0
Friday 6 Mar 2015 22:18

یمن اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کا فارمولہ

یمن اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کا فارمولہ
تحریر: جعفر بلور

ایران میں عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے تقریباً 32 سال بعد اس الہی انقلاب کی نورانی امواج میں سے ایک موج شمالی افریقہ اور مشرق وسطٰی میں اسلامی بیداری کی لہر کی صورت میں نمودار ہوئی۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی طاقتوں نے خطے کی رجعت پسند عرب حکومتوں اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی مدد سے اسلامی بیداری کی اس تحریک کو ختم کرنے یا اپنی مطلوبہ سمت میں منحرف کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا اور اس مقصد کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے لگے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ تھے کہ کہیں انقلاب اسلامی ایران کی طرز پر ایک اور اسلامی انقلاب رونما نہ ہو جائے۔ البتہ یہ قوتیں گذشتہ 36 برس سے انقلاب اسلامی ایران کو بھی ختم کرنے یا اسے اپنے حقیقی اہداف سے منحرف کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور مغربی طاقتوں نے سکیورٹی اور اقتصاد سے متعلق ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی اور فریب، خوف ایجاد کرنے، دھمکیوں اور لالچ کے ذریعے خطے میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکوں کو دبانے کی کوشش کی اور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل کے ذریعے ان انقلابی تحریکوں کو بے اثر کرنا چاہا، تاکہ عارضی طور پر بھی خطے میں انقلابی فضا قائم نہ ہوسکے، لیکن حقیقت کیا ظاہر کرتی ہے۔؟
 
یمن، جزیرہ نما حجاز کے جنوب میں واقع ملک ہے، جو جیوپولیٹیکل اعتبار سے انتہائی اہم اور حساس مقام رکھتا ہے۔ یہ ملک خطے کے دوسرے ممالک کی طرح گذشتہ چند سالوں کے دوران بنیادی سیاسی تبدیلیوں کا شکار رہا ہے اور وہاں کے مسلمان عوام نے کٹھ پتلی آمر حکمران کو ملک سے نکال باہر کیا ہے، لیکن مغربی طاقتوں نے جس طرح دوسرے ممالک میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی تحریکوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، اسی طرح یمن میں بھی مسلمان انقلابی عوام کے خلاف بھرپور سازشوں کا آغاز کر دیا اور اس ملک میں اپنا سابقہ اثرورسوخ باقی رکھنے کیلئے پورا زور لگا رہی ہیں۔ ان کی پوری کوشش رہی کہ یمن کی انقلابی تحریک کو ختم کر دیں یا اپنے حقیقی اہداف سے ہٹا دیں، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود یمن میں اسلامی بیداری کی تحریک نہ صرف جاری ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر بڑی کامیابیاں بھی حاصل کرچکی ہے۔ یمن میں جنم لینے والی انقلابی تحریک کے اہداف و مقاصد بہت حد تک انقلاب اسلامی ایران سے ملتے جلتے ہیں۔ اگر ہم دونوں کے درمیان پائے جانے والے مشترکہ نکات کو ایک لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو وہ "استکبار دشمنی" ہوگا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یمن میں جاری انقلابی تحریک کی کامیابی کا راز بھی اسی لفظ میں پوشیدہ ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو خطے میں جنم لینے والی دوسری انقلابی تحریکوں میں یا تو بالکل نظر نہیں آیا یا اگر شروع میں اس کو اہمیت بھی دی گئی تو آہستہ آہستہ انقلابی رہنماوں نے اسے فراموشی کے سپرد کر دیا۔ 
 
یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یمن میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی تحریک کی کامیابی اور تیزی سے آگے بڑھنے کا راز کیا ہے؟ اور اس مالی اعتبار سے غریب ملک میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کیوں اہم ہے؟ ہم موجودہ تحریر میں انہیں سوالات کا مختصر انداز میں جواب دینا چاہتے ہیں۔ یمن کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کیلئے یہی کافی ہے کہ اس کے جنوب میں "باب المندب" نامی انتہائی اسٹریٹجک آبنائے واقع ہے۔ سعودی عرب، جس کی خطے میں تمام فتنہ انگیزیاں اور سازشیں خام تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے ڈالرز پر منحصر ہیں اور خام تیل کی پیداوار کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں، اپنی خام تیل کی تجارت اسلامی جمہوریہ ایران کے زیر کنٹرول آبنائے ہرمز کے بعد اسی آبنائے کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ اس نکتے کی جانب بھی اشارہ ضروری ہے کہ دنیا کا 30 فیصد خام تیل اسی آبنائے کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے اور سالانہ 21 ہزار چھوٹے اور بڑے بحری جہاز اور آئل ٹینکرز اس سے گزرتے ہیں۔ دنیا کے دو براعظموں ایشیا اور یورپ کے درمیان انجام پانے والی تجارت بھی 100 فیصد آبنائے باب المندب پر منحصر ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے بعد یمن کے انقلابی عوام کی جانب سے باب المندب کی آبنائے پر مکمل کنٹرول کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔؟
 
اس صورتحال کا کم از کم مطلب "سعودی عرب کی شاہرگ پر مکمل کنٹرول" نکلتا ہے۔ سعودی عرب کی مغرب نواز آل سعود رژیم جس کی تازہ ترین سازش جوہری مذاکرات میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مدد کیلئے خام تیل کی قیمت میں شدید کمی کرنا ہے، کی اقتصاد اسی آبنائے پر منحصر ہے۔ یہ یمن اور اس کے انقلاب کی اہمیت کا ایک چھوٹا سا گوشہ ہے۔ دوسری طرف الحوثی گروپ کے انقلابیوں کی کامیابیوں کا راز بھی کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں۔ یمن کے انقلابی اپنی کامیابی کا راز ایک چھوٹے سے بینر کی صورت میں ہمیشہ اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں۔ یہ بینر درحقیقت یمن کے انقلابی عوام کا منشور جانا جاتا ہے اور ان کے ہر مظاہرے اور اجتماع میں بے شمار تعداد میں نظر آتا ہے۔ اس منشور میں شامل دو بنیادی نکات "مردہ باد امریکہ" اور "مردہ باد اسرائیل" ہیں۔ 
 
یمن کے انقلابی عوام کی جانب سے اہلبیت سلام اللہ علیھا کے ساتھ اظہار عقیدت و محبت، امریکہ اور اسرائیل سے دوری اور انقلابی رہنماوں کی انتہائی درجہ سیاسی بصیرت ان کی کامیابی کی چند اہم وجوہات ہیں۔ یہ وہی عوامل ہیں جو خطے کے دوسرے عرب ممالک میں جنم لینے والی انقلابی تحریکوں میں موجود نہ تھے، جس کی وجہ سے انہیں نقصان برداشت کرنا پڑا اور اب بھی برداشت کر رہے ہیں۔ آیا مصر کے انقلابی عوام نے انہیں نعروں کے ذریعے فرعون مصر کو سرنگون نہیں کیا اور غاصب صہیونی رژیم کے سفارتخانے پر قبضہ نہیں کیا؟ آیا مصر میں جنم لینے والی انقلابی تحریک کی شکست کی بڑی وجہ انقلابی رہنماوں کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادی ملک سعودی عرب پر حد سے زیادہ اعتماد نہ تھا؟ مصر میں کیا تبدیلی آئی ہے جو اسرائیلی حکام آج مصر کی موجودہ فوجی ڈکٹیٹرشپ کو "اسرائیل کا نیا خزانہ" قرار دے رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ آج مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک اور اس کے قریبی افراد کو آزاد کر دیا گیا ہے اور اخوان المسلمین اور مصر کے انقلاب میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں کو قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔؟ 
 
اگر آج مصر کے مظلوم عوام دن دیہاڑے اور فٹبال میچ کے دوران اپنی ہی فوج کے ہاتھوں خون میں نہلا دیئے جاتے ہیں اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، تو یہ ماضی میں مصر کے انقلابی رہنماوں کی جانب سے امریکہ پر اعتماد کا ہی خمیازہ ہے، جو ان کی انقلابی عوام آج بھگت رہی ہے۔ اگرچہ خطے میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکوں کے زوال کی اور بھی وجوہات بیان کی گئی ہیں جو درست بھی ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان انقلابی رہنماوں کو انقلاب اسلامی ایران کی یونیورسٹی میں "دشمن شناسی" کا سبق پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وہ سبق ہے جو سید عبدالملک الحوثی اور سید حسن نصراللہ جیسی شخصیات نے اچھی طرح یاد کیا ہے اور اس کا امتحان بھی اعلٰی نمبروں سے پاس کیا ہے۔ 
 
البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کی اسٹریٹجک اہمیت اور اس ملک میں انقلاب کی کامیابی کے خطے اور دنیا پر ممکنہ گہرے اثرات کے باعث یمن کے انقلابی عوام اور رہنماوں کو ایک لمبی اور مشکل جدوجہد کا سامنا رہے گا۔ مغربی طاقتیں اور خطے میں ان کی پٹھو رجعت پسند عرب حکومتیں مشرق وسطٰی میں ایک اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کو ہرگز برداشت نہیں کریں گی اور اس کی تشکیل کے راستے میں روڑے اٹکاتی رہیں گی۔ یقیناً یمن کے انقلابی عوام کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یورپی یونین حال ہی میں یمن کے انقلابی عوام کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دے چکا ہے اور اپنے سفارتی تعلقات بھی قطع کرچکا ہے۔ اسی طرح رجعت پسند عرب ممالک نے بھی اپنے مغربی آقاوں کی پیروی کرتے ہوئے یمن سے سفارتی تعلقات توڑ کر اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اقتصادی پابندیوں کا حربہ شیطان بزرگ امریکہ کا ایک قدیمی ہتھکنڈہ ہے، جو اس نے ہمیشہ سے اپنے پلید اور منحوس شیطانی اہداف کے حصول کیلئے استعمال کیا ہے۔ دھمکیاں، دہشت گردی، جنگ، اقتصادی پابندیاں، مذہبی فتنہ انگیزی، خانہ جنگی کو ہوا دینا وغیرہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ایسے ہتھکنڈے ہیں جو وہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے مخالف ممالک کے خلاف بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔

یمن کے سابق صدر اور مغربی ممالک کے پٹھو عبد ربہ منصور ہادی بھی اپنے آقاوں کے اشارے پر سرگرم عمل ہوچکا ہے اور ملک کے اندر شیطانی چالیں چل رہا ہے۔ سعودی عرب بھی یمن میں موجود القاعدہ کے دہشت گردوں کو مالی اور فوجی مدد کے ذریعے اس ملک میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن یمن کے انقلابی عوام سیاسی اعتبار سے انتہائی باشعور اور بابصیرت ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت اور ثابت قدمی کے ذریعے مغرب کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یمن میں ایک اور اسلامی انقلاب اپنی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ انقلابی عوام نے "یمن قومی سکیورٹی کمیٹی" کو تشکیل دے کر ملک کو ایک بڑے سیاسی بحران سے نجات دلوا دی ہے۔ جب تک یمن کے انقلابی گروہ وسیع پیمانے پر عوامی حمایت، شجاع رہنماوں اور انقلابی منشور سے برخوردار رہیں گے، ان کے خلاف انجام پانے والی تمام سازشیں ناکامی کا شکار ہوتی رہیں گی اور یمن کا انقلاب شکست ناپذیر رہے گا۔ ان کے انقلابی منشور کی بنیاد "مردہ باد امریکہ" اور "مردہ باد اسرائیل" پر استوار ہے۔
خبر کا کوڈ : 445399
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب