0
Thursday 25 Jun 2015 09:04

داعش کے دہشت ناک سائے

داعش کے دہشت ناک سائے
تحریر: ایاز امیر

القاعدہ اب قصہ پارینہ، اسکا پیغام روکھا اور ریکروٹ بھرتی کرنے کیلئے اسکی کشش ماند، کیونکہ سی آئی اے کے تعاون سے افغان جہاد کیلئے تیار کی جانے والی اس تنظیم کا زمانہ لد چکا۔ اب افغانستان کے سامنے نئے مسائل ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور روپوش طالبان رہنما، ملا عمر کی اب حالات و واقعات پر گرفت اس طرح نہیں جیسی کبھی تھی۔ اب نئی دہشت، داعش ایک عفریت کی طرح اپنے سیاہ پر پھیلائے خونچکاں افق پر چھا رہی ہے۔ القاعدہ کی دہشت گردی کا جغرافیائی مرکز کوئی نہیں تھا، اسکے اہداف بکھرے ہوئے تھے، کہیں دور دراز کے امریکی سفارتخانے، جہاز، ورلڈ ٹریڈ سنٹر وغیرہ، لیکن اسکے برعکس داعش اپنی خلافت قائم کرچکی ہے۔ اپنے زیر کنٹرول علاقے میں یہ حکومت چلا رہی ہے اور سہولتیں فراہم کرتے ہوئے استحکام قائم کر رہی ہے۔ ان علاقوں کے لوگ اسکے انداز حکمرانی جیسا بھی ہے، کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اسکے پیروکار بحران زدہ لیبیا اور مصر کے سنی اکثریت کے علاقوں میں موجود ہیں۔ اپنی عسکری پہنچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے صنعا پر بمباری کی۔ پاکستانی طالبان کمانڈروں نے اسکا ساتھ دینے کا عزم کیا ہے اور جنگ زدہ افغانستان میں بھی اسکی موجودگی محسوس کی جا رہی ہے۔

القاعدہ کی نسبت داعش کہیں زیادہ منظم اور مستحکم ہے۔ اسکے رہنما ابوبکر البغدادی نے بغداد یونیورسٹی سے اسلامک ہسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ صدام حسین کی فوج کے سابق بعث عناصر داعش میں اہم عہدے رکھتے ہیں۔ اسکی ایک مشاورتی کونسل ہے، جو کسی بھی روایتی حکومت کی طرح اپنا نظام چلا رہی ہے۔ اسکا محصولات کا بھی ایک اپنا نظام ہے۔ اس میں شامل فوجیوں اور اہلکاروں کو باقاعدگی سے تنخواہ ملتی ہے اور یہ تنخواہ پاکستان میں ملنے والی تنخواہوں سے کہیں زیادہ پرکشش ہے۔ اس وقت داعش کو لیڈ کرنے والے بہت سے افراد، بشمول ابوبکر البغدادی، جنوبی عراق کے کیمپ بوکا میں اکٹھے تھے، جب وہاں امریکیوں نے قبضہ کیا۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے، آپس میں روابط رکھتے تھے اور اپنی آئندہ کی اسٹریٹجی اور اہداف کیلئے منصوبہ بندی کرتے تھے۔ یہ قربت داعش کے قیام کیلئے بہت مفید ثابت ہوئی۔ اس طرح کیمپ بوکا داعش کا گہوارہ یا پہلا مکتب ثابت ہوا۔ اس تمام پیش رفت کیلئے ہم امریکیوں کے مشکور ہیں۔ افغان جہاد کے ذریعے انھوں نے دنیائے اسلام کو القاعدہ اور بن لادن کا تحفہ دیا اور پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو متعارف کرایا۔

عراق پر حملہ اور پھر اس پر قبضہ جماتے ہوئے عراق کی سنی آبادی اور بعث پارٹی کی باقیات کو پرتشدد کارروائیوں کی تحریک دی اور اس طرح تشدد کی لہر نے عراقی معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیا اور آگ و خون کی بارش سے داعش کی افزائش ہونے لگی۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہ تھی۔ یونانی ادیب ہوریس کا قول یاد آتا ہے کہ وحشیانہ طاقت عقل سے خالی ہونے کی وجہ سے اپنے ہی وزن سے گر جاتی ہے۔ اگر طاقت کیساتھ عقل کا مشورہ شامل حال رہے تو یہ ادغام دیوتاؤں کو بھی مزید تقویت دیتا ہے، لیکن دیوتا اس طرح سے نفرت کرتے ہیں جو گناہوں کی طرف روح کو راغب کر دے۔ امریکیوں کے پاس طاقت تھی لیکن عقل اور تصورات کی کمی شامل حال رہی۔ انکی جنگی کارروائیوں نے افغانستان، عراق اور اب شام کے حالات بگاڑ دیئے، تاہم ان حماقتوں کا خمیازہ صرف وہی نہیں، پورا خطہ بھگت رہا ہے۔

یہ مانا کہ پہلی حماقت سوویت یونین نے کی تھی۔ انہیں کس شیطانی ذہن نے اکسایا تھا کہ وہ افغانستان پر چڑھ دوڑیں؟ لیکن کیا انکی حماقت کا جواب دینے کیلئے ہماری طرف سے پاگل پن کا مظاہرہ ضروری تھا؟ ابھی بھی بہت سے سینیئر افسران یہی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی چوائس نہ تھی، ورنہ سوویت فوج بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائل حاصل کر لیتی۔ اس طرز فکر کا کیا جواب دیا جائے؟ سوویت یونین گرم پانیوں تک رسائی کی پوزیشن میں نہ تھا۔ ماسکو پر برزنیف اور اس جیسے عمر رسیدہ افراد کی حکمرانی تھی اور وہ ایسی ظن و تخمین کے اہل نہ تھے۔ انکے جانشینوں کی ناکامی انہیں افغانستان میں کھینچ لائی۔ یہ انکی غلطی تھی، وہی بھگتتے، ہمیں کس نے اس گڑھے میں جا گرنے کا مشورہ دیا تھا؟ پاکستان پہلے ہی جنرل ضیاء اور اسکی افغان پالیسی کی وجہ سے اپنے اسلامی نشاۃ ثانیہ کے دور سے گزر رہا تھا، چنانچہ تیل پر جلتی ہوئی کوئی چیز گرانے کی دیر تھی اور باقی رہے نام اللہ کا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان نے فرار ہو کر ڈیورنڈ لائن کے اس پار پناہ لی۔ اس میں فاٹا میں عسکریت پسندی پھیل گئی۔

جس طرح امریکیوں نے عراق میں مذہبی انتہا پسندی کے بیج بو دیئے تھے، افغانستان پر حملے کے نتیجے میں بھی ایسی ہی انتہا پسندی نے خطے کو شعلہ بار کر دیا۔ پاکستان فوج، جس نے ماضی میں انہی مسلح گروہوں کی پشت پناہی کی تھی، نے اپنا ذہن بدل لیا۔ ہمارے ستاروں کو ہم پر رحم آگیا کہ ہمیں موجودہ آرمی چیف مل گئے۔ چنانچہ ہم نے ظلمت کدے سے خون آلود قدموں کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ یہ جنگ صرف کوئی علاقہ فتح کرنے کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے لڑی جا رہی ہے۔ اب اس صورت حال میں داعش کا ذکر کہاں سے آگیا؟ ہوسکتا ہے کہ ابھی یہ دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہو، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا، افغانستان میں اسکی موجودگی کے نشانات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور اسکے ساتھ اتحاد کے نعرے پاکستانی سرحدوں کے اندر سے بھی سنائی دے رہے ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ جس دوران القاعدہ کا طوفان اتر رہا ہے، نئی نسل کے طالبان اور دیگر اسلامی انتہا پسندوں کیلئے داعش کا پیغام متبادل بیانیے کے طور پر کہیں زیادہ پر کشش ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات آج بے بنیاد دکھائی دے، لیکن یاد رہے کہ کبھی کسی نے طالبان کا نام بھی نہیں سنا تھا اور بہت سے دانشور پنڈت کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ اس وقت تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ آنے والا وقت کتنا لہو رنگ ہوگا۔

اب چاہے داعش کا خطرہ قریب ہو یا دور، پاکستان کو دیکھنا ہوگا کہ ایسی انتہا پسندی کی طرف کون کون مائل ہو رہا ہے۔ ہمیں پاکستان کو ایک جدید لبرل ریاست بنانا ہوگا، ورنہ ہم ایک بحران سے نکل کر دوسرے کا شکار ہوتے ہوئے اپنے بچاؤ اور بقا کو غیبی طاقت کے مرہون منت فرض کرکے ایک دن اور گزار لیں گے۔ میں اگلے دن پڑھ رہا تھا کہ داعش نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں دیگر تبدیلیوں کے علاوہ نصاب تعلیم کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے ایک تحریک اور پیش رفت کا تاثر ملتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں فوج جو بھاری قربانیاں دیتے ہوئے میدان کارزار میں ہے، کے علاوہ باقی پاکستان میں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا کوئی تحریک موجود ہے؟ موجودہ تعلیمی نصاب اور مختلف تعلیمی نظام کے ہوتے ہوئے ہمارے ہاں ایسی تحریک کہاں سے آئے گی؟ خرم حسین نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ اس سال واحد بجٹ جو روایت سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ مقامی کونسلز کو وسائل فراہم کرنا ہی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، اسی سے عوام کو بااختیار بنایا جاسکتا ہے۔ چند دن پہلے عدنان عادل نے بہت تفصیل سے لاہور میں آلودہ پانی کی فراہمی کا ذکر کیا۔

کیا اس سے کسی کی رات کی نیند حرام ہوئی؟ ہمارے انڈس بیسن کا شمار ان خطوں میں ہوتا ہے، جہاں انتہائی واٹر پمپنگ ہوتی ہے۔ کیا یہ بات کسی کیلئے باعث تشویش ہے؟ باقی چیزیں بھول بھی جائیں، کیا داعش کے آںے سے پہلے ہم ایک اور شیطانی اختراع، پلاسٹک بیگ، سے چھٹکارا پا لیں گے یا نہیںَ اور پھر جیسا کہ میڈیا میں آ رہا ہے، اسلام آباد میں زرعی تحقیقاتی کونسل کے بارہ سو ایکڑ کو رہائشی کالونی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بن رہا ہے۔ ان معاملات پر غور کون کرے گا۔؟ کیا اقتدار پر فائز افراد اخبارات نہیں پڑھتے؟ کیا کتابوں کا مطالعہ انکی دنیا میں شجر ممنوعہ ہےَ؟ فوج دہشت گردوں سے لڑ سکتی ہے، یہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کرسکتی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ نہ کرسکے، لیکن ملک کا نظم و نسق چلانا اس کی مہارت کا دائرہ کار میں نہیں آتا، یہ سب کام حکومت اور سرکاری افسران کے کرنے کے ہیں۔ آصف زرداری جذباتی اشتعال میں بول رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ پورا پاکستان تو کجا، لاڑکانہ بھی بند نہیں کرا سکتے۔ فوج کو خیال رکھنا چاہیے کہ کراچی میں بہت اچھا کام کیا جاچکا اور بے شک مزید بھی کرنا باقی ہے۔ ایم کیو ایم یقینی طور پر ایک سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے، چنانچہ اسکے اور اسکے نوجوان سپورٹرز کے بارے میں تلخی نہیں ہونی چاہیے۔ افغانستان اور عراق کے تجربات سے ہمین بھی سیکھنا ہے کہ ایسی تلخی کیا رخ اختیار کرسکتی ہے۔ ان معاملات کو صرف بندوق کی طاقت سے درست نہیں کیا جاسکتا۔ سیاست اور بندوق ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں۔ یقیناً جہاں ضروری ہے، طاقت کا استعمال ہونا چاہیے لیکن عقل کیساتھ۔
بشکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
خبر کا کوڈ : 468086
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب