1
Friday 3 Apr 2015 14:07

عالمی سیاست کے مفروضے اور معروضی حقائق

عالمی سیاست کے مفروضے اور معروضی حقائق
تحریر : عرفان علی
irfanali1973@hotmail.com
نوٹ: یہ تحریر 24 مارچ کو صبح کے وقت لکھی گئی تھی۔ سعودی اتحاد کی یمن پر فضائی بمباری یا فوجی جارحیت اگلے دن ہوئی

اب تک عالمی سیاست پر جتنا بھی میرا مطالعہ ہے، اس کی بنیاد پر میں یہ وثوق سے لکھ سکتا ہوں کہ زیادہ تر افراد کی تحریر و تقریر میں یا تو معروضی حقائق کو نظر انداز کردیا دیا جاتا ہے یا پھر زاویہ نظر درست نہیں رکھا جاتا۔ خاص طور پر پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی نقالی کرتے ہوئے کھوکھلے مفروضوں کی بنیاد پرحالات و واقعات کا تجزیہ و تحلیل پیش کیا جاتا ہے۔ فی الوقت ہم اس تحریر کو چند موضوعات تک محدود رکھیں گے اور سرفہرست ایران اور روس پر بات ہوگی۔ ایک روزنامہ کے ادارتی صفحہ پر 23 مارچ 2015ع کو ایک مقالہ شایع ہوا ۔’’ ایران کے ساتھ امریکا کا ممکنہ ایٹمی معاہدہ‘‘ کے لکھاری نے آخر میں یہ غلط تاثر پیش کرنے کی کوشش کی کہ امریکا ایران سے معاہدہ اس لئے کررہا ہے کہ وہ مشرق وسطی ٰ کے شورش زدہ ماحول سے نکل کر یورپ میں روس کے بڑھتے ہوئے خطرے پر اپنی زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز رکھ سکے۔ حالانکہ وہ خود ہی اس تحریر میں ایرانی وزیر خارجہ کا یہ جملہ لکھ چکے تھے کہ ایران کا معاہدہ امریکا سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے 5 مستقل اراکین اور جرمنی سے ہوگا، یعنی ایران ایک فریق ہے اور گروپ پانچ جمع ایک (یا با الفاظ دیگر ای تھری پلس تھری) مل کر دسرا فریق ہے۔ پھر انہوں نے اس پورے خطے کا ایک ایسا غلط نقشہ بناکر پیش کیا کہ افغانستان سے بحرین، لبنان، یمن، عراق سمیت پورے مشرق وسطی ٰمیں گویا ایران ہی امریکا کا اتحادی نظر آئے! چہ عجب۔ معروضی حقیقت یہ ہے کہ بحرین، قطر، سعودی عرب، اردن سمیت مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو امریکا کے اتحادی تھے، ان سب کے حکمرانوں نے افغانستان پر نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں کھل کر ساتھ دیا تھا اور اگر کھوکھلے مفروضوں کے بجائے نیٹو ایساف فورسز کے اتحادی ممالک کی فہرست ہی دیکھ لی جاتی تو زیادہ بہتر تھا۔ کوئی افغانستان میں بنفس نفیس موجود تھا جیسا کہ ترکی، اردن وغیرہ۔ کسی کی موجودگی تعداد کے اعتبار سے کم تھی جیسا کہ بحرین لیکن قطر اور سعودی عرب میں امریکیوں نے اڈے بناکر یہ جنگ لڑی تھی۔ سیٹلائٹ رابطہ کے ذریعے عربی جملوں کا ترجمہ سعودی امریکی اڈے سے کیا جاتا تھا کیونکہ جن دہشت گردوں کو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے خود ایجاد کیا تھا، ان کے بارے میں وہ زیادہ باخبر تھے۔

مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ ماحول میں جو داعش کے وجود سے پہلے اور اب بھی جعلی ریاست اسرائیل زیادہ خطرناک ہے۔ اس نسل پرست دہشت گرد غاصب و ناجائز ریاست اسرائیل سے لڑنے والوں کا نام ہے حماس، حزب اللہ، حزب جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف آرمی، یہ سبھی ایران کی اتحادی ہیں اور اپنے مادر وطن پر صہیونی قبضے کے خلاف جنگ آزادی یا مزاحمت میں مصروف ہیں اور سال 2015ع میں بھی حزب اللہ اور ایران کی قدس فورس اور صہیونی نسل پرست دہشت گرد فوج کے مابین جنگ جاری ہے۔ حزب اللہ اور پاسداران کے کئی کمانڈرز اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں۔ جوابی حملے میں اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ یہ تازہ ترین صورتحال ہے۔ ایران کا موقف تو واضح تھا اور ہے، اس کو کھوکھلے مفروضے کیسے غلط ثابت کرسکتے ہیں جبکہ حقائق خود بول رہے ہیں۔ اب روس کا جائزہ لیں کہ کیا روس نے سوویت یونین کے سقوط کے بعد اب تک عالمی سیاست میں امریکا کو کہیں چیلنج کیا ہے؟ اس کا موازنہ ایران سے کرلیں کہ 1979ع کے انقلاب سے اس نے لاشرقی لاغربی کا نعرہ متعارف کروایا۔ یعنی مشرق و مغرب کے سامراج سے لاتعلقی کا اظہار، نہ تو وہ سرمایہ دارانہ بلاک کا رکن بنا اور نہ ہی سوویت سامراج کا۔ جی ہاں! سوویت یونین بھی امریکا و برطانیہ کی طرح استعماریت کو جائز سمجھنے والا ملک تھا۔ ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں تو کیا اقوام متحدہ میں روس نے امریکا کا ساتھ دیا یا ایران کا؟ اگر روس امریکا کا ساتھ نہ دیتا تو ایران پر پابندیاں نہ لگتیں اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف روس بھی امریکا کا ہی اتحادی رہا حالانکہ بوشہر میں ایران کا ایٹمی بجلی گھر روس ہی کا تعمیر کردہ ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ شام کے مسئلے پر روس ایران کی پالیسی کی حمایت کررہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امریکی اتحادیوں کے مقابلے میں روس اور ایران نزدیک ہوئے ہیں۔ روس مصر میں بھی ماضی کی طرح اتحادی بننا چاہتا ہے لیکن ہنوز دلی دور است۔ شام بھی ماضی میں روس کا اتحادی تھا لیکن عرب ممالک میں جو بھی روس کے اتحادی تھے، وہ اسرائیل کے خلاف کوئی جنگ حتمی طور پر نہیں جیت سکے اور ان سے اگر ایران کے اتحادی فلسطینیوں اور لبنان کی حزب اللہ کا موازنہ کریں تو یہ چھوٹی چھوٹی مزاحمتی تحریکیں زیادہ موثر طور پر قابض و جارح اسرائیلی افواج پر حملہ آور ہیں۔ روس کو امریکا نے کس طرح اپنے دام میں پھنسایا، اس کی روداد بش دور کی وزیر خارجہ کونڈی رائس اور اوبامہ دور کی پہلی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتابوں میں تفصیل سے بیان کردی ہیں۔ اگر ان حقائق کا مطالعہ کرلیا جاتا تو شاید احمقانہ مفروضوں میں وقت ضایع کرنے کے بجائے کوئی اچھی اور ٹھوس تحریر لکھی جاسکتی تھی۔

ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بہت سے مفروضے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے پھیلائے گئے۔ مثال کے طور پر چابہار کی بندرگاہ کو پاکستان میں ایک حریف بناکر پیش کیا گیا۔ روزنامہ پاکستان کے ایک بوڑھے مفروضہ ساز کالم نگار نے جھوٹ کی انتہا کردی کہ پاکستان کے خلاف امریکی اسرائیلی بھارتی اتحاد میں ایران کو بھی شامل کرلیا۔ اگر کوئی عقل کا اندھا نہ ہو تو اسے معلوم ہوگا کہ امریکا اور بھارت کا قریب ترین اتحادی سعودی عرب ہے اور شاہ عبداللہ نے 2005ع میں بھارتی دورے پر انڈیا کو اپنا دوسرا ملک قرار دیا اور 1950ع کے عشرے سے بھارت کو سعودی تیل فروخت کیا جارہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں اور بھی کئی امریکی اتحادی ممالک ہیں جوبھارت کو تیل فروخت کررہے ہیں۔ جہاں تک بندرگاہ کی بات ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان سے بین الاقوامی تجارت پر جو بھی بحری جہاز روانہ ہوتا ہے اس کے دو اسٹاپ ہوتے ہیں یا تو یہ پہلے عمان کی بندرگاہ پر جائے یا پھر بھارت کی ناوا شیوا بندرگاہ پر۔ یعنی کراچی کی بندرگاہ سے الٹے ہاتھ پر سمندری سفر کیا جائے تو بھارت ہے اور پہلے بمبئی کی بندرگاہ آتی ہے اور اس کے بعد نھوا شیوا بندرگاہ۔ سیدھے ہاتھ پر سفر کیا جائے تو ایران ہے اور ایران کے سامنے عمان ہے جو اس طرف سے خلیج فارس پر واقع ہے اور دوسری جانب سے یہی سمندر اس کو یمن سے ملاتا ہے۔ بھارت امریکا اتحاد میں اگر سعودی عرب کو رکھا جاتا تو زیادہ اچھا مفروضہ بنتا۔ نہ تو پاکستان اور نہ ہی ایران کی چابہار بندرگاہ سے کوئی بین الاقوامی تجارت براہ راست ممکن ہوسکتی ہے۔ پھر یہ کہ چابھار بندرگاہ چھوٹی بندرگاہ ہے۔ مسقط (عمان) کو بھی دشمن نہیں کہا جاتا حالانکہ گوادر پر اس کا دعویٰ رہا ہے، اس سے تھوڑا آگے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ بھی ہے، اس پر بھی خاموشی؟۔

امریکا سعودی تعلقات خفیہ نہیں ہیں اور نہ ہی امریکا اسرائیلی اتحادیوں کا ایجنڈا۔ حقیقت یہی ہے کہ دانستہ طور پر سچ کو جھوٹ اور غلط کو صحیح بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ جھوٹ کی آمیزش بھی کی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کو حقیقت کی زبان سے سنا جائے اور بیان کیا جائے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکی بلاک کے مقابلے میں ایرانی بلاک وجود رکھتا ہے۔ سامراج دشمن لاطینی امریکی ممالک بھی ایران کے اتحادی اور دوست ہیں۔ وینزویلا، کیوبا، بولیویا وغیرہ ایران کے موقف کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ ارجنٹینا کی خاتون صدر نے اپنے ملک میں دہشت گردی میں امریکی اداروں کو ملوث قرار دیا۔ یہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا پروپیگنڈا ہے جو مسلم ممالک میں پھیلایا جاتا ہے کہ ایران خطرہ ہے یا دہشت گرد ہے۔ ورنہ اصل خطرہ اسرائیل ہے اور داعش بھی امریکی اسرائیلی ایجاد ہے۔ امریکا داعش کو ختم کرنے نہیں آیا اور امریکا کے داعش مخالف اتحاد میں ایران نہیں بلکہ سعودی عرب، بحرین، ترکی وغیرہ شامل ہیں جو دنیا اور عراقی کردوں کو بے وقوف بنانے کے لئے صحرا میں بمباری کررہے تھے اور اسلحہ و خوراک داعش کے علاقوں میں گرارہے تھے۔ تھوڑا سا مطالعہ وسیع کرکے اگر لکھا جاتا تو شاید کچھ بہتری نظر آتی۔ عراق میں ایرا ن کو عراقی حکومت اور کرد علاقائی حکومت نے مدد کے لئے بلایا ہے نہ کہ امریکی اتحاد نے۔ مفروضوں کو میڈیا وار میں ہتھیار کا درجہ حاصل ہوچکا ہے اور اس نوعیت کے بے بنیاد کھوکھلے مفروضوں سے نہ تو صحافت کی کوئی خدمت ہورہی ہے اور نہ ہی ملک و قوم کی۔لازم ہے کہ اس سے گریز کیا جائے۔

(پس تحریر: اب یمن جنگ کو دیکھ لیں اور خود فیصلہ کرلیں کہ کون کس کا اتحادی ہے؟)
خبر کا کوڈ : 451712
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے