0
Monday 1 Dec 2014 16:17

تکفیری سوچ، قدس شریف کی آزادی میں بڑی رکاوٹ

تکفیری سوچ، قدس شریف کی آزادی میں بڑی رکاوٹ
ترجمہ و ترتیب: زیڈ اے ہمدانی

ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے حال ہی میں انتہا پسندی اور تکفیریت کے خلاف عالمی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بعض اہم نکات بیان کئے تھے۔ تکفیریت اور عالمی استعماری قوتوں کی اسلام مخالف سازشوں کے بارے میں آپ کے بیانات کو عالم اسلام سے آگاہ اور اسلام کا درد رکھنے والے حقیقی عالم دین کے دل کی بات قرار دیا جاسکتا ہے، جن پر جس قدر غور کیا جائے کم ہے۔ لہذا اس تحریر میں ہم امام خامنہ ای کے خطاب میں بیان شدہ نکات کو مزید کھولنے کی کوشش کریں گے، تاکہ مسلمان مفکرین ان حکیمانہ نکات کی روشنی میں عالم اسلام کو درپیش اس عظیم فتنے اور مصیبت سے نجات کا راستہ تلاش کرسکیں۔ 
 
آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں تمام مسلمانان عالم پر زور دیا کہ وہ کسی قیمت پر مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول مسلمین کو اپنے ذہن سے دور نہ ہونے دیں، کیونکہ عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے اسلامی دنیا میں حالیہ تکفیری فتنہ پیدا کرنے کا ایک مقصد قدس شریف اور مسئلہ فلسطین سے مسلمانوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ اسی طرح انہوں نے تکفیری دہشت گرد گروہوں اور تکفیری سوچ کا ہمہ جہت مقابلہ کرنے پر بھی زور دیا تھا۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جب سے عالم اسلام میں تکفیریت کا فتنہ پھوٹا ہے، اسلامی دنیا کے تمام اہم ایشوز جنہیں پہلی ترجیح حاصل تھی سائیڈ پر چلے گئے ہیں۔ تکفیری فتنے کا سب سے زیادہ اثر اسلامی بیداری کی تحریک پر پڑا ہے۔ اگرچہ اس فتنے کے باعث اسلامی بیداری کی تحریک کچھ حد تک نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے لیکن وہ پورے زور و شور سے جاری ہے، جس کا واضح ثبوت یمن اور بحرین میں جاری سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔
 
اسلامی بیداری کی تحریک کو ایک گاڑی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے، جو ہوسکتا ہے کہ مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے اپنے اصلی راستے سے منحرف ہوچکی ہو، لیکن اس کا وجود باقی ہے اور تھوڑی محنت کے ذریعے اسے اپنے اصلی راستے پر واپس لوٹایا جاسکتا ہے۔ اسلامی بیداری کی تحریک بھی بہت سے نشیب و فراز سے گزری ہے، جن میں سے ایک تکفیریت کا فتنہ ہے۔ البتہ اس فتنے کو ختم کیا جاسکتا ہے اور اس کا ایک راستہ اسلامی دنیا کے علماء دین کی جانب سے بھرپور علمی تحریک کا آغاز ہے۔ انہیں اپنا یہ سنگین وظیفہ انجام دینا ہے اور مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ تکفیریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ دراصل عالمی استعماری قوتوں کے ہاتھ میں ایک ہتھکنڈہ ہے، جس کے ذریعے یہ قوتیں عالم اسلام میں پھوٹ ڈال کر اپنے شیطانی اور منحوس مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ 
 
تکفیری عناصر اپنے مفتیوں کی جانب سے پیش کردہ احمقانہ توجیہات کی بنا پر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا پہلے درجے کا دشمن اسرائیل نہیں بلکہ مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والے اپنے ہی مسلمان بھائی ہیں۔ تکفیری گروہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے اسرائیل کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے کی بعض توجیہات پیش کی ہیں، جن پر ایک نظر ڈالتے ہی ان کے بے اساس ہونے کا پول کھل جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ منافقین کے ساتھ جہاد کفار کے ساتھ جہاد پر مقدم ہے۔ منافقین سے اس کی مراد عالم اسلام میں مخالف فرقوں سے وابستہ مسلمان افراد ہیں جبکہ اسرائیل، امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں کا شمار کفار میں ہوتا ہے۔ لہذا اس کی نظر میں پہلے عالم اسلام کو اس کے بقول منافقین سے پاک کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد کفار کی باری آتی ہے۔ 
 
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے تکفیری دہشت گرد عناصر کا حقیقی منشاء ان قوتوں کو قرار دیا، جنہیں ان عناصر کی وجہ سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا:"تکفیری گروہ اور ان کی حامی حکومتیں مکمل طور پر عالمی استکبار اور صہیونی رژیم کے اہداف کے تحت عمل پیرا ہیں، ان کی تمام سرگرمیاں امریکہ، یورپی استعماری حکومتوں اور غاصب صہیونی رژیم کے اہداف کے ہمسو انجام پا رہی ہیں۔"  
 آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کا اشارہ خود مسلمانوں کے اندر موجود ایسے اندرونی دشمنوں کی جانب ہے، جنہوں نے عالم اسلام میں تکفیری دہشت گردی کا زمینہ فراہم کرکے مسئلہ فلسطین جیسے اہم اور بنیادی ایشو کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس طرح عارضی طور پر اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا: "دشمن قوتوں نے تکفیری دہشت گردی کو ایک تیار شدہ مسئلے کے طور پر اسلامی دنیا پر تحمیل کیا ہے، جس کی وجہ سے اسلامی ممالک اس کے ساتھ الجھنے پر مجبور ہوگئے ہیں، لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارا اصلی مسئلہ، مسئلہ فلسطین ہے، قدس شریف کا مسئلہ ہے۔"
لہذا ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے ایک بار پھر مسلمانوں کو یہ یاد دلایا ہے کہ عالم اسلام کا اصلی مسئلہ، قبلہ اول مسلمین اور قدس شریف کا مسئلہ ہے اور ہمیں کسی حال میں بھی اپنی توجہ اسرائیل جیسے سرطانی غدے سے نہیں ہٹانی چاہئے اور اس کی نابودی کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ 
 
راہ حل کیا ہے؟
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای تکفیری گروہوں کا مقابلہ کرنے اور امت مسلمہ کی اصلاح کیلئے بہترین راستہ علمی اور فکری جدوجہد کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے انتہا پسندی اور تکفیریت کے خلاف عالمی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تکفیریت سے مقابلے کیلئے تمام فرقوں سے وابستہ مسلمان علماء دین کی جانب سے ایک عظیم علمی تحریک کا آغاز ضروری ہے۔ یہ تحریک کسی خاص فرقے سے مخصوص نہیں ہونی چاہئے کیونکہ تکفیری بھی "سلف صالح کی پیروی" کے جھوٹے دعوے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں، لہذا سلف صالح کی جانب سے تکفیری دہشت گردوں کے غیر انسانی اقدامات سے بیزاری کا اعلان کیا جانا چاہئے اور اس بیزاری کو علمی، دینی اور درست منطقی انداز میں ثابت کرنا چاہئے۔ اس طریقے سے مسلمان جوانوں کو نجات دیں۔ 
 
تکفیری گروہوں کی جانب سے سلف صالح کی پیروی کا دعویٰ جھوٹ ثابت ہوجانے کے بعد ضروری ہے کہ ان کا حقیقی منشاء فاش کیا جائے اور مسلمانوں کو بتایا جائے کہ تکفیری دہشت گرد عناصر کی تشکیل میں امریکہ اور مغربی ممالک نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ اس وقت خطے کے عوام کیلئے دشمن شناسی کا موضوع پہلی ترجیح بن چکا ہے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے شیعہ اور سنی علماء دین پر زور دیا ہے کہ وہ دشمن شناسی جیسے اہم موضوع پر توجہ دیں۔ اس وقت مسلمانوں کی توجہ اپنے اصلی دشمن سے ہٹ کر جعلی دشمنوں پر مرکوز ہوچکی ہے۔ لہذا مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کا مسلمانوں کے اصلی دشمن ہونے پر زور دینے کی ضرورت ہے اور مسلمان محققین کو چاہئے کہ وہ ہر وقت سے زیادہ اسرائیل کو مسلمانوں کے حقیقی اور پہلے درجے کے دشمن کے طور پر متعارف کروائیں۔ 
 
آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کی نظر میں مسلمان علماء دین کی جانب سے علمی اور ثقافتی تحریک کے آغاز کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا راہ حل بھی اپنانا چاہیئے، جو اسلامی مزاحمتی قوتوں خاص طور پر مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو فوجی اور مالی مدد کی صورت میں ہے۔ امام خامنہ ای تکفیریت کے خلاف علمی اور ثقافتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مسلح جدوجہد کو بھی مزاحمتی کلچر کی ایک ضرورت قرار دیتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے حزب اللہ لبنان، حماس اور اسلامک جہاد کی یکساں حمایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں شیعہ اور سنی کی کوئی تفریق نہیں۔ امام خامنہ ای کی نظر میں مسئلہ فلسطین اور غاصب صہیونی رژیم کے خلاف جدوجہد کو شیعہ یا سنی تک محدود نہیں کرنا چاہیئے اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر مسلمان کا شرعی وظیفہ بنتا ہے کہ وہ قبلہ اول مسلمین کی آزادی کیلئے تن دھن کی بازی لگا دے۔ 
 
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے ایک بار پھر غاصب صہیونی رژیم کے پنجوں سے قدس شریف کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو بھی مسلح کرنے کی آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ جہاں تک ہوسکے فلسطین کی آزادی میں اپنا کردار ادا کریں۔ آپ فرماتے ہیں: "عالم اسلام، مسلمان عوام اور مسلمان اقوام کی غفلت کے سبب اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم قدس شریف پر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے، مسجد اقصٰی پر قبضے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ ہمارے بعض جوان مجھے خط لکھتے ہیں اور یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اجازت دیں کہ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ غاصب اسرائیلیوں کے ساتھ لڑ سکیں۔ مسلمان اقوام صہیونی رژیم کے خلاف جہاد کیلئے بے تاب ہیں۔ ہم خدا کے کرم سے مذہبی اختلافات اور محدودیتوں سے بالاتر ہوچکے ہیں۔ ہم نے جس طرح حزب اللہ لبنان کی مدد کی ہے جو ایک شیعہ گروہ ہے، بالکل اسی طرح حماس اور اسلامک جہاد کی مدد کی ہے اور مسقبل میں بھی ان کی مدد کرتے رہیں گے۔"  
 
غزہ کے خلاف اسرائیل کی تیسری جنگ کے دوران جب غاصب صہیونی حکام نے اعلان کیا کہ اس جنگ سے ان کا مقصد اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنا ہے تو ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے فلسطین کے مغربی کنارے کو بھی اسرائیل کے خلاف مسلح کرنے پر تاکید کی اور اس طرح مقبوضہ فلسطین میں تیسری انتفاضہ کی پیدائش کا زمینہ فراہم کر دیا۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو اسرائیل کے خلاف مسلح کرنے کے بارے میں چند اہم نکتے قابل غور ہیں، کیونکہ مغربی کنارہ تین جانب سے اسرائیل اور ایک طرف سے اردن کی سلطنت میں گھرا ہوا ہے اور اسرائیل اور اردن دونوں مسلح جدوجہد کے شدید مخالف ہیں، لہذا مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو مسلح کرنے اور وہاں مسلح جدوجہد کا آغاز قدرے دشوار نظر آتا ہے، لیکن اس دشواری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایسا کام محال ہے بلکہ وہاں مسلح جدوجہد کے آغاز کیلئے بعض ابتدائی اقدامات انجام دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ابتدائی اقدام "عوامی مزاحمت" کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ عوامی مزاحمت وہی چیز ہے جو اس وقت مقبوضہ فلسطین اور قدس شریف میں فلسطینی عوام انجام دے رہے ہیں۔ عوامی مزاحمت سول نافرمانی اور غاصب صہیونیوں کے ساتھ دوبدو جنگ پر مشتمل ہے۔ اگر مغربی کنارے میں عوامی مزاحمت کا آغاز ہو جاتا ہے تو ایک طرف وہاں کے فلسطینی مسلمانوں کو مسلح کرنے کا مناسب موقع میسر آئے گا اور دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں بسنے والے فلسطینیوں کے درمیان مناسب ہماہنگی اور اتحاد کے ذریعے غاصب صہیونی رژیم کے خلاف وسیع پیمانے پر مسلح جدوجہد کا زمینہ بھی فراہم ہو جائے گا۔ 
 
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کے خطاب میں بیان کیا گیا آخری نکتہ ایران اور اسلام کے دشمنوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تھا۔ انہوں نے اس بارے میں فرمایا: "عالمی استکبار جو اسلام کا دشمن ہے، آج گذشتہ 100 یا 150 سال کی نسبت سب سے زیادہ کمزور ہوچکا ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم ماضی کی نسبت بہت زیادہ کمزور ہوگئی ہے۔ یہ وہی رژیم تھی جو ایک زمانے میں "نیل سے فرات تک" کا نعرہ لگاتی تھی اور واضح الفاظ میں یہ دعویٰ کرتی تھی کہ نیل سے فرات تک کی سرزمین اس کی ملکیت ہے۔ لیکن یہی رژیم غزہ کے خلاف پچاس روزہ جنگ میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں کو مکمل طور پر تباہ نہ کرسکی۔ اسی طرح آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور یورپی استعماری ممالک نے اکٹھے ہو اسلامی جمہوری ایران کے مقابلے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن وہ جوہری تنازعات میں اپنے مطالبات منوانے میں ناکام رہے، وہ ایران کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کرسکے اور مستقبل میں بھی ایسا نہ کر پائیں گے۔"  
 
یہاں پر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کا اشارہ عالم اسلام خاص طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک اور عالمی استکبار کے درمیان ٹکراو کی جانب ہے۔ ایران کے اندر اور باہر مغربی طاقتوں کے پٹھو اس ٹکراو میں عالمی استکبار کا پلڑا بھاری ہونے کا تاثر دے رہے ہیں جو بالکل غلط اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اور بدلتے عالمی حالات اس بات پر گواہ ہیں کہ نہ صرف مغربی دنیا میں عالم اسلام کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے بلکہ خود عالمی استکباری قوتوں کی پوزیشن بھی انتہائی کمزور ہوگئی ہے۔ اس حقیقت نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کو شدید پریشان اور خوفزدہ کر رکھا ہے۔ اسلام اور قرآن پر راسخ ایمان رکھنے والے افراد استعماری طاقتوں کے خلاف مزاحمت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اسلامی اہداف کے حصول کیلئے سخت کوشاں ہیں۔ آج عالمی استکباری قوتوں کی مفاد پرستانہ پالیسیوں کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمتی تحریکیں اور گروہ صرف ایران تک ہی محدود نہیں بلکہ عراق، شام، لبنان، یمن، ترکی، بحرین اور دوسرے الفاظ میں تمام مسلمان اقوام استکبار جہانی کے خلاف مضبوط اور ناقابل تسخیر قلعوں کی صورت میں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان تمام صلاحیتوں کے باوجود امام خامنہ ای مسئلہ فلسطین کو اصلی ترین محور قرار دیتے ہیں اور اسے عالم اسلام کا مرکز جانتے ہوئے تمام مسلمان علماء دین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی توجہ کو فلسطین سے نہ ہٹنے دیں۔ ان کی تاکید ہے کہ ہم صحیح راستہ گم نہ کریں۔ اسی طرح ان کے نزدیک کسی گروہ یا تحریک کے اسلامی ہونے کا معیار بھی مسئلہ فلسطین کے بارے میں اس کا موقف ہے۔
خبر کا کوڈ : 422497
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے