بڑی کوششوں سے چین اور روس کو بھی ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو جو ملک خود ایٹم بم اور دیگر نیوکلیئر ہتھیار کا ذخیرہ کئے ہوئے ہیں اور امریکا نے تو اس کو استعمال بھی کیا ہے، ان ممالک کو یہ حق ہی نہیں کہ کسی بھی دوسرے ملک پر انگلی اٹھائیں۔ بہرحال ان پابندیوں کے ہٹنے سے ایران کے بعض اہم مسائل جو خود غیر قانونی طور پر ایجاد کئے گئے تھے، انہیں حل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
 
ایران کا پروگرام پہلے سے ہی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کی زیر نگرانی ہے۔ اس پر شکوک و شبہات ختم کرنے کے لئے آئی اے ای اے کو اسرائیلی یا امریکی ایجنسی بننے کے بجائے غیر جانبدار ادارہ ہونا چاہئے اور ایران دشمنوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ ایرانی حکومت یہ یاد رکھے کہ وقتی طور پر صرف پانچ فیصد تک یورینیم کی افزودگی پر ایران کی رضامندی، ایک جامع اور طویل المدت معاہدے کے لئے ای تھری پلس تھری کو دی گئی ایک وقتی رعایت ہونی چاہیئے۔ نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے آرٹیکل چار کے تحت ایران سویلین مقاصد کے لئے اس سے بھی زیادہ مقدار تک یورینیم افزودہ کرنے کا حق رکھتا ہے، ایران کی حکومت ہرگز اس حق سے دست بردار نہ ہو، بلکہ این پی ٹی کے تحت جو بھی حق ایران کو حاصل ہیں، ان سے دست برداری پر مبنی ہر شرط کو مسترد کر دیا جائے۔ 

امریکی صدر سمیت ایران کے مخالفین کہتے ہیں کہ پابندیوں کی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا، یہ سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عبوری معاہدہ کے بعد پچھلے سال اپنی گفتگو میں خو اعتراف کیا تھا کہ جب پابندیاں لگیں تب ایک سو چونسٹھ سینٹری فیوجز تھے اور آج ایران کے پاس انیس ہزار سینٹری فیوجز ہیں۔ امریکی صدر سمیت پوری دنیا دیکھ لے کہ پابندیوں کے باوجود محمود احمدی نژاد کی صدارت میں ایران کی حکومت نے یورینیم کو اس حد تک افزودہ کرکے دکھایا کہ جتنی حد تک بین الاقوامی قوانین اجازت دیتے ہیں۔ یعنی پابندیوں کو قدموں تلے روند کر ایرانی حکومت اور ملت نے ثابت قدمی سے خود انحصاری کو کامیابی کی کنجی ثابت کر دکھایا۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے عالمی سطح پر ایک ذمے دار ریاست کے طور پر بھی خود کو منوا لیا، کیونکہ اگر ایران چاہتا تو نیو کلیئر اسلحے کی تیاری میں کام آنے والی سطح تک بھی یورینیم کو افزودہ کرسکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ ثابت ہوا کہ ایران کا مقصد ایٹم بم کی تیاری نہیں تھا بلکہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر امن تھا اور ہے۔
خبر کا کوڈ : 421346
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب