0
Monday 15 Jun 2015 21:28

سعودی عرب، فیصلہ کن طوفان کے بعد

سعودی عرب، فیصلہ کن طوفان کے بعد
تحریر: احمد رضا

یہ پہلی بار نہیں کہ یمن اپنے شمالی ہمسایہ ملک کی جانب سے فوجی جارحیت کا نشانہ بنا ہے، بلکہ سعودی حکومت اس سے قبل بھی کئی بار مختلف انداز میں سرزمین یمن کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا چکی ہے۔ 1934ء میں آل سعود رژیم نے یمن کے خراب اندرونی حالات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے شمال مشرق میں واقع تین صوبوں، نجران، جیزان اور عسیر پر قبضہ کرکے انہیں یمن سے جدا کر دیا۔ اسی طرح 2010ء اور اب 2015ء میں سعودی حکومت نے یمن پر حملہ کر دیا۔ اس دوران سعودی حکومت بارہا یمن کے ڈکٹیٹر حکمرانوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کی حمایت کرتی آئی ہے۔ ماضی میں بھی سعودی عرب سے تکفیری وہابی دہشت گردوں کی بڑی تعداد نے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا پر دھاوا بول کر ہزاروں بیگناہ شیعہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو اپنے ہی خون میں نہلا دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سعودی حکومت کی جاہ طلبی اور اقتدار کی ہوس صرف یمن تک ہی محدود نہیں بلکہ گذشتہ لمبے عرصے سے مشرق وسطٰی میں موجود دوسری عرب ریاستوں کو بھی نشانہ بنا چکی ہے۔ آل سعود رژیم اپنے ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ کئی تنازعات کا شکار ہے اور اب تک ان کے ساتھ انجام پانے والا کوئی بھی معاہدہ ان تنازعات کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

درحقیقت یہ صورتحال خام تیل کی پیداوار سے حاصل ہونے والی عظیم آمدن کا نتیجہ ہے، جو عالمی استکباری قوتوں کی گود میں ڈالی جا رہی ہے اور ان کی مدد سے مسلمانوں کے عظیم قدرتی ذخائر کی لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی استکباری قوتیں آل سعود رژیم کی مکمل حمایت اور پشت پناہی میں مصروف ہیں اور اسے بڑے پیمانے پر جدید فوجی ہتھیار اور اسلحہ فراہم کر رہی ہیں۔ سعودی حکومت اسی حمایت کے نتیجے میں خود کو عرب دنیا کی سربراہ بلکہ عالم اسلام کی سربراہ حکومت خیال کرتی ہے اور اس دعوے کے ساتھ کسی ظالمانہ اقدام سے دریغ نہیں کرتی۔ لیکن ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کے بقول جب دنیا کی دوسری بڑی مسلح فوج کا دعویٰ کرنے والی اسرائیل آرمی، اپنے جدید ترین اور مہلک ترین ہتھیاروں کی مدد سے محاصرے کا شکار مظلوم فلسطینی قوم کے خلاف چھوٹی سے چھوٹی کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہوگئی تو سعودی عرب کی کرائے پر پلنے والی نالائق فوج کس طرح یمن کے خلاف فوجی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔؟

چونکہ یمن کے خلاف شروع ہونے والی سعودی جارحیت اپنا قانونی جواز کھو چکی ہے، لہذا یہ جنگ جس قدر طولانی ہوتی جائے گی، اسی قدر سعودی حکومت کی بڑی اسٹریٹجک غلطی شمار کی جائے گی۔ لہذا آل سعود رژیم کے پاس اس وقت انتہائی محدود آپشن ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ وہ ایک یا چند ممالک کی ثالثی کے ذریعے اس جنگ سے عزت مندانہ انداز میں باہر آجائے یا دوسری صورت میں اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلئے اس بزدلانہ جنگ کو مزید شدت بخشتے ہوئے یمن میں مسلمانوں کی قتل و غارت کا بازار مزید گرم کر دے اور اس طرح یمن کو تباہ و برباد کرکے اپنی ناکامیوں، ذلت اور تحقیر کا بدلہ لے لے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ یمن میں جنم لینے والی عوامی انقلابی تحریک کسی صورت میں سعودی عرب کیلئے خطرہ ثابت نہیں ہوسکتی تھی۔ دوسرا یہ کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت انتہائی غیر منصفانہ اور بزدلانہ جنگ ہے، جس کا اب تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آسکا اور اس جنگ کا انجام جارح قوت کی شکست کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ یہ جنگ سعودی جارح حکومت کیلئے انتہائی منفی اثرات و نتائج کا باعث بنے گی۔ یمن کے خلاف سعودی عرب کی شروع کی گئی جنگ کے چند اہم ترین نتائج اور اثرات درج ذیل ہیں:

1)۔ سعودی عرب کی حتمی شکست:
یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی شکست یقینی اور حتمی امر ہے۔ اس دعوے پر کئی دلیلیں موجود ہیں, جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
الف)۔ سعودی عرب کی مسلح افواج، اپنے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ اور جنگی سازوسامان ہونے کے باوجود غیر ملکی مشیروں اور کرائے کے فوجیوں کی مدد کے بغیر ایک لمبی اور تھکا دینے والی جنگ میں اسے بروئے کار لانے سے قاصر ہیں۔
ب)۔
سعودی فورسز میں جنگ کا جذبہ، تجربہ، شجاعت اور زمینی، ہوائی اور سمندری جنگ لڑنے کیلئے درکار دوسری شرائط کا فقدان پایا جاتا ہے۔
ج)۔ یمن کے شمالی حصوں اور دوسرے سرحدی صحرائی علاقوں میں سعودی مخالف قبائل کی موجودگی، یمن کی شمال مشرقی سرحدوں پر انصاراللہ کا مکمل کنٹرول اور یمن کے جنوبی ساحل سمیت دوسرے سرحدی علاقوں میں یمن آرمی اور انصاراللہ یمن کی موجودگی نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف کسی قسم کی زمینی کارrوائی کو تقریبا~ ناممکن بنا دیا ہے۔
د)۔ سعودی عرب کی روایتی فوج گوریلا جنگ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور ایسی جنگ میں شدید نقصانات کا شکار ہوسکتی ہے۔

2 سعودی عرب کو شدید نقصانات کا امکان:
یہ جنگ کرائے کے فوجیوں اور انتہائی مہنگے جنگی سازوسامان کے استعمال کی بدولت سنگین مالی اخراجات کے علاوہ سعودی عرب کیلئے شدید نقصانات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اگر یمن کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا دائرہ کار بڑھ جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں سعودی عرب کے فوجی اڈے، آئل ریفائنریاں، خام تیل کے ذخائر، بندرگاہیں اور دوسری اہم تنصیبات انصاراللہ یمن کے میزائل حملوں کی زد میں ہوں گی اور ان پر حملہ سعودی عرب کیلئے شدید اقتصادی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ امر ملک میں عوامی سطح پر ناراضگی اور اعتراضات کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
3 اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کے خلاف جنگ کی شدت بڑھنے سے خطے سے انرجی کی حامل اشیاء کی آمد و رفت بھی شدید متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔ یہ امر تیل کی بین الاقوامی منڈی کو متاثر کرسکتا ہے, جس کے نتیجے میں مغربی ممالک ایک بڑے بحران کا شکار ہوسکتے ہیں اور انہیں شدید اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

4یہ وحشیانہ اور ظالمانہ جنگ آل سعود رژیم کے استکباری اور غیر انسانی چہرے سے پردہ ہٹنے کا باعث بنے گی اور اسلام اور بشریت کے حقیقی دشمنوں کے ساتھ اس کی وابستگی اور گٹھ جوڑ کو عیاں کر دے گی, جس کے نتیجے میں اسلامی دنیا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں آل سعود رژیم کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا۔ لہذا یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا نتیجہ دنیا میں آل سعود حکومت کy گوشہ نشین ہو جانے اور اس کے سیاسی زوال کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ یمن پر وحشیانہ بمباری، بیگناہ انسانوں کے قتل عام اور ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی بنا پر سعودی حکام کو جنگی مجرم قرار دے کر ان پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کا امکان بھی ہے۔

5یمن کے خلاف سعودی جنگ کی ناکامی کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے, جس کی بنا پر نہ صرف سعودی حکومت اس جنگ سے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر پائے گی بلکہ جدید سعودی حکمرانوں کی نالائقی اور کم عقلی کھل کر سامنے آجائے گی, جس کے باعث اندرونی سطح پر سعودی شہزادوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات میں شدت آئے گی اور ملک میں خانہ جنگی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ دوسری طرف سعودی جارحیت کا نشانہ بننے والے ملک یمن میں مختلف قبائل کے درمیان اتحاد اور وحدت کی راہ ہموار ہوچکی ہے اور تقریباً تمام یمنی قبائل آل سعود رژیم کے خلاف متحد نظر آرہے ہیں۔ اسی طرح عالمی رائے عامہ بھی سعودی حکام کے نامعقول فیصلوں اور اقدامات کے خلاف متحد ہوتی نظر آرہی ہے۔

6 سعودی حکومت نے یمن کے خلاف جنگ میں القاعدہ اور داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہوں کو بڑی مقدار میں مالی اور فوجی امداد فراہم کرکے انہیں یمن کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب جبکہ اس جنگ میں سعودی عرب کی شکست حتمی نظر آ رہی ہے، تو جنگ کے بعد اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ سعودی ڈالرز پر پلنے والے یہی تکفیری دہشت گرد عناصر خود سعودی عرب کا رخ کریں گے۔ لہذا سعودی عرب کو حقیقی خطرہ انہیں تکفیری دہشت گرد گروہوں سے درپیش ہے۔ ان گروہوں کی کوشش ہوگی کہ وہ حرمین شریفین پر قابض ہو کر سیاسی اور مذہبی مشروعیت اور جواز حاصل کرسکیں اور اس طرح اپنی نام نہاد اسلامی خلافت کو مذہبی رنگ دے کرسکیں۔

7 سعودی عرب نے یمن کے خلاف جارحیت میں جن ممالک سے اتحاد تشکیل دینے کی درخواست کی تھی، انکی جانب سے مناسب جواب نہ دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی ممکنہ شکست کی صورت میں خطے اور اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی حیثیت کو شدید دھچکہ پہنچے گا۔ ایسی صورت میں نہ صرف سعودی عرب کی رہی سہی عزت ختم ہو جائے گی بلکہ اس سے تنگ آئے ہوئے ہمسایہ ممالک اور عوام اپنے حقوق کے حصول کیلئے سعودی حکومت کا گریبان پکڑیں گے اور اس طرح آل سعود رژیم ایک نئے سیاسی بحران سے روبرو ہو جائے گی، جس کا ازالہ اس کے بس سے باہر نظر آتا ہے۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے ساتھ موجود سرحدی تنازعات بھی مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

8 یہ جنگ نہ صرف اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں سعودی حکومت کی قربانی کا باعث بنے گی بلکہ اس پراکسی وار میں شکست کا نتیجہ خطے میں سعودی عرب کے تھانیدار کی حیثیت کو بھی برباد کرکے رکھ دے گا۔ اس شکست کے نتیجے میں عالمی استکباری قوتوں کی جانب سے سعودی عرب کو توڑنے کے منصوبے عملی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

9 چونکہ مغربی ذرائع ابلاغ اپنے شیطانی حربوں کے ذریعے اس جنگ کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ظاہر کر رہے ہیں، لہذا واضح ہے کہ سعودی حکومت کی شکست کی صورت میں خطے میں طاقت کا اسٹریٹجک موازنہ اسلامی بیداری کے حق میں بھاری ہو جائے گا اور اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر ایران کی پوزیشن بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔ جبکہ دوسری طرف آل سعود رژیم اور خطے میں عالمی استکباری قوتوں کے دوسرے حامی ممالک اپنی حیثیت اور اعتبار کھو دیں گے۔

بہرحال، اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور رہنماوں کو یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت جیسی پراکسی وارز کا پھیلاو درحقیقت مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر انہیں نابود کرنے کی ایک گہری سازش ہے، جو اسلام دشمن قوتوں نے بنا رکھی ہے۔ عالمی استکباری قوتیں اسلامی ممالک کو خود اسلامی ممالک کے ذریعے ہی کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لہذا ایسی پراکسی وار کا حصہ بننا بذات خود امریکہ، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور مغربی طاقتوں کے حق میں بہت بڑی خدمت ثابت ہوسکتی ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 466224
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب