0
Thursday 3 Sep 2015 11:10

پاکستان کی "خدمات" اور امریکہ کا وہی پرانا مطالبہ ڈو مور

پاکستان کی "خدمات" اور امریکہ کا وہی پرانا مطالبہ ڈو مور
تحریر: تصور حسین شہزاد

پاکستان کے دورے پر آئی امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے اسلام آباد میں بہت مصروف دن گزارا، وزیراعظم نواز شریف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی صورتحال اور پاک بھارت مذاکرات میں تعطل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ نے دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم حیران کن بات ہے کہ امریکہ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جاری ضرب عضب آپریشن میں ملنے والی کامیابیوں پر پاک فوج کی تعریف بھی کرتا ہے، اس آپریشن میں دی جانے والی قربانیوں کو سراہتا بھی ہے، لیکن دوسری طرف اس کا ڈو مور کا ورد کم نہیں ہوتا اور وہ ابھی تک پاکستان سے مطالبہ کئے جا رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرے۔ وہ ابھی تک پاکستان کو بلیک میل کرنے کی روش ترک نہیں کر پایا اور کولیکشن سپورٹ فنڈ کے 300 ملین ڈالر دبا کر بیٹھا ہے۔ اس اسرار کے ساتھ کہ جیسے اس کو ابھی تک پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کی جانب والی کارروائیوں پر تشفی نہیں۔ امریکی حکام کا یہ رویہ نہایت نامناسب ہے، پاکستان کو اسے باور کروانا چاہئے تھا کہ اگر اتنی واضح اور کامیاب ضرب عضب کارروائیوں پر بھی اسے اطمینان نہیں تو پھر پاکستان کو بھی اس کی دوغلی پالیسی پر سخت اعتراضات ہیں۔ وہ ایک طرف بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتا ہے، جس کی بنیاد پر بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کو فروغ دینے میں سرگرم ہے۔ امریکہ اسے روکنے کے بجائے محض اشک شوئی کے لئے پاکستان کی حمایت میں دو لفظ بول دیتا ہے تو چار لفظ ڈو مور کے ضمن میں مزید اضافہ کر لیتا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے امریکی نمائندے کو بتایا کہ پاکستان بھارت اور افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور برابری کی سطح پر تعلقات کا فروغ چاہتا ہے۔ امریکی مشیر کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں سے آگاہ کیا اور امریکہ سے اتحادی سپورٹ فنڈ کی بحالی پر بات چیت بھی کی گئی۔ مزیدبرآں ملاقات میں بھارت کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر مسلسل خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ شنید ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف جارحیت اور اندرون ملک منفی سرگرمیوں میں بھارتی ایجنسی را کے ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ان دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بھارت کو کیا مشورہ دیتا ہے۔ البتہ پاکستان کمیٹڈ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے ماہ اکتوبر میں مجوزہ دورہ امریکہ کے دوران دنیا کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھارتی سازشوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق سوزن رائس سے ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ امریکہ انسداد دہشت گردی، دفاع اور معاشی شعبوں میں پاکستان کا اہم پارٹنر ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ان کے آئندہ دورہ امریکہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ اس موقع پر سوزن رائس نے بھی کہا کہ دفاع، معیشت اور توانائی کے شعبوں میں پاکستان امریکہ تعاون بہترین سمت میں جا رہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کی سوچ قابل قدر ہے۔ سوزن رائس نے قرار دیا کہ امریکہ صدر کے وژن کے مطابق پاک امریکہ شراکت داری اہم ہے۔ تاہم امریکی مشیر کی ملاقاتوں کے حوالے سے امریکہ نے ایک ہی سانس میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کی ستائش بھی کی۔ مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر اپنے خبث باطن کا بھی مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آیا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان اہم اتحادی کے طور پر تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ اس ناقابل فہم بیان کا محرک امریکی حلقوں میں پائی جانے والی وہ غلط فہمی ہے، جس کے مطابق کابل میں حالیہ ہونے والے حملوں کے پس پردہ پاکستان کے مبینہ ہمدرد طالبان ملوث ہیں۔ اسی لئے امریکی بار بار کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے کو یقینی بنائے اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی تیز کرے۔ حالانکہ وہ تسلیم بھی کرتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ نے کارروائیاں کرکے القاعدہ اور طالبان کا کافی حد تک خاتمہ کر دیا ہے۔ وہ پاکستان کو یقین بھی دلاتا ہے کہ امریکہ خطے میں استحکام کا متمنی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا میں شراکت داری ہو۔ یہ امکان بھی ہے کہ پاکستان اس کا اتحاد رہے گا کیونکہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ فی الحال امریکہ کا خطے سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں، اس کے لئے وہ روز نت نئے بہانے تراشتا رہتا ہے۔ اسے ہمیشہ دوسرے کی آنکھ کا تنکا اندھیرے میں بھی دکھائی دے جاتا ہے مگر نہ اپنی آنکھ کا شہتیر نظر آتا ہے اور نہ ہی اپنے بھارت جیسے حلیفوں کی کرتوتیں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت اور بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی امداد کے جو ثبوت اس کے حوالے کئے ہیں، اس بنا پر اسے بھارت سے پرسش کرنی چاہیے، نیز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کے لئے اپنا رول ادا کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی کردار ادا کرنے پر زور دینا چاہئے۔ پاکستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت، بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت اور دہشت گردوں کی مالی امداد، اسلحہ اور معاونت فراہم کرنے کے جو ثبوت پیش کئے ہیں، ان کے ناقابل تردید ہونے کی سب سے بڑی گواہی یہی ہے کہ بھارت نے ان مصدقہ ثبوتوں کے منظر عام پر آتے ہی مذاکرات کی راہ سے فرار اختیار کی، یہی چیز اس کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

امریکہ سمیت عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ پاکستان کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے، کیونکہ پاکستان اپنی بقا کی جنگ ہی نہیں لڑ رہا بلکہ یہ تن تنہا عالمی امن تباہ کرنے والوں کے خلاف بھی برسرپیکار ہے۔ اگر امریکہ انسداد دہشت گردی، دفاع اور معاشی شعبوں میں پاکستان کا اہم اتحادی ہونے کا دعویدار ہے تو اسے پاکستانی موقف کی حقانیت پر یقین ہونا چاہیے۔ عالمی برادری کو بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے بلکہ افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس میں اپنے ساتھیوں سے مل کر پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ جب تک بھارت اپنی سازشوں سے باز نہیں آتا ہے، خطے میں امن کا قیام ناممکن ہے اور جب تک یہاں امن قائم نہیں ہوتا، کوئی عالمی امن کے دیرپا ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
خبر کا کوڈ : 483721
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب