0
Friday 30 Jan 2015 13:00

چوہدری محمد سرور کا استعفٰی، حکمرانوں اور نظام کے منہ پر طمانچہ

چوہدری محمد سرور کا استعفٰی، حکمرانوں اور نظام کے منہ پر طمانچہ
تحریر: تصور حسین شہزاد

چوہدری محمد سرور نے آخر کار پنجاب کی گورنری کو لات مار ہی دی۔ چوہدری محمد سرور پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے پیر محل کے نواحی گاؤں میں 18 اگست 1952ء میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پسماندہ سے سکول میں تعلیم حاصل کی اور روزگار کی تلاش میں برطانیہ چلے گئے۔ برطانیہ میں مختلف کام کر کے اپنی مالی پوزیشن بہتر کی اور برطانیہ میں کیش اینڈ کیری کا بزنس شروع کیا جو ان کو راس آ گیا اور اس بزنس میں انہوں نے خوب نام کمایا۔ برطانیہ کی سیاست میں بھی حصہ لیا اور رکن پارلیمنٹ بھی بنے۔ امت مسلمہ کا درد رکھنے والے انسان ہیں۔ برطانیہ میں بھی مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل کے لئے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف ہوں یا بےنظیر و زرداری جب بھی برطانیہ گئے ان کے ہاں ضرور قیام کیا۔ یوں ان کے پاکستان کے لئے جذبات سے سارے ہی حکمران متاثر تھے۔ بےنظیر بھٹو نے بھی انہیں پاکستان آ کر سیاست میں حصہ لینے کی پیش کش کی تھی۔ بقول چوہدری محمد سرور کے، بےنظیر بھٹو نے انہیں صدر بنانے کی پیش کش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اب کے میاں نواز شریف کی کوششیں رنگ لائیں اور انہوں نے چوہدری محمد سرور کو قائل کر لیا کہ وہ پاکستان آئیں گے اور قوم کی خدمت کریں گے۔ چوہدری محمد سرور کہتے ہیں کہ نواز شریف نے انہیں مکمل اختیار دینے کی یقین دہانی کروائی تھی، اور کہا تھا کہ آپ مکمل بااختیار ہوں گے جو مرضی کریں، ملک کی حالت سنوار دیں۔ چوہدری محمد سرور نے نواز شریف کے ‘‘سیاسی’’ وعدے پر اعتبار کر لیا اور برطانیہ کی شہریت اور گھر بار چھوڑ کر پاکستان آ گئے۔

میاں نواز شریف نے انہیں 5 اگست 2013ء کو پنجاب کا گورنر بنا دیا۔ چوہدری محمد سرور سمجھتے تھے کہ گورنر چونکہ وزیراعلٰی سے بھی بڑا ہوتا ہے، اس لئے انہوں نے پہلے پنجاب کی تقدیر بدلنے کے لئے گورنر شپ لینے کا فیصلہ کیا۔ چوہدری محمد سرور جب گورنر ہاؤس میں براجمان ہوئے تو ایکڑوں پر قائم گورنر ہاؤس دیکھ کر ہی ششدر رہ گئے۔ وہ حیران تھے کہ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتے ہوں، اس کے ایک صوبے کا ایک عہدیدار اتنے بڑے محل میں مقیم ہوتا ہے۔ گورنر ہاؤس سے کچھ ہی فاصلے پر وزیراعلٰی ہاؤس ہے، جو اپنی شان و شوکت کے حوالے سے بےنظیر ہے۔ اس اعلٰی ترین محل میں ایک ایسا حاکم مقیم ہے جو خود کو ‘‘خادم اعلٰی’’ کہتا ہے لیکن اس کے رہنے سہنے کا انداز شاہانہ ہے۔ ایسا ہی حال انہوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کا دیکھا۔ وہ چوہدری سرور، جس نے برطانیہ میں دیکھا تھا کہ وزیراعظم ایک عام سے فلیٹ میں رہتا ہے، اپنی سبزی خود بازار سے خریدتا ہے۔ گاڑی میسر نہ ہو تو سائیکل پر بھی دفتر چلا جاتا ہے۔ جہاں جھوٹ بولنے پر بڑے بڑے عہدوں سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں، وہ اس ماحول میں آ کر پریشان ہو گیا، جہاں حکمران قدم قدم پر جھوٹ بولتے ہیں، جہاں کریشن، بدعنوانی، لوٹ مار، قتل و غارت، دہشت گردی، فرقہ واریت، امارت و غربت، اونچ نیچ سمیت سینکڑوں تضادات ہیں۔

چوہدری محمد سرور کو برائے نام گورنری دی گئی۔ اختیارات کے حوالے سے وہ مکمل بےبس تھے۔ ان کا حکم صرف گورنر ہاؤس کی چار دیواری کے اندر چلتا تھا، باہر ایک تھانے کا معمولی سا کانسٹیبل بھی ان کی بات نہیں سنتا تھا۔ سیکرٹریٹ میں بیٹھے گھاگھ قسم کے بیوروکریٹ جن میں 100 فیصد شریف برادران کے حامی اور عزیز رشتہ دار ہیں، وہ گورنر کی جانب سے حکومت پر کی جانے والی تنقید سے بھی سخت نالاں تھے۔ بیوروکریسی میں بذریعہ سینہ گزٹ ایک سرکاری حکم چل رہا تھا کہ گورنر پنجاب کا کوئی حکم نہیں ماننا، یہی وجہ تھی کہ سول سیکرٹریٹ میں درجہ چہارم کے ایک چپڑاسی کا کام تو ہو جاتا تھا لیکن چوہدری محمد سرور کا کام نہیں ہوتا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جس کام کے لئے گورنر ہاؤس سے سفارش آتی تھی بیوروکریسی اس کام کو ہی بگاڑ دیتی تھی۔ ایسی صورت حال میں سچ کے ماحول میں تربیت پانے والے چوہدری محمد سرور کے لئے یہ ماحول گھٹن زدہ تھا۔ 5 اگست 2013ء سے 29 جنوری 2015ء تک کا سفر چوہدری محمد سرور کے لئے بہت تکلیف دہ سفر تھا۔ انہوں نے جیسے تیسے گورنری کا یہ سفر گزار ہی لیا۔ وہ دن کو دن اور رات کو رات کہنے کا عادی ہے لیکن یہاں جو ‘‘بادشاہ سلامت’’ فرما دیں، وہی حقیقت ہوتی ہے۔ بادشاہ نے دن کو رات کہہ دیا تو رات، کوے کو سفید کہہ دیا تو وہ سفید ۔ ۔۔ ۔ لیکن چوہدری محمد سرور کے لئے یہ سب کچھ مشکل تھا، انہوں نے اپنے طور پر بہت کوشش کی کہ معاملات کو سلجھا سکیں لیکن بے اختیار سے بہتر ہے عہدہ ہی نہ ہو۔ آخرکار چوہدری محمد سرور نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

اس حوالے سے انہوں نے وزیراعلٰی سے رابطے کی کوشش کی تو وزیراعلیٰ نے ان سے بات کرنا ہی گورا نہ کی۔ یوں چوہدری محمد سرور کو ان کے ‘‘اوقات’’ بتا دی گئی کہ پنجاب میں ان کی وقعت بس اتنی سی ہے۔ آخر کار چوہدری محمد سرور نے استعفیٰ دیدیا۔ ان کا استعفی فوراً قبول کر لیا گیا۔ اس کے بعد چوہدری محمد سرور نے پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوں نے تمام حقائق کھول کر رکھ دیئے۔ انہوں نے واضح کہا کہ یہاں قبضہ مافیا، جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد زیادہ بااختیار ہیں۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو سوالوں کی اجازت نہیں دی، لیکن تمام جواب پیشگی ہی دے دیئے۔ انہوں نے استعفٰی دے کر اس نظام اور ان حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ ان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ پاکستان کے لئے برطانیہ کی شہریت کو لات مار کر آیا ہوں۔ لیکن جب تک یہ نظام ہے، چوہدری محمد سرور باہر رہ کر بھی کچھ نہیں کر پائیں گے، کیوں کہ 98 فیصد عوام پر صرف 2 فیصد طبقہ قابض ہے، جو اپنے باہمی اتحاد سے 98 فیصد کو بھیڑ بکریاں سمجھتا ہے اور ان پر حکمرانی کرنا اپنے فرض منصبی۔

یہ 2 فیصد طبقہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنے کے دوران کھل کر سامنے آ گیا۔ دھرنے نے اس طبقے کو بےنقاب کر دیا اور پارلیمنٹ میں اس نظام کے بچاؤ کے لئے دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ منقافت کی انتہا تھی کہ ہر مقرر کہہ رہا تھا الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے لیکن ہم اس نظام کی بقا کے لئے دھاندلی کی پیداوار حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ نظام کون سا ہے؟ وہ نظام یہ ہے کہ دہشت گرد دندناتے پھریں، قبضہ مافیا جہاں چاہے قبضہ کر لے، امیر جس کو مرضی قتل کر دے، کوئی قانون، کوئی عدالت انہیں نہیں پوچھ سکتی اس کے برعکس کمزور کے لئے قانون بھی حرکت میں آ جاتا ہے اور آئین بھی شور مچانا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے نظام پر لعنت کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے، اور چوہدری محمد سرور نے استعفٰی دے کر ‘‘بارش کا پہلا قطرہ’’ ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔ ان کے بعد کس کی باری ہے یہ بہت جلد واضح ہو جائے گا کیوں کہ شنید ہے کہ وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ پر بھی دباؤ ہے کہ سچ بولنے کی سزا کے بدلے استعفٰی دیدیں۔ کیوں کہ جھوٹوں کی بستی میں سچوں کا رہنا مشکل ہو جایا کرتا ہے، لیکن چوہدری سرور کے اس جراتمندانہ فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ انسان کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیئے:
جھوٹوں کی گواہی مت دینا بدنام عدالت ہوتی ہے
خبر کا کوڈ : 436024
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب