0
Tuesday 3 Mar 2015 22:20

اسلامی مزاحمت کیخلاف مشترکہ عرب فورس

اسلامی مزاحمت کیخلاف مشترکہ عرب فورس
تحریر: عبدالباری عطوان

ریاض میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جو اہم ترین مسئلہ زیربحث لایا جائے گا، وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک مشترکہ عرب فورس کی تشکیل کا مسئلہ ہے۔ اس فورس کا دائرہ کار لیبیا، شام اور عراق تک ہوگا اور ایک مشترکہ فوجی کونسل اس پر نظارت کے فرائض انجام دے گی۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے بھی مصر کے پیش کردہ اس منصوبے کے بارے میں ضروری وضاحتیں دینے کیلئے عرب ممالک کے دوروں کا آغاز کر دیا ہے۔ مصری حکام کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں دیئے گئے بیانات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کی نظر میں دہشت گردی کی تعریف کیا ہے اور وہ کون سے دہشت گرد گروہ ہیں جو اس مشترکہ عرب فورس کا ہدف قرار پائیں گے؟ آیا یہ فورس داعش کا مقابلہ کرے گی یا النصرہ فرنٹ کا یا انصار الشریعہ کا؟ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ کون کون سے عرب ممالک اس فورس کی تشکیل میں حصہ لیں گے اور اس کی تشکیل میں حصہ لینے والے ممالک کی حصہ داری کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کی وسعت کس حد تک ہوگی؟ کیا یہ مشترکہ عرب فورس زمینی فوج کی صورت میں ہوگی یا ایئرفورس کی صورت میں یا اس میں صرف اسپشل فورسز کے دستے ہی شامل ہوں گے؟ مزید یہ کہ اس مشترکہ عرب فورس کا داعش کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں موجودہ فوجی اتحاد کے ساتھ رابطہ کس نوعیت کا ہوگا؟
 
یہ منصوبہ ابھی تک زیر غور ہے، لیکن یہ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ یہ مشترکہ عرب فورس درحقیقت ایک جدید فوجی اتحاد ہوگا، جو دو بنیادی اراکین پر مشتمل ہوگا۔ ایک مصر اور دوسرا سعودی عرب۔ اسی طرح اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ اس مشترکہ عرب فورس کی تشکیل میں ان اہداف میں سے جنہیں صراحت سے بیان نہیں کیا گیا، لیبیا اور یمن میں فوجی مداخلت ہوسکتے ہیں۔ اس مشترکہ فورس کا پہلا ہدف لیبیا میں القاعدہ اور داعش کی نابودی اور اسی طرح یمن میں روز بروز طاقتور ہوتی ہوئی انصاراللہ اور الحوثی گروہ کو کمزور کرنا اور اس کے بعد عراق اور شام میں داعش سے مقابلہ کرنا ہوسکتا ہے۔ 
 
مصر کے صدر اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب کس حد تک اپنی جنوبی سرحدوں پر الحوثی شیعہ گروہ کے طاقت پکڑنے سے پریشان اور خوفزدہ ہے۔ اسی طرح وہ مصر کی سرحدوں پر سنی گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور طاقت سے بھی پریشان ہیں۔ لہذا اپنے نئے فوجی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سعودی عرب کی سیاسی اور مالی حمایت کے محتاج ہیں۔ لیبیا کی موجودہ صورتحال مصری حکومت کیلئے سکیورٹی اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ سابق صدر معمر قذافی کی سرنگونی کے بعد یہ ملک مختلف اسلامی جہادی گروہوں کیلئے اسلحہ کے ایک بڑے ذخیرے اور محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے اور جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں گذشتہ چند ماہ کے دوران تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے لیبیا کے وسیع علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ 
 
داعش نے لیبیا میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے عراق جیسی اسٹریٹجی اپنا رکھی ہے۔ داعش اس وقت لیبیا میں برف کے ایسے گولے کی مانند ہوچکا ہے، جس کے حجم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مصر کی حکومت اس خطرے سے اچھی طرح باخبر ہے۔ درست ہے کہ اس وقت داعش کا زیادہ اثرورسوخ صرف صحرائے سینا کے اطراف تک محدود ہے اور وہاں مصر کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ اس کی مسلح جنگ چل رہی ہے، لیکن مغربی لیبیا میں داعش کے وجود کے خطرناک ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ نہر سوئز کے قریب واقع ہے۔ اس خطے میں کھلی سرحد ہے، جو مصر اور لیبیا کے درمیانی علاقے میں ہزاروں کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور اس پر کسی قسم کی سکیورٹی دیکھ بھال اور کنٹرول بھی موجود نہیں۔ یہ علاقہ اسمگلرز کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہوتی رہتی ہے۔ 
 
مصر اور سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ ماضی میں تاریخ کی نذر ہو جانے والے فوجی معاہدے کو زندہ کریں، جو اسرائیل کے خلاف تھا اور اس کا بنیادی مقصد اسرائیل سے درپیش خطرات کا مقابلہ اور مغربی حملوں کو روکنا تھا۔ مشترکہ عرب فورس کے قیام کا مقصد غزہ، مغربی کنارے، گولان ہائٹس اور جنوبی لبنان پر اسرائیل کی بدمعاشی اور جارحانہ اقدامات کو روکنا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ماہرین اس مشترکہ عرب فورس کے اہداف کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔ عرب حکومتوں کی جانب سے عرب دنیا کے پہلے مسئلے یعنی مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹا لینا امریکہ کی جانب سے خطے میں فوجی مداخلت کا باعث بنا ہے اور عرب لیگ نے ہمیشہ ان فوجی مداخلتوں جیسے لیبیا پر نیٹو کے حملہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 
 
اگر ایک ایسی مشترکہ عرب فورس تشکیل دی جائے، جس کا مقصد اسرائیل کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنا ہو تو بلاشک تمام عرب ممالک اس کی حمایت کا اعلان کریں گے، لیکن اگر اس مشترکہ عرب فورس کی تشکیل کا مقصد عراق، شام، یمن اور لیبیا میں فوجی مداخلت ہوا تو اس کا نتیجہ عرب دنیا میں اختلاف اور تفرقہ انگیزی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشترکہ عرب فورس کی جانب سے لیبیا میں فوجی مداخلت الجزائر اور شائد تیونس کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنے اور اس فورس کو یمن میں الحوثی قبیلے کے افراد کے خلاف استعمال کیا گیا تو عراق، شام، آدھا لبنان اور آدھا یمن اس کی مخالفت کرے گا۔ 
 
ایسے وقت جب عرب ممالک نے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بجائے تل ابیب کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں، کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ممکنہ مشترکہ عرب فورس کی تشکیل کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے غزہ میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم "حماس" کو نابود کرنا ہو، خاص طور پر جب مصر نے حماس اور القسام بریگیڈز کے نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں بھی شامل کئے ہوئے ہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 444711
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے