0
Thursday 11 Jun 2015 23:35

بھارت اسرائیل تعلقات، ایک مختصر جائزہ

بھارت اسرائیل تعلقات، ایک مختصر جائزہ
تحریر: محمد جواد سلطانی
(پی ایچ ڈی تعلقات عامہ)

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سرد جنگ کے بعد جنم لینے والی فضا، جس میں دنیا دو بلاکس یعنی مشرقی اور مغربی بلاکس میں تقسیم ہوگئی، بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے پھیلاو میں موثر واقع ہوئی۔ NAM میں اپنا کردار کمزور ہو جانے کے بعد بھارت کا مغرب کی طرف رجحان بڑھ گیا اور اس کی خارجہ سیاست میں اسرائیل کی اہمیت بھی برھتی چلی گئی۔ یوں عرب ممالک کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے تناظر میں بھارت سے متعلق مثبت نقطہ نظر بھی کمزور ہوتا چلا گیا اور ان کی طرف سے ردعمل کے طور پر مختلف اقدامات سامنے آنا شروع ہوگئے۔ بھارت کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کی تاریخ مقبوضہ فلسطین میں اس غاصب رژیم کی تشکیل کے آغاز تک جا پہنچتی ہے۔ یہودی ایجنسی کی جانب سے 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں بھارت کے 1 لاکھ سے زائد یہودی باشندوں کو اسرائیل کی جانب کوچ کرنے پر مجبور کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود جب 1949ء میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کو خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے بارے میں ووٹنگ ہوئی تو بھارت نے اس کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ قوم پرست ہندو گروہوں نے حکومت کی جانب سے مخالف ووٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی تشکیل کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

انڈیا نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی تشکیل کے دو سال بعد 17 ستمبر 1950ء میں اسے قبول کر لیا، جس کے فوراً بعد یہودی ایجنسی نے ممبئی میں اپنا امیگریشن دفتر کھول لیا، جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے "ٹریڈ اینڈ کاونسلنگ سینٹر" رکھ دیا گیا۔ حالیہ چند سالوں کے دوران بھی بھارت کے شمال مشرقی حصوں سے بڑی تعداد میں یہودی اسرائیل کوچ کرچکے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے ایکدوسرے کے ساتھ دوطرفہ سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی غرض سے 1992ء میں دونوں ممالک کے سفارت خانے کھول دیئے گئے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تیزی سے ترقی ہوئی۔ بھارت میں رہنے والے یہودی ایک لمبے عرصے سے پرامن اور پرسکون انداز میں زندگی گزار رہے تھے۔

تعلیم کا لبرل نظام، انگلش زبان، برطانوی استعمار کی تاریخ، علم پر استوار صنعت اور فنی انسانی قوت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار کے حامل رہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بھرپور سفارتی تعلقات کے قیام کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر 2012ء میں بھارت کے وزیر خارجہ کریشنا نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، انرجی، زراعت اور انسانی قوت سے متعلق بات چیت اور معاہدے انجام پائے۔ اسی طرح بھارت کی طرف سے یروشلم میں واقع ایک تجارتی مرکز کو دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کی مدد بھی فراہم کی گئی۔ اس بات کا جائزہ لینے سے پہلے کہ دونوں ممالک کے درمیان کن کن میدانوں میں تعلقات بہتر ہوئے ہیں، ان تعلقات کی بہتری کی وجوہات اور ان کے سامنے موجود رکاوٹوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بھارت اور اسرائیل خود کو ایسی محصور جمہوریتیں تصور کرتے ہیں جنہیں دہشت گردی کی تربیت، مالی امداد اور فروغ دینے والے اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ لہذا دونوں ممالک اپنے درمیان دوطرفہ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کو وقت کی اہم اسٹریٹجک ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بھارت کے اسٹریٹجک اہداف میں سے ایک وسطی ایشیا میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانا ہے، جس کیلئے اسے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ شدید رقابت کا سامنا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل وسطی ایشیائی ممالک خاص طور پر ازبکستان میں بہت گہرا اثرورسوخ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے اسلامک کانفرنس تنظیم او آئی سی میں رکنیت حاصل کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی تھیں۔ بھارت اور اسرائیل کی قربت کا باعث بننے والا دوسرا اہم ایشو "دہشت گردی" کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل فلسطینی گروہوں کی جانب سے اپنے خلاف انجام پانے والے اقدامات کو دہشت گردی قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت کو بھی اسلامی شدت پسندی کا سامنا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی مشترکہ سرحدیں ایسے عرب ممالک سے ملتی ہیں جن کے ساتھ اس کے تعلقات مسئلہ فلسطین کے تناظر میں شدید تناو کا شکار ہیں۔ لہذا اسرائیل بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھا کر خطے میں گوشہ نشینی کی حالت سے باہر آنا چاہتا ہے۔

ان تمام مشترکہ نکات کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کچھ رکاوٹیں بھی موجود ہیں، جن کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں کا مختلف ہونا ہے۔ بھارت، ناوابستہ تحریک (NAM) کا بانی رکن ملک ہونے کے ناطے مشرقی ممالک خاص طور پر عرب ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، جبکہ اسرائیل نے اپنی خارجہ پالیسی میں امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک سے تعلقات استوار کرنے کو پہلی ترجیح بنا رکھا ہے۔ اسی طرح بھارت میں بسنے والی عظیم مسلم آبادی مسئلہ فلسطین اور قدس شریف سے خاص عقیدت اور لگاو رکھتی ہے اور بھارت اسرائیل تعلقات میں اہم رکاوٹ تصور کی جاتی ہے۔ بھارتی حکومت کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات میں زیادہ آگے چلی جاتی ہے تو وہ ملک میں موجود 10 کروڑ سے زائد مسلمان آبادی کی حمایت کھو سکتی ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ امر مسلمان ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ بہرحال، بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا فروغ اب تک زیادہ تر اقتصادی، زراعتی، علمی اور فوجی میدانوں میں انجام پایا ہے، جس کی طرف آگے چل کر مزید روشنی ڈالیں گے۔

بھارت اسرائیل فوجی تعلقات:
اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی فروخت، اسرائیلی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت کی حامل ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں فوجی سازوسامان بنانے والے 150 کارخانے موجود ہیں، جن میں بننے والے اسلحہ و دیگر فوجی سازوسامان کی فروخت سے اسرائیل کو تقریباً 5.3 ارب ڈالر آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر اسرائیل کی آمدنی میں بہت حد تک کمی واقع ہوگئی اور وہ اپنے اسلحہ و فوجی سازوسامان کی فروخت کیلئے نئے گاہکوں کی تلاش میں چل نکلا۔ دوسری طرف بھارت 1999ء میں کشمیر اور کارگل کے محاذوں پر پاکستان سے فوجی ٹکراو کا شکار تھا۔ لہذا اس نے اسرائیل سے اسلحہ خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار ہونے کی وجہ سے بھارت کو اس کام میں آسانی ہوئی اور اس نے اسرائیل سے 6.1 ارب ڈالر کا اسلحہ و فوجی سازوسامان خریدنے کا معاہدہ کر لیا۔ 2006ء تک بھارت اسرائیل سے 4.4 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ و فوجی سازوسامان خرید چکا ہے۔ اسرائیل نے بھارت کو اس قدر اسلحہ و فوجی سازوسامان بیچا کہ اسرائیل دنیا میں اسلحہ بیچنے والے ممالک کے درمیان پانچویں نمبر پر آگیا اور روس کے بعد بھارت کو اسلحہ بیچنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا۔ 2008ء میں ممبئی میں دہشت گردانہ اقدامات انجام پائے، جس کے بعد بھارت نے اپنا فوجی و دفاعی بجٹ بڑھا دیا اور اسرائیل سے زیادہ اسلحہ و فوجی سازوسامان خریدنے لگا۔ 2013ء میں اسرائیل کا ایک اعلٰی سطحی فوجی وفد بھارت آیا، جس سے بھارتی حکام نے اپنی مسلح افواج کی ٹریننگ اور انہیں جدید ہتھیار فراہم کرنے کیلئے 3 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ طے کیا۔ لیکن اسرائیل اور امریکہ کو یہ پریشانی بھی لاحق ہے کہ ایران کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے کہیں جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی ایران منتقل نہ ہو جائے۔

بھارت اسرائیل اقتصادی تعلقات:
بھارت اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی تعلقات میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان انجام پانے والی تجارت 1992ء میں 20 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2011ء میں 19.5 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ مغربی دنیا میں رونما ہونے والے اقتصادی بحران کے نتیجے میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی تجارت میں صرف 3.14 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی موازنہ، اسرائیل کے حق میں 573 ملین ڈالر رہا ہے۔ 2013ء کے ابتدائی 9 ماہ میں دونوں ممالک کے درمیان انجام پانے والی تجارت کی مالیت 24.3 ارب ڈالر تھی۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ کا معاہدہ ہو جانے کی صورت میں دوطرفہ تجارت سالانہ 150 ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔ اس معاہدے کے انعقاد کیلئے انجام پانے والے مذاکرات کا آٹھواں دور نومبر 2013ء میں اسرائیل میں منعقد ہوا۔ 2010ء میں بھارت دنیا میں اسرائیل کا چھٹا بڑا تجارتی شریک اور اسرائیل سے درآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک تھا۔ بھارت سے اسرائیل درآمد ہونے والی اشیاء میں قیمتی پتھر، دھاتیں، کیمیکلز، معدنیات اور صنعتی آلات شامل ہیں۔ بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں اسرائیل کا نمبر 38 ہے۔ صرف 2011ء میں بھارت میں اسرائیل نے 60 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اسی طرح اسرائیل سے بھارت درآمد ہونے والی اشیاء میں کلین انرجی ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، جدید آبپاشی کی تنصیبات اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔

علمی – ٹیکنالوجیکل تعاون:
بھارت اور اسرائیل کے درمیان علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون دو بنیادی معاہدوں کے تحت انجام پا رہا ہے۔ 1993ء میں دونوں ممالک میں علمی – ٹیکنالوجیکل تعاون کیلئے معاہدہ انجام پایا۔ اسی طرح 2005ء میں بھی دونوں ممالک کے درمیان انڈسٹریل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے عنوان سے ایک اور معاہدہ منعقد ہوا۔ 2006ء میں اس معاہدے پر عملدرآمد شروع ہوگیا، جس کے نتیجے میں سات بڑے پراجیکٹس کا آغاز کر دیا گیا۔ 2013ء میں بھی بھارت اور اسرائیل نے اپنی سرزمین میں صنعتی مراکز کی مالی مدد کا معاہدہ انجام دیا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں کلین انرجی ٹیکنالوجی، انڈسٹریل آبپاشی، میڈیکل کیئر اور انجینئرنگ سے متعلق آلات شامل ہیں۔

تعلیمی میدان میں تعاون:
بھارت اسرائیل تعلقات کا ایک پہلو علمی اور تعلیمی تعاون پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک کی یونیورسٹیز میں ایکدوسرے کی شناخت کیلئے مخصوص کورس پڑھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹیز کے پروفیسرز کا تبادلہ بھی اس تعاون میں شامل ہے۔ 2013ء میں دونوں ممالک نے علمی تحقیقات انجام پانے کیلئے ایک مشترکہ فنڈ کا افتتاح کیا جو پہلے مرحلے میں سوشل سائنسز سے مخصوص کیا گیا۔ یہ فنڈ پانچ سال کیلئے بنایا گیا اور ہر ملک نے سالانہ 5 ملین ڈالر اس فنڈ میں عطیہ دیا۔ اس معاہدے کے تحت علمی – تحقیقاتی پراجیکٹس کو تین سال تک 3 لاکھ ڈالر تک فنڈز مہیا کئے گئے جبکہ 1 لاکھ 80 ہزار ڈالر نظریاتی پراجیکٹس کو دیئے گئے۔ 2012ء سے اسرائیل نے بھارت کے اسٹوڈنٹس کو پوسٹ ڈاکٹریٹ کورس کیلئے تل ابیب، حیفا، ہیبرو اور بن گورین یونیورسٹیز میں اسکالرشپ بھی دیئے۔ بھارت نے بھی اسرائیلی اسٹوڈنٹس کو ایسی ہی سہولیات مہیا کیں۔

نتیجہ:
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سرد جنگ، جس میں دنیا دو بڑے بلاکس یعنی مشرقی اور مغربی بلاکس میں تقسیم ہوگئی، کے بعد بھارت اور اسرائیل کے تعلقات میں تیزی سے ترقی آئی ہے۔ ناوابستہ تحریک میں اپنا کردار کم رنگ ہو جانے کے بعد بھارت کا رجحان زیادہ تر مغرب کی جانب ہوگیا، جس کے باعث اس کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اسی وجہ سے عرب ممالک کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے بارے میں بھارت کے بارے میں مثبت نقطہ نظر میں بھی کمی واقع ہوئی اور بعض عرب ممالک نے بھارت کے خلاف ردعمل بھی ظاہر کیا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 466181
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب