0
Thursday 15 Jan 2015 20:21

فرانس میں دہشتگردی کے پس پردہ حقائق

فرانس میں دہشتگردی کے پس پردہ حقائق
تحریر: ڈاکٹر محمد حسن قدیری ابیانہ

فرانس میں حالیہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والا میگزین ماضی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخ آمیز کارٹون شائع کر چکا ہے اور میگزین میں کام کرنے والے افراد اپنے اس اقدام پر نہ صرف شرمسار نہیں تھے بلکہ فخر اور خوشی کا اظہار بھی کرتے تھے۔ اگرچہ یہ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کے سبب سزا کے مستحق تھے لیکن بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میگزین کے دفتر پر ہونے والا حملے کا اصلی سبب توہین رسالت (ص) نہیں تھا بلکہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا کارٹون شائع کیا جانا تھا جو اس میگزین نے حملے سے چند روز قبل ہی شائع کیا تھا۔ 
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی بنیاد امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے، اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد اور دوسری مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز نے رکھی ہے۔ داعش کے دہشت گرد درحقیقت مغربی آلہ کار ہیں اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز ان کی ہر قسم کی مدد اور حمایت کرنے میں مصروف ہیں۔ مغربی ممالک نے سب سے پہلے انہیں شام میں صدر بشار اسد اور عراق میں نوری المالکی کی حکومت کو سرنگون کرنے کیلئے استعمال کیا۔ داعش کے سفاک اور وحشی دہشت گرد کسی قسم کے غیرانسانی اقدام جیسے بچوں، بوڑھوں اور حتی خواتین کے گلے کاٹنے، خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور بچوں کو پھانسی دینے وغیرہ سے گریز نہیں کرتے۔ جب تک ابوبکر البغدادی اور داعش کے دہشت گرد مغربی مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرم عمل تھے، داعش کا گروہ ان کیلئے فرشتہ نجات کی حیثیت اختیار کر چکا تھا اور فرانس سمیت دوسرے مغربی ممالک کے فوجی افسران اور انٹیلی جنس اہلکار ان کو ہر قسم کی ٹریننگ دینے میں مصروف تھے۔ داعش کی مدد اور حمایت کیلئے کئی اجلاس خود فرانس میں منعقد کئے گئے جہاں شام اور عراق کے بیگناہ عوام کے خلاف داعش کے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔ 
 
فرانس کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے وہاں مقیم مسلمانوں کو شام جا کر داعش میں شامل ہونے کی ترغیب دلائی اور انہیں سفر کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیز نے مغرب میں مقیم مسلمان شدت پسند عناصر کو عراق اور شام بھیجا تاکہ وہ وہاں جا کر غیرانسانی اقدامات انجام دیں۔ مغربی ممالک مسلمان شہریوں کو شام اور عراق بھیج کر دو بڑے اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایک شام اور عراق کی حکومتوں کو کمزور کرنا اور دوسرا خود مسلمان شدت پسند عناصر سے چھٹکارا حاصل کرنا۔ مغربی حکام نے شدت پسندانہ سوچ رکھنے والے مسلمانوں کو جہاد کا جھانسہ دے کر شام اور عراق بھیجا تاکہ وہ جنگ کی نذر ہو جائیں اور وہ خود سکھ کا سانس لے سکیں۔ ایسی رپورٹس بھی موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے انجام پانے والے ہوائی حملوں میں زیادہ تر مغربی شہریت رکھنے والے دہشت گرد نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ مغربی حکام شام اور عراق میں سرگرم اپنے شہری دہشت گردوں کی مستقبل میں ممکنہ واپسی کے بارے میں شدید خوفزدہ ہیں اور ہر گز نہیں چاہتے کہ وہ زندہ واپس آ کر ان کیلئے نئی مشکلات کھڑی کریں۔ 
 
پورے یورپ سے شدت پسندانہ سوچ کے حامل مسلمانوں کو انتہائی منصوبہ بندی کے تحت شام اور عراق بھیجے جانے کا واحد مقصد اسلام سے دشمنی اور خود ان دہشت گردوں کا خاتمہ تھا۔ لیکن حالات کچھ اس طرح آگے بڑھے کہ یہ خطرناک کھیل مغربی ممالک کے ہاتھ سے باہر نکل گیا۔ مغربی ممالک کی شہریت کے حامل بعض دہشت گرد عناصر نے وطن واپسی کا ارادہ کر لیا۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے ایسے افراد کو جو کسی بھی وجہ سے قتل و غارت اور غیرانسانی اقدامات انجام دینے سے گریز کرتے تھے اور اس دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے پر پشیمان نظر آتے تھے، قتل کرنا شروع کر دیا۔ اسی طرح اس نکتے کی جانب توجہ بھی ضروری ہے کہ شام اور عراق سے واپس لوٹنے والے دہشت گرد کسی قسم کا دہشت گردانہ اقدام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ 
 
مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز کا ایک اہم ہتھکنڈہ دہشت گرد گروہوں میں گھس کر ان کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینا ہے تاکہ ان گروہوں کو اپنے حکومتی مفادات کی تکمیل کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ فرانس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے ایسے دہشت گرد عناصر کے ذریعے انجام پائے ہوں جو مغربی خاص طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیز کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ اسرائیلی جاسوسی ادارہ موساد اس قسم کی کاروائیاں انجام دینے میں شہرت رکھتا ہے۔ اس امکان کو اس وقت زیادہ تقویت ملتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ فرانس میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ کس حد تک اسرائیلی مفادات کیلئے مفید ثابت ہوا ہے۔ اسرائیل نے اس حملے کے بہانے فرانس سے ہزاروں یہودیوں کی اسرائیل نقل مکانی کا زمینہ فراہم کیا ہے۔ یاد رہے اس وقت حماس اور حزب اللہ لبنان کے ساتھ جنگوں میں شکست اور مستقبل میں دوبارہ ایسی جنگ کے امکان کے پیش نظر اسرائیل میں مقیم یہودیوں کی بڑی تعداد اسرائیل چھوڑ کر اپنے سابقہ وطن واپسی کی تیاری کر رہی ہے۔ لہذا اسرائیل نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 
 
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ جو بھی ظالم کی تلوار کو تیز کرے گا آخرکار خود ہی اس کی زد میں آ جائے گا۔ یہ فرمان عصر حاضر میں کئی مرتبہ حقیقت کا رنگ دھار چکا ہے۔ مثال کے طور پر کویت نے ایران کے خلاف عراق کی جارحیت میں ظالم صدام کی حمایت کا اعلان کیا اور آخر میں صدام نے خود کویت کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس کا دوسرا نمونہ امریکہ اور القاعدہ کی صورت میں قابل مشاہدہ ہے۔ امریکہ نے مشرق وسطٰی میں القاعدہ کی حمایت کر کے اپنے ہی پاوں پر کلہاڑی ماری ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مغرب نے اپنی گذشتہ پالیسیوں سے عبرت حاصل نہیں کی۔ مغربی حکام کو چاہیئے کہ وہ اس حدیث نبوی (ص) پر توجہ کریں اور جان جائیں کہ اگر کسی ظالم کی تلوار تیز کریں گے تو ایک دن خود بھی اس کی زد میں آ جائیں گے۔ فرانس میں حالیہ دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث دہشت گرد وہی افراد ہیں جنہیں خود فرانسوی حکام نے شام اور عراق میں بیگناہ انسانوں کو قتل کرنے کیلئے بھیجا اور ہر طرح سے ان کی حمایت اور مدد بھی کی۔ 
 
ظلم بالائے ظلم یہ کہ مغربی قوتیں ایک طرف تو شدت پسند عناصر کو دہشت گردی پر اکساتی ہیں اور انہیں مدد فراہم کرتی ہیں اور دوسری طرف ان کی طرف سے انجام پانے والے دہشت گردانہ اور غیرانسانی اقدامات کو مسلمانوں اور اسلام کے سر تھوپتے ہیں اور اس طرح اسلام کو شدت پسند مذہب ظاہر کر کے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرنے والا کلیسا کا مذہب ہے جس نے قرون وسطٰی کے دوران مغربی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی اور چرچ ٹارچر کے مراکز میں تبدیل ہو کر رہ گئے تھے۔ اسی طرح مغربی تاریخ ایسے جانکاہ ظالمانہ اقدامات سے بھری پڑی ہے جن پر مغرب اب بھی فخر کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جیسا کہ فرانس نے الجزائر میں ہزاروں انسانوں کو جوہری تجربات کیلئے لیبارٹری کے چوہوں کی طرح استعمال کیا یا امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے والا عظیم مجرمانہ اقدام اور اسی طرح کے دوسرے اقدامات جن کا انکار کسی کیلئے ممکن نہیں۔ 
 
اب مغربی حکومتیں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ فرانس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ اقدام کا سہارا لیتے ہوئے اسلام فوبیا کے ناپاک منصوبے کو آگے بڑھائیں اور اسلام کے خلاف غلیظ پروپیگنڈے میں مزید شدت لے آئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی قوتیں اسلام دشمنی کا شکار ہیں اور یورپ میں اسلام کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کو اپنے لئے عظیم خطرہ تصور کرتی ہیں۔ اسلام فوبیا پر مبنی اقدامات کا بھی یہی مقصد ہے کہ یورپ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام کو روکا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا معقول اور منطقی دین ہے جس سے ہلکی آشنائی ہی ایک صاف دل انسان کی جانب سے اس کا گرویدہ ہو جانے کیلئے کافی ہے۔ مغربی حکام اپنے شہریوں کو اسلام سے دور رکھنا چاہتے ہیں لہذٰا اسلام کے حسین چہرے کو مخدوش کرنے کیلئے غلیظ شیطانی سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے شہریوں میں اسلام سے نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ 
 
لہذٰا ہم دیکھتے ہیں کہ فرانس میں حالیہ دہشت گردانہ اقدامات کے بعد کئی مساجد، باحجاب خواتین اور اسلامک سنٹرز پر حملے کئے گئے ہیں۔ اگرچہ بعض یورپی شخصیات نے واضح کیا ہے کہ ان دہشت گردانہ اقدامات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور حتٰی فرانسوی وزیراعظم نے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ہم کسی دین کے دشمن نہیں لیکن اس کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مغربی ممالک کی جانب سے اب تک کئی بار ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے احساسات مجروح کئے جا چکے ہیں اور مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی ہو چکی ہے۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ان توہین آمیز اقدامات پر کسی طرح پکڑ اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جانے کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن اب یورپی ممالک میں تشویش کی گہری لہر معرض وجود میں آئی ہے۔ اگرچہ حالیہ شدت پسندانہ اقدام کی وجہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا کارٹون شائع کرنا ظاہر کیا گیا ہے لیکن مذکورہ میگزین توہین رسالت کے اعتبار سے بدنام تھا۔ لہذٰا فرانس کے حالیہ دہشت گردانہ حملے ایسے افراد کیلئے ایک کھلی وارننگ ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دوسروں کی مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کرنے کے باوجود انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہو گا۔ 
 
فرانس اور اسلام فوبیا پر مبنی سازش کا مستقبل:
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردوں کا مقصد اسلام نہیں تھا کیونکہ اگر یہ افراد بظاہر خود کو مسلمان بھی کہتے ہوں تو وہ انحرافی اعتقادات کے مالک ہیں۔ البتہ عالمی سطح پر اسلامی گروہوں اور تنظیموں کی جانب سے ان دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کیا جانا ایک مثبت امر تھا جس نے اسلام دشمن عناصر کی جانب سے اسلام کے خلاف جاری غلیظ پروپیگنڈے کے خلاف مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ چونکہ میڈیا مہم چلانے کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب زخم تازہ ہوں، لہذٰا فرانس کے ذرائع ابلاغ نے بھی موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے زور و شور سے ان دہشت گردانہ حملوں کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ لہذٰا فرانس میں مسلمانوں کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ خود فرانسوی حکومت بھی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ بڑی تعداد میں مسلمان خواتین کو صرف اس بنا پر حصول علم سے محروم کر دیا گیا ہے کہ وہ اسلام حجاب کی پابندی کرتی ہیں۔ اسی طرح کئی باحجاب خواتین پر حملے کئے گئے ہیں اور پولیس نے ان پر جرمانے کئے ہیں۔ فرانسوی حکومت کو چاہیئے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کی سیاست کو ترک کرتے ہوئے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو جائے۔ فرانسوی حکومت نے اب تک اسلام مخالف پالیسیوں کو اجراء کیا ہے اور اسے جان لینا چاہیئے کہ وہ اس کے منفی اثرات سے بچ نہیں پائے گی۔ 
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی حکومتوں نے مسلمانوں کے حق میں بہت ظلم کیا ہے۔ مغرب میں رہنے والے مسلمان انتہائی مشکل حالات کا شکار ہیں جبکہ یورپ میں ہونے والے دہشت گردانہ اقدامات میں ان کا کوئی کردار نہیں اور وہ بارہا فرانسوی عوام سے ہمدردی کا اظہار بھی کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود یورپی ممالک میں اسلام فوبیا اور اسلام دشمنی مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مغربی حکام کی جانب سے اسلام مخالف اقدامات کی حقیقی وجہ یورپ کے مستقبل کے بارے میں ان کے دل میں پایا جانے والا خوف ہے۔ بعض تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے 50 برس میں یورپی عوام کی اکثریت مسلمان ہو چکی ہو گی۔ اس حقیقت نے مغربی حکام کو وحشت زدہ کر دیا ہے لہذٰا انہوں نے بوکھلاہٹ کے عالم میں اسلام فوبیا پر مبنی پالیسیاں اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ مغربی دنیا میں اسلام فوبیا اور اسلام دشمنی پر مبنی اقدامات جاری رہیں گے لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان اقدامات اور اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کے غلیظ اور شیطانی پروپیگنڈے کے باوجود یورپ میں تیزی سے اسلام پھیلنے کی شرح بھی برقرار رہے گی اور اسلام یونہی یورپی عوام کے دل جیتتا رہے گا۔ 
خبر کا کوڈ : 432751
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے