0
Tuesday 31 Mar 2015 21:10

یمنی پناہ گزینوں پر اتحادیوں کے حملے اور حالات کا تقاضا!

یمنی پناہ گزینوں پر اتحادیوں کے حملے اور حالات کا تقاضا!
تحریر: طاہر یاسین طاہر

لاریب طاقت کے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ طاقتور اپنے رعب اور دبدبے کو چیلج کرنے والوں کو سبق سکھاتے آئے ہیں۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے۔ کالم اس بحث کا متحمل نہیں کہ طاقت وروں کو ہمیشہ اپنا رعب اور دبدبہ خطرے میں ہی کیوں نظر آتا ہے؟ مگر تاریخی حقیقت سے منہ موڑ کر ہم زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ کبھی مسلمانوں کے پاس بھی طاقت تھی،بڑا رعب اور دبدبہ تھا مگر تاریخ کے بوسیدہ اوراق ہمیں بتاتے ہیں کہ ان ’’طاقتوروں‘‘ کو بھی اپنا رعب اور جلال ہمیشہ خدشے اور خطرے میں نظر آتا تھا۔ ایک انجانا خوف ہمیشہ انھیں گھیرے رکھتا تھا۔ دراصل یہی خوف اس بات کی علامت ہے کہ اپنے رعب اور دبدبے کے ذریعے اپنی طاقت کو تسلیم کرانے والا ظالم ہے۔ اگر عادل ہوتا تو اپنے اور اپنے پیشرؤں کے اقدامات کا جائزہ لے کر زمینی حقائق کا ادراک کر لیتا۔ مگر طاقت کا نشہ انسانی عقلوں پر غالب آتا رہا ہے۔ موجودہ عہد میں بے شک طاقت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس ہے۔ امریکہ کے اصل اتحادی برطانیہ اور فرانس ہیں۔ باقی سب ان کے مہرے ہیں۔ خواہ وہ اسرائیل ہو یا کوئی عرب شیخ۔ اگرچہ اپنے ’’آقاؤں‘‘ کی طاقت کے سہارے یہ ’مہرے‘ بھی طاقت ور ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ امریکہ وہی کررہا ہے جو تاریخ ہمیں بتاتی ہے۔ اپنی طاقت کا اظہار اپنے مہروں کا استعمال۔ لہٰذا ہمیں موجودہ حالات کو بھی تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کا یہ کہنا ہے کہ یمن میں جاری کشیدگی اور حوثی قبائل کی پیش قدمی سے نہ صرف سعودی سالمیت کو خطرہ ہے بلکہ اس سے خانہ کعبہ اور روضہ رسول (ص) کو بھی خطرہ ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں الجھتے کہ سعودی عرب کی شہنشائیت بہت پہلے مقدس مقامات کی بے حرمتی کر چکی ہے اور یہ مقامات روضہء رسول (ص) سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں۔ مگر طاقت اور اس کے اظہار کا مظہر ہمیں بتاتا ہے کہ ’’ طاقت کے اپنے اصول، ضابطے اور عقائد‘‘ ہوتے ہیں۔ آج سعودی عرب کے آلِ سعود خاندان نے اپنی شہنشائیت کے خطرے کو مقدس مقامات کے ساتھ ’’نتھی‘‘ کر کے ایک بار پھر دین فروشی کا وہی وطیرہ دہرایا ہے جس کے لیے یہ ’’مشہور‘‘ ہیں۔ بے شک یہ نہ تو دین کی جنگ ہے نہ کسی مسلک کے مسلح اظہار کی بلکہ یہ خطے میں بالادستی کی جنگ ہے۔ اس بالادستی کی جنگ میں سعودی عرب کو اپنا وجود خطرے میں نظر آتا ہے تو وہ اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ عرب عوام آمرانہ حکومتوں کے خلاف جاگ اٹھے ہیں تو وہ شام کو اپنی پہلی شکار گاہ بنانا چاہتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ملتی، وہ بحرین میں کود پڑتا ہے، مگر طاقت کے بل بوتے وہ یہاں بھی کامران نہیں ہوا تو اس نے یمن کو آلیا۔ اس بار وہ اکیلا نہیں نہ ہی ’’سرد‘‘ ہے بلکہ اس نے یمن کے قبائل کے خلاف اپنی اور اپنے اتحادیوں کی فضائیہ کو حرکت میں لا کر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ خطے اور عالمِ اسلام کے قابلِ ذکر ممالک اس کے ساتھ ہیں۔

اسے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی حمایت بھی حاصل ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھی سعودی سرحدوں کے تحفظ کی یقین دھانی ہے۔ جب اتنی سارے ہاتھ کسی کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہوں تو اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہتا۔ یہی سعودی عرب کے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ابھار رہا ہے کہ یمن کی طرف سے مقدس مقامات پر حملوں کا خدشہ ہے۔ عالمِ اسلام میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص سعودی شاہی مسلک کے پیروکار ’’مفتیان کرام‘‘ اس لڑائی کو شیعہ سنی کی لڑائی کہہ رہے ہیں اور برملا اس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ایسا قطعی نہیں یہ کسی شیعہ یا سنی کی لڑائی نہیں، بلکہ یہ عربوں کا ایک اندرونی معاملہ ہے جسے ’’ مسلکی عصبیت ‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سعودیہ ابھی تک شاد ہے کہ اسے عرب لیگ اور پاکستان سمیت امریکہ و برطانیہ اور خطے میں اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ جو بھی کر گذرے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اسی ’’اعتماد‘‘ نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو اس قدر جارح بنا دیا کہ اب وہ پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھی حملے کرنے لگے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’یمن میں سعودی قیادت میں عرب اتحاد کے جنگی جہازوں کے حملے جاری ہیں اور شمال مشرقی یمن میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر ایسے ہی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر عدن میں حوثی قبائل اور سرکاری فوج کے مابین شدید لڑائی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ امدادی ادارے میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا کیمپ ملک کے شمال مشرقی صوبے حجہ میں واقع تھا اور اسے اتوار اور پیر کی درمیانی شب نشانہ بنایا گیا۔ ایم ایس ایف کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ادارے کے مینیجر پیبلو مارکو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ المزراک نامی کیمپ پر فضائی حملہ ہوا جس کے بعد 15 لاشوں اور 30 زخمیوں کو ہرادہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پیبلو مارکو نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے اوچا نے بھی پناہ گزینوں کے کیمپ کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق المزراک نامی کیمپ 2009 سے قائم ہے اور یہاں قبائل اور حکومت کی لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد مقیم تھے۔ ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دن میں یہاں 500 سے زیادہ خاندان پہنچے تھے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی اور دیگر عرب طیاروں نے حوثی باقبائل اور ان کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب کئی گھنٹے بمباری کی تھی۔ صنعا سے 150 کلو میٹر دور مشرق میں مارب کے علاقے کے علاوہ عدن اور الحدیدہ کے ساحلی شہروں کو بھی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے کہا ہے کہ وہ باغیوں کے ٹھکانے پر اس وقت تک حملے کرتے رہیں گے جب تک باغی ان علاقوں سے پیچھے نہیں چلے جاتے جہاں انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ یمن میں کام کرنے والے امدادی اداروں نے لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے اپیل بھی کی ہے۔ بی بی سی عربی سروس کے مطابق یمنی ہلال احمر نے اپیل کی ہے کہ الحوطہ شہر میں پھنسے شہریوں کی فوری مدد کی جائے جنھیں اس کی اشد ضرورت ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حوثیوں اور یمنی صدر ہادی کے حامیوں کے درمیان جنگ کی وجہ سے شہر میں گلیاں لاشوں سے بھری پڑی ہیں۔ حوطہ میں موجود ایک امدادی کارکن اور ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہاں کتے اور بلیاں مردہ جسموں کو کھا رہے ہیں۔

جنوبی شہر عدن میں بھی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں شناخت نہ ہونے والی کئی لاشیں پڑی ہیں۔ یمن میں فوجی فضائی حملوں کے بعد کئی مقامات پر امدادی کارروائی بند کر دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ امدادی ایجنسیوں کی ایک بڑی تعداد گذشتہ برس ستمبر میں صنعا پر حوثی قبضے کے بعد وہاں سے چلی گئی تھی۔‘‘ انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کی گہری خاموشی اپنی جگہ ایک اور تکلیف دہ بات ہے مگر اقوامِ متحدہ بھی ایک ادراہ ہے جو اقوامِ عالم کے حقوق کا محافظ ادارہ ہے۔ کیا اسے کبھی توفیق ہو گی کہ وہ آگے بڑھے اور یمنی پناہ گزینوں پر کی جانی والی بمباری پر کوئی ہنگامی اجلاس بلائے؟ ایک تنظیم او آئی سی بھی ہوا کرتی ہے کیا اس پر لازم نہیں کہ وہ آگے بڑھے اور اس تنازع کا کوئی ’’معقول‘‘ حل نکالے؟ کیا پاکستان پر یہ لازم نہیں کہ اس نازک موقع پر فریق بننے کے بجائے ثالث کا بڑا کردار ادا کرے؟ بے شک پاکستان کا یہی کردار بنتا ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے۔ پاکستان اگر اس جنگ میں ثالث کے بجائے فریق بنتا ہے تو اسے پاکستان کی ناکام ترین خارجہ پالیسی کا ایک اور ناکام ترین مگر داغدار فیصلہ کہا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 451223
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب