0
Wednesday 18 Feb 2015 00:08

یمن کی سیاسی صورتحال پر ایک نظر

یمن کی سیاسی صورتحال پر ایک نظر
تحریر: سعداللہ زارعی 

چند روز قبل یمن کیلئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نمائندے "جمال بن عمر" اور انصاراللہ تحریک کے رہنماوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی سیاسی صورتحال ایک مخصوص مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ دوسری طرف خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے رسمی طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن میں فوجی مداخلت کیلئے دی گئی درخواست اور سلامتی کونسل کی جانب سے اسے مسترد کئے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر یمن کے بارے میں ایک نئی فضا معرض وجود میں آچکی ہے، جس کی مرکزیت و محوریت انصاراللہ تحریک کے ہاتھ میں ہے۔ مزیدبرآں، یمن کی سیاسی صورتحال کے بارے میں متعدد سوالات جنم لے چکے ہیں۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1۔ انصاراللہ تحریک اور اس کی عوامی کمیٹیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے کے ساتھ معاہدہ انجام دینے کی خواہش سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائد انقلاب یمن بدامنی اور انارکی پر مبنی ملک کی موجودہ تشویشناک صورتحال سے جلد از جلد عبور کرنے کو اپنی پہلی ترجیح اور یمن میں بنیادی اصلاحات کے نفاذ اور قانون کے اجراء میں پہلا قدم سمجھتے ہیں۔ یہ معاہدہ یمن میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد اور عبوری حکومت میں شامل افراد کے بارے میں ہے۔ معاہدے میں اس فارمولے کا طے پا جانا جس کے مطابق مرکز، شمال اور جنوب کے رہنماوں پر مشتمل پانچ سے سات رکنی کونسل کی تشکیل جو صدارتی کونسل کی ذمہ داریاں ادا کرے گی اور ایک شخص کو عبوری وزیراعظم کے طور پر نامزد کرے گی، جو سب کو اعتماد میں لے کر ایک عبوری کابینہ تشکیل دے گا، انصاراللہ کا اہم تخلیقی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یمن کے معزول صدر منصور ھادی، انصاراللہ تحریک اور نمائندہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے درمیان بھی ایک ایسا ہی معاہدہ طے پا چکا تھا۔ اسی طرح 6 فروری کو منصور ھادی کی جانب سے استعفٰی دیئے جانے کے بعد انصاراللہ یمن نے "آئینی اعلامیہ" کے نام سے جو بیان جاری کیا، اس میں بھی ایک ایسی متفقہ عبوری حکومت کی تشکیل پر زور دیا گیا، جس میں ملک کے تمام سیاسی گروہوں اور جماعتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی ہو۔ درحقیقت قائد انقلاب یمن عبدالملک بدرالدین الحوثی اور نمائندہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ جمال بن عمر کے درمیان چند روز قبل طے پانے والا معاہدہ اسی منصوبے کا تسلسل ہے جو خود انصاراللہ یمن نے تیار کیا تھا۔ 
 
2۔ جمال بن عمر ایک ایسے وقت میں یمن کے مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب خلیج تعاون کونسل نے ایک طرف یمن پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور اس کو دی جانے والی امداد کو روک دینے کی دھمکی دی ہے اور دوسری طرف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے یمن میں فوجی مداخلت کی درخواست دے رکھی ہے۔ اس مسئلے کو دو انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے اعلامیے کے بعد جمال بن عمر کا یمن آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نمائندے کا دوبارہ یمن آنے اور خیلج تعاون کونسل کی جانب سے انصاراللہ کو دھمکی دینے میں تعلق پایا جاتا ہے۔ یعنی خلیج تعاون کونسل نے یہ محسوس کرنے کے بعد کہ یمن میں ہر قسم کی "عرب مداخلت" ناممکن ہوچکی ہے، انصاراللہ کو اپنے اور مغربی مطالبات کے سامنے مکمل طور پر یا جزوی طور پر جھکنے پر مجبور کرنے کیلئے سیاسی مذاکرات کا سہارا لیا ہے۔
اس تناظر میں عبدالملک الحوثی اور جمال بن عمر کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ایک حد تک خلیج تعاون کونسل اور مغرب کی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسرے تناظر کی رو سے جمال بن عمر کا دوسرا دورہ یمن ایک ایسے وقت انجام پایا ہے، جب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل، روس اور چین کی مخالفت کے سبب انصاراللہ تحریک کے خلاف کسی قسم کے مذمتی بیان یا یمن میں فوجی مداخلت کا زمینہ فراہم کرنے میں ناکامی کا شکار ہوچکی تھی۔ لہذا اس ناکامی کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے "سیاسی نمائندے" کو یمن کی جانب روانہ کیا اور اس طرح یمن کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اس تناظر کے مطابق چونکہ انصاراللہ یمن ہمیشہ سے سیاسی راہ حل پر تاکید کرتی آئی ہے، لہذا جمال بن عمر اور عبدالملک بدرالدین الحوثی کے درمیان انجام پانے والے مذاکرات انصاراللہ تحریک کیلئے ایک بڑی کامیابی قرار دیئے جا رہے ہیں۔ 
 
3۔ خلیج تعاون کونسل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر یمن کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے 25 جنوری کو ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں یمن کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے مختلف راہ حل پیش کئے گئے۔ پہلا راہ حل فوجی مداخلت پر مبنی تھا، لیکن سعودی عرب نے یہ دلیل پیش کی کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک انصاراللہ یمن کے مقابلے میں فوجی طور پر کمزور ہیں، لہذا اس طریقے سے صرف نظر کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن میں فوجی مداخلت پر آمادہ کیا جائے۔ لیکن دو دن بعد ہی امریکی صدر براک اوباما نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ یمن کے مسئلے کو حل کرنے کے فوجی طریقہ کار کی حمایت نہیں کریں گے۔ لہذا اب یمن میں فوجی مداخلت کا آپشن نہ تو سلامتی کونسل اور نہ ہی خلیج تعاون کونسل کسی کے سامنے موجود ہے۔ 
 
خلیج تعاون کونسل میں پیش کئے جانے والا دوسرا راہ حل انصاراللہ تحریک کے خلاف ایک عالمی اتحاد معرض وجود میں لانے پر مبنی تھا۔ اس راہ حل کے مطابق مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے یمن کا مکمل بائیکاٹ کیا جانا تھا اور اس سے سفارتی تعلقات ختم کئے جانے تھے۔ یہ منصوبہ امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے آغاز کیا گیا اور ان کی پیروی میں بعض دوسری مغربی اور عرب ممالک نے بھی یمن سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ لیکن یہ مہم بڑی سطح تک نہ پہنچ سکی۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی وضاحت سے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ یمن میں انصاراللہ کے قبضے کے بعد اس نے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کئے ہیں بلکہ اپنے اس اقدام کی وجہ "یمن کے نامناسب سیاسی حالات" کو قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یمن کے عوام پر دباو ڈال کر انہیں انصاراللہ کی حمایت سے روکنا ہے اور یمن کے عوام جو اس وقت سڑکوں پر نکل چکے ہیں، کو تاریک مستقبل سے خوفزدہ کرنا ہے۔ 
 
خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں پیش کیا گیا تیسرا راہ حل ایک مشترکہ فارمولے تک پہنچنے یا عرب ممالک کے بعض مطالبات منوانے کیلئے انصاراللہ یمن کے ساتھ مذاکرات انجام دینے پر مبنی تھا۔ یہ منصوبہ قطر، عمان اور کویت کی جانب سے پیش کیا گیا۔ البتہ بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اس کی شدید مخالفت کی اور سعودی عرب کے نمائندے نے بھی اسے ایک مشکل کام قرار دیا۔ بہرحال اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ خلیج تعاون کونسل میں الحوثی گروہ کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنا ان کے ساتھ جنگ پر فوقیت رکھتا ہے۔ 
 
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خلیج تعاون کونسل اور تین مغربی ممالک، امریکہ، برطانیہ اور فرانس دوسرے اور تیسرے راہ حل کی ایک ملی جلی صورت کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ دوسرے راہ حل پر تاکید کرنے سے وہ یمن کی انقلابی تحریک کو بہتر انداز میں مفاہمت پر راضی کرسکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف انصاراللہ یمن نے خلیج تعاون کونسل اور سلامتی کونسل کی جانب سے یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کر دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ساتھ ہی انصاراللہ یمن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ میدان میں حاضر رہیں، تاکہ اس طرح ملک خاص طور پر دارالحکومت صنعا کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھ سکے۔ آئندہ چند ہفتے یعنی دو سے آٹھ ہفتے، یمن کی سیاسی مستقبل کیلئے انتہائی اہم تصور کئے جا رہے ہیں۔ 
 
4۔ موجودہ قرائن و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ یمن کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے شدید خوفزدہ ہے۔ یمن میں امریکی سفارتخانے کا بند کیا جانا اور اس سے اہم یہ کہ وہاں موجود تمام اسناد و مدارک کو جلا دیا جانا اور حتی امریکیوں کے زیر استعمال اسلحہ کو بھی نابود کر دیا جانا، امریکہ کے شدید خوف کی نشاندہی کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی حکام کو یہ خوف لاحق تھا کہ 11 فروری، انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کے موقع پر صنعا میں امریکی سفارتخانے پر یمن کے انقلابی عوام کی جانب سے ایسا حملہ نہ ہوجائے جو 4 نومبر 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے پر کیا گیا اور اس کے دوران ایران کے انقلابی جوانوں نے تمام امریکی سفارتکاروں اور سفارتخانے کے عملے کو جاسوسی کے الزام میں یرغمال بنا لیا تھا۔ لہذا امریکیوں نے یمن میں اپنے سفارتخانے میں موجود ہر چیز، اسناد و مدارک اور اسلحہ وغیرہ کو نابود کر دیا، تاکہ کہیں انقلابی جوانوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ امریکیوں نے صرف اسی اقدام تک اکتفا نہیں کیا بلکہ صنعا میں موجود اپنے اہم جاسوسی اور اینٹی جاسوسی مراکز کو بھی عمان کے دارالحکومت مسقط منتقل کر دیا ہے۔ 
 
بعض سیاسی ماہرین نے اس واقعے کو "پریشان کن" قرار دیا ہے اور اسے یمن کے حالات مزید خراب ہونے اور یمن کی انقلابی تحریک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ براہ راست فوجی مداخلت کی علامت جانا ہے اور اپنے دعوے پر کچھ تاریخی شواہد بھی بیان کئے ہیں۔ لیکن ہم اس مسئلے کا ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔ صنعا میں امریکہ کے اہم انٹیلی جنس مراکز کی بندش ایک طرح سے یمن کے سیاسی حالات پر اثرانداز ہونے سے امریکہ کی مایوسی کو ثابت کرتی ہے۔ اسی طرح امریکی سفارتکاروں کی جانب سے یمن میں امریکی سفارتخانے، جسے دو دن قبل ہی عبدالملک الحوثی نے "جاسوسی کا اڈہ" قرار دیا تھا، میں موجود اہم اسناد و مدارک کو نابود کر دینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام یمن کی انقلابی تحریک کو غیر قابل کنٹرول سمجھتے ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے حال ہی میں اس امر پر تاکید کئے جانا کہ وہ یمن میں فوجی مداخلت کے حق میں نہیں، ہمارے اس تجزیے کے حقیقت سے قریب ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ انقلاب اسلامی یمن کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے یمن کے انقلابی عوام کے خلاف مختلف سازشیں کرنا چھوڑ دے گا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ امریکہ یمن میں فوجی مداخلت سے اظہار عجز کرنے کے بعد یمنی عوام کے خلاف بالواسطہ سکیورٹی اور فوجی مداخلت پر مبنی اقدامات انجام دے گا، جیسا کہ ماضی میں اس نے انقلاب اسلامی ایران کے خلاف بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا تھا۔ 
 
5۔ یمن کے انتہائی اہم شہر "مارب" میں جنم لینے والی بغاوت اس بات کی گواہ ہے کہ مغربی عربی براہ راست فوجی مداخلت پر مبنی سازش کی ناکامی کے ساتھ ہی یمن کے اندر مغربی حمایت سے ایک نئی سازش کا آغاز ہوچکا ہے، جس کا مقصد انصاراللہ تحریک کی طاقت کو چیلنج کرنا ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل سے امریکہ اور سعودی عرب نے یمن میں اصلاح پارٹی کی حمایت شروع کر رکھی ہے۔ اصلاح پارٹی خود کو اخوان المسلمین کی شاخ قرار دیتی ہے۔ اس حمایت کا مقصد مارب کو صنعا کے مقابل لاکھڑا کرنا ہے۔ اس تحریک نے اصلاح پارٹی کے روایتی اثر و رسوخ، موتمر پارٹی اور یمن کے سابق ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کے خاندان کے مارب میں اثر و رسوخ کی مدد سے انصاراللہ کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے، لیکن اب تک دارالحکومت صنعا میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ اصلاح پارٹی، موتمر پارٹی اور آل احمد کی جانب سے مارب میں تحریک کے آغاز کو خلیج تعاون کونسل کی طرف سے یمن کے بارے میں جاری کردہ بیانیہ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انصاراللہ یمن نے موتمر پارٹی اور اصلاح پارٹی کو نئے حکومتی سیٹ اپ میں شرکت کی دعوت دی ہے اور انہیں ملکی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کیلئے بھی بلایا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مارب کی احتجاجی تحریک بھی کوئی نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے گی، کیونکہ عبدالملک بدرالدین الحوثی نے اپنی عاقلانہ پالیسیوں کے باعث اپنے مخالفین کی شدت پسندی کا جواب انتہائی متانت سے دیا ہے اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی وہ یمن کے مسائل کو پرامن اور سیاسی انداز میں حل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ 
خبر کا کوڈ : 441015
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب