0
Monday 16 Feb 2015 09:54

ایران کی "اسٹریٹجک گہرائی" کو نشانہ بنایا گیا ہے!

ایران کی "اسٹریٹجک گہرائی" کو نشانہ بنایا گیا ہے!
تحریر: سرباز روح الله رضوی
 
"اسٹریٹجی (strategy) کی گہرائی"، فن حرب کی ایک اصطلاح ہے جو جنگ میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ تعبیر جنگ کے خط مقدم اور ایک ملک کی آبادی کے مراکز کے درمیان فاصلہ کے معنی میں ہے۔ جس قدر یہ گہرائی (فاصلہ) زیادہ ہو مرکز کی امنیت بھی زیادہ ہوگی۔ حضرت علی بن ابیطالب (ع) اولین شخص ہیں، جنھوں نے تاریخ میں اس مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ معاویہ کے سپاہیوں کے شہر بصرہ پر حملہ کے سلسلہ میں حضرت علی (ع) جب کوفہ کے لوگوں کو جہاد میں شرکت کرنے کے لئے ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "کسی قوم نے اپنے گھر میں دشمن سے مقابلہ نہیں کیا ہے، مگر یہ کہ ذلیل و خوار ہوچکی ہو۔" (خطبہ 27 نہج البلاغہ)۔ یہ "اسٹریٹجی کی گہرائی" کے دقیق معنی ہیں۔ یہ مفہوم سیاسی میدان میں بھی استعمال ہوا ہے اور یہ اعتقادی سرحدوں کے جغرافیائی سرحدوں سے وسیع اور بالاتر ہونے کے معنی میں ہے، جو مختلف سیاسی، عسکری، اقتصادی اور اعتقادی وسائل سے محقق ہوتا ہے۔
 
2011ء تک کے آخری سالوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا واضح ترین مظہر اس کی "اسٹریٹجی کی گہرائی" تھا، جس وقت حزب اللہ کے مجاہدین جارح اور غاصب اسرائیل کی فوج کو ایک مہینے کی جنگ میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے تھے، یا جس وقت غزہ سے داغے جانے والے ایرانی میزائل اسرائیل غاصبوں کے مرکز کو نشانہ بنا رہے تھے، یا جب لاکھوں مسلمان تمام دنیا میں ایران کی ترقی اور پیشرفت پر احساس غرور کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں ایران سے جوہری ہتھیار بنانے کا مطالبہ کرتے تھے! یہ سب ایران کے عالم اسلام میں ایک منفرد اور بلاشریک طاقت میں تبدیل ہونے کی ناقابل انکار دلیل تھی۔ اس بناء پر 2011ء کے بعد رونما ہونے والے بہت سے واقعات کی اس زاویہ سے بھی تجزیہ و تحقیق کی جاسکتی ہے۔ مسلمان ممالک میں اس قسم کا بے مثال نمونہ، قدرتی طور پر ایسے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے والا تھا، جو حکمران استبدادی اور وابستہ نظاموں کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کرنے کی حد تک آگے بڑھے تھے اور یہ سب استعماری طاقتوں کے لئے ایک بڑے خطرے کا الارم تھا۔

شام کے نظام کے خلاف مختلف گروہوں کو مسلح کرکے انہیں مستحکم کرنے کی سازش، اس ملک میں مختلف قبائل اور مذہبی فرقوں کے درمیان جنگ اور پروپیگنڈا کا بازار گرم کرنا، حقیقت میں استعماری نظام کی طرف سے اس بڑے خطرہ کے احساس کا ردعمل تھا۔ اعتراف کرنا چاہئے کہ دشمن دنیا کے سنی مسلمانوں کی قابل توجہ تعداد کے قلوب کو ایران کے بارے میں سرد کرنے میں کامیاب ہوا اور عملی طور پر اس معرکہ میں جس چیز کو نشانہ قرار دیا گیا ہے، وہ وہی اسلامی جمہوریہ ایران کی "اسٹریٹجی کی گہرائی" ہے۔ اب ایران دنیا کے بہت سے سنی مذہب مسلمانوں کے لئے ایک محبوب ملک نہیں رہا ہے، بلکہ اب ان کے لئے "ایران ایک ایسا ملک ہے جو شام کی بعث پارٹی کی حکومت کی پشت پناہی کرتے ہوئے اس ملک میں بے گناہ سنی مذہب کے لوگوں کا خون بہاتا ہے اور یہ وہی ملک ہے جو عراق کی شیعہ حکومت کی حمایت میں عراق کے سنیوں کے مقابلے میں کھڑا ہوا ہے۔"
 
لیکن ایران کی "اسٹریٹجی کی گہرائی" کو نشانہ بنانے کا دشمن کا منصوبہ یہیں پر متوقف نہیں ہوا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے واقعات نے خودبخود عالم اسلام کے تشنہ افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا اور عالمی سطح پر اس نئے سیاسی نظام کے حق میں ایک وسیع لہر پیدا ہوئی اور یہ لہر روزبروز مضبوط ہوتی جا رہی تھی، لیکن اس لہر کے اصلی محرک "انقلابی شیعہ" تھے۔ عملی طور پر یہ دنیا کے انقلابی شیعہ تھے، جنھوں نے اس انقلاب کے پیغام کو دنیا کے اہل سنت تک پہنچا دیا۔ یہ وہ افراد تھے اور ہیں جو مذہبی اور فطری لگاؤ کے ذریعے، اصلی شیعی تفکر سے پیدا شدہ ولایت فقیہ کے سیاسی نظریہ سے اپنے رابطہ کو انقلاب کے ساتھ کافی مستحکم کرچکے ہیں، دنیا کے یہ شیعہ، اگرچہ مسلمانوں کی اقلیت شمار ہوتے تھے، لیکن وہ ایران کے اسلامی انقلاب کے دائرے میں قرار پاکر اپنے ملک میں خود کو تاثیر گزار مجموعوں میں تبدیل کرچکے تھے۔ وہ ایسے افراد نہیں تھے کہ دشمن مرسوم اور معمول کے حربوں سے انھیں حامیان انقلاب کے خط سے جدا کرسکے۔
 
"شیرازیوں" کی تحریک پر غور کرنا اسی زاویہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس بیان کے مطابق "شیرازیوں" کی تحریک بنیادی طور پر کسی خاص شخص یا خاندان میں محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا تفکر ہے کہ آج "شیرازی" کے زیر سایہ قرار پاکر اپنے اثرات کے دائرہ کو زیادہ تر ایران کی سرحدوں سے باہر تشکیل دیتا ہے۔ "ملنگوں" [1] اور " اخباریوں" [2] سے لے کر "انجمن حجتیہ" [3] اور "شیرازی" [4] خاندان کے طرفداروں تک سب کے سب اپنے آپ کو اس تحریک کے حامی اور شریک سمجھتے ہیں۔ شیرازی تحریک ایک جانب شیعہ اور سنیوں کے درمیان تاریخی اور اعتقادی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر تاکید کرتی ہے اور دوسری جانب قمہ زنی کی مانند امام حسین (ع) کی عزاداری کے بعض افراطی ظواہر کو اہمیت دے کر دنیا کے شیعوں کے سامنے ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو اپنی سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر تشیع کے اصولوں کو پامال کرتا ہے اور قدرتی بات ہے کہ تشیع اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تعارض اور ٹکراؤ کی صورت میں یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے، جسے چھوڑ دیا جائے گا! اور یہ نکتہ شیرازی تفکر کا اصلی محور ہے کہ اس کے ذریعے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین کی ایک جماعت کو اپنے گرد جمع کرسکا ہے۔
 
شام کے بحران اور اس کے بعد عراق کے سلسلہ میں "شیرازی" تحریک کی وجہ مشترک اس میں ہے کہ دونوں ایران کی "اسٹریٹجی" کو نشانہ قرار دینے کے لئے وجود میں لائے گئے ہیں۔ شام اور عراق کے بحران نے دنیا میں اہل سنت کے معاشرہ کے ایک حصہ کو ایران سے جدا کیا ہے اور "شیرازی" کی تحریک بھی دنیا کے شیعوں کو ایران سے جدا کرنے کے درپے ہے۔ دونوں مسائل میں اگرچہ ان کی تشکیل کے عوامل کو غیر ملکی منصوبہ بندی سے نسبت نہیں دیا جاسکتا ہے، لیکن ان حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مقاومت کے اصلی عنصر کے عنوان سے کمزور کرنے کے لئے دقیق سازش کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ "شیرازی" تحریک کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے تقویت بخشنا، دنیا کے شیعوں پر منفی اثرات ڈالنے کے علاوہ دنیا کے اہل سنت اور اسلامی جمہوریہ ایران، جو تشیع کا مظہر ہے، کے درمیان فاصلہ اور دوری ایجاد کرنے پر بھی منتج ہوتا ہے اور اس طریقہ سے دشمن ایک تیر سے دو نشان مارتا ہے۔
 
جو کچھ بیان کیا گیا، اس کے قطعاً یہ معنی نہیں ہیں کہ جو لوگ آگاہانہ یا نا آگاہانہ طور پر "شیرازی" تحریک کی حمایت کرتے ہیں، سب کے سب دشمن کے ایجنٹ ہیں۔ جب تک اسلامی جمہوریہ کے وحدت پر مبنی موقف کا سیاسی نقطہ نظر سے تحلیل و تجزیہ کیا جاتا رہے گا، "شیرازی" تحریک ناآگاہ شیعوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس تحریک کا مقابلہ افراد کے ساتھ لڑائی جھگڑوں سے نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس کا مقابلہ، وحدت کے نقطہ نظر کو اسلامی انقلاب کے جزء لاینفک فکری، نظریاتی اور اعتقادی مبانی کے عنوان سے وضاحت اور تشریح کرنے سے ممکن ہے۔ یہ وہ امر ہے، جس کے بارے میں آج کل مقام معظم رہبری اپنی تقریروں میں کافی اہمیت دیتے ہیں، لیکن افسوس کہ ان کے پیروں کے اندر اس کا مناسب انعکاس نہیں پایا جاتا ہے۔
 
[1]۔ یہ اصطلاح اہل بیت (ع) کے ان پیرؤں پر اطلاق آتی ہے، جو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو افضل اعمال جان کر عملاً دوسرے احکام شریعت پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے ہیں۔ "ملنگوں" کا کردار بعض ایرانی صوفیوں کے کردار کی مانند ہے اور ان میں بعض افراد ہاتھ، گردن اور پاؤں میں لوہے کے کڑے ڈالتے ہیں اور بعض ننگے پیر چلتے ہیں، اور اسے واقعہ کربلا کے بعد آل اللہ کے اسیر ہونے کی علامت جانتے ہیں۔
[2]۔ یہ اس گروہ کا سلسلہ ہے جو کتب اربعہ میں موجود تمام نقل شدہ احادیث کو صحیح جانتے ہیں اور اس طرح احادیث کی رجالی تحقیق کے قائل نہیں ہیں۔
[3]۔ یہ وہ فکری سلسلہ ہے جو امام زمانہ (عج) کی حکومت سے پہلے ہر قسم کی حکومت کو بعض روایتوں سے استناد کرکے باطل جانتے ہیں۔
[4]۔ آیت اللہ العظمٰی میرزا مہدی شیرازی، سید محمد و سید صادق شیرازی کے باپ تھے اور عراق میں شہر کربلا کے مشہور و محبوب مرجع تقلید تھے، ان کی وفات کے بعد عراق کے بہت سے لوگوں نے ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے ان کے بیٹے سید محمد شیرازی کی تقلید کی اور اس لحاظ سے "شیرازی" تحریک کے بہت سے پیرو شہر کربلا، عراق کے باشندوں پر مشتمل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 440566
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب