0
Monday 5 Jan 2015 23:53

شکست، ناکامی اور زوال، 2014ء کا غاصب صہیونی رژیم کو تحفہ

شکست، ناکامی اور زوال، 2014ء کا غاصب صہیونی رژیم کو تحفہ
ترجمہ و تالیف: زیڈ اے ہمدانی

2014ء کا سال اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے انتہائی اتار چڑھاو کا سال رہا ہے۔ ایک جملے میں کہنا چاہیں تو کہیں گے کہ یہ سال اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کیلئے ناکامی کا سال تھا۔ اسرائیل نے امن مذاکرات میں شکست کے بعد غزہ کے فلسطینی مکینوں کے خلاف غیر عادلانہ جنگ کا آغاز کر دیا، جس کے نتیجے میں خود اسرائیلی حکومت کو ہی اندر اور باہر سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس تنقید اور اعتراضات سے بچنے کیلئے متنازعہ بل پاس کروانے کی کوشش کی، جس سے حکومت کے اندر اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے اور کولیشن حکومت ٹوٹ کر ختم ہوگئی اور حکومت مڈٹرم الیکشن منعقد کروانے پر مجبور ہوگئی۔ 
 
امن مذاکرات کی شکست:
براک اوباما نے 2013ء میں دوسری بار صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ ان صدارتی انتخابات میں اوباما نے فلسطین اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو اپنی الیکشن مہم کا محور قرار دیا۔ حکومت سنبھالنے کے بعد براک اوباما نے وزیر خارجہ جان کری کو رسمی طور پر فلسطین اسرائیل امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری دے دی۔ جان کری اس کے بعد خطے کے 12 دورے کرچکے ہیں، جس کے دوران وہ فلسطین اتھارٹی، عرب حکام اور اسرائیلی حکام کے ساتھ مذاکرات کی کئی نشستیں منعقد کرچکے ہیں۔ لیکن ایک سال کی کوششوں کے بعد 2014ء میں امریکہ نے رسمی طور پر امن مذاکرات کی شکست کا اعتراف کر لیا اور ان مذاکرات میں ناکامی کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت اور فلسطین اتھارٹی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ 
 
امن مذاکرات میں ناکامی کی حقیقی وجوہات:
اسرائیل اور فلسطین اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کی حقیقی وجہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کو نظرانداز کرنا اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت ہے۔ مثال کے طور پر امریکی وزیر خارجہ جان کری کی جانب سے پیش کردہ 9 نکاتی منصوبے میں تمام مراعات اسرائیل کو دے دی گئی تھیں۔ درحقیقت، فلسطینیوں کے مقابلے میں امریکہ کی پالیسی دھمکیوں اور دباو پر استوار تھی۔ جیسا کہ امریکی کانگریس بھی فلسطین اتھارٹی کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور عالمی سطح پر اس کے مطالبات کی عدم حمایت کی باتیں کرتی تھی۔ امریکی حکام نے حتی امن معاہدے کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی آزادی کیلئے بھی کوئی خاطرخواہ اقدام انجام نہیں دیا اور ہمیشہ اسرائیلی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی حمایت کرتے رہے۔ غزہ میں محصور 15 لاکھ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی محاصرے میں تسلسل بھی امریکی حمایت اور آشیرباد کا ہی نتیجہ تھا۔ 
 
دوسری طرف امریکہ نے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر آنے پر راضی کرنے کیلئے اسے بے پناہ مراعات دینے کا وعدہ کیا۔ امریکہ ایک طرف تو اسرائیل میں نصب میزائل شیلڈ منصوبے کی تقویت کیلئے ہر سال کئی ملین ڈالر اسرائیل کو دے رہا ہے اور دوسری طرف بڑی مقدار میں اس کی فوجی اور مالی مدد بھی کر رہا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو مقبوضہ فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر میں بھی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اسی طرح امریکہ یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل پر لگائی گئی پابندیوں کو ختم کروانے کیلئے بھی انتہائی سرگرم ہے جبکہ خطے میں اسرائیلی پالیسیوں کی بھی نہ صرف مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ انہیں اجرا بھی کرتا ہے، جس کی واضح مثال خطے میں شام، لبنان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنائی جانے والی دشمنانہ پالیسیاں ہیں۔ ان تمام حقائق نے مل کر فلسطین امن مذاکرات کے ناکام ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 
 
غزہ کی 50 روزہ جنگ:
سال 2014ء میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ غزہ کی پچاس روزہ جنگ تھی، جس کا کوڈ ورڈ اسرائیل نے “Hard Rock Operation” رکھا تھا، لیکن یہ جنگ بھی اسرائیل کی شکست کی صورت میں اختتام پذیر ہوئی اور وہ اپنا کوئی مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسرائیل نے جولائی کے مہینے میں حماس پر تین یہودی جوانوں کے قتل کا الزام عائد کیا اور اسے بہانہ بناتے ہوئے غزہ پر فوجی حملہ کر دیا۔ حماس اس جھوٹے الزام کی تردید کرتی رہی جبکہ اسرائیل بھی ان تین یہودی جوانوں کے اغوا اور قتل میں حماس کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کرسکا۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ان تین یہودی جوانوں کو ڈھونڈنے کے بہانے ایسے دس فلسطینی جوانوں کو شہید کر ڈالا جن کی عمر 18 سال سے بھی کم تھی اور مغربی کنارے سے سینکڑوں فلسطینی جوانوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ اسی طرح اسرائیل نے ان تمام فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا جنہیں گلعاد شالیت کے بدلے آزاد کیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 350 سے 600 تک تھی، جن میں مغربی کنارے میں سرگرم حماس کے تقریباً تمام کارکن بھی شامل تھے۔ آخرکار اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے 6 جولائی کو غزہ پر ہوائی حملہ کیا، جس میں حماس کے 6 کارکن شہید ہوگئے۔ حماس نے اگلے دن انتقامی کاروائی کے طور پر 100 راکٹ اسرائیل کی جانب فائر کئے، جس کے ردعمل میں اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ ہوائی حملے کر دیئے۔ اسرائیل نے 18 جولائی کو غزہ پر بڑے زمینی حملے کا آغاز کر دیا، جس سے یہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ 
 
جنگ کے دوران دونوں طرف سے جنگ بندی کے مختلف منصوبے پیش کئے گئے، جن کے تحت اسرائیل پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ہوا، زمین اور سمندر سے غزہ پر کسی قسم کی جارحیت سے گریز کرے، لیکن ساتھ ہی ان میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے یہ شرط بھی پیش کی جاتی تھی کہ فلسطینی مجاہد گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے۔ لیکن حماس، اسلامک جہاد اور عزالدین قسام بریگیڈز اس شرط کی شدید مخالفت کرتے تھے۔ جنگ بندی کیلئے کئی کوششیں انجام پائیں لیکن کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکیں۔ آخرکار 10 اگست کو اسرائیل کی طرف سے 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی پیشکش کی گئی، جسے حماس نے قبول کر لیا۔ اس کے بعد مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور امریکی وزیر خارجہ جان کری اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بانکی مون بھی میدان میں کود پڑے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا اور یہ طے پایا کہ دونوں طرف مقابل قاہرہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے بالواسطہ مذاکرات کریں گے۔ لیکن شدید اختلافات کی وجہ سے اب تک یہ مذاکرات منعقد نہیں ہوسکے۔ بہرحال، اس 50 روزہ جنگ کے نتیجے میں 2040 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں سے 80 فیصد عام شہری تھے۔ 
 
مغربی کنارے میں تحریک کا آغاز:
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ جنگ کے دوران ہمیشہ اسرائیل کی قومی سلامتی کی بات کرتے رہے اور اس بہانے مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف کھلی بربریت اور جارحیت کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن اس قدر قتل و غارت اور نابودی کے بعد بھی یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آیا اس 50 روزہ جنگ نے اسرائیل کی قومی سلامتی کو مزید بہتر بنایا ہے یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آج اسرائیل کو نہ صرف غزہ کی جانب سے خطرہ لاحق ہے بلکہ مغربی کنارے میں بھی اس کی قومی سلامتی کیلئے نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت گذشتہ چند ہفتوں کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپیں ہیں۔ یہ جھڑپیں اس قدر شدید تھیں کہ اسرائیلی حکومت 1967ء کے بعد پہلی بار مسجد اقصٰی کو مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہوگئی۔ البتہ غاصب صہیونی رژیم کے اسی اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور فلسطینی مسلمانوں میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ مغربی کنارے میں انارکی کی شدت کے باعث اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے 29 اکتوبر کو ہنگامی میٹنگ منعقد کی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی معاون نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ فلسطین کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ 
 
اس شدت پسندی کی حقیقی وجہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے شدت پسند حکومتی شریکوں کی شدت پسندانہ پالیسیاں ہیں۔ یہ شدت پسند پالیسیاں 50 روزہ جنگ کے دوران اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ موجودہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ہر از گاہے فلسطینیوں پر ہوائی حملوں کے علاوہ یہودی بستیوں کی تعمیر پر مبنی پالیسی بھی فلسطینیوں کے حقوق پامال کئے جانے کا واضح ثبوت ہے، جنہیں حتی اسرائیل کے اتحادی عرب ممالک بھی ماننے کو تیار نہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے 50 روزہ جنگ کے اختتام کے فوراً بعد ہی 1000 گھروں پر مشتمل ایک نئی یہودی بستی کی تعمیر کا حکم جاری کیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ مقامی فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی پالیسی بھی جاری ہے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی شدت پسندانہ پالیسیوں کا لازمی نتیجہ فلسطینیوں کی جانب سے مناسب ردعمل کے ظاہر ہونے کی صورت میں نکلا ہے۔ فلسطین کے رکن پارلیمنٹ، مروان برغوثی، موجودہ اسرائیلی حکومت کی شدت پسندانہ پالیسیوں کے خلاف جنم لینے والی فلسطینی تحریک کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان 2 ہزار فلسطینی جوانوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جنہیں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور یہودی مکینوں نے شہید کر دیا ہے۔ اسرائیل کے انہیں شدت پسندانہ اقدامات کے باعث فلسطین میں تیسرے انتفاضہ کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس انتفاضہ میں فلسطینی مجاہدین نے نئے طریقے اختیار کئے ہیں اور اپنی گاڑیوں کے ذریعے غاصب صہیونی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ 
 
اسرائیلی شراکتی حکومت کا خاتمہ:
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کیلئے غزہ کے خلاف 50 روزہ جنگ کا ایک اور نتیجہ ان کی کولیشن حکومت کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس جنگ کے بعد ان کی کابینہ کی جانب سے جنگ کے بیہودہ اور لاحاصل ہونے کی بابت شدید تنقید کی جانے لگی۔ یہ تنقید اور اختلافات آہستہ آہستہ شدت اختیار کر گئے اور اختلافات کا دائرہ بڑھتا چلا گیا۔ اختلافی مسائل میں ایک انتہائی اہم ایشو "اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے" کا معاملہ تھا۔ یہ امر اس کابینہ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا اور تین ہفتے کے اندر اندر اسرائیلی حکومت تہس نہس ہوگئی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دیئے جانے کی پیشکش کی گئی۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل میں بسنے والے تمام یہودیوں کو برابر حقوق دیئے جانے تھے۔ لیکن اس وقت کی وزیر انصاف زیپی لیونی، وزیر اقتصاد یعیر لاپیڈ اور نئے اسرائیلی صدر رووین رایولن نے اس منصوبے کی مخالفت کر دی۔ اس مخالفت کے باوجود اسرائیلی کابینہ نے دسمبر کے شروع میں اس منصوبے کی حتمی منظوری دے دی اور اس طرح اسرائیل کو ایک مکمل یہودی ریاست قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد یہ طے پایا کہ یہ منصوبہ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بھی پیش کیا جائے گا۔ 
 
لیکن اس منصوبے کے مخالفین یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ یہ منصوبہ مقبوضہ فلسطین میں بسنے والے عرب باشندوں اور دوسری اقلیتی آبادیوں کیلئے غیر جمہوری ہے۔ زیپی لیونی، جو بنجمن نیتن یاہو کی اہم رقیب جانی جاتی ہیں، نے اسرائیلی وزیراعظم پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ذریعے حکومتی کولیشن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، تاکہ اس طرح وقت سے پہلے مڈٹرم الیکشن کا زمینہ فراہم کرسکیں۔ دوسری طرف بنجمن نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے اسرائیل کے تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت فراہم کی جاسکے گی۔ 
 
بجٹ پر اسرائیلی کابینہ میں اختلافات:
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت میں شریک دوسری بڑی پارٹی کے سربراہ لاپیڈ کے درمیان بجٹ پر شدید اختلافات ہوگئے، جس کی وجہ سے لوگوں میں مڈٹرم الیکشن کی باتیں ہونے لگیں۔ درحقیقت اسرائیلی وزیراعظم اس بات پر پریشان تھے کہ کہیں موجودہ حالات میں بجٹ کی منظوری مارچ 2015ء سے لیٹ نہ ہوجائے۔ لہذا وہ لاپیڈ کو رہائشی اسکیموں پر ٹیکس ختم کرنے کے بل کی منظوری کیلئے کوششیں انجام دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔ بنجمن نیتن یاہو کا موقف یہ تھا کہ اس بل کی منظوری سے حکومت کو کروڑوں شیکل کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور رہائشی اسکیموں پر بھی اس کا کوئی خاطرخواہ مثبت اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح اسرائیلی وزیراعظم یہ تاکید کرتے ہوئے نظر آتے تھے کہ وہ لاپیڈ کو فوجی بجٹ میں تبدیلی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ یہ اختلاف مڈٹرم الیکشن کا باعث بن گیا۔ بنجمن نیتن یاہو اکثر اپنے مشیروں کو یہ کہا کرتے تھے کہ انہیں ملک چلانے کیلئے انتخاب کیا گیا ہے لیکن وہ موجودہ حالات میں ایسا کرنے پر قادر نہیں۔ انہوں نے کابینہ کے اندر موجود اختلافات پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مخالف وزراء پر الزام لگایا کہ وہ ان کی پوزیشن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح بنجمن نیتن یاہو نے اپنے مخالفین کو وقت سے پہلے مڈٹرم الیکشن کروانے کی دھمکی بھی دی۔ وزیر اقتصاد اور یش عائید پارٹی کے سربراہ یعیر لاپیڈ کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ 
 
وزیر انصاف اور اقتصاد کی معزولی:
جب بنجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور یعیر لاپیڈ کی یش عائید پارٹی کے حامیوں کے درمیان اختلاف انتہائی شدید ہوگیا تو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وزیر اقتصاد یعیر لاپیڈ اور وزیر انصاف زیپی لیونی کو اپنے عہدوں سے فارغ کر دیا۔ نیتن یاہو کا یہ اقدام درحقیقت کولیشن حکومت کے تابوت میں آخری کیل تھا۔ لاپیڈ اور لیونی دو بائیں بازو کی جماعتوں یش عائید اور ھاتنوعا کے سربراہان ہیں۔ موجودہ اسرائیلی کابینہ کے نصف سے زائد وزراء کا تعلق انہیں دونوں پارٹیوں سے ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ان دو وزراء کو فارغ کرنے کے بعد کہا: "میں اپنی حکومت کے اندر سے مخالف آواز سننا پسند نہیں کرتا۔" بنجمن نیتن یاہو نے ان دو وزراء کو فارغ کرنے کے علاوہ پارلیمنٹ کو بھی توڑ دیا اور وقت سے پہلے مڈٹرم الیکشن کروانے کا اعلان کر دیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے مڈٹرم الیکشن 17 مارچ کو منعقد ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 430597
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب