0
Wednesday 23 Sep 2015 22:26

قربانی۔۔۔ جانوروں کی نسل کشی یا ہماری تربیّت

قربانی۔۔۔ جانوروں کی نسل کشی یا ہماری تربیّت
تحریر: ساجد علی گوندل
Sajidaligondal88@gmail.com


نظام کائنات فطرت کے قوانین کے مطابق رواں دواں ہے۔ سورج کا وقت پہ آنا، وقت پہ غروب ہونا، چاند کا ایک خاص مدت کے لئے چھاتی آسمان پر چمکنا، ستاروں کا انتہائی خوبصورتی سے آسمان کو دلہن بنانا، زمین کی گردش، بارشوں کا آنا، پرندوں کا چہچہانا، آسمان کا اتنی بلندی کے باوجود بغیر ستونوں کے قائم رہنا، کسی بھی سیارے کا اپنی مقررہ حد سے تجاوز نہ کرنا، یہ سب گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کے ہر ذرے پر کوئی قدرت کارفرما ہے اور ان کو مسلسل پیغام موصول ہو رہا ہے۔ کوئی ایسی بلند و بلا طاقت کہ جس نے زمین، چاند و سورج جیسے بڑے بڑے سیاروں نیز کائنات کے ہر ذرے کو اپنی قدرت سے ایک خاص دائرے میں ڈال رکھا ہے کہ جس سے باہر نکلنا اب ان کے بس کی بات نہیں اور وہ اسی خاص زاویے میں گردش کرنے پر مجبور ہیں۔ ہاں ہاں ایسا ہی ہے، کیونکہ کائنات میں موجود تمام موجودات سوائے حضرت انسان کے ایسے ہیں کہ جن کی ہدایت کا انتظام ہدایت غریزی کے ذریعے کیا گیا ہے، یعنی وہ تمام ضروریات جو ان کی بقاء کے لئے کارآمد ہیں، ان تمام کو خود انھیں کے وجود میں رکھ دیا گیا۔ مثلاً سورج کا وقت پر نکلنا و غروب ہونا، یہ چیز خود اس کے وجود میں گویا جبراً رکھ دی گی ہے۔ یہ لاکھ چاہ کر بھی اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔

کائنات عالم میں اکیلا انسان ایک ایسا موجود ہے کہ جسے خداوند متعال نے اختیاری ہدایت سے نوازا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اناّ ھدیناہ السبیل (ہم نے حضرت انسان کو دونوں راستوں کی ھدایت کر دی ہے، اب اگر وہ چاہے تو شاکر بنے یعنی صراط مستقیم اختیار کرے، چاہے تو کفر کرے یعنی صراط غیر مستقیم کی طرف نکل جائے۔ خدا نے ہدایت انسان کے لئے مختلف ذرائعے پیدا کئے ہیں، انبیاؑ و رسل ؑ مبعوث کئے، اپنے اولیاء کو بھیجا، خود انسان کے اندر عقل و شعور کہ (جسے باطنی پیغبر کہا جاتا ہے) رکھا۔ یہ تمام انتظام خداوند متعال نے انسان کے لئے اس لئے رکھا، تاکہ وہ ان دو راستوں میں سے صراط مستقیم کو اختیار کرے۔ اسکے ساتھ ساتھ خدا نے انسان کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے مختلف امتحان و تربیت گاہیں قائم کیں، تاکہ انسان ان تربیت گاہوں سے تربیت پاکر اپنی منزل و مقصود کو پاسکے اور اگر شعور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو حقیقت میں اللہ تعالٰی نے قربانی کو بھی انسان کے لئے ایک تربیت گاہ بنایا ہے۔ قربانی ایک ایسی تربیت گاہ ہے، جو انسان کو خالص کرکے اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ قربانی ترقی و تکامل انسان کا ایک ذریعہ ہے، تکامل بغیر قربانی کے ممکن نہیں۔ اگر تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ قوموں نے قربانیوں کے بعد اعلٰی مراتب طے کئے۔

حضرت ابراہیمؑ کو بھی امتحان و قربانی کی بناء پر ہی عہدہ امامت پر فائز کیا گیا۔ حضرت یعقوبؑ کا بقاء نبوت کے لئے فراق یوسفؑ کی قربانی دینا، تاریخ کے سینے پر آج تک ثبت ہے۔ قربانی ایک ایسی تربیت گاہ ہے کہ جو جہالت گمراہی میں ڈوبی ہوئی قوموں کے لئے سورج کی کرنوں کا کام دیتی ہے۔ قربانی فقط یاد ابراہیمؑ میں جانور ذبح کر دینے کا نام نہیں بلکہ قربانی اپنے اندر ایک جامع مفہوم کو لئے ہوئے ہے۔ خود لفظ قربانی قرب مصدر سے ہے کہ جس کے معنی قریب ہونے کے ہیں۔ قربانی یعنی خدا سے قریب ہونا، قربانی یعنی خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینا۔ 10 ذوالحجہ کو حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دے کر اپنے زمانے کے کفّار، طاغوت و استعمار پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اگر اللہ کی راہ میں اسماعیلؑ جیسا بیٹا بھی قربان کرنا پڑے، ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ لہذا آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے زمانے کے استعمار امریکہ، اسرائیل و سعودی عرب اور سعودی نواز طالبان کہ جو واقعہ پشاور و دیگر ان جیسے واقعات میں ملوث ہیں، پر یہ ثابت کر دیں کہ ہم ملت پاکستان و افواج پاکستان آج بھی راہ خدا میں اپنے بیٹوں کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں اور دے رہے ہیں، مگر یاد رکھو کہ ہم اپنے الہی اصولوں سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

یہ قربانی ہی ہے کہ جب قومیں اپنے اقدار و تہذیب بھلا دیں، ان کے ضمیر سو جائیں اور وہ ذلت کے گڑھوں کی طرف جانے لگیں، اس حالت میں قربانی ہی وہ ذریعہ ہے کہ جو انھیں ذلت و رسوائی کی گہرائیوں سے نکال کر عزت و کرامت سے سرفراز کرے۔ اسکی ایک زندہ مثال واقعہ کربلا ہے کہ جب لوگ عزت سے زیادہ ذلت کو پسند کرنے لگے، ظالم حاکم کے تحت زندگی گزارنے میں فخر محسوس کرتے اور سب سے بڑی بات تو یہ کہ جو نظام ہدایت خداوند متعال نے تربیت انسان کے لئے بنایا تھا، اس کا وجود خطرے میں تھا، اس حالت میں دنیا کے گوش و کنار سے فقط حسینؑ ابن علیؑ تھے کہ جنہوں نے قوم کی اس حالت کو بدلنے کے لئے آواز اٹھائی اور کہا ھیھات من الذّلہ ذلت ہم سے دور ہے اور کہا کہ اگر مجھے عباسؑ و اکبرؑ جیسے بھائی و بیٹے، یہاں تک کہ تمام کنبے کے خون سے بھی نظام الہی کے پودے کی آبیاری کرنا پڑی تو کروں گا، لیکن مجھے ظالم کے ساتھ زندگی گزارنا ہرگز گوارا نہیں! کہا (انّی لااری الموت الاّ سعادت والحیات مع الظالمین الاّ برما) حسینؑ ابن علیؑ زمانے کے طاغوت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں کہ میں حسینؑ ابن علیؑ عزت کی موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دیتا ہوں اور حسینؑ ابن علیؑ کے نزدیک ظالمین کے ساتھ زندگی گزارنا ذلت ہے۔

حسینؑ ابن علیؑ تن و تنہا الہی نظام ہدایت کو بچانے کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور وہی قوم کہ جو جہالت و رسوائی کے گڑھوں میں ڈوب چکی تھی، اسے اپنے و اہل و عیال کے خون سے نئی زندگی عطاء کی۔ حسینؑ ابن علیؑ کی قربانی خلوص سے کچھ اسقدر پر تھی کہ خداوند متعال نے اس قربانی کو قرآن میں ذبح عظیم کے نام کے ساتھ یاد کیا ہے۔ آج جس دور میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں، یہ وہ دور ہے کہ جسے اگر فتنوں کے دور سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آج پھر الہی نظام ہدایت خطرے میں ہے، آج کا طاغوت و استعمار اس پر ہر طرف سے حملے کر رہا ہے، چاہے وہ فکری حملے ہوں، ثقافتی ہوں یا پھر ہتھیاروں سے، ہمیں ہر حال میں اس مقدس نظام کا دفاع کرنا ہے۔ ہاں مگر اس کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ آج ہمیں چاہیے کہ قربانی کی یاد کے ساتھ ساتھ فلسفہ قربانی کو بھی سمجھیں اور اپنی فکر و نظر کو ابراہیمی بنائیں۔ ہمیں قربانی دینے کے بعد کچھ دیر تک اپنے دل میں بھی جھانکنا چاہیے کہ ہم اس عمل سے اللہ کے قریب بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔ یہ قربانی کا عمل جانوروں کی نسل کشی کے لئے نہیں بلکہ ہماری تربیت کے لئے ہے۔
خبر کا کوڈ : 487181
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب