0
Wednesday 12 Aug 2015 17:30

ترکی، داعش اور مہروں کے ذریعے امریکی کھیل

ترکی، داعش اور مہروں کے ذریعے امریکی کھیل
تحریر: سبحان محقق

ترکی میں آغاز ہونے والا حالیہ بحران گذشتہ بحرانوں سے بہت مختلف ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ترکی کے موجودہ اور آئندہ بحران کی شدت ماضی کے بحرانوں کی حد تک نہیں رہے گی، جو صرف شام کی اہم ٹی وی خبروں کا حصہ بنتے تھے اور ہر بار بم دھماکوں یا انقرہ اور استنبول کی سڑکوں پر مظاہروں اور احتجاج کی حد تک محدود رہتے تھے۔ ترکی کا آئندہ بحران زیادہ شدید اور وسیع ہوگا اور اس کے اثرات ملک کی سیاست، اقتصاد اور سکیورٹی پر پڑیں گے اور یہ بحران مختلف شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اپنے دہشت گرد عناصر کی مدد سے ترکی کے مختلف شہروں میں عام شہریوں کا قتل عام کرنے کیلئے تیار نظر آتا ہے۔ اسی طرح ترک مخالف کرد گروہ پی کے کے بھی ماضی کی نسبت زیادہ جوش و جذبے سے سرکاری تنصیبات اور مراکز کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے کیلئے تیاری کر رہا ہے۔ آج کے بعد ترکی کی سیکولر، کرد اور اسلام پسند اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان رقابت کا انداز پرامن نہیں رہے گا بلکہ شدت پسندی کا رنگ اپنا لے گا۔ دوسری طرف ترکی کی اہم سیاسی جماعتیں تقریباً ایک دوسرے کی ہم پلہ ہیں اور کسی جماعت کو دوسروں پر واضح برتری حاصل نہیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے متعلق انقرہ کی پالیسی کیا ہوگی؟ امریکہ ترکی اور داعش کے درمیان جاری جنگ سے متعلق کیا موقف اختیار کرے گا؟ امریکہ خطے میں کیا کھیل کھیل رہا ہے؟ یہ وہ چند اہم سوالات ہیں، جن کا جواب اس تحریر میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ترکی اس وقت آہستہ آہستہ اندرونی بدامنی اور بحران کی جانب گامزن ہے اور اس کی مثال دلدل میں پھنسے شخص کی مانند ہے، جس کا ہر لمحہ ماضی کی نسبت بدتر ہوتا جاتا ہے۔ اس وقت ترکی میں درد آمیز سیاسی تنازعات، گلی کوچے کی لڑائی اور دہشت گردانہ حملوں کی فضا تیار ہو رہی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں سے داعش اور پی کے کے، کے خلاف ترکی کے ہوائی اور زمینی حملوں کے بعد ان تنازعات اور دہشت گردانہ حملوں کا عملی طور پر آغاز ہوچکا ہے۔ ترکی اپنی خارجہ پالیسی میں واضح تضادات کا شکار ہے۔ ایسے تضادات جن کے پیچھے کوئی منطق نہیں اور صرف ایک غیر متنازع مضبوط قوت ہی ملک کو اس عظیم بحران سے نجات دلا سکتی ہے۔ لیکن انقرہ میں اس وقت ایسی مضبوط قوت موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ترک معاشرہ روز بروز مزید تناو اور بدامنی کا شکار ہوتا جائے گا۔ ترکی کے موجودہ سیاسی مسائل اور خاص طور پر داعش سے متعلق اس ملک کی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکمفرما سیاسی جماعت کی ماضی کی پالیسیوں پر نظر ڈالے بغیر اس کی موجودہ پالیسیوں کا صحیح جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ لہذا ہم انصاف و ترقی پارٹی کے ماضی پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں، تاکہ موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں آسانی فراہم ہوسکے۔

13 برس قبل جب انصاف و ترقی پارٹی برسراقتدار آئی، ترک معاشرے میں دو مختلف قسم کے جذبات معرض وجود میں آئے۔ ایک جذبہ اسلام پسندی کا جذبہ تھا، جو انصاف و ترقی پارٹی کو ووٹ دینے والے حلقوں میں زیادہ پایا جاتا تھا اور دوسرا جذبہ یورپی یونین اور مغربی بلاک کے ساتھ ملحق ہونے کا جذبہ تھا، جو انصاف و ترقی پارٹی کے لیڈران پر غالب نظر آتا تھا۔ اس وقت ترک عوام میں یہ سوچ پائی جاتی تھی کہ ملک میں اسلام پسند قوتوں کے برسراقتدار آجانے کے بعد خطے میں امریکہ اور اسرائیل مخالف بلاک کو مزید تقویت ملے گی، لیکن رجب طیب اردگان، احمد داود اوگلو اور عبداللہ گل جیسے لیڈران جو عوام کے اسی جذبے کی بدولت اقتدار حاصل کر پائے تھے، آہستہ آہستہ اپنے ووٹرز کے اصلی مطالبات سے دور ہوتے چلے گئے اور اپنے حامی عوام کی خواہش کے برعکس ملک میں پہلے سے موجود سیاسی اہداف اور طریقہ کار کی رو میں بہہ نکلے۔ انصاف و ترقی پارٹی کا بنیادی اور اسٹریٹجک مسئلہ یہ تھا کہ اقتصاد اور سیاست کے بارے میں اس کی نگاہ متوازن نہ تھی اور اس نے تمام ملکی مفادات کو صرف اور صرف اقتصادی مفادات کے دائرے تک محدود کر رکھا تھا۔ اپنی حکومت کے ابتدائی سالوں میں جب یورپی یونین اقتصادی لحاظ سے مضبوط تھی، ترک حکمرانوں کی پوری کوشش تھی کہ وہ جس طرح بھی ممکن ہو یورپی یونین کا حصہ بن جائیں۔ لہذا مغربی ایشیا پر امریکہ اور نیٹو کی لشکر کشی کے دوران ترکی اس کا انتہائی سرگرم رکن رہا، تاکہ اس طرح زیادہ سے زیادہ مغربی حمایت حاصل کی جاسکے۔

ترکی چاہتا تھا کہ یورپی ممالک ترکی کو بھی یورپ کا ہی حصہ تصور کریں اور اسے یورپی یونین میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے۔ لہذا اس وقت ترک حکمرانوں کی پوری کوشش تھی کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات اور تجارت کی مقدار میں اضافہ کریں اور جہاں تک ہوسکے بیرونی سرمایہ اور سیاح اپنی طرف جذب کریں۔ کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد جب یورپ میں اقتصادی بحران رونما ہوا تو ترک حکمرانوں نے خطے کے مسائل پر توجہ دینا شروع کر دی۔ لیکن اس مرحلے میں بھی بجائے اس کہ کہ ترک حکمران خطے سے متعلق اپنی پالیسیوں کو اپنی عوام کی خواہشات اور اسلام پسندی پر استوار کرتے، انہوں نے خطے میں امریکہ اور نیٹو کی پالیسیاں اجراء کرنا شروع کر دیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے، کیونکہ ترکی کی سیاست اپنی اقتصاد سے جدا نہیں تھی اور ترک حکومت سیاسی میدان میں ایسی پالیسیاں اختیار نہیں کرسکتی تھی، جو اس کے اقتصادی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوں۔ اس قسم کی سیاست کا اتخاذ ایک اسلام پسند حکومت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ثابت ہوا۔ انصاف و ترقی پارٹی کی پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ خطے میں اسرائیل مخالف اسلامی مزاحمتی بلاک مضبوط ہونے کی بجائے ترک حکومت اس بلاک کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی اور اسے نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔

جب رجب طیب اردگان نے علاقائی سیاست پر توجہ دینا شروع کی تو وہ اپنی شخصیت کی اہمیت اور مقبولیت بھی کھو چکے تھے، لہذا انہوں نے طاقت کی صحیح مدیریت کی بجائے اس کا بے جا استعمال شروع کر دیا اور عثمانی سلطنت کی بحالی کا خواب دیکھنے لگے، جس کے باعث کوئی بھی ان کی بات کو سمجھنے کے قابل نہ رہا۔ آج کسی کو یہ بات کہنے میں جھجک محسوس نہیں ہوتی کہ ترکی کا سیکولر ڈھانچہ اسلام پسند حکمرانوں پر غالب آچکا ہے اور موجودہ ترک حکومت کی تمام تر توانائیاں اسی سیکولر ڈھانچے کی خدمت میں صرف ہو رہی ہیں۔ سب اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ رجب طیب اردگان امریکہ اور نیٹو کا اس قدر وفادار اور مطیع حکمران ہے کہ امریکہ کی نوکری پر حتی سیکولر جماعتوں کی بھی صدائے احتجاج بلند ہوچکی ہے۔ ترکی کی خلق ریپبلکن پارٹی نے موجودہ حکومت کے اسی نقطہ ضعف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت کو شدید زک پہنچائی ہے۔ لہذا حقیقت یہ ہے کہ ترکی کے اسلام پسند حکمرانوں اور لیڈران نے ابتدا سے بنیاد ٹیڑھی رکھی ہے، جس کے نتیجے میں تضادات اور بحرانوں کا شکار ترکی کی موجودہ صورتحال معرض وجود میں آئی ہے۔ ترکی میں انصاف و ترقی پارٹی کے برسراقتدار آنے کے آغاز سے ہی یہ پیشین گوئی کی جاسکتی تھی کہ اس پارٹی کی متضاد پالیسیاں ایک دن ترکی کو انتہائی سنگین قسم کی مشکلات اور بحرانوں کا شکار کر ڈالیں گی۔

ترکی کو درپیش بحرانوں اور مشکلات میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:
1)۔ اقتصاد:
ترکی عنقریب شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہونے والا ہے اور وہ اقتصادی رونق جس پر انصاف و ترقی پارٹی ناز کیا کرتی تھی، ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس کام کیلئے کافی ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش چند بڑے شہروں میں دہشت گردانہ بم دھماکے کرے اور اس کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان انجام پائے۔ پی کے کے بھی ترکی میں بدامنی پھیلانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اقتصادی بحران پیدا کرنے کیلئے یہی کافی ہے۔ ترکی کی معیشت کا زیادہ تر انحصار ٹورزم کی صنعت پر ہے۔ دہشت گردی کا سیاحت کی صنعت پر بہت تیزی سے اور انتہائی گہرا اثر ہوتا ہے۔ لہذا ترکی میں بدامنی اور دہشت گردانہ اقدامات ملک کی سالانہ 30 ارب ڈالر کی آمدنی کو ختم کر سکتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ بیرونی سرمایہ کاری کا ہے۔ اقتصادی ماہرین "سرمایہ" کو ہرن سے تشبیہہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہرن عام طور پر پہاڑی اور صحرائی علاقوں کو عبور کرکے پرسکون جگہوں کی تلاش میں ہوتے ہیں، تاکہ وہاں سکون سے گھاس وغیرہ سے پیٹ بھر سکیں اور جیسے ہی کسی قسم کے خطرے کا احساس کرتے ہیں تو فوراً وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں۔ لہذا سرمایہ بھی اسی طرح ہی ہے۔ ایسی سرزمین جہاں دہشت گردی اور بدامنی کا خطرہ پایا جاتا ہو، وہاں بیرونی سرمایہ نہیں رک سکتا۔ کسی جگہ دہشت گردی اور بیرونی سرمایہ کاری کا ایک ساتھ ہونا محال ہے۔ اگرچہ ترکی کی معیشت پر ممکنہ دہشت گردی اور بدامنی کے وسیع اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں، لیکن یہی دو اثرات یعنی سیاحت کا خاتمہ اور بیرونی سرمایہ کاری کا فرار ہوجانا ترکی کی اقتصاد تباہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اب جبکہ ترکی میں دہشت گردی کو شروع ہوئے صرف دو ہفتے ہی ہوئے ہیں، ترکی کی کرنسی لیر کی قیمت ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر آن پہنچی ہے۔

2)۔ داعش:
جب 2003ء میں ترکی کے اسلام پسند حلقوں نے انصاف و ترقی پارٹی کو ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچایا تو انہیں توقع تھی کہ نئی اسلام پسند ترک حکومت ماضی کے سیکولر اتاترک پسند نظام کو چیلنج کرے گی اور خطے کی انقلابی حکومتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اسلامی مزاحمتی بلاک کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی اور امریکہ اور اسرائیل کو اپنا اصولی دشمن قرار دے گی۔ ترکی کے مسلمان عوام میں یہ جذبہ اور خواہش 1990ء کے عشرے سے ہی پایا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں نجم الدین اربکان کی سربراہی میں سعادت پارٹی کو بھی بڑے پیمانے پر سیاسی کامیابیاں نصیب ہوچکی تھیں۔ اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا، جب انقرہ خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو ختم کرنے کیلئے دنیا کے بدترین دہشت گرد گروہ سے اتحاد کر لے گا اور اس کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون جاری رکھے گا۔ کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ گذشتہ چار پرس کے دوران تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" اور موجودہ ترک حکومت کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات اور دوطرفہ تعاون برقرار رہا ہے۔ گذشتہ سال 7 اگست کو ترک وزیراعظم داود اوگلو کا وہ بیان آج تک سب کو اچھی طرح یاد ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا: "دولت اسلامیہ (داعش) اہلسنت مسلمانوں کا گروہ ہے اور وہ اس لئے غیض و غضب میں مبتلا ہیں کہ ان پر بہت ظلم ہوا ہے۔" داود اوگلو نے اس وقت عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی پیدائش اور پھیلاو کا ذمہ دار قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ نوری المالکی نے اپنے ظالمانہ اقدامات کے باعث داعش جیسے گروہ کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی اپنے مخالفین سے نرم رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے اپنے ہی حامیوں کی طرف سے سرزنش کا شکار ہوتے رہتے تھے اور ان کی فوج صرف مسلح دہشت گرد گروہوں کے خلاف برسرپیکار رہی۔

گذشتہ چار سال کے دوران انقرہ نے اپنے قومی انٹیلی جنس ادارے "میٹ" کے ذریعے چار طریقوں سے داعش کے تکفیری دہشت گرد عناصر کو مدد فراہم کی ہے۔ ایک اپنی بندرگاہوں کو سعودی عرب سے آنے والے بحری جہازوں کیلئے کھول دیا، جن کے ذریعے داعش کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی اور بڑی مقدار میں جدید ہتھیار اور پیسہ عراق اور شام میں سرگرم تکفیری دہشت گردوں تک پہنچائے گئے۔ دوسرا داعش کے تکفیری دہشت گرد عناصر سے خام تیل خریدا گیا یا دوسروں کو بیچنے کیلئے ترک سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ تیسرا دنیا بھر سے تکفیری سوچ رکھنے والے افراد کو ترکی اکٹھا کرکے انہیں شام سے ملحقہ سرحد کے ذریعے شام اور پھر عراق داخل کر دیا گیا۔ چوتھا تکفیری دہشت گرد عناصر کو فوجی ٹریننگ دی گئی اور انہیں منظم کیا۔ داعش کے دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے میں ترک انٹیلی جنس ایجنسی "میٹ" کے علاوہ سی آئی اے اور موساد بھی شامل رہیں۔ ان دہشت گردوں کو اردن میں ٹریننگ دی گئی۔

ابھی چند ہفتے پہلے تک ساری صورتحال انقرہ کے حق میں تھی، لیکن جب سے شام کی سرحد پر واقع ترک قصبے سوریچ میں خودکش بم دھماکہ ہوا، ساری صورتحال برعکس ہوگئی۔ لہذا اب جب ترکی کی خارجہ پالیسی میں تضاد اور پیراڈوکس کی بات ہوتی ہے تو یہ قابل مشاہدہ حقائق پر استوار بات جانی جاتی ہے۔ رجب طیب اردگان اور داود اوگلو کی رسوائی کا آغاز ہوچکا ہے اور اب کوئی قوت ان لیڈران کے ماضی کو شفاف نہیں بنا سکتی۔ اب تک صورتحال یہ تھی کہ انقرہ اور داعش اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے، لیکن آج کے بعد داعش نے انقرہ کو اپنے اشاروں پر نچانا شروع کر دیا ہے اور رجب طیب اردگان اور داود اوغلو کا سیاسی مستقبل داعش کے ہاتھ میں ہے۔ داعش اس وقت ترکی کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور ترکی کے مختلف شہروں میں تکفیری خودکش بمبار دہشت گردانہ بم حملے انجام دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں اور انہیں صرف اپنے کنٹرول روم سے اشارے کا انتظار ہے۔ ان دہشت گردانہ بم حملوں کے نتیجے میں ترکی کے سیاسی میدان میں زلزلہ آسکتا ہے۔ یہ دہشت گردانہ اقدامات نہ صرف انصاف و ترقی پارٹی کو اقتدار سے نیچے کھینچ لاسکتے ہیں بلکہ اس پارٹی کے لیڈران کو عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ باخبر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ترکی میں موجود تکفیری دہشت گرد عناصر کی تعداد 3 ہزار تک ہے۔ اگرچہ کسی کو بھی ان دہشت گردوں کی دقیق تعداد کا علم نہیں، لیکن ان کی تعداد زیادہ اہم نہیں کیونکہ داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد خودکش طرز پر دہشت گردانہ اقدامات انجام دیتے ہیں اور کسی بھی جگہ پر موجود عام افراد کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کم تعداد میں تکفیری دہشت گرد بھی عام عوام کیلئے انتہائی درجہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

داعش کے بارے میں مختلف نقطہ نظرات:
دنیا کے مختلف ممالک تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے بارے میں مختلف موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ ایران، عراق، شام، لبنان، خطے کے کئی دوسرے ممالک اور غالب امت مسلمہ کی نظر میں داعش ایک دہشت گرد اور ناجائز گروہ ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی نظر میں اس گروہ کا مکمل طور پر خاتمہ انتہائی ضروری ہے اور اس کے حامی ممالک اور قوتوں کو بھی شدید سزا ملنی چاہئے۔ داعش مخالف ممالک میں یہی نقطہ نظر پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف بعض ایسے ممالک بھی ہیں، جو داعش کی حمایت کرتے آئے ہیں اور اس تکفیری دہشت گرد گروہ سے متعلق ان کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم داعش کو اپنے فائدے میں سمجھتی ہے، کیونکہ اس نے عالم اسلام کو اپنی طرف مشغول کر رکھا ہے اور مسئلہ فلسطین سے مسلمانوں کی توجہ یکسر ہٹا دی ہے۔ اس بنا پر اسرائیلی حکام تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے وجود کو اپنے لئے بڑی نعمت قرار دیتے ہیں۔ مصر کے فوجی حکام اور داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر کے درمیان خوف اور امید کی ملی جلی کیفیت حکمفرما ہے۔ البتہ اسی قسم کی کیفیت سعودی، قطری، بحرینی، اماراتی اور اردنی حکام اور داعش کے درمیان بھی پائی جاتی ہے، لیکن خوف اور امید کی سطح ہر ایک کے درمیان مختلف ہے۔ مصری اور اماراتی حکام باقی حکومتوں سے زیادہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے خوفزدہ ہیں، جبکہ سعودی اور بحرینی حکام عراق اور شام میں سیاسی تبدیلی لانے اور حزب اللہ لبنان اور ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے دوسروں سے بڑھ کر داعش سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔

تحریر حاضر میں جو مسئلہ ہمارے لئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، وہ امریکہ اور ترکی کا موقف ہے۔ امریکہ اب بھی داعش کے خلاف جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ داعش امریکہ کی سفارتکاری اور اسی طرح اس کی فوجی ساز و سامان کی فیکٹریوں کیلئے ایک عظیم خزانہ تصور کیا جاتا ہے۔ آج تک تکفیری گروہوں سے بڑھ کر کوئی گروہ اسلام کے خوبصورت چہرے میں اس قدر بگاڑ پیدا نہیں کرسکا اور مغربی ایشیا میں امریکی اہداف کی اس قدر تکمیل نہیں کرسکا۔ واشنگٹن اس وقت بالکل یہ نہیں چاہتا کہ داعش کا مسئلہ فوری طور پر حل ہوجائے اور اس تکفیری گروہ کا خاتمہ ہوجائے۔ امریکہ کا چیف آف جوائنٹ آرمی سٹاف جنرل اڈرینو نے حال ہی میں کہا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ ہوسکتا ہے 50 سال تک لمبی ہوجائے۔ اس قسم کے بیانات اور اس سے ملتے جلتے وائٹ ہاوس کے بیانات ایسے وقت سامنے آرہے ہیں، جب عراقی حکام اس بات پر تاکید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ داعش کا خاتمہ انتہائی آسان ہے، جبکہ شام میں بھی داعش مسلسل شکست اور عقب نشینی کے بعد مکمل طور پر دفاعی پوزیشن میں آچکی ہے اور ماضی کی طرح جارحانہ انداز کھو چکی ہے۔ اگرچہ ترکی نے بھی گذشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ کی طرح داعش کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے، لیکن دونوں کا داعش کے بارے میں موقف ایک جیسا نہیں۔ انقرہ داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں بہت ہی حساس ہے، کیونکہ اس گروہ سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی اکثریت اس کی سرحد کے قریب ہی موجود ہے اور اس لحاظ سے ان سے متعلق امور تقریباً ترکی کے اندرونی معاملات میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن امریکہ سے داعش کا فاصلہ ہزاروں کلومیٹر کا ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہنا بہتر ہوگا کہ امریکہ کیلئے داعش صرف ایک سنہری موقع ہے، جبکہ ترکی کیلئے داعش موقع کے ساتھ ساتھ خطرہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس وقت انقرہ اور واشنگٹن کا خطے میں ایک مشترکہ ہدف ہے اور وہ شام میں برسراقتدار بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی ہے۔ اس منصوبے پر گذشتہ چار سال سے کام ہو رہا ہے اور اگر یہ منصوبہ شکست کا شکار ہوتا ہے تو امریکہ اور ترکی دونوں کو اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ جائے گی۔ اس وقت ترکی اور امریکہ کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ صدر بشار اسد اور شام آرمی کا کس ذریعے سے مقابلہ کریں؟ گذشتہ چند ہفتوں میں انجام پانے والے واقعات کے تناظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ترکی اور امریکہ داعش کو بھی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس پالیسی میں ترکی کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں۔ ترک حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وائٹ ہاوس کیلئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ لہذا اگرچہ ترک حکام آسانی سے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ شام میں داعش کی جگہ کسی اور نئے مسلح گروہ کو دے دی جائے، لیکن یہی فیصلہ امریکی حکام کیلئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔ امریکی حکام نے عراق میں داعش کی سرگرمیوں پر تکیہ کر رکھا ہے اور اگلے 50 برس تک اس گروہ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ وہ کس طرح اتنی آسانی سے اس گروہ کو نظرانداز کرسکتے ہیں اور اس کی جگہ کسی دوسرے کمزور مسلح گروہ جیسے "النصرہ فرنٹ"، "جند الشام" یا "فری سیرین آرمی" کو دے سکتے ہیں؟ امریکی حکام یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ عراق میں بڑے پیمانے پر شیعہ سنی جنگ شروع ہوجائے اور اس مقصد کا حصول تکفیری دہشت گروہ داعش کے بغیر ممکن نہیں۔

ان تمام حقائق کے باوجود واشنگٹن وقتی طور پر اپنے بلند پروازانہ مقاصد سے کچھ نیچے آچکا ہے اور داعش کے بارے میں ترکی سے ڈیل کرچکا ہے۔ جنرل جو ایلن کے بقول امریکہ کا ایک اعلٰی سطحی وفد انقرہ گیا ہے، جہاں دونوں کے درمیان شام اور داعش سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ترکی نے قبول کیا ہے کہ وہ اپنا اینجرلک ہوائی اڈہ امریکیوں کے اختیار میں دے دے گا اور اس طرح ایک داعش مخالف اتحاد قائم کیا جائے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی شمالی شام میں نو فلائی زون بنانے پر مبنی ترکی کا مطالبہ مان لیا ہے۔ یہ علاقہ جو شام کے قصبوں "مارع" اور "جرابلس" کے درمیان واقع ہے تقریباً 90 کلومیٹر لمبا اور 60 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس کا رقبہ 4500 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ علاقہ نو فلائی زون بنایا جائے گا، جس کا مقصد وہاں سے داعش کے اثرورسوخ کو ختم کرکے ایک اور حکومت مخالف معتدل مسلح گروہ کو اس کی جگہ مضبوط کرنا ہے۔

سفارتکاری کی منطق:
چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے سفارتکاری کی منطق مفادات پر استوار ہوتی ہے اور یہ وہ چیز ہے جس پر تمام سیاسی ماہرین متفق نظر آتے ہیں۔ لیکن اختلاف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب مفادات کے تعین کا مرحلہ آتا ہے۔ بعض ممالک ایسے ہیں جو جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے اپنے قومی مفادات کو اپنی جغرافیائی حدود کے اندر ہی تلاش کرتے ہیں اور عالمی اور علاقائی سطح پر موجود ثقافتی یا موسمیاتی مسائل پر کم توجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح ان کیلئے کم مدت کے مفادات زیادہ اہم ہوتے ہیں اور وہ ٹیکٹیکل مفادات کو اسٹریٹجک مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنائی جائے والی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے درمیان عالمی سطح والے اور اسٹریٹجک مفادات میں کوئی اختلاف نہیں اور ان کا اختلاف صرف کم مدت والے مفادات پر ہے۔ اس بنیاد پر بھی دیکھا جائے تو داعش سے متعلق ترکی کی پالیسی انتہائی کمزور دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ کی داعش کے بارے میں پالیسی انتہائی منجھی ہوئی اور مضبوط پالیسی ہے۔ ترکی کے علاقائی اور لمبی مدت والے مفادات کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ مذہبی دہشت گردی اور تکفیری دہشت گرد گروہوں کو جڑ سے ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہو اور اس مقصد کے حصول کیلئے اپنے ہمسایہ ممالک جیسے ایران اور شام سے مکمل تعاون کرے۔ ترکی اگر اپنے قومی مفادات کیلئے ہی سہی عالم اسلام اور خطے کے ثقافتی امور پر توجہ دے اور خود کو یورپی یونین کا رکن تصور نہ کرے تو مغربی ایشیا سے متعلق اس کی بہت سی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی آئے گی اور اس کے نتیجے میں خطے میں بھی امن و امان اور سیاسی استحکام پیدا ہوگا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ ترک حکام نے اپنی پالیسیوں کی بنیاد کچھ اور بنا رکھی ہے اور اسی غلط بنیاد کی وجہ سے اس ملک اور خطے کے حالات روز بروز بگڑتے جا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 479334
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب