0
Saturday 18 Jul 2015 04:30

نماز عید کی دعاء قنوت میں توحید، نبوت اور امامت کا ذکر

نماز عید کی دعاء قنوت میں توحید، نبوت اور امامت کا ذکر
تحریر: ملک محمد اشرف
malikashraf110@yahoo.com

اَللّهُمَّ اَهْلَ الْکِبْرِیاَّءِ وَالْعَظَمَةِ وَاَهْلَ الْجُودِ وَالْجَبَرُوتِ وَاَهْلَ الْعَفْوِوَالرَّحْمَةِ وَاَهْلَ التَّقْوى وَالْمَغْفِرَةِ
نماز عید کی دعاء قنوت میں الله تبارک و تعالٰی کی سب سے پہلے عظمت بیان کی جاتی ہے، جس میں الله کی چھ صفات بیان ہوئی ہیں کہ جن میں الله کی کبریائی کے ذکر ہے، اس کی عظمت کو یاد کیا جاتا ہے، خدا کی جود و سخاوت کہ جو ہر امیر و غریب کے شامل حال ہے، اسے لبوں پہ لایا جاتا ہے، اس کی ہر جگہ پر حکومت ہے، وہی عظمت و جبروت کا مالک ہے، وہی سب کی پناه گاه اور ہر مشکل سے بچانے والا ہے، اس کی مغفرت واسعہ کہ جو بھی اس کی بارگاه میں جھک جائے، وه اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، اسے یاد کیا جاتا ہے۔

اَسْئَلُکَ بِحَقِّ هذَا الْیَومِ الَّذى جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمینَ عیداً وَلِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّهُ عَلَیْهِ وَ الِهِ ذُخْراً وَشَرَفاً وَ کرامتا وَمَزِیْداً

یہ دن تمام مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے لیکن پیغمبر اکرم (ص) اور ان کی پاک آل کے لئے خصوصی عظمت کا دن ہے، اس لئے کہ ماه مبارک میں تمام مسلمانوں نے الله کو یاد کیا ہے اور یہ پیغمبر اکرم (ص) کے لئے بہت بڑا ذخیره ہے کہ جس کے لئے آنحضرت نے بہت زحمات اور مشکلات کا سامنا کیا۔ اس دن سب مسلمان گروه در گروه مساجد میں لمبی لمبی صفوں میں کھڑے ہو کر جب الله کی بارگاه میں سوال کر رہے ہوتے ہیں اور پیغمبر اکرم (ص) کی ذات اور ان کی پاک آل (ع) مبارک پر صلوات پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ان کے مقصد و ہدف کو جو الله کی بارگاه میں جھکنا ہے، عملاً انجام دے رہے ہوتے ہیں تو یہ ان کے لئے بہت بڑا شرف ہے۔ یه پیغمبر اکرم (ص) اور ان کی آل (ع) کے لئے کرامت  کا دن ہے اور ان کی عظمتوں میں مزید اضافہ کا دن ہے۔

اَنْ تُدْخِلَنى فى کُلِّ خَیْرٍ اَدْخَلْتَ فیهِ مُحَمَّداً وَ الَ مُحَمَّدٍ وَاَنْ تُخْرِجَنى مِنْ کُلِّ سُوَّءٍ اَخْرَجْتَ۔۔۔۔۔۔
دعاء قنوت میں مومن کی یہ دعا ہے کہ پروردگار میرا اٹھنا، میرا بیٹھنا، میرا سونا، میرا جاگنا، میرے دن، میری رات کو ایسا بنا دے جیسے یہ سب چیزین محمد و آل محمد کی تھیں۔ مجھے ہر اس نیکی میں داخل کر اور اس نیکی کی توفیق عطا فرما کہ جس نیکی میں تونے محمد و آل محمد کو داخل کیا اور ہر اس برائی سے بچا کر رکھ، جس سے تو نے محمد و آل محمد کو بچا کر رکھا۔

اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُکَ خَیْرَ ما سَئَلَکَ مِنْهُ عِبادُکَ الصّالِحُونَ وَاَعُوذُ بِکَ مِمَّا اسْتَعاذَ مِنْه ُعِبادُکَ الْصّالِحُونَ
اس کے بعد ہر مسلمان و مومن اس منزل پر پہنچتا ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے اپنی سب دعاوں کا خلاصہ یوں بیان کرتا ہے کہ میرے الله میں تجھ سے اسی چیز کا سوال کرتا ہوں کہ جو تیرے صالح بندوں نے تجھ سے سوال کیا اور ان تمام چیزوں سے پناه مانگتا ہوں، جن سے تیرے صالح بندوں نے پناه مانگی ہے۔ یہاں پر صالح بندوں سے مراد انبیاء کرام و آئمہ معصومین ہوسکتے ہیں۔ اے الله جو کچھ انہوں نے تجھ سے مانگا، ہم بھی اسی کا سوال کرتے ہیں۔ اے الله ہم سب کو اپنے ان صالح بندوں میں شمار فرما کہ جن کے لئے تونے وعده کیا ہے کہ ان کو اپنی زمین کا وارث بنائے گا۔ اے الله ہم سب کو امام زمانہ (عج) کا سچا سپاہی بنا، تاکہ ہم ظلم کا مقابلہ کرسکیں، طاغوتی طاقتوں کے غلبہ کو دنیا سے مٹا کر مستضعفین کی سربلندی کا سبب بن سکیں۔ خدایا آج کے دن کے صدقہ میں امت مسلمہ اور ملت تشیع کے تمام رہبران کو متحد ہو کر ظهور امام زمان کا زمینہ فراہم کرنے کی طاقت عطا فرما اور مقام معظم رہبری آیت الله خامنہ ای کا سایہ امت مسلمہ کے سر پر تا دیر قائم و دائم فرما۔ (آمین)
خبر کا کوڈ : 474465
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے