0
Wednesday 19 Aug 2015 14:21

یمن پر سعودی جارحیت، بین الاقوامی قانون کی روشنی میں

یمن پر سعودی جارحیت، بین الاقوامی قانون کی روشنی میں
تحریر: ڈاکٹر اسماعیل طہمورثی 

مشرق وسطٰی خطے کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یمن کا مسئلہ ہے، جو قانونی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی عرب نے ایک عرب ملک ہونے کے ناطے اپنے ہمسایہ عرب ملک پر حملہ کر دیا ہے۔ اس فوجی حملے کے نتیجے میں اب تک 3500 سے زیادہ یمنی شہری جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں، شہید اور 6 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر اس فوجی جارحیت کے بعد جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سبز جھنڈی دکھائے جانے کے بعد انجام پائی عرب اتحاد اور عربی فوج بھی تشکیل دے دی گئیں۔ یمن کے خلاف سعودی جارحیت اور اس کے دوران انجام پانے والے جنگی جرائم بین الاقوامی قانون کی روشنی میں قابل غور ہیں۔ اس بارے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ابھی تک اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل یمن سے متعلق انسانی حقوق کے بارے میں اپنی قانونی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے نہیں کر پائیں۔ اقوام متحدہ میں عالمی امن کی حفاظت کے حقیقی ذمہ دار ادارے کے طور پر سکیورٹی کونسل نے "قرارداد نمبر 2216" کی منظوری دے کر یہ ثابت کر دیا کہ اس کے فیصلے چند مخصوص ممالک کے سیاسی اور مادی مفادات کے گرد گھومتے ہیں اور اسے عالمی سطح پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں ذرہ برابر دلچسپی نہیں۔

یمن ایک خود مختار ریاست ہونے کے ناطے چند دوسرے عرب ممالک کی جارحیت کا نشانہ بنا اور یمنی قوم عرب اتحاد اور القاعدہ کے دہشت گردوں کی جانب سے ہوائی اور زمینی حملوں کا شکار ہوئی، لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جارح قوتوں اور دہشت گردوں کی مذمت کرنے کی بجائے الٹا یمنی قوم کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 نے اقوام متحدہ کے اس سیاسی ادارے کا حقیقی چہرہ واضح کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل نے نہ صرف یمن کے مسئلے میں خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جارح قوتوں کی حمایت کا اعلان کر دیا اور یمن کی مظلوم عوام کے خلاف پابندیاں لگا دیں۔ یہ قرارداد درحقیقت انقلابی قوموں کے طاقتور ہونے کے نتیجے میں خطے میں جدید استعماری اہداف اور غاصب صہیونی رژیم کی سکیورٹی کو درپیش خطرات کے احساس کا نتیجہ ہے۔ تحریر حاضر میں بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں یمن پر سعودی جارحیت کو دو پہلو سے مدنظر قرار دیں گے: 1)۔ آزاد ممالک کی ملکی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی اور 2)۔ یمن پر فوجی جارحیت کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب۔

1)۔ یمن کی خودمختاری اور ملکی سالمیت کی خلاف ورزی:
الف)۔ یمن کے مستعفی صدر کی درخواست کا غیر قانونی ہونا:
سعودی عرب نے یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کی درخواست کو بہانہ بنا کر فوجی اتحاد تشکیل دیا اور یمن کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی قرارداد نمبر 2216 کے ذریعے یمن پر سعودی جارحیت کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اس قرارداد کے آغاز میں 24 مارچ 2015ء کو یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کی جانب سے سکیورٹی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یمن پر سعودی جارحیت ایک قانونی درخواست کے جواب میں انجام پائی ہے، لہذا اسے قانونی جواز حاصل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی جانب سے اپنی عوام کے خلاف جو پرامن طریقے سے اپنے جائز اور قانونی مطالبات کی منظوری کیلئے سرگرم ہوں، ایک بیرونی طاقت کو فوجی جارحیت کی درخواست دینا یکسر غیرقانونی عمل ہے۔ اوپر سے سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ صدر جس نے سکیورٹی کونسل سے اپنی عوام کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی درخواست دی تھی، درخواست دینے سے پہلے ہی استعفی دے چکا تھا اور اس کی کوئی قانونی حیثیت بھی نہ تھی۔ یمن کا سابق صدر منصور ہادی 22 جنوری 2015ء یعنی درخواست دینے سے دو ماہ قبل استعفٰی دے چکا تھا اور رسمی طور پر اپنا عہدہ چھوڑ چکا تھا۔ ایک قوم جو اپنی "تقدیر کے بارے میں فیصلے کا حق" رکھتی ہے، کے خلاف کسی بیرونی قوت کو طاقت استعمال کرنے کی درخواست دینا ہرگز قانونی عمل نہیں ہوسکتا، چہ جائیکہ درخواست دینے والا شخص کسی قانونی عہدے پر بھی فائز نہ ہو اور یمن کے آئین کی شق نمبر 114 کے تحت اپنے استعفٰی کی وجہ سے اس کا دوران صدارت اختتام پذیر ہوچکا ہو۔

یمن پر بیرونی جارحیت یمنی قوم کے اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ منصور ہادی نے جب یمن پر فوجی حملے کی درخواست دی تھی تو اس وقت ان کی کوئی قانونی حیثیت نہ تھی۔ وہ یمن کے مستعفی صدر تھے، جن کے استعفی کا مقصد ہی ملکی صورتحال کو مزید بگاڑنا اور پیچیدہ کرنا تھا۔ یمن کے صدر اور کابینہ کا استعفٰی اس وقت غیر متوقع طور پر سامنے آیا جب صرف ایک دن پہلے یمنی صدر نے اپنے بیان میں امن کے قیام اور نئے آئین کا مسودہ مل کر تیار کرنے کے بارے میں انصاراللہ یمن کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی خوشخبری سنائی۔ ہادی منصور استعفٰی دینے کے بعد عدن بھاگ گئے اور اسے یمن کا نیا دارالحکومت قرار دے دیا۔ ان کا یہ اقدام ملک کو تقسیم کرنے کی واضح کوشش تھی، جو یمن کے آئین کی شق 109 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق یمن کا صدر ملک کی قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کی حفاظت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ منصور ہادی نے لیبیا والا تجربہ یمن میں دہرانے کی کوشش کی لیکن یمن کے انقلابی عوام اور قانونی فوج نے جنوب کی طرف حرکت کی اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد منصور ہادی بھاگ کر سعودی عرب چلا گیا اور وہاں پہنچ کر بھی خود کو یمن کا قانونی صدر کہنے لگا۔ ان کا یہ عمل کسی بھی قانون کے تحت جائز اور قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لہذا منصور ہادی اس وقت صرف ایک یمنی شہری ہیں اور ان کے پاس کوئی ملکی عہدہ موجود نہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی ایسے شخص کی درخواست پر ایک آزاد اور خود مختار ملک کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرنے یا اس میں طاقت کی منتقلی کے عمل میں مداخلت کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ دوسرے الفاظ میں سکیورٹی کونسل کو ہرگز یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایک آزاد، خود مختار اور آئین کے حامل ملک کے صدر یا کسی اور حکومتی عہدیدار کا تعین کرے۔ یمن کے آئین کی شق نمبر 105 کی رو سے صدر کا انتخاب بھی آئین کے مطابق ہونا چاہئے نہ کہ اقوام متحدہ یا سکیورٹی کونسل کے ذریعے۔ دوسری طرف یمن کی انقلابی عوامی کونسل یمنی قوم کے اپنی تقدیر خود معین کرنے کے حق کے تناظر میں صدارتی کونسل کو متعین کرنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ کو سونپ چکی تھی۔ لہذا منصور ہادی کی درخواست یمن پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت کا جواز فراہم نہیں کرسکتی بلکہ منصور ہادی یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے انجام پانے والے جنگی جرائم میں برابر کا شریک ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کے قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت منصور ہادی کو یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک سے یمن پر فوجی حملہ کرنے کی درخواست دے۔ سویلین عمارتوں، سویلین افراد، اسپتالوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانا اور انسان دوستانہ سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنا، وہ اقدامات ہیں جن سے منصور ہادی کی درخواست کے غیر قانونی ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔

ب)۔ سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کا یمن پر فوجی حملہ:
بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی ملک کی جانب سے دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا استعمال، چاہے وہ کسی صورت میں بھی ہو ممنوع ہے۔ طاقت کے استعمال کے ممنوع ہونے کا قانون تمام حکومتوں کو دوسرے ممالک کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے سے روکتا ہے اور ایسے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی اصول نمبر 1 کی شق نمبر 1 میں "ہر قسم کے جارحانہ اقدام کو روکنے" پر تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح اس چارٹر کے اصول نمبر 4 کی شق نمبر 2 میں آیا ہے کہ "تمام رکن ممالک پر ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات عامہ میں دوسرے رکن ملک کی ملکی سالمیت کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے یا طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دینے یا ہر وہ طریقہ اختیار کرنے سے گریز کریں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہو۔" اس قانون کے بارے میں صرف دو استثنا پائے جاتے ہیں: ایک جائز دفاع ہے جس کی طرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصول نمبر 51 میں اشارہ کیا گیا ہے۔ جائز دفاع ایسا دفاع ہے، جو کسی بیرونی قوت کی جانب سے مسلح حملہ واقع ہونے کی صورت میں انجام پائے اور اس میں ضرورت اور تناسب کا خیال رکھا جائے۔ دوسرا اس صورت میں ہے جب بین الاقوامی سطح پر فوجی آپریشن انجام پاتا ہے۔ چارٹر کے اصول نمبر 42 کی رو سے اگر سکیورٹی کونسل اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اصول نمبر 41 میں درج شدہ اقتصادی اور سفارتی پابندیاں ایک سرکش ملک کو کنٹرول کرنے کیلئے ناکافی ہیں تو وہ بین الاقوامی امن کی حفاظت کیلئے اس ملک کے خلاف ہوائی، زمینی یا سمندری حملے کی اجازت دے سکتی ہے۔ یمن کے خلاف انجام پانے والی سعودی جارحیت ان دونوں میں سے کسی استثنا میں شامل نہیں ہوسکتی۔ عرب اتحاد نہ تو جائز دفاع کے تحت یمن پر حملہ ور ہوا ہے کیونکہ انصاراللہ یمن نے سعودی عرب کو فوجی حملے کا نشانہ نہیں بنایا تھا اور نہ ہی اس جارحیت کو سکیورٹی کونسل کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ لہذا یمن کے خلاف سعودی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی رو سے ایک آزاد اور خود مختار ریاست پر ناجائز اور غیر قانونی فوجی حملہ شمار ہوتا ہے جو عالمی اور خطے کے امن کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔

2
)۔ یمن کیخلاف جارحیت کے دوران عرب اتحاد کے مجرمانہ اقدامات:
الف)۔ جنگی جرائم:
یمن کے خلاف فوجی جارحیت کے دوران سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے کئی ایسے مجرمانہ اقدامات انجام دیئے ہیں، جن کا بین الاقوامی سطح پر احتساب کیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب کی سربراہی میں یمن پر حملہ ور ہونے والے عرب اتحاد میں بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، مراکش، سوڈان، اردن اور مصر شامل ہیں۔ یمن کے خلاف جارحیت کے دوران بہت سے سویلیین اور غیر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اب تک تقریباً 3500 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انصاراللہ یمن کی چھاونی سے 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ڈیئری فارم کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کسی قسم کی کوئی فوجی سرگرمی انجام نہیں پاتی تھی۔ اسی طرح عرب اتحاد کی جانب سے یمن کے متاثرہ افراد کیلئے عالمی ریڈ کراس کی جانب سے بھیجی گئی امداد کو روک دینا جنیوا معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اسے ایک جنگی جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جارحیت کے دوران انجام پانے والے جنگی جرائم کا ایک اور نمونہ جنگ کے 18 ویں روز یمن کے صوبے "مارب" میں واقع "صرواح الریفی" اسپتال کو نشانہ بنائے جانا ہے۔ اسی طرح یمن کے صوبہ "اب" میں ایک اسپورٹس کمپلکس اور چند گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ گندم کے گودام پر حملے میں بڑی تعداد میں عام شہری جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، جاں بحق ہوگئے۔ میڈیکل کا سامان جس میں دوائیں بھی شامل تھیں، کو یمن پہنچنے سے روکنا، یمن کے سویلین انفرا اسٹرکچر جیسے صنعا کے بجلی گھر اور صعدہ کے اکلوتے بجلی گھر کو نشانہ بنانا، ایران کی طرف سے یمن کی عوام کیلئے امدادی سامان سے لدے جہاز کو لینڈ کرنے سے روکنے کیلئے صنعا ایئرپورٹ پر حملہ اور مسافر بردار جہاز کو تباہ کر دینا، یمن کے خلاف جارحیت میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال، کیمیکل اور فاسفورک ہتھیاروں کا استعمال، امریکی ساختہ کلسٹر بم کا استعمال وغیرہ بھی وہ اقدامات ہیں، جو جنگی جرائم کے ذیل میں آتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا واضح ثبوت ہیں، جن کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں چلایا جاسکتا ہے۔

ب)۔ نسل کشی:
سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف تشکیل پانے والے عرب اتحاد کے ذریعے منظم منصوبہ بندی کے تحت مذہب کی بنیاد پر یمنی عوام کا وسیع قتل عام "نسل کشی" کا واضح مصداق ہے، جو ایک مصدقہ بین الاقوامی جرم محسوب ہوتا ہے۔ مسجد الحرام کے امام اور خطیب عبدالرحمان السدیس جو سعودی فرمانروا کی جانب سے عطا کئے گئے رسمی عہدے پر بھی فائز ہیں، نے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے حقیقی محرکات بیان کرتے ہوئے کہا: "اب مذہب تشیع کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک نئی اسلامی بیداری کے جنم لینے کا وقت آن پہنچا ہے۔" اس جملے میں یمن پر سعودی جارحیت کا حقیقی محرک بیان کیا گیا ہے، جو شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ انصاراللہ یمن کی اکثریت زیدی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ اگرچہ یمن کی موجودہ انقلابی تحریک میں شیعہ اور سنی قبائل آپس میں متحد ہو کر انصاراللہ یمن کی سربراہی میں انقلابی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب سے زیدی شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا جاسکتا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 480723
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب