0
Monday 2 Feb 2015 21:36

تبدیلی اور نجات کیلئے لکھا گیا ایک خط

تبدیلی اور نجات کیلئے لکھا گیا ایک خط
تحریر: سعداللہ زارعی

ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کی جانب سے یورپ اور شمالی امریکہ کے جوانوں کے نام لکھا گیا خط، ایک سیاسی شخصیت کی جانب سے خط نہیں کیونکہ سیاسی شخصیت اپنے ملک کی حدود سے باہر موجود جوانوں کی بجائے اپنے ہم پلہ سیاستدانوں کو مخاطب قرار دینے کو ترجیح دیتی ہے، تاکہ رائج سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں اپنے موقف کے درست ہونے پر قانع کرسکے یا مدمقابل کے موقف کے غلط ہونے پر قائل کرسکے، لیکن امام خامنہ ای کی جانب سے لکھے گئے حالیہ خط میں کسی قسم کی سفارتی اصطلاحات نظر نہیں آتیں، اگرچہ اس میں بھرپور طریقے سے سیاسی نزاکتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ اسی طرح اگرچہ اس خط میں "اپنے موقف کی درستی" پر تاکید نہیں کی گئی لیکن اس بارے میں ذرہ بھر شک و تردید دیکھنے کو نہیں ملتی، جیسا کہ "مدمقابل کے موقف کی نادرستی" پر بھی تاکید نہ کئے جانے کے باوجود اس کے بارے میں بھی ذرہ بھر شک و تردید دکھائی نہیں دیتی۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امام خامنہ ای کی جانب سے یہ مختصر پیغام در واقع حقیقت کو درک کرنے کی طرف دعوت ہے۔ وہ حقیقت جو مغربی میڈیا کے تابڑ توڑ پروپیگنڈے اور سیاسی شور شرابے کی وجہ سے مخاطبین کی نظروں سے اوجھل ہوچکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت وجود رکھتی ہے اور سنجیدگی سے درک کرنے کے قابل ہے۔ اس خط کے تمام پہلووں کا جائزہ لینا ایک مضمون میں ممکن نہیں، لہذا اس تحریر میں ہماری کوشش یہ ہوگی کہ خط کے بارے میں تجزیہ و تحلیل پیش کرتے ہوئے اس اہم ثقافتی اور بین الاقوامی واقعے کے پوشیدہ پہلووں کی شناخت حاصل کی جائے۔

ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کے خط کا آغاز خط لکھے جانے کی وجہ، اس کے اصلی مخاطب اور خط شائع ہونے کے مخصوص وقت کے بارے میں وضاحت سے واضح ہوتا ہے اور ابتدا ہی میں اپنے متن کے ذریعے مخاطب کو اصلی پیغام پہنچا دیتا ہے، تاکہ کسی قسم کی بدفہمی کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ تحریر کے مختلف اسالیب میں یہ طریقہ کار بہترین انداز جانا جاتا ہے اور آج کے جدید متون میں بھی اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے کہ کلام کو طولانی کئے بغیر آغاز میں ہی اصل پیغام مخاطب کو پہنچا دیا جائے۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے جوانوں کے نام اس خط کی ابتدا اس طرح سے ہوتی ہے: "میں آپ سے اسلام کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، خاص طور پر اسلام کے اس چہرے اور تصویر کے بارے میں جو آپ لوگوں کو دکھائی جا رہی ہے۔" اس کے بعد خط میں اس قدیمی ہتھکنڈے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، جو اسلام دشمن عناصر کی جانب سے نہ فقط ماضی میں بلکہ آج بھی اسلام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور کہا گیا ہے: "بدقسمتی سے مغربی سیاست کی تاریخ میں خوف اور نفرت کے احساسات کو جنم دے کر انہیں غلط مقاصد کیلئے استعمال کرنا ایک وطیرہ بن چکا ہے۔" 
 
اس کے بعد خط کو طولانی کئے بغیر اور مذکورہ بالا دعوے کی مثالیں ذکر کئے بغیر ایسے موضوعات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جن کا اعتراف، اگرچہ تاخیر سے ہی سہی لیکن خود مغربی دنیا بھی کرتی نظر آتی ہے اور کہا گیا ہے: "یورپ اور امریکہ کی تاریخ غلاموں کی تجارت جیسے امر پر شرمسار نظر آتی ہے، نوآبادییت پر شرمندہ اور سیاہ پوست اور رنگین پوست افراد پر ظلم کی بابت پشیمان ہے۔ آپ کے محققین اور مورخین پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے دوران کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ مذاہب کے درمیان یا قومی اور نسلی بنیادوں پر ہونے والی قتل و غارت پر شدید شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں۔" 
 
درحقیقت خط کے اس حصے میں ایک طرف تو "اسلام کے بارے میں خوف و ہراس پھیلائے جانے" کو ایک منظم سازش قرار دیا گیا ہے اور اسے محض ایک اتفاق قرار دینے کو مسترد کیا گیا ہے اور دوسری طرف انتہائی ظریف انداز میں اس سازش سے پردہ اٹھاتے ہوئے یورپ اور شمالی امریکہ کے جوانوں کو یہ یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ یہ دراصل ماضی کا وہی ہتھکنڈہ ہے جس کے خلاف آج مغرب میں بہت زیادہ تحقیقی مقالات شائع ہوتے ہیں اور کئی عشروں کی تاخیر سے اس کے بارے میں موجود شواہد کو منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ خط میں اس تاخیر کے بلاجواز ہونے پر تاکید کرتے ہوئے آج کے روشن خیال حضرات پر اس کے بارے میں حقائق کو واضح کرنے کی ذمہ داری کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے: "اپنے معاشرے کے روشن خیال حضرات سے پوچھیں کہ آخر کیوں مغربی معاشرے کا عوامی ضمیر ہمیشہ چند عشروں اور بعض اوقات چند صدیوں کی تاخیر سے بیدار ہوتا ہے اور حقائق سے آگاہ ہوتا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ رائے عامہ کو اسلامی تہذیب و تفکر جیسے اہم موضوع کے بارے میں آگاہ ہونے سے روکا جاتا ہے۔؟" 
 

اس کے بعد یورپ اور شمالی امریکہ کے جوانوں کے نام امام خامنہ ای کے خط میں اسلام کے خلاف مغرب کے دشمنانہ اقدامات کی حقیقی وجوہات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور مغربی جوانوں کو اس بارے میں تحقیق کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا ہے: "آخر اسلام کی کون سی تعلیمات اور اقدار عالمی طاقتوں کے منصوبوں میں رکاوٹ کا باعث ہیں اور ان کے وہ کون سے مفادات ہیں جو اسلام کے چہرے کو بگاڑ کر پیش کرنے سے پورے ہوتے ہیں۔؟" درحقیقت خط کے اس حصے میں اس نکتے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ عالمی اقوام کو چاہئے کہ وہ نہ فقط اسلام کے خلاف مغرب کے دشمنانہ اقدامات کی حمایت نہ کریں بلکہ اسلام دشمن عناصر کا گریبان پکڑ کر ان کے خفیہ محرکات کو جاننے کی کوشش کریں۔

خط کے وسطی حصے میں "راہ حل" بیان کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مغربی جوانوں کو مخاطب قرار دے کر کہا گیا ہے: "دین کی پہچان اور شناخت کو بغیر کسی واسطے کے اور براہ راست انداز میں حاصل کرنے کی کوشش کیجئے"؛ "عقل کا تقاضا ہے کہ کم از کم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ جس چیز سے آپ کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سے آپ کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، اس کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟"؛ "اسلام کو اس کے اصلی منابع اور پہلے درجے کے مآخذ کے ذریعے پہچانیں"؛ "قرآن کریم اور پیغبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت کے ذریعے اسلام کو پہچانیں"؛ "اسلام کے صحیح اور کسی تعصب کے بغیر فہم کے اس عظیم موقع کو ضائع نہ ہونے دیں"۔ 
 
راہ حل پر مشتمل خط کے حصے میں کسی قسم کی پیچیدہ فلسفی یا کلامی بحث میں الجھے بغیر اور کسی قسم کے تعصب کا شکار ہوئے بغیر ایک راستہ پیش کیا گیا ہے اور جوانوں کو وہ راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مغربی معاشروں کیلئے ایک مذہبی رہنما کی جانب سے جوانوں کو "براہ راست شناخت" اور "بلاواسطہ شناخت" کی دعوت دیئے جانا اور زندگی کی راہ کو قرآن کریم کے اصلی متن اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے براہ راست تجزیہ و تحلیل سے تلاش کرنے پر تاکید کئے جانا انتہائی پرکشش امر ہے۔ یورپ اور امریکہ کے مذہبی رہنما نہ صرف عام لوگوں کو اس براہ راست شناخت اور انجیل اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی زندگی کے بلاواسطہ مطالعے کی طرف دعوت نہیں کرتے بلکہ اس امر کو دین سے انحراف قرار دیتے ہوئے اسے انجیل اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات سے متضاد ظاہر کرتے ہیں۔ خاص طور پر کیتھولک فرقے کے مذہبی رہنما کلیسا اور پادریوں کی تعلیمات کے مقدس اور اٹل ہونے پر تاکید کرتے ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی تنقید برداشت نہیں کرتے۔  اب مغربی جوان، جو اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلام کو شدت پسند، قوت برداشت سے عاری اور آمرانہ دین سمجھتے ہیں، ایک معروف اسلامی رہنما سے یہ سن رہے ہیں کہ: "میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا کہ آپ اسلام کے بارے میں میری رائے یا اظہار خیال کو ضرور قبول کریں۔"
 
خط کا یہ حصہ اسلام مخالف پروپیگنڈے پر ایک موثر ضرب لگاتے ہوئے یورپی اور امریکی جوانوں کے سامنے اسلام اور اسلامی رہمناوں کی قلبی وسعت کو نمایاں انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ اخلاقی اور معاشرتی نزاکت، ایک ایسے معاشرے میں جہاں آزادی کے تقدس کے نام پر مذہب کے علاوہ باقی میدانوں میں ہر سوچ کو درست قرار دیا جاتا ہے، خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای اس خط میں فرماتے ہیں کہ تعصب کیوں؟ کسی مخصوص طرز کی تفسیر یا تاویل کے بغیر اصلی متن کی طرف رجوع کریں۔ یہ طریقہ کار ایسے گروہوں کی حقیقت کو بھی آشکار کر دے گا، جو خود کو دیندار ظاہر کرکے دین کے نام پر دنیا والوں کے سامنے اسلام کی خاص تصویر پیش کرنے میں مصروف ہیں۔

البتہ ولی امر مسلمین کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کو مفسرین کی ضرورت نہیں اور ہر انسان قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے اسلام کے گہرے حقائق تک پہنچ کر اسلام کا محقق بن سکتا ہے، بلکہ ان کی مراد یہاں پر یہ ہے کہ ایک انسان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں ابتدائی تصور کیلئے قرآن کریم کا متن اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کافی ہے اور جب وہ اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اسلام کا حقیقی چہرہ وہ نہیں جو مغربی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بیان کیا جا رہا ہے، تو وہ اسلام کے بارے میں مزید تحقیق کرنے اور اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کیلئے مسلمان مفسرین اور علماء سے رجوع کرسکتا ہے۔ 
 
خط کے دوسرے حصے میں یورپ اور امریکہ کے جوانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ شیطان کے جال میں پھنسنے سے بچیں۔ ولی امر مسلمین فرماتے ہیں: "آپ ہرگز کسی کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ گھٹیا اور توہین آمیز میک اپ کے ذریعے آپ اور حقیقت کے درمیان ایک جذباتی دیوار کھڑی کر دے اور اس طرح آپ سے غیر جانبدارانہ فیصلے کی صلاحیت سلب کر لے"؛ "آپ میں سے ہر ایک، خود کو یا اپنے اردگرد کے افراد کو حقیقت سے روشناس کروانے کیلئے اپنے اور حقیقت کے درمیان موجود شکاف پر تفکر اور انصاف کا پل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے"؛ "ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش، آپ کو جدید حقائق کو کشف کرنے کا سنہری موقع عطا کرے گا۔" 
 
خط کا یہ حصہ ایک اہم نفسیاتی پہلو پر مشتمل ہے اور نوجوانوں کے نفسیاتی رجحانات پر استوار ہے جبکہ شخصیت کی اس نفسیات کی بنیادیں اسلامی تعلیمات سے اخذ کی گئی ہیں۔ خط کے مخاطبین اس عمر کے جوان ہیں جنہیں احادیث معصومین علیھم السلام میں "وزیر" کا درجہ دیا گیا ہے اور ان کے بارے میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ انہیں معاشرتی مسائل میں اہمیت دی جائے، ان سے مدد حاصل کی جائے اور ان کی اس انداز میں مدد کی جائے جو ایک "قابل انسان" کی شان کے مطابق ہو۔ درحقیقت معاشرتی نفسیات کی رو سے یہ خط ان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ "آپ یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں" اور "آپ پر ایسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔" دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی تہذیب و تمدن میں پائی جانے والی معاشرتی نفسیات اس عمر کے جوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ "عیاشی کرو" اور ان کی مادی ضروریات پر زور دیتی ہے۔ امام خامنہ ای نے مغرب میں موجود ایک اہم ایشو کے بارے میں اسلامی طریقہ کار اتخاذ کرکے انہیں ایک نئی حقیقت سے روشناس کروانے کی کوشش کی ہے، جو یقیناً ان کیلئے انتہائی پرکشش ثابت ہوسکتی ہے۔ 
 
نتیجہ:
مختصر انداز میں نتیجے کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ خط میں انتہائی سادہ اور دلنشین زبان استعمال کی گئی ہے۔ خط ایک عزت مندانہ دعوت اور وضاحت سے شروع ہو کر آبرومندانہ دعوت پر ختم ہوتا ہے۔ خط میں ایک طرف تو مغربی ذرائع ابلاغ اور ان کے اسلام مخالف پروپیگنڈے کی مذمت کی گئی ہے اور دوسری طرف یورپ اور امریکہ کے جوانوں کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ خود اسلام کی حقیقت کو براہ راست جاننے کی کوشش کریں۔ انفرادی اور سماجی نفسیات کی رو سے یہ خط انتہائی کمال کے درجے کا ہے اور اس میں توہین آمیز، آمرانہ یا تعصب پر مبنی زبان کی بجائے انتہائی احترام سے چند سوالات پیش کئے گئے ہیں۔ خط کا انداز سوال و جواب، اعتراض اور راہ حل اور منطق و استدلال پر مبنی ہے جبکہ زیادہ فلسفی اور کلامی انداز سے پرہیز کیا گیا ہے۔ انہیں نکات کی وجہ سے یہ خط انتہائی پرکشش اور خوبصورت ظاہر ہوا ہے اور اس کے متن میں موجود پیغام کو آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 436718
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے